🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. وذكر أن أبا حنيفة قال: ليس هذا بشيء، ولا (يرى) فيه قرعة
آزادی میں قرعہ ڈالنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37242 ترقیم الشثری: -- 38841
٣٨٨٤١ - حدثنا ابن عيينة عن ايوب بن موسى عن سعيد عن ابي هريرة قال: قال النبي ﷺ:"إذا زنت امة (احدكم) (١) فليجلدها ولا يثرب عليها، فإن عادت (فليجلدها، فإن عادت) (٢) فليبعها (٣) ولو (بضفير) (٤) من شعر" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أجدكم).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [س]: (أبيعها).
(٤) في [س]: (بغيفر).
(٥) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٠٣)، وأحمد (٧٣٩٥)، وأصله عند البخارى (٢٢٣٤).

حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو آدمی کو (مالک کو) چاہیے کہ اس کو ڑے لگائے لیکن اس کو گناہ پر عار نہ دلائے، پھر اگر لونڈی دوبارہ یہ گناہ کرے تو آدمی کو چاہیے کہ اس کو کوڑے لگائے، پھر اگر وہ لونڈی دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کرے تو مالک اس کو بیچ ڈالے اگرچہ بالوں کی ایک رسی کے عوض ہی کیوں نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38841]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38841، ترقيم محمد عوامة 37242)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37243 ترقیم الشثری: -- 38842
٣٨٨٤٢ - حدثنا شبابة عن ليث بن سعد عن يزيد بن ابي حبيب عن (عمار) (١) ابن ابي غزوة عن عروة عن عائشة ان النبي ﷺ قال:"إذا زنت ⦗٢١٧⦘ (الامة) (٢) فاجلدوها، فإن عادت فاجلدوها، فإن عادت فاجلدوها، (فإن) (٣) زنت فاجلدوها، ثم بيعوها ولو (بضفير) (٤) "، والضفير: الحبل (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (عمارة).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب، س]: (وإن).
(٤) في [س]: (بضيز).
(٥) منكر؛ انفرد عمار وخالفه الناس عن الزهري فرووه عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه عن أبي هريرة يزيد، وحديث عائشة أخرجه أحمد (٢٤٣٦١)؛ وابن ماجه (٢٥٥٦٦)، والنسائي في الكبرى، (٧٢٦٤)، والطحاوي ٣/ ١٣٦، والطبراني في الأوسط (٨٧٨٧)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٤٣٣، والمزي ٢١/ ٢٠، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ٢/ ١٦٨، وابن عدى ٥/ ٧٤، والعقيلي ٣/ ٣٢١.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب لونڈی زنا کرے تو اس کو کوڑے لگاؤ، پھر اگر دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کرے تو پھر اس کو کوڑے لگاؤ، پھر اگر دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کرے تو پھر اس کو کوڑے لگاؤ، پھر اگر اس کے بعد بھی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اس کو کوڑے لگاؤ پھر اس کو بیچ دو اگرچہ ایک رسی کے عوض ہی کیوں نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38842]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38842، ترقيم محمد عوامة 37243)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37244 ترقیم الشثری: -- 38843
٣٨٨٤٣ - حدثنا معلى بن منصور عن ابي اويس عن عبد الله بن ابي بكر عن عباد ابن تميم عن عمه وكان بدريا قال: قال النبي ﷺ:"إذا زنت الامة فاجلدوها، ثم إن زنت فاجلدوها، ثم ان زنت فاجلدوها ثم بيعوها، ولو (بضفير) (١) " (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في: [س]: (بغيفر).
(٢) ضعيف؛ لحال أبي أويس، أخرجه النسائي (٧٢٣٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٩٩٤)، والدارقطني ٣/ ١٩٧، والطحاوي ٣/ ١٣٦، والضياء في المختارة ٩/ (٣٣٠)، والحاكم ٣/ ٥٩٧.

حضرت عباد بن تمیم اپنے چچا سے، جو کہ بدری تھے، روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب لونڈی زنا کرے تو اس کو کوڑے مارو پھر اگر زنا کرے تو اس کو کوڑے مارو پھر اگر زنا کرے تو اس کو کوڑے مارو، پھر اس کو بیچ دو اگرچہ ایک رسی کے عوض کیوں نہ ہو۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: لونڈی کا مالک، لونڈی کو کوڑے نہیں لگائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38843]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38843، ترقيم محمد عوامة 37244)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يجلدها سيدها
لونڈی جب زنا کرے تو آقا کا اس کو کو ڑے مارنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37245 ترقیم الشثری: -- 38844
٣٨٨٤٤ - حدثنا ابو اسامة عن (١) الوليد بن كثير عن محمد بن كعب عن عبيد الله ابن عبد الله (بن) (٢) رافع بن خديج عن ابي سعيد الخدري قيل: يا رسول الله انتوضا من (بئر) (٣) بضاعة؟ وهي (بئر) (٤) يلقى فيها الحيض ولحوم الكلاب والنتن، ⦗٢١٨⦘ فقال النبي ﷺ:"الماء طهور لا ينجسه شيء" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (عبد).
(٢) في [هـ]: (عن).
(٣) في [أ، ب، س]: (بيد).
(٤) في [أ، ب، س]: (بيد).
(٥) مجهول؛ لجهالة عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن رافع، أخرجه أحمد (١١٨١٨)، وأبو داود (٦٦)، والترمذي (٦٦)، والنسائي ١/ ١٧٤، وابن الجارود (٤٧)، والدارقطني ١/ ٢٩، والبيهقي ١/ ٥٧٢، والمزي ١٩/ ٨٤، وأبو يعلى (١٣٠٤)، والطحاوي ١/ ١٢، والبخاري في التاريخ ٣/ ١٦٩.

حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ کسی نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا ہم بیر بضاعہ سے وضو کرسکتے ہیں، حالانکہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض (کے کپڑے)، کُتوں کا گوشت اور گندگی ڈالی جاتی ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانی پاک ہوتا ہے اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38844]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38844، ترقيم محمد عوامة 37245)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37246 ترقیم الشثری: -- 38845
٣٨٨٤٥ - حدثنا ابو الاحوص عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: اغتسل بعض ازواج النبي ﷺ في (جفنة) (١) ، فجاء النبي ﷺ ليغتسل فيها (او) (٢) ليتوضا، فقالت: (يا رسول) (٣) الله (٤) إني كنت جنبا، قال:"إن الماء لا يجنب" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (جفنته).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (و).
(٣) في [جـ]: (برسول).
(٤) في [هـ]: زيادة ﷺ.
(٥) مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطرلة، وقد أخرجه أحمد ١/ ٢٣٥، وأبو داود (٦٩)، والترمذي (٦٥)، والنسائي (٣٢٥)، وابن ماجه (٣٧٠)، وابن خزيمة (١٠٩)، والحاكم ١/ ١٥٩.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے ٹب میں غسل فرمایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پانی سے غسل یا وضو کرنا چاہتے تھے، تو زوجۂ مطہرہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں جُنبی تھی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: پانی جُنبی نہں ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38845]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38845، ترقيم محمد عوامة 37246)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37247 ترقیم الشثری: -- 38846
٣٨٨٤٦ - حدثنا ابو اسامة عن الوليد بن كثير عن محمد بن جعفر بن الزبير عن (عبيد الله) (١) (بن عبد الله) (٢) بن عمر عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا كان الماء قلتين لم يحمل نجسا" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، ب]: تكررت.
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد ٢/ ١٢، وأبو داود (٦٤)، والنسائي (٥٠)، وابن ماجه (٥١٧)، وابن حبان (١٢٤٩)، والحاكم ٢/ ١٣٢.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قُلَّہ کی مقدار کو پہنچ جائے تو یہ نجس کو متحمل نہیں ہوتا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: پانی نجس ہوجاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38846]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38846، ترقيم محمد عوامة 37247)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. وذكر أن أبا حنيفة قال: ينجس الماء
جب پانی دو قُلّے تک پہنچ جائے (تو اس کی طہارت اور نجاست کا بیان)
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37248 ترقیم الشثری: -- 38847
٣٨٨٤٧ - حدثنا هشيم عن ايوب (١) ابي العلاء حدثنا قتادة عن انس قال: قال النبي ﷺ:"من نسي صلاة او نام عنها فكفارته ان يصليها إذا ذكرها" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: زيادة (عن).
(٢) حسن؛ صرح هشيم بالتحديث كما في تاريخ أصبهان (١/ ١٥٤)، أيوب أبو العلاء القصاب صدوق، وورد الخبر من طريق غيره، أخرجه البخاري (٥٩٧)، ومسلم (٦٨٤).

حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو نماز پڑھنا بھول جائے یا وہ نماز کے وقت سویا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اس آدمی کو نماز یا د آئے تو یہ نماز پڑھ لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38847]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38847، ترقيم محمد عوامة 37248)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37249 ترقیم الشثری: -- 38848
٣٨٨٤٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن جامع بن شداد قال: سمعت (عبد الرحمن ابن ابي علقمة قال: سمعت) (١) عبد الله بن مسعود قال: اقبلنا مع النبي ﷺ من الحديبية فذكروا انهم نزلوا (دهاسا) (٢) من الارض -يعني بالدهاس: الرمل- قال: فقال رسول الله ﷺ:"من يكلونا؟" قال: فقال بلال: انا، فقال النبي ﷺ:"إذن ننم"، قال: فناموا حتى طلعت الشمس، قال: فاستيقظ اناس فيهم فلان وفلان (وفيهم) (٣) عمر بن الخطاب، قال: (فقلنا) (٤) : اهضبوا -يعني تكلموا- قال: فاستيقظ النبي ﷺ فقال:"إفعلوا كما كنتم تفعلون" قال: ففعلنا قال: فقال:"كذلك لمن نام او نسي" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س]، وسبق الحديث ٢/ ٦٤ برقم [٤٨١١]، وسيأتي ١٤/ ٤٥٣ برقم [٣٩٦٣٢] بإثباتها.
(٢) في [س]: (وهاسًا).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [أ، ب، جـ، س]: (فقال).
(٥) حسن؛ عبد الرحمن قال جماعة: بأنه صحابي، وذكره ابن حبان في الثقات، وروى عنه جمع من أهل العلم وأخرج له أبو داود، والحديث أخرجه أحمد (٤٤٢١)، وأبو داود (٤٤٧)، والنسائي في الكبرى (٨٨٥٣)، والبزار (٤٠٠/ كشف)، كما أخرجه ابن حبان (١٥٨٠)، وأبو يعلى (٥٠١٠)، والطبراني (١٠٣٤٩)، والطيالسي (٣٧٧)، والطحاوي ١/ ٤٦٥، والشاشي (٨٣٩)، والبيهقي ٢/ ٢١٨، والمزي ١٧/ ٢٩٢ في ترجمة عبد الرحمن بن علقمة الثقفي.

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ سے آ رہے تھے صحابہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک ریت کے ٹیلے پر اترے، ابن مسعود کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہماری حفاظت کرے گا؟ راوی کہتے ہیں کہ حضرت بلال نے کہا: میں کروں گا! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو ہم سوتے ہیں راوی کہتے ہیں کہ سب لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا، راوی کہتے ہیں: چند لوگ بیدار ہوگئے، جن میں فلاں، فلاں تھے اور انہی میں عمر بن خطاب بھی تھے، کہتے ہیں کہ پھر ہم نے کہا: باتیں کرو، راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیدار ہوگئے اور آپ نے فرمایا: تم جیسے کرتے تھے ویسے ہی کرو، راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے کیا (یعنی نماز پڑھی) راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی نماز بھول جائے یا سویا رہے تو وہ ایسے ہی کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38848]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38848، ترقيم محمد عوامة 37249)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37250 ترقیم الشثری: -- 38849
٣٨٨٤٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن عبد الجبار ابن عباس (عن عون) (١) بن ابي جحيفة عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ للذين ناموا معه حتى طلعت الشمس فقال:"إنكم كنتم امواتا نرد الله إليكم ارواحكم، فمن نام عن صلاة او نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها (و) (٢) إذا استيقظ" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: تكرر.
(٢) سقط من: [س].
(٣) حسن؛ عبد الجبار بن عباس صدوق، أخرجه أبو يعلى (٨٩٥)، والعقيلي ٣/ ٨٨، والطبراني ٢٢/ (٢٦٨)، وابن عدي ٥/ ١٩٦٣.

حضرت عون بن ابی حجیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو ارشاد فرمایا جو آپ کے ساتھ طلوع شمس تک سوئے رہے تھے، فرمایا: تم لوگ مردہ تھے پس اللہ نے تمہاری طرف تمہاری ارواح کو لوٹا دیا ہے، پس جو کوئی نماز کے وقت میں سویا رہ جائے یا نماز کو بھول جائے تو جب اس کو یہ نماز یاد آئے یا یہ جب نیند سے بیدار ہو تو نماز کو ادا کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38849]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38849، ترقيم محمد عوامة 37250)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37251 ترقیم الشثری: -- 38850
٣٨٨٥٠ - حدثنا ابن فضيل عن ابي إسماعيل عن ابي حازم عن ابي هريرة قال: عرسنا مع النبي ﷺ ذات ليلة فلم نستيقظ حتى آذتنا الشمس، فقال النبي ﷺ:"لياخذ كل رجل منكم براس (راحلته) (١) ثم (يتنح) (٢) عن هذا المنزل"، ثم دعا بالماء فتوضا فسجد سجدتين ثم اقيمت الصلاة فصلى (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (راحلة).
(٢) في [س]: بياض.
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (٦٨٥)، وأحمد (٩٥٣٤).

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ہم نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ ڈالا تو ہم سورج کی شعائیں پڑنے پر بیدار ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک اپنے کجاوہ کے سرے کو پکڑ لے پھر اس جگہ سے ہٹ جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو فرمایا اور دو سجدے ادا کئے پھر نماز کی اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: جب آدمی طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت بیدار ہو اور (اسی وقت) نماز پڑھے تو یہ اس کو کفایت نہیں کرے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38850]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38850، ترقيم محمد عوامة 37251)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں