🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ حُزْنٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا:
باب: مومن کو کوئی بیماری یا تکلیف پہنچے تو اس کا ثواب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2571 ترقیم شاملہ: -- 6560
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَيَحْيَي بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ.
ابومعاویہ، سفیان، عیسیٰ بن یونس اور یحییٰ بن عبدالملک بن ابی غنیہ سب نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ، اسی کی حدیث کے مانند روایت کی اور ابومعاویہ کی حدیث میں مزید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں۔۔۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6560]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، ابو معاویہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، روئے زمین پر جو بھی مسلمان ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6560]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2571
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2572 ترقیم شاملہ: -- 6561
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: دَخَلَ شَبَابٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ بِمِنًى وَهُمْ يَضْحَكُونَ، فَقَالَتْ: مَا يُضْحِكُكُمْ؟ قَالُوا: فُلَانٌ خَرَّ عَلَى طُنُبِ فُسْطَاطٍ فَكَادَتْ عُنُقُهُ، أَوْ عَيْنُهُ أَنْ تَذْهَبَ، فَقَالَتْ: لَا تَضْحَكُوا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ".
منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود (بن یزید نخعی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: کچھ قریشی نوجوان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ منیٰ میں تھیں۔ وہ نوجوان ہنس رہے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تم کس وجہ سے ہنس رہے ہو؟ انہوں نے کہا: فلاں شخص خیمے کی رسیوں پر گر پڑا، قریب تھا کہ اس کی گردن یا آنکھ جاتی رہتی۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہنسو مت، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: کوئی مسلمان نہیں جسے کانٹا چبھ جائے یا اس سے بڑھ کر (تکلیف) ہو مگر اس کے لیے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6561]
حضرت اسود رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، کچھ قریشی نوجوان منیٰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ہنستے ہوئے گئے تو انہوں نے پوچھا: کیوں ہنستے ہو؟ انہوں نے کہا: فلاں انسان خیمہ کی طناب (رسی) پر گر پڑا اور قریب تھا اس کی گردن یا اس کی آنکھ ضائع ہو جاتی۔ تو انہوں نے فرمایا: مت ہنسو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان کو بھی کانٹا یا اس سے بڑی چیز چبتی ہے یا اس سے کم تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے لیے اس کے سبب ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کے سبب اس کی ایک لغزش مٹا دی جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6561]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2572 ترقیم شاملہ: -- 6562
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا، وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ".
اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر اللہ تعالیٰ اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6562]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو کانٹے کی تکلیف یا اس سے کم و بیش جو تکلیف پہنچتی ہے، تو اس کے سبب اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے یا اس کا گناہ مٹا دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6562]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2572 ترقیم شاملہ: -- 6563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَصَّ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطِيئَتِهِ ".
محمد بن بشر نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مومن کو جب بھی کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بڑھ کر کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6563]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو کانٹا یا اس سے کم و بیش تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اسے اس کی لغزش کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6563]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2572 ترقیم شاملہ: -- 6564
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابومعاویہ نے ہمیں ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6564]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6564]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2572 ترقیم شاملہ: -- 6565
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا ".
ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مصیبت نہیں جس میں کوئی مسلمان مبتلا ہو مگر اس کی بنا پر اس کا کوئی گناہ اس سے ہٹا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے (اور کسی گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6565]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مصیبت بھی اگر مسلمان کو پہنچتی ہے تو وہ اس کے لیے کفارہ بنتی ہے، حتیٰ کہ کانٹا بھی جو اسے چبھ جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6565]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2572 ترقیم شاملہ: -- 6566
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّى الشَّوْكَةِ، إِلَّا قُصَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ أَوْ كُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ، لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّتُهُمَا "، قَالَ: عُرْوَةُ.
امام مالک بن انس نے یزید بن خصیفہ سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان پر کوئی بھی مصیبت نہیں آتی، چاہے ایک کانٹا ہی (چبھا) ہو مگر اس کی وجہ سے اس کی غلطیاں معاف کر دی جاتی ہیں یا اس کو اس کی کچھ غلطیوں کا کفارہ بنا دیا جاتا ہے۔ یزید کو پتہ نہیں کہ عروہ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ بولا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6566]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچتی، حتیٰ کہ کانٹا نہیں چبھتا مگر وہ اس کے قصوروں کا معاوضہ ٹھہرتا ہے یا اس کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ راوی کو معلوم نہیں ان دونوں کلمات میں سے عروہ نے کون سا کلمہ بولا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6566]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2572 ترقیم شاملہ: -- 6567
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّى الشَّوْكَةِ تُصِيبُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ ".
عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مصیبت نہیں جو مومن پر آتی ہے، حتیٰ کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کی وجہ سے اس کی کوئی غلطی معاف کر دی جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6567]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: مومن کو جو مصیبت بھی پہنچتی ہے حتیٰ کہ کانٹا جو چبھ جاتا ہے تو اس کے سبب اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، یا اس کے سبب اس سے ایک لغزش جھاڑ دی جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6567]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2572
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2573 ترقیم شاملہ: -- 6568
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِى هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ، حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ ".
عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مومن کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی، نہ تھکاوٹ، نہ بیماری، نہ غم حتیٰ کہ کوئی فکر بھی جو اسے فکرمند کر دے مگر اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6568]
حضرت ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: مسلمان کو جو مرض ہو یا تھکاوٹ، تکلیف ہو یا پریشانی یا غم جو اس کو فکر میں مبتلا کرے، اس کے سبب اس کی بُرائیاں مٹتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6568]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2573
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2574 ترقیم شاملہ: -- 6569
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ مُحَيْصِنٍ ، شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123، بَلَغَتْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَبْلَغًا شَدِيدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، فَفِي كُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا، أَوِ الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا "، قَالَ مُسْلِم: هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ.
سفیان نے قریش کے ایک بزرگ ابن محیصن سے روایت کی، انہوں نے محمد بن قیس بن مخرمہ کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: جب (یہ آیت) نازل ہوئی: جو شخص کوئی برائی کرے گا، اس کے بدلے اسے سزا دی جائے گی۔ یہ (بات) مسلمانوں کے لیے سخت خوف اور تشویش کا باعث بنی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مطلوبہ معیار کے) قریب تر پہنچو اور اچھی طرح سیکھے ہو جاؤ۔ ہر مصیبت میں، جو کسی مسلمان کو پہنچتی ہے، ایک کفارہ ہوتا ہے حتیٰ کہ ٹھوکر جو اسے لگ جاتی ہے یا کانٹا اسے چبھ جاتا ہے۔ امام مسلم نے کہا: وہ (قریش کے شیخ ابن محیصن) اہل مکہ میں سے عمر بن عبدالرحمان بن محیصن ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6569]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب یہ آیت مبارکہ اتری: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] جو بھی برائی کا ارتکاب کرے گا، اس کو اس کی جزا ملے گی۔ تو مسلمانوں کو اس سے انتہائی سخت تشویش لاحق ہوئی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور راہ راست پر چلو، مسلمان کو جو تکلیف بھی پہنچتی ہے وہ کفارہ بنتی ہے، حتیٰ کہ جو ٹھوکر لگتی ہے یا کانٹا جو چبھ جاتا ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عمر بن عبدالرحمٰن بن محیصن مکہ کا باشندہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6569]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2574
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں