سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3844 ترقیم الرسالہ : -- 3908
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ :" كَمْ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ؟، قَالَ: وَاحِدَةً" .
یونس بن جبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: ”آپ نے اپنی اہلیہ کو کتنی طلاقیں دی تھیں؟“ سیدنا ابن عمر نے فرمایا: ”ایک۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3908]
ترقیم العلمیہ: 3844
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3845 ترقیم الرسالہ : -- 3909
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الأَنْطَاكِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ، أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْسِكَ حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو، جب وہ حیض کی حالت میں تھی، ایک طلاق دے دی، سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، تو نبی نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ اس عورت سے رجوع کر لے اور اس وقت تک اسے روکے رکھے، جب تک وہ پاک ہونے کے بعد دوبارہ حائضہ نہیں ہو جاتی، پھر مزید انتظار کرے، جب وہ پاک ہو جائے، تو اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے (اسے طلاق دے)، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3909]
ترقیم العلمیہ: 3845
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3846 ترقیم الرسالہ : -- 3910
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، نَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَهَبَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ، ثُمَّ لِيَتْرُكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا لِلنِّسَاءِ أَنْ يُطَلَّقْنَ لَهَا" ،.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس عورت سے رجوع کر لینا چاہیے اور پھر اسے یوں ہی رہنے دیا جائے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اسے یوں ہی رہنے دو، یہاں تک کہ اسے پھر حیض آ جائے، پھر اسے یوں ہی رہنے دو، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، جب وہ پاک ہو جائے، تو اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، خواتین کو اس کے مطابق طلاق دی جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3910]
ترقیم العلمیہ: 3846
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3847 ترقیم الرسالہ : -- 3911
نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ، نَا يَعْقُوبُ، نَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، نَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ،" إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تِلْكَ وَاحِدَةً".
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3911]
ترقیم العلمیہ: 3847
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3848 ترقیم الرسالہ : -- 3912
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي حَدِيثِهِ:" هِيَ وَاحِدَةٌ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ".
نافع بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔ ابن ابی ذئب نامی راوی نے روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: وہ ایک طلاق تھی، (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، خواتین کو اس کے مطابق طلاق دی جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3912]
ترقیم العلمیہ: 3848
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3849 ترقیم الرسالہ : -- 3913
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، نَا زُهَيْرٌ ، نَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَ نَحْوَهُ.
نافع بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے اس کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3913]
ترقیم العلمیہ: 3849
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3850 ترقیم الرسالہ : -- 3914
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً،" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ" ، لَمْ يَذْكُرْ عُمَرَ.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی: ”وہ اس عورت کو اس وقت تک اپنے پاس رکھے، جب تک وہ پاک نہ ہو جائے، پھر اگر وہ چاہے، تو اسے طلاق دے دے، اگر چاہے، تو اسے اپنے ساتھ رہنے دے۔“ راوی نے اس روایت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3914]
ترقیم العلمیہ: 3850
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3851 ترقیم الرسالہ : -- 3915
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا عَيَّاشُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هِيَ وَاحِدَةٌ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک (طلاق شمار) ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3915]
ترقیم العلمیہ: 3851
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3852 ترقیم الرسالہ : -- 3916
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ السَّرَخْسِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نَا خَالِدٌ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ طَلَّقَ حَائِضًا؟، قَالَ: أَتَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ؟ فَإِنَّهُ طَلَّقَ حَائِضًا، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قُلْ لَهُ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا حَاضَتْ ثُمَّ طَهُرَتْ، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ"، قُلْتُ: اعْتَدَدْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ .
جابر حذاء بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: ایک شخص حیض کی حالت میں عورت کو طلاق دیتا ہے، تو سیدنا ابن عمر نے فرمایا: ”تم ابن عمر کو جانتے ہو؟ اس نے حائضہ (بیوی) کو طلاق دی تھی۔“ سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس سے کہو کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے، پھر جب اسے (اگلا) حیض آئے، پھر اس کے بعد جب وہ پاک ہو، اس وقت اگر وہ چاہے، تو اسے طلاق دے دے اور اگر چاہے، تو اسے اپنے ساتھ رکھے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) دریافت کیا: ”آپ نے اس ایک طلاق کو شمار کیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3916]
ترقیم العلمیہ: 3852
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3853 ترقیم الرسالہ : -- 3917
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ ، نَا سَلَمَةُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ ذَكَرَ عِنْدَهُ أَنَّ الطَّلاقَ الثَّلاثَ بِمَرَّةٍ مَكْرُوهٌ، فَقَالَ: طَلَّقَ حَفْصُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلاثًا، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَحَدٌ" .
سلمہ بن ابوسلمہ اپنے والد کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ان کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینا مکروہ ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”حفص بن عمرو بن مغیرہ نے فاطمہ بنت قیس کو ایک ہی کلمہ کے ذریعہ تین طلاقیں دے دی تھیں، تو ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ان پر کوئی اعتراض کیا ہو، اسی طرح سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی اہلیہ کو (ایک ساتھ) تین طلاقیں دے دی تھیں، لیکن ان پر بھی کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3917]
ترقیم العلمیہ: 3853
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15047، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3917، 3921، 3922، 3923»