🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ
باب بلاعنوان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2838 ترقیم الرسالہ : -- 2874
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهُجَيْمِيُّ ، نَا أَبُو يَزِيدَ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّ الْبَعِيرَ الشَّرُودَ يُرَدُّ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس کی مانند روایت نقل کرتے ہیں، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سرکش اونٹ واپس کر دیا جاتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2874]
ترقیم العلمیہ: 2838
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10860، 10861، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2873، 2874، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 6135، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1405»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2839 ترقیم الرسالہ : -- 2875
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالا: نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ، إِنِّي أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ، فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، وَأُعْطِي هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِهَا يَوْمَهَا، مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ" ، وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: فَأَعْطَى هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، فِي الْمَوْضِعَيْنِ جَمِيعًا وَالْبَاقِي مِثْلَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں بقیع میں اونٹوں کا سودا کیا کرتا تھا، بعض اوقات میں انہیں دینار کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور دینار کی جگہ درہم وصول کر لیتا تھا اور بعض اوقات درہم کے عوض میں فروخت کرتا تھا اور درہم کی جگہ دینار وصول کر لیتا تھا، یہ اس کی جگہ لے لیتا تھا اور وہ اس جگہ دے دیا کرتا تھا، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ اس وقت سیدہ حفصہ کے گھر میں موجود تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، میں بقیع میں اونٹوں کا سودا کرتا ہوں، تو بعض اوقات میں دینار کے عوض میں فروخت کرتا ہوں، لیکن درہم وصول کر لیتا ہوں، بعض اوقات درہم کے عوض میں فروخت کرتا ہوں اور دینار وصول کر لیتا ہوں، یہ میں اس کی جگہ لے لیتا ہوں اور وہ اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر تم اس دن کے بھاؤ کے حساب سے لیتے رہو، جب تک تم دونوں جدا نہیں ہوتے یا تمہارے درمیان کوئی شرط طے نہیں ہوتی۔ ایک روایت میں الفاظ کا کچھ اختلاف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2875]
ترقیم العلمیہ: 2839
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 712، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4920، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2298، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4598، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3354، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1242، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2623، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2262، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2875، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4977»
«قال ابن عبدالبر: ابن المبارك يقول سماك بن حرب ضعيف الحديث وكان مذهب علي فيه نحو هذا، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (16 / 5)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2840 ترقیم الرسالہ : -- 2876
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ النُّعْمَانِيِّ ، نَا الْحُسَيْنُ بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيّ ،، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مثلا بِمِثْلٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: سونے کو سونے کے عوض میں، چاندی کو چاندی کے عوض میں، کھجور کو کھجور کے عوض میں، گندم کو گندم کے عوض میں، جو کو جو کے عوض میں، نمک کو نمک کے عوض میں صرف دست بہ دست برابر فروخت کیا جا سکتا ہے، لیکن جب ان اصناف میں اختلاف ہو جائے، تو تم جیسے چاہو فروخت کرو، اس وقت کہ جب یہ دست بہ دست لین دین ہو (یعنی ادھار کا سودا نہ ہو)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2876]
ترقیم العلمیہ: 2840
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1587، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5015، 5018، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4564، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3349، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1240، والدارمي فى ((سننه)) برقم: 457، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 18، 2254،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 394،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2854، 2876، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23123»
«قال الشيخ الألباني: صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2841 ترقیم الرسالہ : -- 2877
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الدَّيْنَوَرِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَعْفَرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلامَهُ بِصَاعِ بُرٍّ، فَقَالَ: بِعْهُ وَاشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا، فَذَهَبَ الْغُلامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ الصَّاعِ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ مَعْمَرٌ:" لِمَ فَعَلْتَ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلا تَأْخُذَنَّ إِلا مثلا بِمِثْلٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ، يَعْنِي مثلا بِمِثْلٍ، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ" .
معمر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلام کو گندم کے ایک صاع کے ہمراہ بھیجا اور بولے: اسے ایک صاع فروخت کر دو اور اس کے ذریعے جو خرید کر لے آؤ۔ وہ غلام گیا اور اس نے ایک صاع اور ایک صاع سے کچھ زیادہ وصول کر لیا، جب وہ آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو معمر نے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ تم جاؤ اور اسے واپس کر دو اور صرف برابر کا لین دین کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اناج کو اناج کے عوض میں۔ ان کی مراد یہ تھی کہ صرف برابر برابر لیا اور دیا جا سکتا ہے، ان دنوں ہماری خوراک جو ہوا کرتی تھی، اس غلام نے کہا: یہ تو اس کی مانند نہیں ہیں۔ تو معمر نے کہا: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ اس کے برابر ہوتے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2877]
ترقیم العلمیہ: 2841
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1592، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5011، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10618، 10626، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2877، 2878، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27891، 27892، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5480، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 1094، 1095، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 325»
«قال ابن المقلن: الحديث صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 470)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2842 ترقیم الرسالہ : -- 2878
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ، فَقَالَ: بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا، فَذَهَبَ الْغُلامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ:" لِمَ دَخَلْتَ هَذَا؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ، وَلا تَأْخُذَنَّ إِلا مثلا بِمِثْلٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مثلا بِمِثْلٍ، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ، قِيلَ: فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُ مثلا، قَالَ: فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ" .
معمر بن عبداللہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے اپنے غلام کو گندم کے ایک صاع کے ہمراہ بھیجا اور بولے: اسے ایک صاع فروخت کر دو اور اس کے ذریعے جو خرید کر لے آؤ۔ وہ غلام گیا اور اس نے ایک صاع اور ایک صاع سے کچھ زیادہ وصول کر لیا، جب وہ آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو معمر نے کہا: تم نے اس میں دخل کیوں کیا؟ تم جاؤ اور اسے واپس کر دو اور صرف برابر کا لین دین کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اناج کو اناج کے عوض میں صرف برابر (لیا اور دیا جا سکتا ہے)۔ راوی کہتے ہیں: ان دنوں ہماری خوراک جو ہوا کرتی تھی، معمر سے یہ کہا گیا کہ یہ تو اس کی مانند نہیں بنتے، تو انہوں نے فرمایا: میرا یہ خیال ہے کہ یہ اس کی مانند ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2878]
ترقیم العلمیہ: 2842
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1592، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5011، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10618، 10626، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2877، 2878، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27891، 27892، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5480، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 1094، 1095، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 325»
«قال ابن المقلن: الحديث صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 470)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2843 ترقیم الرسالہ : -- 2879
نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو حَامِدٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، أنا أَبُو دَاوُدَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الزَّعْفَرَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الآخِذُ وَالْمُعْطِي مِنَ الرِّبَا سَوَاءٌ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: سود لینے والا اور دینے والا برابر (کے گناہ گار) ہوتے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2879]
ترقیم العلمیہ: 2843
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2176، 2177، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1584، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1241، ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5016، 5017، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2295، 2320، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1241، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2879، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11162»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2844 ترقیم الرسالہ : -- 2880
نَا أَبُو إِسْحَاقَ نَهْشَلُ بْنُ دَارِمٍ التَّمِيمِي ُّ نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّه ْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لا فَضْلَ بَيْنَهُمَا، مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِوَرِقٍ فَلْيَصْرِفْهَا بِذَهَبٍ، وَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِذَهَبٍ، فَلْيَصْرِفْهَا بِوَرِقٍ، وَالصَّرْفُ هَاءٌ وَهَاءٌ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: دینار کو دینار کے عوض میں، درہم کو درہم کے عوض میں کسی اضافی ادائیگی کے بغیر لیا اور دیا جائے گا، جس شخص کو چاندی کی ضرورت ہو، وہ اسے سونے کے عوض میں لین دین کرے اور جس شخص کو سونے کی ضرورت ہو، وہ چاندی کے عوض میں لین دین کرے، لیکن یہ لین دین دست بہ دست ہونا چاہیے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2880]
ترقیم العلمیہ: 2844
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2321، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2261، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2880، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6347»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2845 ترقیم الرسالہ : -- 2881
ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْعَكْبَرِيُّ ، نَا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ الصَّفَّارُ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا أَبُو يُوسُفَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" فِي خُطْبَتِهِ فِي حَجَّتِهِ: أَلا وَإِنَّ الْمُسْلِمَ أَخُو الْمُسْلِمِ، لا يَحِلُّ لَهُ دَمُهُ وَلا شَيْءٌ مِنْ مَالِهِ إِلا بِطِيبِ نَفْسِهِ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر یہ بات ارشاد فرمائی تھی: یاد رکھنا، مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، اس کے لیے اپنے بھائی کا خون یا اس کے مال میں سے کوئی بھی چیز حلال نہیں ہے، ماسوائے اس کے جو وہ اپنی پسند کے ساتھ اسے دے دے، خبردار! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2881]
ترقیم العلمیہ: 2845
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1739، 7079، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 317، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2193، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11640، 20395، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2881، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2064، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 38421»
«قال ابن حجر: وفي إسناده العرزمي وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 101)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2846 ترقیم الرسالہ : -- 2882
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَاتِبُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، نَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَشْرَبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاءَ أَخِيهِ، إِلا بِطَيْبَةٍ مِنْ نَفْسِهِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: کوئی بھی شخص اپنے بھائی کا ساتھی اس وقت تک نہ بنے، جب تک وہ خود اپنی مرضی سے اسے نہ دے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2882]
ترقیم العلمیہ: 2846
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2882 انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن حجر: داود بن الزبرقان متروك الحديث، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 101)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2847 ترقیم الرسالہ : -- 2883
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ الْعَلاءِ الْكَاتِبُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَسَنِ الأَحْوَلِ مَوْلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ حَارِثَةَ الضَّمْرِيُّ ، ذَكَرَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: لا يَحِلُّ لامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ، فَقُلْتُ حِينَئِذٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمٍّ لِي فَأَخَذْتُ مِنْهَا شَاةً، فَاجْتَزَرْتُهَا أَعَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؟، قَالَ: إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَأَزْنَادًا فَلا تَمَسَّهَا" .
سیدنا عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں منی میں حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: کسی بھی انسان کے لیے اپنے بھائی کے مال میں سے کوئی بھی چیز لینا جائز نہیں ہے، ماسوائے اس کے جسے وہ (دوسرا شخص) اپنی پسند کے ساتھ دے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس وقت عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں، اگر میں اپنے چچا زاد کی بکریوں کو اپنے سامنے پاتا ہوں اور ان میں سے ایک بکری لے لیتا ہوں اور ذبح کر لیتا ہوں، تو کیا اس بارے میں مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایک بکری کا سامنا کرتے ہو اور اس وقت تمہارے ہاتھ میں چھری بھی ہے اور ہاتھ پاؤں باندھنے کی چیزیں بھی ہیں، تو بھی تم اس بکری کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2883]
ترقیم العلمیہ: 2847
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11641، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2883، 2884، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15728، 21469، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 21468، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 6633، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2823»
«قال الزیلعي: وإسناده جيد، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 168)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں