Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3825 ترقیم الرسالہ : -- 3888
نَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَائِشَةَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَلَيْسَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ سورة البقرة آية 229، فَلِمَ صَارَ ثَلاثًا؟، قَالَ: فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا: طلاق دو مرتبہ ہوتی ہے۔ پھر تیسری کا حکم کیوں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے) پھر معروف طریقے سے روکنا ہو گا یا احسان کے ساتھ آزاد کرنا ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3888]
ترقیم العلمیہ: 3825
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2522، 2523، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3888»
«قال الدارقطني: إن المرسل هو الصواب، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 74)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3826 ترقیم الرسالہ : -- 3889
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، وَآخَرُونَ، قَالُوا: نَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْمُقْرِئُ ، نَا لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَسْمَعُ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ سورة البقرة آية 229، فَأَيْنَ الثَّالِثَةُ؟، قَالَ: فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229 هِيَ الثَّالِثَةُ" ، كَذَا قَالَ: عَنْ أَنَسٍ، وَالصَّوَابُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، مُرْسَلٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں نے اللہ کا یہ فرمان سنا ہے: طلاق دو مرتبہ ہو گی۔ پھر تیسری طلاق کا حکم کہاں سے آیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے) پھر معروف طریقے سے روکنا ہو گا، یا احسان کے ساتھ آزاد کرنا ہو گا (اس سے مراد تیسری طلاق ہے)۔ راوی نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے، تاہم درست یہ ہے کہ یہ روایت اسماعیل بن سمیع کے حوالے سے، ابورزین کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3889]
ترقیم العلمیہ: 3826
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1456، 1457، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15098، 15099، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3889، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1716، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11091، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19561، وأخرجه أبو داود فى "المراسيل"، 220»
«قال الدارقطني: إن المرسل هو الصواب، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 74)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3827 ترقیم الرسالہ : -- 3890
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي وَهْبُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" الطَّلاقُ عَلَى أَرْبَعَةِ وُجُوهٍ، وَجْهَانِ حَلالٌ، وَوَجْهَانِ حَرَامٌ، فَأَمَّا الْحَلالُ: فَأَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ، وَأَنْ يُطَلِّقَهَا حَامِلا مُسْتَبِينًا، وَأَمَّا الْحَرَامُ فَأَنْ يُطَلِّقَهَا وَهِيَ حَائِضٌ، أَوْ يُطَلِّقَهَا حِينَ يُجَامِعَهَا، لا تَدْرِي أَشْتَمَلَ الرَّحِمُ عَلَى وَلَدٍ أَمْ لا؟" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: طلاق دینے کے چار طریقے ہیں، ان میں دو طریقے حلال ہیں اور دو حرام ہیں۔ ایک حلال طریقہ یہ ہے: آدمی عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ طہر کی حالت میں ہو (اور طہر کے دوران اس شخص نے) اس عورت کے ساتھ صحبت نہ کی ہو۔ (دوسرا طریقہ یہ ہے) آدمی حاملہ عورت کو اس وقت طلاق دے، جب اس کا حمل ظاہر ہو چکا ہو۔ (ایک) حرام طریقہ یہ ہے کہ آدمی عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ حیض کی حالت میں ہو۔ (دوسرا حرام طریقہ یہ ہے) آدمی عورت کو طہر کی حالت میں اس وقت طلاق دے، جب وہ اس کے ساتھ صحبت کر چکا ہو، اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ رحم میں بچہ ہے یا نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3890]
ترقیم العلمیہ: 3827
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15028، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3890، 3990، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10930، 10950»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3828 ترقیم الرسالہ : -- 3891
نَا نَا الْحُسَيْنُ، وَالْقَاسِمُ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْمَحَامِلِيُّ ، قَالا: نَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" طَلاقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا فِي كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً، فَإِذَا كَانَ آخِرُ ذَلِكَ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: طلاق دینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ آدمی عورت کے ہر طہر کے دوران اسے ایک طلاق دے، جب یہ پورا ہو جائے گا، تو یہ وہ عدت ہے، جس کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3891]
ترقیم العلمیہ: 3828
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3396، 3397، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5557، 5558، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2020، 2021، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3891، 3892، 3898، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18021، 18022، 18035، 18064»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3829 ترقیم الرسالہ : -- 3892
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نَا الْفِرْيَابِيُّ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" مَنْ أَرَادَ السُّنَّةَ، فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ وَيُشْهِدُ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص سنت کے مطابق طلاق دینا چاہتا ہے، وہ عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ طہر کی حالت میں ہو، اور اس شخص نے اس عورت کے ساتھ صحبت نہ کی ہو، (اس شخص کو یہ بھی چاہیے کہ وہ طلاق دینے پر کسی کو) گواہ بنا لے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3892]
ترقیم العلمیہ: 3829
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3396، 3397، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5557، 5558، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2020، 2021، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3891، 3892، 3898، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18021، 18022، 18035، 18064»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3830 ترقیم الرسالہ : -- 3893
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو قِلابَةَ ، نَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:" طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا إِنْ شَاءَ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَتُحْتَسَبُ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟، قَالَ: نَعَمْ ،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، وہ عورت اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے (اس مسئلہ کے بارے میں) دریافت کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے کہو کہ وہ رجوع کر لے، جب وہ عورت پاک ہو جائے گی، اس وقت اگر چاہے، تو اسے طلاق دے دے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا آپ اس طلاق کو واقع میں شمار کریں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3893]
ترقیم العلمیہ: 3830
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3830/1 ترقیم الرسالہ : -- 3894
قَالَ: وَنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3894]
ترقیم العلمیہ: 3830/1
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3831 ترقیم الرسالہ : -- 3895
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُوهَبُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ أَبُو سَعِيدٍ ، وَأَبُو ثَوْرٍ عَمْرُو بْنُ سَعْدٍ ، قَالا: نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ" طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ يُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَذَلِكَ الطَّلاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ" .
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے بارے میں نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، جو اس وقت حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا، آپ نے فرمایا: اس سے کہو، رجوع کر لے، اور اس وقت تک اپنے ساتھ رکھے، جب تک وہ پاک نہیں ہو جاتی، اور اس کے بعد ایک اور حیض آنے کے بعد پاک نہیں ہو جاتی، پھر اگر وہ چاہے، تو طہر کی حالت میں اس سے صحبت کیے بغیر اسے طلاق دے دے، یہ اس طریقہ کے مطابق طلاق ہو گی، جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3895]
ترقیم العلمیہ: 3831
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3832 ترقیم الرسالہ : -- 3896
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الأَزْهَرِ ، قَالا: نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ:" طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً مُسْتَقْبَلَةً سِوَى حَيْضَتِهَا الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا مِنْ حَيْضَتِهَا، قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَذَلِكَ الطَّلاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَمَرَ اللَّهُ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ طَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً فَحُسِبَ فِي طَلاقِهَا وَرَاجَعَهَا عَبْدُ اللَّهِ كَمَا أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ،.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، جو حیض کی حالت میں تھی، سیدنا عمر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کیا، اور فرمایا: اس عورت سے وہ رجوع کر لے، پھر اسے اس وقت تک اپنے ساتھ رکھے، جب تک اگلا حیض نہیں آ جاتا، جو اس حیض کے علاوہ ہو، جس میں اس نے طلاق دی ہے، پھر اگر اسے مناسب محسوس ہو، تو اس عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ اس اگلے حیض سے پاک ہو جائے اور یہ طلاق اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہو، یہ طلاق اس طریقہ کے مطابق ہو گی، جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو ایک طلاق دی تھی، ان کو یہ طلاق شمار کی گئی تھی، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے ساتھ رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3896]
ترقیم العلمیہ: 3832
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3833 ترقیم الرسالہ : -- 3897
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ هُوَ الأَيْلِيُّ ، نَا سَلامَةُ ، عَنْ عَقِيلٍ ، وَنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَقِيلٍ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الأَخْضَرِ ، جَمِيعًا عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ فِيهِ. وَقَالَ صَالِحٌ: فَتَغَيَّظَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں ناراضگی کا اظہار کیا۔ صالح نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ناراضگی کا اظہار کیا (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3897]
ترقیم العلمیہ: 3833
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں