سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3834 ترقیم الرسالہ : -- 3898
نَا نَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" الطَّلاقُ لِلسُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ، أَوْ حَبَلٍ قَدْ تَبَيَّنَ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”طلاق دینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آدمی عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ طہر کی حالت میں ہو، اور (اس طہر کے درمیان آدمی نے) اس کے ساتھ صحبت نہ کی ہو یا پھر اس وقت طلاق دے، جب عورت کا حمل ظاہر ہو چکا ہو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3898]
ترقیم العلمیہ: 3834
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3396، 3397، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5557، 5558، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2020، 2021، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3891، 3892، 3898، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18021، 18022، 18035، 18064»
ترقیم العلمیہ : 3835 ترقیم الرسالہ : -- 3899
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، نَا وَكِيعٌ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي الْحَيْضِ فَذَكَرَ عُمَرُ أَمْرَهُمْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے اپنی اہلیہ کو حیض کے دوران طلاق دے دی، سیدنا عمر نے اس مسئلہ کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے، پھر اس عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ طہر یا حمل کی حالت میں ہو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3899]
ترقیم العلمیہ: 3835
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3836 ترقیم الرسالہ : -- 3900
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْحَنَفِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، نَا سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ" ،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دے دی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس عورت سے رجوع کرے، جب وہ پاک ہو جائے، تو پھر اس عورت کو طلاق دے، جب وہ عورت طہر یا حمل کی حالت میں ہو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3900]
ترقیم العلمیہ: 3836
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3837 ترقیم الرسالہ : -- 3901
نَا دَعْلَجٌ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نَا حَبَّانُ، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، بِهَذَا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3901]
ترقیم العلمیہ: 3837
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3838 ترقیم الرسالہ : -- 3902
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ أَبُو بَكْرٍ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي دَارِمٍ ، قَالا: نَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ صُبَيْحٍ الأَسَدِيُّ ، نَا طَرِيفُ بْنُ نَاصِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ " عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: أَتَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلاثًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ حَائِضٌ، فَرَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السُّنَّةِ" ، هَؤُلاءِ كُلُّهُمْ مِنَ الشِّيعَةِ، وَالْمَحْفُوظُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً فِي الْحَيْضِ.
ابوزبیر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دیتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تم ابن عمر کو جانتے ہو؟“ میں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت کے مطابق طلاقیں دلوائیں۔“ اس روایت کے تمام راوی شیعہ ہیں، محفوظ روایت یہ ہے: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی اہلیہ کو اس کے حیض کے دوران ایک طلاق دی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3902]
ترقیم العلمیہ: 3838
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
«قال الدارقطني: الخبر م
«قال الدارقطني: الخبر م
ترقیم العلمیہ : 3839 ترقیم الرسالہ : -- 3903
نَا أَبُو عُمَرَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةٌ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ فَلْيَتْرُكْهَا حَتَّى تَحِيضَ، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا الأُخْرَى فَلا يَمَسَّهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا، فَإِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلْيُمْسِكْهَا، فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ" ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَكَانَ تَطْلِيقَهُ إِيَّاهَا فِي الْحَيْضِ، أَنَّهُ خَالَفَ السُّنَّةِ.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو اس کے حیض کے دوران ایک طلاق دے دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم عبداللہ سے یہ کہو کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے، جب وہ عورت غسل کر لے (یعنی پاک ہو جائے)، تو وہ اسے یوں ہی رہنے دے، یہاں تک کہ (اگلی مرتبہ) اسے حیض آ جائے، پھر جب وہ اگلے حیض سے غسل کر لے (یعنی پاک ہو جائے)، تو وہ اس عورت سے صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے، اگر وہ اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے، تو اپنے ساتھ رکھے، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ عبیداللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اس خاتون کو اس کے حیض کے دوران ایک طلاق دی تھی، البتہ انہوں نے سنت طریقہ کے برعکس طلاق دی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3903]
ترقیم العلمیہ: 3839
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
«قال ابن
«قال ابن
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 3840 ترقیم الرسالہ : -- 3904
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً، فَاسْتَفْتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ، فَإِذَا حَاضَتْ أُخْرَى وَطَهُرَتْ، فَإِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا، وَإِنْ شَاءَ فَلْيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ" ، وَكَذَلِكَ قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَلَيْثُ بْنُ سَعْدٍ،وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَجَابِرٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً. وَكَذَلِكَ قَالَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَيُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَالشَّعْبِيُّ، وَالْحَسَنُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، وہ عورت اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا، انہوں نے عرض کی: ”عبداللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، وہ عورت حیض کی حالت میں تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ سے کہو کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے اور جب تک وہ اس حیض سے پاک نہیں ہو جاتی، اسے اپنے ساتھ رکھے، جب اسے اگلی مرتبہ حیض آئے اور اس کے بعد وہ پاک ہو جائے، اس وقت اگر وہ چاہے، تو اس عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے، اور اگر چاہے، تو اسے اپنے ساتھ رہنے دے، یہ وہ طریقہ ہے، جس کے بارے میں اللہ نے یہ حکم دیا ہے، اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔“ صالح بن کیسان، موسیٰ بن عقبہ، اسماعیل بن امیہ، لیث بن سعد، ابن ابی ذئب، ابن جریج، جابر، اسماعیل بن ابراہیم نے نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بات نقل کی ہے، انہوں نے ایک طلاق دی تھی۔ زہری نے سالم کے حوالے سے ان کے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے یہی بات نقل کی ہے۔ یونس بن جبیر، شعبی اور حسن بصری نے بھی یہی بات نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3904]
ترقیم العلمیہ: 3840
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3841 ترقیم الرسالہ : -- 3905
قُرِئَ عَلَى ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ح وَنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا أَبُو عَلِيٍّ الْقُهُسْتَانِيُّ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ ، فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: إِنَّ رَجُلا قَالَ لِعُمَرَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي الْبَتَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ، وَقَالا جَمِيعًا: فَقَالَ: عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ ابْنَ عُمَرَ حِينَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا" ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حِينَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ، وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ" أَنْ يَرْتَجِعَهَا"، وَقَالا جَمِيعًا: فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَ امْرَأَتَهُ بِطَلاقٍ بَقِيَ لَهُ"، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ:" أَنْ يَرْتَجِعَهَا فِي طَلاقٍ بَقِيَ لَهُ، وَأَنْتَ لَمْ تُبْقِ مَا تَرْتَجِعُ امْرَأَتَكَ". وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ لَكَ مَا تَرْتَجِعُ بِهِ امْرَأَتَكَ. قَالَ لَنَا أَبُو الْقَاسِمِ: رَوَى هَذَا وَاحِدٌ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ كَلامَ عُمَرَ وَلا أَعْلَمُهُ رَوَى هَذَا الْكَلامَ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”میں نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دی، جب وہ حیض کی حالت میں تھی۔“ ابن صاعد نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق بتا دی، جب وہ حیض کی حالت میں تھی۔“ اس کے بعد دونوں راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے الگ ہو چکی ہے۔“ وہ شخص بولا: ”جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کی تھی، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے۔“ ابن صاعد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی سے اس کے حیض کے دوران علیحدگی اختیار کی تھی (یعنی اسے طلاق دی تھی)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لیں۔“ اس کے بعد دونوں راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما) کو اپنی بیوی کے ساتھ رجوع کرنے کی ہدایت اس طلاق کی وجہ سے کی تھی، جو باقی رہ گئی تھی (یعنی جسے دینے کا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ابھی اختیار تھا)۔“ ابن صاعد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اس نے اس طلاق کی بنیاد پر رجوع کیا تھا، جس کا اسے حق باقی تھا، اور تم نے اس چیز کو باقی نہیں رہنے دیا، جس کی بنیاد پر تم اپنی بیوی سے رجوع کر سکتے۔“ ابن منیع نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تمہارے لیے وہ چیز باقی نہیں رہی، جس کی بنیاد پر تم اپنی بیوی سے رجوع کر سکو۔“ شیخ ابوالقاسم نے ہمارے سامنے یہ بات بیان کی ہے: اس روایت کو کئی راویوں نے نقل کیا ہے، لیکن انہوں نے اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کا تذکرہ نہیں کیا، میرے علم کے مطابق سعید بن عبدالرحمن کے علاوہ اور کسی بھی راوی نے یہ کلام نقل نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3905]
ترقیم العلمیہ: 3841
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3842 ترقیم الرسالہ : -- 3906
وَقُرِئَ عَلَى وَقُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ يُونُسَ أَبِي عَلابٍ ، قَالَ: قِيلَ لابْنِ عُمَرَ :" أَكُنْتَ اعْتَدَدْتَ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟، فَقَالَ: وَمَالِي لا أَعْتَدُّ بِهَا، وَإِنْ كُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ" .
ابوغلاب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: ”کیا آپ نے اس طلاق کو شمار کیا تھا؟“ سیدنا عبداللہ بن عمر نے فرمایا: ”میں اسے شمار کیوں نہ کرتا، کیا میں عاجز تھا، یا احمق تھا؟“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3906]
ترقیم العلمیہ: 3842
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»
ترقیم العلمیہ : 3843 ترقیم الرسالہ : -- 3907
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالا: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُلَيَّةَ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: مَكَثْتُ عِشْرِينَ سَنَةً فَحَدَّثَنِي مَنْ لا أَتَّهِمُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ،" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ثَلاثًا، فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا" ، فَجَعَلْتُ لا أَتَّهِمُهُمْ وَلا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا عَلابٍ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ الْبَاهِلِيَّ، وَكَانَ ذَا ثَبْتٍ فَحَدَّثَنِي، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ،" فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ:" أَفَحُسِبَتْ عَلَيْهِ؟"، قَالَ:" فَمَهْ وَإِنْ عَجَزَ".
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: بیس سال پہلے مجھے ایک مستند راوی نے یہ حدیث سنائی: سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران تین طلاقیں دیں تھیں، تو انہیں اس عورت سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا۔ میں اس روایت کو مستند سمجھتا رہا، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر سے اس بارے میں دریافت کیا تھا، تو سیدنا عبداللہ نے انہیں بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران ایک طلاق دی تھی، تو انہیں اس عورت سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا تھا، ابوغلاب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ سے دریافت کیا: ”کیا اس طلاق کو شمار کیا تھا؟“ تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، کیا وہ عاجز تھا؟“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3907]
ترقیم العلمیہ: 3843
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»