🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ
باب بلاعنوان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2798 ترقیم الرسالہ : -- 2835
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، نَا يَعْقُوبُ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تَبِينَ صَلاحُهَا، أَوْ يُبَاعَ صُوفٌ عَلَى ظَهْرٍ، أَوْ لَبَنٌ فِي ضَرْعٍ، أَوْ سَمْنٌ فِي لَبَنٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پھل کو فروخت تب کیا جائے، جب تک وہ استعمال کے قابل نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جانور کی) پشت پر موجود اون کو اور تھن میں موجود دودھ کو اور دودھ میں موجود گھی کو (فروخت کرنے) سے بھی منع کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2835]
ترقیم العلمیہ: 2798
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4988، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 316، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2274، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10716، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2411، 2835، 2836، 2837، 2838، 2840، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2283»
«قال البيهقي: تفرد برفعه عمر بن فروخ وليس بالقوي وقد أرسله عنه وكيع ورواه غيره موقوفا، سنن البيهقي الكبرى: (5 / 340) برقم: (10968)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2799 ترقیم الرسالہ : -- 2836
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْمُقْرِئُ ، نَا يَعْقُوبُ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، نَا حبَيْبُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَبْدُوَ صَلاحُهَا وَتَبِينَ، تَبْيَضَّ أَوْ تَحْمَرَّ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ اللَّبَنِ فِي ضُرُوعِهَا، وَالصُّوفِ عَلَى ظُهُورِهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھلوں کو پک جانے سے پہلے فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک یہ بات واضح نہیں ہو جاتی کہ وہ پھل سفید ہو گا یا سرخ ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھن میں موجود دودھ کو فروخت کرنے اور (جانور کی پشت پر موجود) اون کو بھی فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2836]
ترقیم العلمیہ: 2799
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4988، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 316، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2274، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10716، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2411، 2835، 2836، 2837، 2838، 2840، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2283»
«قال البيهقي: تفرد برفعه عمر بن فروخ وليس بالقوي وقد أرسله عنه وكيع ورواه غيره موقوفا، سنن البيهقي الكبرى: (5 / 340) برقم: (10968)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2800 ترقیم الرسالہ : -- 2837
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَكِيلِ ، أنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا قُرَّةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَسَدِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ ثَمَرَةٌ حَتَّى يُطْعَمَ، أَوْ صُوفٌ عَلَى ظَهْرٍ، أَوْ لَبَنٌ فِي ضَرْعٍ، أَوْ سَمْنٌ فِي لَبَنٍ" ، أَرْسَلَهُ وَكِيعٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ فَرُّوخَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک وہ کھانے کے قابل نہیں ہو جاتا، اور آپ نے جانور کی پشت پر موجود اون کو، تھن میں موجود دودھ کو اور دودھ میں موجود گھی کو بھی فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ وکیع نامی راوی نے عمر بن فروخ نامی راوی کے حوالے سے اسے مرسل روایت کے مطابق نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2837]
ترقیم العلمیہ: 2800
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4988، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 316، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2274، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10716، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2411، 2835، 2836، 2837، 2838، 2840، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2283»
«قال البيهقي: تفرد برفعه عمر بن فروخ وليس بالقوي وقد أرسله عنه وكيع ورواه غيره موقوفا، سنن البيهقي الكبرى: (5 / 340) برقم: (10968)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2801 ترقیم الرسالہ : -- 2838
ثنا ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لا تَشْتَرُوا اللَّبَنَ فِي ضُرُوعِهَا، وَلا الصُّوفَ عَلَى ظُهُورِهَا" مَوْقُوفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہیں: تھن میں موجود دودھ کو فروخت نہ کرو اور جانور کی پشت پر موجود اون کو فروخت نہ کرو۔ یہ روایت موقوف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2838]
ترقیم العلمیہ: 2801
تخریج الحدیث: «موقوف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4988، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 316، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2274، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10716، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2411، 2835، 2836، 2837، 2838، 2840، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2283»
«قال البيهقي: روي مرفوعا والصحيح موقوف، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 11)»

الحكم على الحديث: موقوف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2802 ترقیم الرسالہ : -- 2839
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ، وَعَنْ شِرَاءِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَةِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ حُصُولِ الْغَائِصِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے پیٹ میں موجود (ان کے بچوں کو) فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک وہ جانور انہیں جنم نہیں دیتے، اور آپ نے مال غنیمت کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک اسے تقسیم نہیں کیا جاتا، اور صدقے (کے مال کو) فروخت کرنے سے منع کیا ہے، جب تک اسے تقسیم نہیں کیا جاتا، اور آپ نے غوطہ لگانے کے بعد جو چیز نکلے گی، اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2839]
ترقیم العلمیہ: 2802
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1563، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2196، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10959، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2839، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11553، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 1093، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14375، 14923، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10611، 20881، 22343، 34004»
«قال أبو حاتم الرازي: قلت لأبي من محمد هذا قال هو محمد بن إبراهيم شيخ مجهول، علل الحديث: (3 / 587)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2803 ترقیم الرسالہ : -- 2840
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ الْقَتَّاتُ ، سَمِعَهُ مِنْ خُبَيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ لَبَنٌ فِي ضَرْعٍ، أَوْ سَمْنٌ فِي لَبَنٍ" .
سیدنا عکرمہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تھن میں موجود دودھ کو یا دودھ میں موجود گھی کو فروخت کیا جائے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2840]
ترقیم العلمیہ: 2803
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4988، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 316، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2274، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10716، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2411، 2835، 2836، 2837، 2838، 2840، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2283»
«قال البيهقي: تفرد برفعه عمر بن فروخ وليس بالقوي وقد أرسله عنه وكيع ورواه غيره موقوفا، سنن البيهقي الكبرى: (5 / 340) برقم: (10968)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2804 ترقیم الرسالہ : -- 2841
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الأَعْرَابِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، نَا شَاذَانُ ، نَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ" ، قَالَ أَيُّوبُ: فَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ حُصُولَ الْغَائِصِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الآبِقُ، وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ، وَبَيْعُ مَا يَكُونُ فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ، وَبَيْعُ تُرَابِ الْمَعَادِنِ، وَبَيْعُ مَا فِي ضُرُوعِ الأَنْعَامِ إِلا بِكَيْلٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔ ایوب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، یحییٰ نامی راوی نے بیع غرر کی وضاحت کی ہے، وہ فرماتے ہیں: بیع غرر میں یہ بات شامل ہے کہ غوطہ خور غوطہ لگا کر جو چیز نکال کے لائے گا، اس کا سودا کیا جائے، بیع غرر میں یہ بات شامل ہے کہ بھاگے ہوئے غلام کا سودا کیا جائے، یا بھاگے ہوئے اونٹ کا سودا کیا جائے، یا جانوروں کے پیٹ میں موجود جو چیز ہے، اس کا سودا کیا جائے، یا معدنیات کے اندر جو کچھ نکلے گا، اس کا سودا کیا جائے، یا جانوروں کے تھنوں میں جو چیز ہے، اس کا سودا کیا جائے، البتہ اگر ماپی ہوئی چیز کا سودا کیا جائے (تو اگر اتنا دودھ نکلے گا، تو سودا ہو گا)، تو ایسا کرنا جائز ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2841]
ترقیم العلمیہ: 2804
تخریج الحدیث: «عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2195، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2841، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2796، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4968، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11341، 11655»
«وله شواهد من حديث أبي هريرة الدوسي، فأما حديث أبي هريرة الدوسي،أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1513»

الحكم على الحديث: عند الشواهد الحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2805 ترقیم الرسالہ : -- 2842
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِبُنْدَارٍ، قَالُوا: نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر اور کنکریوں کی بیع سے منع کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2842]
ترقیم العلمیہ: 2805
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1416،1513، وابن الجارود فى "المنتقى"، 643، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4951، 4977، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3341، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3376، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1230، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2596، 2605، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1884، 2194، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2842، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7529»
«‏‏‏‏قال البيهقي: هذا مرسل وقد رويناه موصولا من حديث الأعرج عن أبي هريرة ومن حديث نافع عن ابن عمر، سنن البيهقي الكبرى: (5 / 338) برقم: (10956)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2806 ترقیم الرسالہ : -- 2843
ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ يَزْدَادَ أَبُو الصَّقْرِ الْوَرَّاقُ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ " غَسِيلِ الْمَلائِكَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دِرْهَمٌ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ، أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلاثِينَ زِنْيَةً" ، رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، فَجَعَلَهُ عَنْ كَعْبٍ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: سود کا ایک درہم، جو ایک انسان کھاتا ہے اور جان بوجھ کر کھاتا ہے، یہ اس کے لیے چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ شدید ہے (یعنی زیادہ برا ہے)۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم یہ مرفوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2843]
ترقیم العلمیہ: 2806
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 229، 230، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2843، 2845، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22376، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3381، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2682»
«قال الدارقطني: رواه عبد العزيز بن رفيع عن ابن أبي مليكة فجعله عن كعب ولم يرفعه، سنن الدارقطني: (3 / 403) برقم: (2843)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2807 ترقیم الرسالہ : -- 2844
ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، نَا الْفِرْيَابِيُّ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ:" لأَنْ أَزْنِيَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ زِنْيَةً، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ آكُلَ دِرْهَمًا مِنْ رِبًا، يَعْلَمُ اللَّهُ تَعَالَى أَنِّي أَكَلْتُهُ أَوْ أَخَذْتُهُ وَهُوَ رِبًا" ، هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْمَرْفُوعِ.
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں تیس مرتبہ زنا کر لوں، یہ میرے نزدیک اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں سود کا ایک درہم کھاؤں، جس کے بارے میں اللہ کو یہ علم ہو کہ میں نے اسے کھایا ہے، میں نے اسے لیا ہے، وہ سود تھا۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مرفوع روایت کے مقابلے میں یہ روایت زیادہ مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2844]
ترقیم العلمیہ: 2807
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2844، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22377، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 15348، 15349، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22430»
«قال الدارقطني: هذا أصح من المرفوع، سنن الدارقطني: (3 / 404) برقم: (2844)»

الحكم على الحديث: مرفوع صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں