🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ
باب بلاعنوان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2808 ترقیم الرسالہ : -- 2845
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الدِّرْهَمُ رِبًا أَشَدُّ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ سِتَّةٍ وَثَلاثِينَ زِنْيَةً فِي الْخَطِيئَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: سود کا ایک درہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں غلطی سے چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ شدید گناہ ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2845]
ترقیم العلمیہ: 2808
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 229، 230، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2843، 2845، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22376، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3381، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2682»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2809 ترقیم الرسالہ : -- 2846
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ سَعِيدٍ أَوْ أَبِي سَعْدٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ حُرًّا أَفْلَسَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے آزاد شخص کو فروخت کر دیا، جو مفلس ہو گیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2846]
ترقیم العلمیہ: 2809
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11389، 11390، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2846»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2810 ترقیم الرسالہ : -- 2847
ثنا أَبُو رَوْقٍ الْهَرَّانِيُّ بِالْبَصْرَةِ، نَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ ، يَقُولُ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ بِنَسِيئَةٍ، فَقُلْتُ لا يَصْلُحُ هَذَا، فَقَالَ: لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ، قَالَ: فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، فَقَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ:" مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلا يَصْلُحُ، وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْلَمَنَا تِجَارَةً، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مثل ذَلِكَ" .
عبدالرحمن بن مطعم بیان کرتے ہیں: میرے شراکت دار نے کچھ درہم ادھار خریدے، تو میں نے کہا: یہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو اس شخص نے کہا: میں نے تو یہ بازار میں بیچے ہیں اور کسی شخص نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس بارے میں سیدنا براء بن عازب سے دریافت کیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، تو ہم اس طرح کا سودا کر لیا کرتے تھے، تو نبی نے ارشاد فرمایا: جو لین دین دست بہ دست ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، جو ادھار کے طور پر ہو، وہ ٹھیک نہیں ہو گا۔ تم سیدنا زید بن ارقم سے مل کر دریافت کرو، کیونکہ تجارت کے مسائل کے بارے میں وہ ہم سب سے زیادہ واقف ہیں۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بھی یہی بات کہی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2847]
ترقیم العلمیہ: 2810
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2060، 2180، 2497، 3939، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1589، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4592، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 744، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2847، 2848، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18839»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2811 ترقیم الرسالہ : -- 2848
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ ، سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: وَكُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلا بَأْسَ بِهِ، وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلا يَصْلُحُ" .
شیخ ابومنہال، سیدنا براء اور سیدنا زید بن ارقم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم لوگ تجارت کیا کرتے تھے، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا، ارشاد فرمایا: اگر وہ دست بہ دست ہو، تو حرج نہیں ہے، ادھار کے طور پر ہو، تو درست نہیں ہے (یعنی دونوں طرف سے درہم یا دینار کا لین دین ہو رہا ہو)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2848]
ترقیم العلمیہ: 2811
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2060، 2180، 2497، 3939، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1589، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4592، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 744، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2847، 2848، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18839»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2812 ترقیم الرسالہ : -- 2849
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" بَعَثَ سَوَادَ بْنَ غَزِيَّةَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَّرَهُ عَلَى خَيْبَرَ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ يَعْنِي الطَّيِّبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟، قَالَ: لا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاثَةِ آصُعٍ مِنَ الْجَمْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَفْعَلْ، وَلَكِنْ بِعْ هَذَا وَاشْتَرِ بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا، وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ" ، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ: يُقَالُ: كُلُّ شَيْءٍ مِنَ النَّخْلِ لا يُعْرَفُ اسْمُهُ فَهُوَ جَمْعٌ، يُقَالُ: مَا أَكْثَرَ الْجَمْعَ فِي أَرْضِ فُلانٍ، بِفَتْحِ الْجِيمِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سواد بن غزیہ، جو بنی عدی سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیبر کا نگران مقرر کیا، وہ وہاں سے عمدہ کھجوریں لے کر آتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟ انہوں نے عرض کی: نہیں، یا رسول اللہ، اللہ کی قسم! میں نے دو صاع کے عوض میں ایک صاع اور تین صاع کے عوض میں دو صاع اچھی کھجوریں خریدی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا نہ کرو، بلکہ پہلے انہیں فروخت کرو، پھر ان کی قیمت کے ذریعے انہیں (یعنی اچھی کھجوروں کو) خریدو، اسی طرح وزن کی جانے والی تمام چیزوں میں کرو۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کھجور کی ہر وہ قسم، جس کا کوئی نام متعین نہ ہو، اسے جمع کہا جاتا ہے، جیسے فلاں کی زمین میں جمع (یعنی مختلف قسم کی کھجوریں) ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2849]
ترقیم العلمیہ: 2812
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2201، 2302، 4244، 7350، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1593، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1232، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5020، 5021، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4569، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2849، 2850، 2851، 2852، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11588»
«قال الدارقطني: وكلها صحاح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (9 / 206)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2813 ترقیم الرسالہ : -- 2850
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ عبدالعزیز بن محمد بن عبدالمجید بن سہیل کے حوالے سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2850]
ترقیم العلمیہ: 2813
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2201، 2302، 4244، 7350، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1593، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1232، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5020، 5021، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4569، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2849، 2850، 2851، 2852، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11588»
«قال الدارقطني: وكلها صحاح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (9 / 206)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2814 ترقیم الرسالہ : -- 2851
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2851]
ترقیم العلمیہ: 2814
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2201، 2302، 4244، 7350، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1593، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1232، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5020، 5021، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4569، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2849، 2850، 2851، 2852، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11588»
«قال الدارقطني: وكلها صحاح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (9 / 206)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2815 ترقیم الرسالہ : -- 2852
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2852]
ترقیم العلمیہ: 2815
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2201، 2302، 4244، 7350، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1593، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1232، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5020، 5021، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4569، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2849، 2850، 2851، 2852، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11588»
«قال الدارقطني: وكلها صحاح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (9 / 206)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2816 ترقیم الرسالہ : -- 2853
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ وَآخَرُونَ ، قَالُوا: نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُبَادَةَ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا وُزِنَ مثل بِمِثْلٍ إِذَا كَانَ نَوْعًا وَاحِدًا، وَمَا كَيْلَ فَمِثْلُ ذَلِكَ، فَإِذَا اخْتَلَفَ النَّوْعَانِ فَلا بَأْسَ بِهِ" ، لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الرَّبِيعِ هَكَذَا. وَخَالَفَهُ جَمَاعَةٌ فَرَوَوْهُ عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَادَةَ، وَأَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِلَفْظٍ غَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: وہ چیز، جس کا وزن کیا جاتا ہے، برابر برابر ہونی چاہیے، جب ان دونوں کی قسم ایک ہو، اور جب کسی چیز کو پایا جاتا ہے، وہ بھی اسی طرح ہونی چاہیے، لیکن جب دونوں طرف سے قسمیں مختلف ہوں، تو پھر ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہی روایت دیگر اسناد کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2853]
ترقیم العلمیہ: 2816
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2853، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2817 ترقیم الرسالہ : -- 2854
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، قَالَ قَتَادَةُ ، وَحَدَّثَنِي صَالِحٌ أَبُو الْخَلِيلِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ إِلا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا وَزْنًا تِبْرَهُ وَعَيْنَهُ، وَذَكَرَ الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ، وَلا بَأْسَ بِالشَّعِيرِ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، فَمَا زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى" ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبِي فَاسْتَحْسَنَهُ.
شیخ ابواشعث بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں موجود تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں: سونے کے عوض میں سونے کو فروخت کیا جائے، البتہ برابر کے وزن کے ساتھ کیا جا سکتا ہے، اور چاندی کو چاندی کے عوض میں کیا جائے، البتہ برابر کے وزن کے ساتھ کیا جا سکتا ہے، خواہ وہ اپنی اصلی شکل میں ہوں یا سکے کی شکل میں، پھر انہوں نے جو کے عوض میں جو فروخت کرنے کا، گندم کے عوض گندم اور کھجور کے عوض میں کھجور، نمک کے عوض میں نمک فروخت کرنے کا حکم دیا اور پھر یہ بات بتائی کہ گندم کے عوض میں جو کا سودا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ وہ دست بہ دست ہو اور اس میں جو زیادہ ہو، لیکن یہ لین دین دست بہ دست ہونا چاہیے، اس کے علاوہ صورتوں میں جو زیادہ وہ دے گا یا لے گا، وہ سود کا کام کرے گا۔ عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ حدیث سنائی، تو انہوں نے اسے مستحسن قرار دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2854]
ترقیم العلمیہ: 2817
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1587، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5015، 5018، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4576، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3349، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1240، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2621، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 18، 2254، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2854، 2876، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23123، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 394، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 2732»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں