🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ
باب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3674 ترقیم الرسالہ : -- 3730
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، نَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لِلْبِكْرِ سَبْعَةُ أَيَّامٍ، وَلِلثَّيِّبِ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ، ثُمَّ يَعُودُ إِلَى نِسَائِهِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”کنواری کو سات دن ملیں گے اور ثیبہ کو تین دن ملیں گے، پھر آدمی اپنی بیویوں (کے درمیان برابری کی سطح پر وقت) تقسیم کرے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3730]
ترقیم العلمیہ: 3674
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5213، 5214، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1461، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1051، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4208، 4209، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2124، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1139، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2255، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1916،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3730،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17221، 17223، 17227»
«‏‏‏‏قال ابن الملقن: طريق صحيحة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 43)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3675 ترقیم الرسالہ : -- 3731
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَتْ بِثَوْبِهِ:" كُنْ عِنْدِي الْيَوْمَ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتِ كُنْتُ عِنْدَكِ الْيَوْمَ وَقَاصَصْتُكِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلثَّيِّبِ ثَلاثٌ، وَلِلْبِكْرِ سَبْعُ لَيَالٍ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام کر (یہ کہا): ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم آج کا دن میرے ہاں رہیں گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو میں آج کا دن تمہارے پاس ٹھہر جاتا ہوں اور پھر تم سے اس کے بدلے میں (پھر کسی دن تقسیم میں سے تمہارا دن منہا کر لوں گا)۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ثیبہ کو تین دن ملیں گے اور کنواری کو سات دن ملیں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3731]
ترقیم العلمیہ: 3675
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3731، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3676 ترقیم الرسالہ : -- 3732
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَالَجَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ فِي شَوَّالٍ وَجَمَعَهَا فِي شَوَّالٍ، وَقَالَ: إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ عِنْدَكِ وَأُسَبِّعَ عِنْدَ صَوَاحِبَاتِكِ وَإِلا فَثَلاثَتُكِ، ثُمَّ أَدُورَ عَلَيْكِ فِي لَيْلَتِكِ، قَالَتْ: بَلْ ثَلِّثْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ" .
عبدالملک بن ابوبکر بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے مہینے میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی، شوال کے مہینے میں ان کی رخصتی ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو میں سات دن تمہارے ساتھ رہتا ہوں اور پھر سات، سات دن تمہاری ساتھی خواتین (سوکنوں) کے ساتھ رہوں گا، ورنہ (دوسری صورت یہ ہے) میں تین دن تمہارے ساتھ رہتا ہوں اور پھر تمہاری باری کے دن تمہارے پاس آ جاؤں گا۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! (ابھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن میرے ساتھ رہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3732]
ترقیم العلمیہ: 3676
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1460، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1050، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 776، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14873، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3732، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10645»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3677 ترقیم الرسالہ : -- 3733
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا الْوَاقِدِيُّ. ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا جَدِّي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ: وَنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا حِينَ دَخَلَ بِهَا:" لَيْسَ بِكِ هَوَانٌ عَلَى أَهْلِكِ إِنْ شِئْتِ أَقَمْتُ مَعَكِ ثَلاثًا خَالِصَةً لَكِ، وَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ثُمَّ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي، فَقَالَتْ تُقِيمُ مَعِي ثَلاثًا خَالِصَةً" . فَأَخَذَ مَالِكٌ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ،" بِسَبْعٍ لِلْبِكْرِ، وَبِثَلاثٍ لِلثَّيِّبِ".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے: عبدالملک بن ابوبکر اپنے والد کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب ان کی رخصتی ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک کم حیثیت کی مالک نہیں ہو، اگر تم چاہو، تو میں تمہارے ساتھ تین دن قیام کرتا ہوں، جو صرف تمہارے لیے ہوں گے (دوسری ازواج کو اپنی باری کے حساب سے ایک، ایک دن ملے گا)، اور اگر تم چاہو، تو میں تمہارے ساتھ سات دن رہوں، لیکن پھر اپنی تمام بیویوں (میں سے ہر ایک کے ساتھ) سات، سات دن رہوں گا۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”آپ میرے ساتھ تین دن رہیں۔“ امام مالک اور ابن ابی ذئب نے اس سے یہ حکم اخذ کیا ہے: کنواری کے ساتھ سات دن رہا جائے گا اور ثیبہ کے ساتھ تین دن رہا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3733]
ترقیم العلمیہ: 3677
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 918، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 514، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2949، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3256، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2122، 3119، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3511، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2256، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1598، 1917، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3733، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16602، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17224»
«في إسناده الواقدي وهو ضعيف جدا، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 194)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3678 ترقیم الرسالہ : -- 3734
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ رَيْطَةَ بِنْتِ هِشَامٍ ، وَأُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتُ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَنا مُحَمَّدٌ ، نَا أَحْمَدُ ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْبِكْرُ إِذَا نَكَحَهَا رَجُلٌ وَلَهُ نِسَاءٌ لَهَا ثَلاثُ لَيَالٍ، وَلِلثَّيِّبِ لَيْلَتَانِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (حدیث کا متن اگلی سند کے بعد ہے)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جب آدمی کسی کنواری کے ساتھ شادی کرے اور آدمی کی پہلی سے بیویاں موجود ہوں، تو اس کنواری کو سات دن ملیں گے اور اگر ثیبہ (کے ساتھ شادی کرے، تو اسے) دو دن ملیں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3734]
ترقیم العلمیہ: 3678
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3734، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن حجر: بسند ضعيف جدا، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 224)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3679 ترقیم الرسالہ : -- 3735
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" قَلَّ مَا كَانَ يَوْمٌ، أَوْ قَالَتْ: قَلَّ يَوْمٌ إِلا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ فِي مَجْلِسِهِ فَيُقَبِّلُ وَيَمَسُّ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ وَلا مُبَاشَرَةٍ، قَالَتْ: ثُمَّ يَبِيتُ عِنْدَ الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا" ،.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اکثر ایسا ہوتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کو اپنے پاس بٹھاتے تھے، ان کو بوسہ دیتے، انہیں چھوتے تھے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ صحبت یا مباشرت نہیں کرتے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس اہلیہ کے ہاں بسر کرتے تھے، جس کی باری کا دن ہوتا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3735]
ترقیم العلمیہ: 3679
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5212، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1463، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4211، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 468، 2366، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 8885، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1972،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3735، 3736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25033، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16733»
«قال بدرالدین العیني: هذا ضعيف، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (14 / 115)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3680 ترقیم الرسالہ : -- 3736
نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخُو زَنْبَرٍ، نَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ:" فَيُقَبِّلُ وَيَلْمِسُ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحبت نہیں کرتے تھے، صرف چھوتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3736]
ترقیم العلمیہ: 3680
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5212، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1463، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4211، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 468، 2366، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 8885، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2135، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1972،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3735، 3736، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25033، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16733»
«قال بدرالدین العیني: هذا ضعيف، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (14 / 115)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3681 ترقیم الرسالہ : -- 3737
وَنا وَنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ السَّوَّاقُ ، نَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِذَا تَزَوَّجَتِ الْحُرَّةُ عَلَى الأَمَةِ قَسَمَ لَهَا يَوْمَيْنِ وَلِلأَمَةِ يَوْمًا، إِنَّ الأَمَةَ لا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تَزَوَّجَ عَلَى الْحُرَّةِ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تم کسی آزاد عورت کے ساتھ شادی کرو اور تمہاری پہلی بیوی کنیز ہو، تو تم آزاد عورت کو دو دن دو گے اور کنیز کو ایک دن دو گے، البتہ اگر پہلی بیوی آزاد عورت ہو، تو کسی کنیز کے ساتھ شادی کرنا مناسب نہیں ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3737]
ترقیم العلمیہ: 3681
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 725، 738، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14115، 14867، 14868، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3737، 3738، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13087، 13090، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16325، 16341، 16342»
«‏‏‏‏قال الزیلعي: والمنهال بن عمرو فيه مقال وعباد الأسدي ضعيف قال في التنقيح قال البخاري فيه نظر وحكى ابن الجوزي عن ابن المديني أنه ضعفه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 215)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3682 ترقیم الرسالہ : -- 3738
نَا نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا تَزَوَّجَ الْحُرَّةَ عَلَى الأَمَةِ، قَسَمَ لِلأَمَةِ الثُّلُثَ وَلِلْحُرَّةِ الثُّلُثَيْنِ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب پہلی بیوی کنیز ہو اور پھر کوئی آزاد عورت کے ساتھ شادی کر لے، تو تقسیم میں کنیز کا حصہ ایک تہائی ہو گا اور آزاد عورت کا حصہ دو تہائی ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3738]
ترقیم العلمیہ: 3682
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 725، 738، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14115، 14867، 14868، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3737، 3738، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13087، 13090، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16325، 16341، 16342»
«‏‏‏‏قال الزیلعي: والمنهال بن عمرو فيه مقال وعباد الأسدي ضعيف قال في التنقيح قال البخاري فيه نظر وحكى ابن الجوزي عن ابن المديني أنه ضعفه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 215)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3683 ترقیم الرسالہ : -- 3739
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ ، قَالا: نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حُبَيْشُ بْنُ مُبَشِّرٍ الْفَقِيهُ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَتَزَوَّجَهَا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3739]
ترقیم العلمیہ: 3683
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1958، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3739، 3740، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2099، 5642»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں