الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ التَّحْدِيثِ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 303
عَنْ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اللَّهُ أَعْلَمُ) ) قَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُمْ وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُمْ) )
سیدنا ابو نملہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک یہودی آدمی آ گیا اور اس نے کہا: ”اے محمد! کیا یہ جنازے کلام کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔“ اس نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کرتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب تم کو کوئی ایسی چیز بیان کریں تو نہ ان کی تصدیق کیا کرو اور نہ تکذیب، بلکہ اس طرح کہہ دیا کرو: «آمَنَّا بِاللّٰہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ» (ہم اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔) پس اگر وہ حق ہوا تو تم نے اس کو جھٹلایا نہیں اور اگر وہ باطل ہوا تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 303]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3644، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17357»
وضاحت: فوائد: … اگلے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
16. فَضْلٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي الْحَدِيثِ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ
اہل کتاب سے روایات بیان کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 304
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے آگے پہنچاؤ، اگرچہ وہ ایک آیت ہی ہو اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 304]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7006»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 305
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَتَحَدِّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّكُمْ لَا تُحَدِّثُونَ عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبُ مِنْهُ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم بنی اسرائیل سے بیان کر سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، تم بنی اسرائیل سے بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پس بیشک تم ان سے جو چیز بھی بیان کرو گے، ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز امور پائے جاتے ہوں گے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا البزار: 194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11092 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11108»
وضاحت: فوائد: … یہ دو باب مختلف مفہوم رکھنے والی احادیث پر مشتمل ہیں، ایک باب میں بنی اسرائیل کی روایات سے منع کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرے باب میں اجازت دی جا رہی ہے، ان میں جمع و تطبیق کی صورتیں یہ ہیں:اخبار و قصص سے متعلقہ اور سبق آموز روایات بیان کرنا درست ہے لیکن یہ چیز ممنوعہ امور میں سے ہیں کہ ان کی احکام پر مشتمل روایات بیان کی جائیں یا ان کو اس انداز میں بیان کیا جائے کہ گویا ان سے حجت پکڑی جا رہی ہو یا قرآن و حدیث کو کافی نہ سمجھتے ہوئے ان کی تعلیم دی جائے یا ان کی وجہ سے اسلامی تعلیمات میںشک ہونے لگے، لیکن یہ شق بھی ضروری ہے کہ اگر ہماری شریعت نے ان کی روایات کی تصدیق یا تکذیب نہ کی ہو تو نہ ان روایات کو سچا سمجھا جائے اور نہ جھوٹا۔
الحكم على الحديث: صحیح
17. بَابٌ فِي تَغْلِيظِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 306
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ يُحَدِّثُونَكُمْ بِبِدَعٍ مِنَ الْحَدِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوهُ أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ! لَا يَفْتِنُونَكُمْ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میری امت میں دجال اور جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے، وہ تم کو ایسی نئی نئی احادیث بیان کریں گے، جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس تم ان سے بچ کر رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو فتنے میں ڈال دیں۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 306]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرج مسلم في مقدمة صحيحه: 6 نحوه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8580»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 307
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ (وَفِي رِوَايَةٍ: الْكَذَّابِينَ) ) )
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیال یہ ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 307]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه مسلم في مقدمة صحيحه: 1/ 9، وابن ماجه: 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20425»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 308
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 308]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2662، وابن ماجه: 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18184 ترقیم بيت الأفكار الدولية:::؛»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 309
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) ) (مسند أحمد: 2974)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے احادیث بیان کرنے سے بچو، مگر وہ جن کا تم کو علم ہو، پس بیشک جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 309]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الاعلي بن عامر الثعلبي۔ أخرجه الترمذي: 2951، ولقوله: انه من كذب شواھد يصح بھا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2974 ترقیم بيت الأفكار الدولية:2974»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 310
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي، مَنْ قَالَ عَلَيَّ فَلَا يَقُولَنَّ إِلَّا حَقًّا أَوْ صِدْقًا، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) )
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا: ”لوگو! مجھ سے کثرت سے احادیث بیان کرنے سے بچو، جو آدمی میرے حوالے سے کوئی بات کرے تو وہ صرف حق اور سچ کہے، پس جس نے میری طرف وہ بات منسوب کر دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 310]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 35، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22906»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 311
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (حَدِّثُوا عَنِّي وَلَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے بیان کرو اور مجھ پر جھوٹ نہ بولو، جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا، اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 3004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11424 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11444»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 312
عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْغَافِقِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا لَحَافِظٌ أَوْ هَالِكٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ قَالَ: ( (عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَسَتَرْجِعُونَ إِلَى قَوْمٍ يُحِبُّونَ الْحَدِيثَ عَنِّي، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ حَفِظَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيُحَدِّثْهُ) )
یحییٰ بن میمون حضرمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابو موسیٰ غافقی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرتے ہوئے سنا، پھر ابو موسیٰ نے کہا: ”یہ تمہارا ساتھی (واقعی احادیث کو) یاد کرنے والا ہے یا پھر ہلاک ہونے والا ہے، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آخری نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لازم پکڑنا اور عنقریب تم ایسی قوم کی طرف لوٹو گے، جو مجھ سے احادیث بیان کرنے کی مشتاق ہو گی، پس جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہ کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے، اور جس نے میری بعض احادیث یاد کر رکھی ہوں، وہ ان کو بیان کرے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، يحييٰ بن ميمون الحضرمي لم يسمعه من ابي موسي الغافقي، بينھما وداعة الغافقي وھو مجھول۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 657، والبزار: 216، والحاكم: 1/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19154»
الحكم على الحديث: ضعیف