سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3854 ترقیم الرسالہ : -- 3918
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، نَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ الطَّلاقَ فِي عِدَّتِهَا، وَتُحْتَسَبَ بِهَذِهِ التَّطْلِيقَةِ الَّتِي طَلَّقَ أَوَّلَ مَرَّةٍ" .
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی، وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا، تو آپ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ (یعنی ابن عمر) اس عورت کے ساتھ رجوع کر لیں، پھر اس کی عدت کے دوران اسے اگلی طلاق دیں، سیدنا عبداللہ بن عمر نے جو پہلی مرتبہ طلاق دی تھی، اسے واقع میں شمار کیا گیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3918]
ترقیم العلمیہ: 3854
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3855 ترقیم الرسالہ : -- 3919
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: فَمُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ، ثُمَّ حَاضَتْ، ثُمَّ طَهُرَتْ، فَإِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا، وَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلا يَغْشَاهَا، فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی اور وہ اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”عبداللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، جبکہ وہ حیض کی حالت میں تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ عورت پاک ہو جائے، پھر اسے حیض آئے، اس کے بعد پھر جب وہ پاک ہو جائے، اس وقت اگر وہ چاہے، تو اسے اپنے ساتھ رہنے دے اور اگر اسے طلاق دینا چاہتا ہے، تو اس کے ساتھ صحبت نہ کرے (بلکہ طلاق دے دے)، یہ وہ طریقہ ہے، جس (کے مطابق طلاق دینے کا) اللہ نے حکم دیا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3919]
ترقیم العلمیہ: 3855
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3856 ترقیم الرسالہ : -- 3920
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو حُمَيْدٍ، قَالا: نَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ ، أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَأَخْبَرْتُهُ: أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلاثًا، وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي" .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، بیان کرتی ہیں: وہ بنو مخزوم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی اہلیہ تھیں، اس شخص نے انہیں تین طلاقیں دے دیں اور خود ایک جنگ میں شرکت کرنے کے لیے چلا گیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3920]
ترقیم العلمیہ: 3856
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1480، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1151، وابن الجارود فى "المنتقى"، 821، 822، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4049، 4250، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3224، 3239، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2284، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1135، 1135 م، 1180، 1180 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1869، 2024، 2032، 2035، 2036،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3920، 3952، 3954، 3957، 3958، 3960، 3961، 3962، 3963، 3970، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27742، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 367، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18989، 18990، 19175»
ترقیم العلمیہ : 3857 ترقیم الرسالہ : -- 3921
ثنا ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُرْجَانِيُّ ، نَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، نَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تُمَاضِرَ بِنْتَ الأَصْبَغِ الْكَلْبِيَّةَ، وَهِيَ أُمُّ أَبِي سَلَمَةَ، ثَلاثَ تَطْلِيقَاتٍ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ عَابَ ذَلِكَ" .
سلمہ بن ابوسلمہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے اپنی بیوی تماضر بنت اصبع کلبیہ (ان کی کنیت ام سلمہ ہے) کو ایک ہی کلمہ کے ذریعہ تین طلاقیں دے دیں، تو ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ کسی شخص نے اس حوالے سے ان پر کوئی اعتراض کیا ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3921]
ترقیم العلمیہ: 3857
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15047، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3917، 3921، 3922، 3923»
ترقیم العلمیہ : 3858 ترقیم الرسالہ : -- 3922
قَالَ: وَنا قَالَ: وَنا سَلَمَةُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ الْمُغِيرَةِ" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلاثَ تَطْلِيقَاتٍ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، فَأَبَانَهَا مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ" ،.
سلمہ بن ابوسلمہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حفص بن عمرو بن مغیرہ نے اپنی اہلیہ فاطمہ بنت قیس کو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک ہی لفظ کے ذریعہ تین طلاقیں دے دیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو ان سے الگ قرار دیا (یعنی ان کے درمیان علیحدگی واقع ہو گئی)، ہمیں یہ اطلاع نہیں ملی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ان پر کوئی اعتراض کیا ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3922]
ترقیم العلمیہ: 3858
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15047، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3917، 3921، 3922، 3923»
ترقیم العلمیہ : 3858M ترقیم الرسالہ : -- 3923
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ ، نَا شَيْبَانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ فِي الْقَضِيَّتَيْنِ جَمِيعًا.
ایک اور سند کے ہمراہ یہ دونوں واقعات ایک ساتھ منقول ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3923]
ترقیم العلمیہ: 3858M
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15047، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3917، 3921، 3922، 3923»
ترقیم العلمیہ : 3859 ترقیم الرسالہ : -- 3924
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا أَبُو الأَزْهَرِ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَجُلا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا، فَقَالَ: يَكْفِيكَ مِنْ ذَلِكَ ثَلاثٌ، وَتَدَعُ تَسْعَمِائَةً وَسَبْعًا وَتِسْعِينَ" .
سعید بن جبیر، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں، تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”ان میں سے تین تمہارے لیے کافی ہوں گی اور بقیہ نو سو ستانوے کو چھوڑ دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3924]
ترقیم العلمیہ: 3859
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 113، 114، 115، 116، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3395، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5556، 11538، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2197، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3924، 3925، 3926، 3927، 3928، 3929، 4034، 4035، 4036، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18024، 18102، 18103»
ترقیم العلمیہ : 3860 ترقیم الرسالہ : -- 3925
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو حُمَيْدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، نَا حَجَّاجٌ، نَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَاهَانَ يَسْأَلُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، فَقَالَ سَعِيدٌ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً، فَقَالَ: ثَلاثٌ تُحَرِّمُ عَلَيْكَ امْرَأَتَكَ، وَسَائِرُهُنَّ وِزْرٌ، اتَّخَذْتَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا" .
عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں: میں نے ماہان کو سعید بن جبیر سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے سنا، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، تو سعید نے بتایا: سیدنا عبداللہ بن عباس سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو اپنی بیوی کو ایک سو طلاقیں دے دیتا ہے، تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”تین طلاقوں کے ذریعہ تمہاری بیوی تمہارے لیے حرام ہو جائے گی اور بقیہ (تمہارے لیے) بوجھ بن جائیں گی، کیونکہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3925]
ترقیم العلمیہ: 3860
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 113، 114، 115، 116، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3395، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5556، 11538، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2197، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3924، 3925، 3926، 3927، 3928، 3929، 4034، 4035، 4036، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18024، 18102، 18103»
ترقیم العلمیہ : 3861 ترقیم الرسالہ : -- 3926
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ" عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً، قَالَ: عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ، لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا" .
مجاہد بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو اپنی بیوی کو ایک سو طلاقیں دے دیتا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس نے فرمایا: ”تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ہے اور تم اپنی بیوی سے الگ ہو گئے ہو، تم اللہ سے ڈرتے، تو وہ تمہارے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3926]
ترقیم العلمیہ: 3861
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 113، 114، 115، 116، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3395، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5556، 11538، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2197، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3924، 3925، 3926، 3927، 3928، 3929، 4034، 4035، 4036، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18024، 18102، 18103»
ترقیم العلمیہ : 3862 ترقیم الرسالہ : -- 3927
نَا نَا دَعْلَجٌ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نَا حَبَّانُ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا سَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ،" إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلاثًا وَأَنَا غَضْبَانُ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا عَبَّاسٍ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحِلَّ لَكَ مَا حُرِّمَ عَلَيْكَ عَصَيْتَ رَبَّكَ وَحُرِّمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ، إِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا، ثُمَّ قَرَأَ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ" ، قَالَ سَيْفٌ: وَلَيْسَ طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ فِي التِّلاوَةِ، وَلَكِنَّهُ تَفْسِيرُهُ.
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک قریشی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے ابوعباس! میں نے غصے کے عالم میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو چیز تمہارے لیے حرام ہو گئی ہے، ابوعباس اسے تمہارے لیے حلال نہیں کر سکتا۔ تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا۔ تم اللہ سے ڈرے نہیں، ورنہ وہ تمہارے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: ”اور جب تم خواتین کو طلاق دینی ہو، تو انہیں طلاق دو۔“ یعنی ان کی عدت سے پہلے جب وہ طہر کی حالت میں ہوں اور ان کے ساتھ صحبت نہ کی گئی ہو۔ سیف نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: یہ (مذکورہ جملہ) تلاوت کا حصہ نہیں ہے بلکہ (قرآن کے الفاظ) کی وضاحت ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3927]
ترقیم العلمیہ: 3862
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 113، 114، 115، 116، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3395، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5556، 11538، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2197، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3924، 3925، 3926، 3927، 3928، 3929، 4034، 4035، 4036، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18024، 18102، 18103»