سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. بَابُ
باب
ترقیم العلمیہ : 3654 ترقیم الرسالہ : -- 3710
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْحَوَّاضُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3710]
ترقیم العلمیہ: 3654
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15404، 15405، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3709، 3710، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1743»
«قال ابن حجر: سنده ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 355)»
«قال ابن حجر: سنده ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 355)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3655 ترقیم الرسالہ : -- 3711
نَا أَبُو عَمْرٍو يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ ، نَا عَبْدَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لاعَنَ بِالْحَمْلِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حوالے سے لعان کروایا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3711]
ترقیم العلمیہ: 3655
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15442، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3711، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 1527»
ترقیم العلمیہ : 3656 ترقیم الرسالہ : -- 3712
نَا أَبُو عِيسَى يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الدُّورِيُّ ، نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ هِلالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا رَأَى أَحَدُنَا الرَّجُلَ عَلَى امْرَأَتِهِ يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْبَيِّنَةُ وَإِلا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ، قَالَ: فَقَالَ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ بِهِ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 حَتَّى بَلَغَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 9، قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، قَالَ: فَجَاءَ فَقَامَ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا مِنْ تَائِبٍ؟، فَقَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقِّفُوهَا فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ، ثُمَّ قَالَتْ: لا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، قَالَ: فَمَضَتْ فَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْصِرُوهَا فَإِنْ هِيَ جَاءَتْ بِهِ" ، قَالَ هِشَامٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ مثل قَوْلِ مُحَمَّدٍ:" فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ مُدَمَلْجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ"، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہلال بن امیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر یہ الزام لگایا کہ اس کے شریک بن سحماء کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد جاری ہو گی۔“ ہلال نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھتا ہے، تو کیا وہ ثبوت گواہ تلاش کرنے چل پڑے گا؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے: ”تم ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد جاری ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ہلال بن امیہ نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں سچ کہہ رہا ہوں اور اللہ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم ضرور نازل کرے گا جس کی وجہ سے مجھ پر حد جاری نہیں ہو گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام لگا دیتے ہیں۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”پانچویں مرتبہ وہ کہے گی: اس پر اللہ کا غضب نازل ہوا اگر وہ مرد سچا ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلوایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہلال بن امیہ آئے، انہوں نے کھڑے ہو کر گواہی دی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرے گا؟“ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے بھی گواہی دے دی۔ جب وہ پانچواں جملہ استعمال کرنے لگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے روکو، کیونکہ یہ (پانچویں گواہی اس کے لیے آخرت میں عذاب کو) لازم کر دے گی۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں: وہ عورت ہچکچائی، اس نے اپنا سر جھکایا یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ اب وہ رجوع کر لے گی، لیکن پھر اس نے کہا: میں اپنے قبیلے کو کبھی رسوا نہیں کروں گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس نے (گواہی کو) پورا کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت کا دھیان رکھنا، اگر یہ ایسے بچے کو جنم دے۔“ ہشام نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے میرے استاد نے یہاں محمد نامی راوی کی مانند لفظ نقل کیے ہیں: ”اور اگر اس عورت نے سرمئی آنکھوں، بھاری سرین اور مضبوط پنڈلی والے بچے کو جنم دیا، تو وہ شریک بن سحماء کی اولاد ہو گا۔“ تو اس عورت نے ایسے ہی بچے کو جنم دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس بارے میں اللہ کی کتاب کا حکم پہلے نہ آ چکا ہوتا، تو میرا اس عورت کے ساتھ سلوک مختلف ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3712]
ترقیم العلمیہ: 3656
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2671، 4747، 5307، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2829، 8204، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 8169، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2254، 2256، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3179، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2067، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3712، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2163، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17656، 29675، 37283»
الحكم على الحديث:
صحيح
ترقیم العلمیہ : 3657 ترقیم الرسالہ : -- 3713
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ شُرَيْحًا، يَقُولُ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ،" الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ؟، قُلْتُ: وَلِيُّ الْمَرْأَةِ، قَالَ: لا بَلْ هُوَ الزَّوْجُ" .
قاضی شریح بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ”وہ شخص جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔“ میں نے پوچھا: اس سے مراد عورت کا ولی ہے؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، اس سے مراد شوہر ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3713]
ترقیم العلمیہ: 3657
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14557، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3713، 3717، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17266»
ترقیم العلمیہ : 3658 ترقیم الرسالہ : -- 3714
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، وَأَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ،" تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي نَصْرٍ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِالصَّدَاقِ كَامِلا، فَقَالَ:" أَنَا أَحَقُّ بِالْعَفْوِ مِنْهَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِلا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ سورة البقرة آية 237، وَأَنَا أَحَقُّ بِالْعَفْوِ مِنْهَا" ،.
یحییٰ بن عبدالرحمن اور ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بنو نضیر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی، اور پھر رخصتی سے پہلے اسے طلاق دے دی۔ سیدنا جبیر نے اس عورت کو پورا مہر بھیجوا دیا، اور فرمایا: معاف کرنے کا اس عورت سے زیادہ حق رکھتا ہوں (کیونکہ اللہ کا ارشاد ہے): ”ماسوائے اس صورت کہ وہ عورتیں معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔“ (سیدنا جبیر بن مطعم نے فرمایا) میں معاف کرنے کا اس عورت سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3714]
ترقیم العلمیہ: 3658
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3714، 3715، 3716، 3722»
ترقیم العلمیہ : 3659 ترقیم الرسالہ : -- 3715
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نَا مُعَلَّى، نَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، بِهَذَا نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3715]
ترقیم العلمیہ: 3659
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3714، 3715، 3716، 3722»
ترقیم العلمیہ : 3660 ترقیم الرسالہ : -- 3716
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا أَبُو النَّضْرِ ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: تَزَوَّجَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ امْرَأَةً فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَقَرَأَ الآيَةَ" إِلا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ سورة البقرة آية 237، فَقَالَ: أَنَا أَحَقُّ بِالْعَفْوِ إِلَيْهَا فَسَلَّمَ إِلَيْهَا الْمَهْرَ كَامِلا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ" .
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے شادی کر لی، پھر رخصتی سے قبل اسے طلاق دے دی۔ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ”ماسوائے اس صورت کہ وہ عورت معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔“ سیدنا جبیر بن مطعم نے فرمایا: میں معاف کرنے کا اس عورت سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔ سیدنا جبیر بن مطعم نے اس عورت کو پورا مہر بھیجوا دیا تھا اور اسے ادا کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3716]
ترقیم العلمیہ: 3660
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3714، 3715، 3716، 3722»
ترقیم العلمیہ : 3661 ترقیم الرسالہ : -- 3717
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ :" الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الزَّوْجُ" ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ ابْنُ شُبْرُمَةَ يَقُولُ: هُوَ الزَّوْجُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس شخص کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، اس سے مراد شوہر ہے۔“ سفیان بیان کرتے ہیں: ابن شبرمہ فرماتے ہیں: ”اس سے مراد شوہر ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3717]
ترقیم العلمیہ: 3661
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14557، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3713، 3717، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17266»
ترقیم العلمیہ : 3662 ترقیم الرسالہ : -- 3718
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُرْجَانِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلِيُّ عُقْدَةِ النِّكَاحِ هُوَ الزَّوْجُ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نکاح کی گرہ کے ولی سے مراد شوہر ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3718]
ترقیم العلمیہ: 3662
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3718، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6359»
«قال البيهقي: في إسناده ابن لهيعة وحالته معلومة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (7 / 687»
«قال البيهقي: في إسناده ابن لهيعة وحالته معلومة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (7 / 687»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3663 ترقیم الرسالہ : -- 3719
نَا نَا ابْنُ مَخْلَدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ:" إِلا أَنْ يَعْفُونَ سورة البقرة آية 237، قَالَ: أَنْ تَعْفُوَ الْمَرْأَةُ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الْوَلِيُّ" ،.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں: ”ماسوائے اس صورت کہ وہ عورتیں معاف کر دیں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یعنی وہ عورت معاف کر دے یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں: اس سے مراد ولی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3719]
ترقیم العلمیہ: 3663
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14567، 14568، 14569، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3719، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10852، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17280»