🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ
باب بلاعنوان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2828 ترقیم الرسالہ : -- 2864M
ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ مُسْتَهْلَكٌ، كَانَ الْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ" ، تَفَرَّدَ بِهَذَا اللَّفْظِ أَبُو الأَحْوَصِ الْقَاضِي، عَنْ هِشَامٍ.
قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب سودا کرنے والے دو فریقوں کے درمیان اختلاف ہو جائے اور فروخت شدہ سامان ضائع ہو چکا ہو، تو اب خریدار کو یہ اختیار ہو گا کہ اگر وہ چاہے، تو اسے لے، چاہے تو اسے ترک کر دے۔ اس روایت کو ان الفاظ میں نقل کرنے میں ابواحوص نامی راوی منفرد ہیں، جنہوں نے ہشام کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2864M]
ترقیم العلمیہ: 2828
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 680، 681، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2306، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4664، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6199، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3511، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1270، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2591، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2186، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2855، 2858، 2859، 2860، 2861، 2862، 2863، 2864، 2865، 2866، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4530»
«قال ابن الملقن: ضعيف لأجل انقطاعه فإن أبا عبيدة لم يدرك أباه، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 593)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2829 ترقیم الرسالہ : -- 2865
وَنا أَبُو الْقَاسِمِ بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عَبْدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُسَبِّحٍ الْجَمَالُ ، نَا عِصْمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ مُسْتَهْلَكٌ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ" ، وَرَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سودا کرنے والے دونوں آدمیوں کے درمیان اختلاف ہو جائے اور فروخت شدہ سامان ضائع ہو چکا ہو، تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہو گا۔ انہوں نے یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2865]
ترقیم العلمیہ: 2829
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 680، 681، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2306، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4664، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6199، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3511، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1270، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2591، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2186، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2855، 2858، 2859، 2860، 2861، 2862، 2863، 2864، 2865، 2866، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4530»
«قال ابن الملقن: ضعيف لأجل انقطاعه فإن أبا عبيدة لم يدرك أباه، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 593)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2830 ترقیم الرسالہ : -- 2866
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا هُشَيْمٌ ، نَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الأَشْعَثِ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الإِمَارَةِ فَاخْتَلَفَا فِي الثَّمَنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، وَقَالَ الأَشْعَثُ: اشْتَرَيْتُ مِنْكَ بِعَشَرَةِ آلافٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَاتِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ" ، قَالَ الأَشْعَثُ: أَرَى أَنْ تُرَدَّ الْبَيْعُ.
قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث کو ایک سرکاری غلام فروخت کیا، ان دونوں کے درمیان قیمت کے بارے میں اختلاف ہو گیا، سیدنا عبداللہ نے کہا: میں نے یہ بیس ہزار کے عوض میں آپ کو فروخت کیا ہے۔ سیدنا اشعث نے کہا: میں نے اسے آپ سے دس ہزار کے عوض خریدا ہے۔ تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا کہ: اگر آپ چاہیں، تو میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سناتا ہوں، جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ تو سیدنا اشعث نے کہا: سنائیے۔ تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب سودا کرنے والے دو فریقوں کے درمیان اختلاف ہو جائے اور فروخت شدہ سامان اپنی اصلی حالت میں موجود ہو اور ان دونوں فریقوں کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو، تو اس بارے میں فروخت کرنے والے کا قول معتبر ہو گا، یا پھر وہ دونوں اس سودے کو ختم کر دیں گے۔ تو سیدنا اشعث نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ اس سودے کو ختم کر دیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2866]
ترقیم العلمیہ: 2830
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 680، 681، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2306، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4664، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6199، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3511، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1270، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2591، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2186، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2855، 2858، 2859، 2860، 2861، 2862، 2863، 2864، 2865، 2866، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4530»
«قال ابن الملقن: ضعيف لأجل انقطاعه فإن أبا عبيدة لم يدرك أباه، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 593)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2831 ترقیم الرسالہ : -- 2867
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا عَمِّي . ح وَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي مُوهَبُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حِمْلَ خَبَطٍ، فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَمَرَكَ اللَّهُ بَيْعًا" ، وَقَالَ أَحْمَدُ: فَقَالَ لَهُ الأَعْرَابِيُّ: عَمَرَكَ اللَّهُ بَيْعًا، قَالَ أَهْلُ اللُّغَةِ: مَعْنَى قَوْلُ الْعَرَبِ: عَمَرَكَ بِفَتْحِ الرَّاءِ: سَأَلْتُ اللَّهَ تَعْمِيرَكَ، كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے پتوں کا ایک گٹھا خریدا۔ جب سودا طے کیا گیا، تو نبی نے اس سے فرمایا: تمہیں اختیار ہے (کہ اگر تم چاہو، تو اسے ختم کر سکتے ہو)۔ تو اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ آپ کے سودے کو مبارک کرے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ آپ کے سودے کو آباد کرے۔ علم لغت کے ماہرین نے کہا ہے: روایت میں استعمال ہونے والے لفظ عمرک اللہ کا مطلب یہ ہے: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو آباد رکھے۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2867]
ترقیم العلمیہ: 2831
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2318، 2319، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1249، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2184، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10554، 10555، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2867، 2868، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 5290، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3552، 6388، 9066»
«قال الدارقطني: كلهم ثقات، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2867»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2832 ترقیم الرسالہ : -- 2868
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا الْمُعَافَى ، نَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، حِمْلَ خَبَطٍ، فَلَمَّا وَجَبَ لَهُ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْ، فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ: إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ مِثْلَهُ بَيْعًا عَمَرَكَ اللَّهُ مِمَّنْ أَنْتَ؟، قَالَ: مِنْ قُرَيْشٍ" ،.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے کوئی چیز خریدی، میرا خیال ہے اس کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ سے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پتوں کا ایک گٹھا خریدا، جب سودا طے ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اختیار کر لو (یعنی تم چاہو، تو اسے ختم کر سکتے ہو)۔ تو دیہاتی نے کہا: میں نے آج تک ایسی سودا نہیں دیکھا، اللہ تعالیٰ آپ کے سودے کو آباد رکھے! آپ کا کون سے قبیلہ سے تعلق ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش سے ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2868]
ترقیم العلمیہ: 2832
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2318، 2319، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1249، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2184، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10554، 10555، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2867، 2868، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 5290، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3552، 6388، 9066»
«قال الدارقطني: كلهم ثقات، الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2868»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2833 ترقیم الرسالہ : -- 2869
ثنا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: ابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَكَمًا مِنْ خَبَطٍ مِنْ أَعْرَابِيٍّ، فَخَيَّرَهُ بَعْدَ الْبَيْعِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءٌ.
طاؤس بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے پتوں کا ایک گٹھا خریدا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کو اختیار دیا کہ اگر وہ چاہے، تو اس سودے کو ختم کر سکتا ہے۔ راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2869]
ترقیم العلمیہ: 2833
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10556، 10557، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2869، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14261، 14270، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22862، 22863، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 5292»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2834 ترقیم الرسالہ : -- 2870
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيَّ ، قَالا: نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى بِكْرٍ صَعْبٍ لأَبِيهِ، فَكَانَ يَغْلِبُهُ حَتَّى يَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيحَ بِهِ عُمَرُ، وَيَغْلِبُهُ الْبِكْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْنِيهِ يَا عُمَرُ، فَاشْتَرَاهُ، فَدَعَا ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ" ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ عَبَّادٍ.
عمرو نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک ایسے اونٹ پر سوار تھے، جو قابومیں نہیں آتا تھا، وہ ان کی والدہ کی ملکیت تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر اس پر قابونہیں پا سکے، وہ اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ سے آگے نکل گیا، بعد میں انہیں جھڑکا، لیکن وہ اونٹ ان کے قابومیں نہیں آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! مجھے فروخت کر دو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمر کو بلایا اور فرمایا: یہ تمہارا ہوا، اب تم اس کے ساتھ جو چاہو سلوک کرو۔ روایت کے یہ الفاظ ابن عباد نامی راوی کے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2870]
ترقیم العلمیہ: 2834
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2870، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2835 ترقیم الرسالہ : -- 2871
نَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَنْدَوَيْهِ الْبُنْدَارُ حَبْشُونَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَاتَبْتُ بَرِيرَةُ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعِ أَوَاقٍ كُلَّ سَنَةٍ أُوقِيَّةٌ، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لا وَلَكِنْ إِنْ شِئْتِ عَدَدْتُ لَهُمْ مَالَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونُ الْوَلاءُ لِي، فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ، فَجَاءَتْ عَائِشَةَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَّتْهَا بِمَا قَالَتْ لَهُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لا إِذَنْ إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ؟، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَتَتْنِي بَرِيرَةُ تَسْتَعِينُنِي فِي مُكَاتَبَتِهَا، فَقُلْتُ: لا، إِنْ يَشَاءُ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّ لَهُمْ مَالَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونَ الْوَلاءُ لِي فَذَهَبَتْ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: لا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ، فَإِنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، تَعْلَمُنَّ بِأَنَّ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنَّ الشَّرْطَ بَاطِلٌ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، قَضَاءُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَقُولُونَ: اعْتِقْ فُلانًا وَالْوَلاءُ لِي، إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَتْ: وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بریرہ نے اپنے لیے نو اوقیہ کی ہر سال ادائیگی کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کر لیا، وہ سیدہ عائشہ کے پاس آئیں، تاکہ ان سے اس بارے میں مدد لیں، تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: نہیں، اگر تم چاہو، تو میں ساری ادائیگی ایک ہی مرتبہ کر دوں گی، البتہ تمہاری ولاء کا حق میرے پاس ہو گا۔ بریرہ اپنے مالک کے پاس گئی، ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو ان لوگوں نے اس بات سے انکار کر دیا اور کہا کہ ولاء کا حق ان کے پاس ہی رہے گا، وہ سیدہ عائشہ کے پاس آئیں، اس دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو بریرہ نے سیدہ عائشہ کو ہلکی آواز میں ساری بات بتائی، جو اس نے اپنے مالکان سے کہی تھی (اور جو جواب انہوں نے دیا تھا)، تو سیدہ عائشہ نے یہی کہا: نہیں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا (تو میں اس معاملے کے لیے تیار ہوں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا معاملہ ہے؟ تو سیدہ عائشہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! بریرہ میرے پاس آئی تھی، تاکہ اپنے کتابت کے معاہدے کے بارے میں مجھ سے مدد لے، تو میں نے یہ کہا کہ اگر مالکان چاہیں، تو میں انہیں ساری ادائیگی ایک ساتھ کر دوں اور ولاء کا حق میرے پاس رہے گا، وہ اپنے مالکان کے پاس گئی، تو انہوں نے جواب دیا: نہیں، ولاء کا حق ہمارے پاس ہی رہے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے خرید کر اسے آزاد کر دو اور ولاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے، جو آزاد کرتا ہے۔ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: تو میں نے اسے خرید کر آزاد کر دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور ارشاد فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرائط عائد کر دیتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب نہیں دیتی، یہ بات جان لو کہ جو شخص کسی ایسی شرط عائد کرے، جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں، وہ شرط باطل شمار ہو گی، اگرچہ سو مرتبہ کیوں نہ عائد کی گئی ہو، اللہ کا فیصلہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے پورا کیا جائے اور اللہ نے جس شرط کی اجازت دی ہے، وہ شرط زیادہ مضبوط ہو گی، لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ یہ کہتے ہیں کہ تم فلاں کو آزاد کر دو اور ولاء کا حق میرے پاس رہے گا، ولاء کا حق اسی شخص کو ہے، جو آزاد کرتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ کا شوہر ایک غلام تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا، تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، اگر اس کا شوہر آزاد شخص ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اختیار نہ دیتے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2871]
ترقیم العلمیہ: 2835
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 456، 1493، 2155، 2168، 2536، 2561، 2563، 2564، 2565، 2578، 2717، 2726، 2729، 2735، 5097، 5279، 5284، 6717، 6751، 6754، 6758، 6760، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1075،1504، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2233، 2234، 2235، 2236، 2916، 3929، بدون ترقيم، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1154، 1155، 1256، 2124، 2125، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2335، 2336، 2337، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2074، 2076، 2077، 2521، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 279، 1259، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2871، 2872، 3753، 3754، 3755، 3756، 3757، 3758، 3759، 3760، 3761، 3762، 3763، 3764، 3765، 3766، 3775، 3776، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24687»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2836 ترقیم الرسالہ : -- 2872
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَوَّانٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كُنْتُ لِعُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، وَإِنَّ ابْنَهُ وَامْرَأَتَهُ بَاعُونِي وَاشْتَرَطُوا وَلائِي، فَمَوْلَى مَنْ أَنَا؟، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، دَخَلَتْ عَلَى بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ، فَقَالَتِ: اشْتَرِينِي، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي لا يَبِيعُونَنِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلائِي، قُلْتُ: لا حَاجَةَ لِي فِيكِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَهُ، فَقَالَ: وَمَا قَالَتْ بَرِيرَةُ؟، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَدَعِيهِمْ يَشْتَرِطُونَ مَا شَاءُوا، فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَلَوِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ مَرَّةٍ" .
عبدالواحد بن ایمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین! میں عتبہ بن ابولہب کے پاس موجود تھا (یعنی ان کا غلام تھا)، اس کے بیٹے اور اس کی بیوی نے مجھے فروخت کر دیا اور میری ولاء کی شرط عائد کی، تو میں کسی کا آزاد کردہ غلام شمار ہوں گا؟ تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! بریرہ میرے پاس آئی، اس نے کتابت کا معاہدہ کیا تھا، اس نے کہا: آپ مجھے خرید لیں، میں نے کہا: ٹھیک ہے، اس نے کہا: میرے مالکان مجھے اس وقت تک فروخت نہیں کریں گے، جب تک وہ میرے ولاء کی شرط عائد نہ کریں، تو میں نے کہا: پھر تو مجھے تمہارے بارے میں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی یا آپ کو اطلاع دی گئی، تو آپ نے دریافت کیا: بریرہ کیا کہہ رہی ہے؟ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی نے فرمایا: تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو اور ان لوگوں کو ایسے ہی رہنے دو، وہ جو چاہیں شرطیں [1] عائد کرتے پھریں۔ (سیدہ عائشہ فرماتی ہیں) تو میں نے اسے خرید کر اسے آزاد کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے، خواہ (دوسرے فریق کے لوگ) سو شرائط عائد کریں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2872]
ترقیم العلمیہ: 2836
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 456، 1493، 2155، 2168، 2536، 2561، 2563، 2564، 2565، 2578، 2717، 2726، 2729، 2735، 5097، 5279، 5284، 6717، 6751، 6754، 6758، 6760، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1075،1504، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2233، 2234، 2235، 2236، 2916، 3929، بدون ترقيم، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1154، 1155، 1256، 2124، 2125، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2335، 2336، 2337، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2074، 2076، 2077، 2521، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 279، 1259، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2871، 2872، 3753، 3754، 3755، 3756، 3757، 3758، 3759، 3760، 3761، 3762، 3763، 3764، 3765، 3766، 3775، 3776، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24687»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2837 ترقیم الرسالہ : -- 2873
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا أَبُو قِلابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ عَجْلانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَزِيدَ الْمَدَنِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ لِبَشِيرٍ الصَّغِيرِ مَقْعَدٌ لا يَكَادُ يُخْطِئُهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَقَدَهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا عَادَ إِلَى مَقْعَدِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بَشِيرُ لَمْ أَرَكَ مُنْذُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي ابْتَعْتُ بَعِيرًا مِنْ فُلانٍ فَمَكَثَ عِنْدِي ثُمَّ شَرَدَ، فَجِئْتُ بِهِ فَدَفَعْتُهُ إِلَى صَاحِبِهِ فَقَبِلَهُ مِنِّي، قَالَ: فَكَانَ شَرَطَ لَكَ ذَاكَ؟، قَالَ: لا وَلَكِنْ قَبِلَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الشُّرُودَ يُرَدُّ مِنْهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بشیر صغیر کے بیٹھنے کی ایک مخصوص جگہ تھی، جہاں وہ باقاعدگی کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتے تھے، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک انہیں ملاحظہ نہیں فرمایا، جب وہ تین دن کے بعد وہ اپنی مخصوص جگہ پر آئے، تو نبی نے ان سے دریافت کیا: اے بشیر! میں نے تمہیں پچھلے تین دن سے دیکھا نہیں ہے۔ تو انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے فلاں شخص سے اونٹ خریدا تھا، وہ میرے پاس رہا اور اس کے بعد وہ سرکش ہو کر بھاگ گیا، میں اس کے پیچھے گیا (اسے پکڑ کے لا کر) اسے اس کے مالک کے سپرد کر دیا، تو اس نے وہ مجھ سے لے لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے تمہارے ساتھ کوئی شرط طے کی تھی؟ انہوں نے عرض کی: نہیں، اس نے ویسے ہی اسے لے لیا ہے۔ تو نبی نے ان سے فرمایا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ سرکش جانور اسی بنیاد پر واپس کیے جاتے ہیں؟ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2873]
ترقیم العلمیہ: 2837
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10860، 10861، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2873، 2874، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 6135، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1405»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں