🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللَّهِ:
باب: اللہ تعالیٰ کے واسطے محبت کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2567 ترقیم شاملہ: -- 6550
قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُشَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابوبکر بن محمد بن زنجویہ قشیری نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6550]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6550]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2567
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب فَضْلِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ:
باب: بیمار پرستی کا ثواب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2568 ترقیم شاملہ: -- 6551
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ ".
سعید بن منصور اور ابوربیع زہرانی نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ ابوربیع نے کہا: انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا۔ اور سعید کی حدیث میں ہے: (ثوبان رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے درمیان گزرنے والی روش پر ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6551]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیمار کی عیادت کرنے والا واپس لوٹنے تک جنت کے باغیچہ میں رہتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6551]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2568
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2568 ترقیم شاملہ: -- 6552
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ ".
ہشیم نے ہمیں خالد سے خبر دی، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے وہ واپس آنے تک مسلسل جنت کی ایک روش پر رہتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6552]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بیمار کی عیادت کے لیے گیا وہ واپس لوٹنے تک جنت کے پھل میں رہتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6552]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2568
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2568 ترقیم شاملہ: -- 6553
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ ".
یزید بن زریع نے کہا: ہمیں خالد نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ابواسماء رحبی سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک مسلسل جنت کی ایک روش میں موجود ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6553]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ، جب ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے جاتا ہے، وہ واپس لوٹنے تک جنت کے پھلوں میں رہتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6553]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2568
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2568 ترقیم شاملہ: -- 6554
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ يَزِيدَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَمَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ "، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: جَنَاهَا.
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں عاصم احول نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے خبر سنائی، انہوں نے ابواشعث سے، انہوں نے ابواسماء رحبی سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی وہ مسلسل جنت کی روش میں رہا۔ آپ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! جنت کی روش کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے پھل جنہیں وہ چنتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6554]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بیمار کی عیادت کے لیے گیا، وہ جنت کے پھلوں میں رہا۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جنت کا «خُرْفَة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پھل۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6554]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2568
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2568 ترقیم شاملہ: -- 6555
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
مروان بن معاویہ نے عاصم احول سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6555]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6555]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2568
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2569 ترقیم شاملہ: -- 6556
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي، قَالَ يَا رَبِّ: كَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ؟ يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي، قَالَ يَا رَبِّ: وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلَانٌ؟ فَلَمْ تُطْعِمْهُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي، قَالَ يَا رَبِّ: كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلَانٌ، فَلَمْ تَسْقِهِ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا: آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہ کی۔ وہ کہے گا: میرے رب! میں کیسے تیری عیادت کرتا جبکہ تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا، تو نے اس کی عیادت نہ کی۔ تمہیں معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا، تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔ وہ شخص کہے گا: اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا، تو نے اسے کھانا نہ کھلایا۔ اگر تو اس کو کھلا دیتا تو تمہیں وہ (کھانا) میرے پاس مل جاتا۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا، تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔ وہ شخص کہے گا: میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے اسے پانی نہ پلایا، اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو (آج) اس کو میرے پاس پا لیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6556]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ «عَزَّ وَجَلَّ» قیامت کے دن پوچھے گا: اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری خبر نہ لی۔ وہ کہے گا کہ اے میرے رب! میں تیری خبر کیسے لیتا؟ تو تو سارے جہان کا مالک ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تجھے معلوم نہیں ہے کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا، تو نے اس کی خبر نہ لی؟ اگر تو اس کی خبر لیتا تو تو مجھے اس کے نزدیک پاتا۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا، تو نے مجھے کھانا نہ دیا۔ وہ کہے گا کہ اے رب! میں تجھے کیسے کھلاتا؟ تو سارے جہاں کا مالک ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے اس کو نہ کھلایا؟ اگر تو اس کو کھلاتا تو اس کا ثواب میرے پاس پاتا۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے پانی مانگا، لیکن تو نے مجھ کو پانی نہ پلایا۔ بندہ بولے گا کہ میں تجھے کیسے پلاتا تو تو سارے جہان کا مالک ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا، تو نے اس کو نہیں پلایا۔ اگر اس کو پلاتا تو اس کا بدلہ میرے پاس پاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6556]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2569
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ حُزْنٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا:
باب: مومن کو کوئی بیماری یا تکلیف پہنچے تو اس کا ثواب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2570 ترقیم شاملہ: -- 6557
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ مَكَانَ الْوَجَعِ وَجَعًا.
عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے مسروق سے روایت کی، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ عثمان کی روایت میں سخت تکلیف کا سامنا کے بجائے جس کی تکلیف زیادہ سخت ہو ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6557]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت بیماری کسی آدمی کی نہیں دیکھی، عثمان کی روایت میں «وَجَعٌ» کی جگہ «وَجَعًا» ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6557]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2570 ترقیم شاملہ: -- 6558
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ.
شعبہ اور سفیان دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6558]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6558]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2571 ترقیم شاملہ: -- 6559
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجَلْ، إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ، قَالَ: فَقُلْتُ: ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجَلْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا "، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ: فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي.
عثمان بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے حارث بن سوید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ کو بخار چڑھ رہا تھا، میں نے آپ کو ہاتھ سے چھوا اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کو تو بہت سخت بخار چڑھا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مجھے اتنا بخار چڑھتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو بخار چڑھتا ہے۔ میں نے عرض کی: یہ اس لیے کہ آپ کے لیے دہرا اجر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، (یہی بات ہے۔) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان نہیں جسے کوئی تکلیف پہنچے، مرض ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور تکلیف مگر اللہ اس کے سبب سے اس کی برائیاں (گناہ) جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے۔ زہیر کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں: تو میں نے آپ کو ہاتھ سے چھوا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6559]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ کو بخار تھا، چنانچہ میں نے آپ کو اپنا ہاتھ لگا کر دیکھا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو تو بہت شدید بخار ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے، سو میں نے کہا: یہ اس لیے ہے کہ آپ کو دوگنا اجر ملتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے، بیماری ہو یا کوئی مصیبت، تو اللہ اس کے سبب اس کی برائیاں گرا دیتا ہے، جس طرح (سوکھا) درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے۔ زہیر کی حدیث میں، اپنے ہاتھ سے چھونے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6559]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2571
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں