الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابٌ فِي النَّهْي عَنْ كِتَابَةِ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
حدیث نمبر: 293
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ، مَنْ كَتَبَ شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے قرآن کے سوال کچھ نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہے، وہ اس کو مٹا دے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 3004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11101»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 3004
حدیث نمبر: 294
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ( (مَا هَذَا تَكْتُبُونَ؟) ) فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَقَالَ: ( (أَ كِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ امْحُضُوا كِتَابَ اللَّهِ، أَ كِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ؟ امْحُضُوا كِتَابَ اللَّهِ وَخَلِّصُوهُ) ) قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ، قُلْنَا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ! أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، فَإِنَّكُمْ لَا تُحَدِّثُونَ عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبُ مِنْهُ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بیٹھے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی احادیث لکھ رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: ”تم یہ کیا لکھ رہے ہو؟“ ہم نے کہا: ”جو کچھ آپ سے سنتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صرف اللہ کی کتاب کو لکھو، کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لکھو اور اس کو کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ملط نہ کرو۔“ پس ہم نے جو کچھ لکھا تھا، اس کو ایک جگہ پر جمع کیا اور آگ سے جلا دیا، پھر ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کی احادیث بیان کر سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تم مجھ سے بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔“ پھر ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم ان سے جو بھی بیان کرو، بہرحال ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز بات ہو گی۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 294]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا البزار: 194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11092 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11108»
وضاحت: فوائد: … بنی اسرائیل کی روایات کو بیان کرنے یا نہ کرنے کی وضاحت حدیث نمبر (۳۰۰) کے باب میں ہو گی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه مختصرا البزار: 194
حدیث نمبر: 295
عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثَهُ حَدِيثًا فَأَمَرَ إِنْسَانًا أَنْ يَكْتُبَ فَقَالَ زَيْدٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ فَمَحَاهُ
عبدالمطلب بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کو ایک حدیث بیان کی، انہوں نے ایک انسان کو حکم دیا کہ وہ یہ حدیث لکھ لیں، لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث لکھنے سے منع فرمایا ہے،“ پس انہوں نے اس کو مٹا دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 295]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبدالمطلب بن عبدالله لم يسمع من زيد بن ثابت۔ أخرجه ابوداود: 3647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21912»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صرف قرآن کو لکھنے کا حکم دیا اور احادیث کو لکھنے سے منع کر دیا، اس کی مزید وضاحت اگلے باب میں آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
14. فَضْلٌ فِي الرُّخْصَةِ فِي كِتَابَةِ الْحَدِيثِ
حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 296
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (يَعْنِي بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ فَقَالُوا: إِنَّكَ تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (اكْتُبْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي حَقٌّ) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز سنتا تھا، اس کو یاد کرنے کے ارادے سے لکھ لیتا تھا، لیکن قریشیوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور کہا: ”تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیتا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بشر ہیں اور غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے رہتے ہیں،“ چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتلا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو لکھ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھ سے صرف حق کا صدور ہوتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 296]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6510»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن قیم نے تہذیب مختصر سنن ابو داود: ۵/ ۲۴۵ میں کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احادیث لکھنے سے منع کرنا اوراس کی اجازت دینا، یہ دونوں چیزیں ثابت ہیں، لیکن اجازت والی احادیث ناسخ ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ فتح مکہ کے موقع پر فرمایا تھا: ابو شاہ کے لیے (میرا خطبہ) لکھ دو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓکو لکھنے کی اجازت دی تھی اور اجازت والا یہ واقعہ منع والی حدیث کے بعد پیش آیا تھا، کیونکہ سیدنا عبد اللہ بن عمروؓنے احادیث کی کتابت کو جاری رکھا، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوئے تو ان کے پاس احادیث ِ نبویہ پر مشتمل ان کی کتاب بھی تھی، جس کو صحیفۂ صادقہ کہتے ہیں، اگر نہی والی احادیث متأخر ہوتیں تو سیدنا عبد اللہ ؓنے ان احادیث کو مٹا دینا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کے علاوہ دیگر چیزوں کو مٹا دینے کا حکم دیا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ چونکہ انھوں نے لکھی ہوئی احادیث کو نہیں مٹایا، بلکہ ان کو برقرار رکھا، اس لیے اس سے پتہ چلتا ہے کہ لکھنے کی اجازت دینے کا واقعہ بعد میں پیش آیا، یہ بات بالکل واضح ہے، والحمد للّٰہ۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 3646
حدیث نمبر: 297
عَنْ مُجَاهِدٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَا: سَمِعْنَاهُ يَقُولُ: مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (يَعْنِي بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي، وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكِتَابِ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ
مجاہد اور مغیرہ بن حکیم رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا، ما سوائے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے تھے اور دل سے یاد کر لیتے تھے، جبکہ میں دل سے یاد کر لیتا تھا اور لکھتا نہیں تھا،“ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھنے کی اجازت طلب کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9220»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 113
حدیث نمبر: 298
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ
(دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں تھا، ما سوائے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 298]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7383»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7383
حدیث نمبر: 299
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قَالَ لِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ: اكْتُبْ عَنِّي وَلَوْ حَدِيثًا وَاحِدًا مِنْ غَيْرِ كِتَابٍ فَقُلْتُ: لَا وَلَا حَرْفًا
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام عبدالرزاق رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: ”مجھ سے لکھو، اگرچہ ایک حدیث ہی ہو،“ لیکن میرے پاس کتاب نہیں تھی۔ میں (یحییٰ) نے کہا: ”جی نہیں، ایک حرف بھی نہیں لکھوں گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14217»
وضاحت: فوائد: … امام یحییٰ بن معین نے امام عبد الرزاق جیسے جلیل القدر اور وسیع العلم محدث کے حفظ سے احادیث کو لکھنا گوارا نہیں کیا، یہ صرف اس شبہ کی بنا پر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی حدیث کے معاملے میں خلط ملط اور بھوک چوک میں نہ پڑ گئے ہوں، ان امور کی بنیاد احتیاط تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دور میں احادیث ِ مبارکہ لکھنے کا سلسلہ عام تھا۔ اس باب کی اور دیگر کئی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ احادیث ِ نبویہ کو لکھنے کا حکم دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی کئی احادیث لکھوائیں، نیز بعض صحابہ کرام نے احادیث ِ طیبہ کے صحیفے تیار کیے، مثال کے طور پر: صحیفۂ سعد بن عبادہ، صحیفۂ جابر بن عبد اللہ، صحیفۂ سیدہ عائشہ، صحیفۂ اسماعء بنت عمیس، صحیفۂ عبد اللہ عمر، صحائف عبداللہ بن عباس، صحیفۂ زید بن ارقم، صحیفۂ زید بن ثابت، صحیفۂ سلمان فارسی، صحیفۂ سمرہ بن جندب، صحیفۂ سہل بن سعد ساعدی۔ لیکن پچھلے باب کی احادیث میں کتابت ِ حدیث سے منع کیا گیا ہے، اِن میں جمع و تطبیق کی صورتیں درج ذیل ہیں: (۱) احادیث کو قرآن مجید کے ساتھ لکھنے سے منع کیا گیا تھا، تاکہ قرآن اور غیر قرآن کااختلاط واقع نہ ہو جائے، دونوں کو علیحدہ علیحدہ لکھنے کی اجازت تھی۔ (۲) شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث کو لکھنے سے منع کردیا تھا، لیکن بعد میں جب التباس کا خطرہ ٹل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث کو لکھنے کی عام اجازت دے دی تھی، اس صورت کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری حیات ِ مبارکہ میں احادیث لکھنے کی مثالیں موجود ہیں، مثلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جب ابو شاہ یمنی نے یہ مطالبہ کیا کہ میرے لیے یہ خطبہ لکھوا دیا جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے حفظ پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا: ((اُکْتُبُوْا لِاَبِیْ شَاہٍ)) … میرے صحابہ! یہ خطبہ ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔ بعد میں تو لکھنے کا ایسا رواج پڑا کہ گویا احادیث ِ نبویہ اور ان کے لکھنے کو لازم و ملزوم سمجھ لیا گیا۔
الحكم على الحديث:
اثر صحيح
15. بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ التَّحْدِيثِ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
اہل کتاب سے ان کی روایات بیان کرنے کی نہی اور اس کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 300
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا، فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو، کیونکہ وہ ہرگز تمہاری رہنمائی نہیں کریں گے، جبکہ وہ تو گمراہ ہو چکے ہیں، اور اس معاملے میں یا تو تم کو باطل کی تصدیق کرنا پڑے گی یا حق کو جھٹلانا پڑے گا، پس بیشک اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے اندر زندہ ہوتے تو ان کے لیے حلال نہ ہوتا، مگر میری پیروی کرنا۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد۔ أخرجه البزار: 124، وابويعلي: 2135، والبيھقي: 2/ 10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14685»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد۔ أخرجه البزار: 124
حدیث نمبر: 301
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَرَأَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ فَقَالَ: ( (أَتَمَهَوَّكُونَ فِيهَا يَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ أَنَّ مُوسَى حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک کتاب لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ ان کو کسی اہل کتاب سے ملی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑھنا شروع کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر بن خطاب! کیا تم اپنی شریعت کے بارے میں شک میں پڑ گئے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے پاس ایسی شریعت لے کر آیا ہوں، جو واضح، صاف (اور شک و شبہ سے پاک) ہے، ان اہل کتاب سے سوال نہ کیا کرو، ورنہ ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ تم کو حق بات بتلائیں اور تم اس کو جھٹلا دو یا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ تم کو باطل بات بتلائیں اور تم اس کی تصدیق کر دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی صرف میری پیروی کرنے کی گنجائش ہوتی۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 301]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15223»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15223
حدیث نمبر: 302
عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي مَرَرْتُ بِأَخٍ لِي مِنْ قُرَيْظَةَ فَكَتَبَ لِي جَوَامِعَ مِنَ التَّوْرَاةِ، أَلَا أَعْرِضُهَا عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، قَالَ: فَسُرِّيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ أَصْبَحَ فِيكُمْ مُوسَى ثُمَّ اتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ، إِنَّكُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ وَأَنَا حَظُّكُمْ مِنَ النَّبِيِّينَ) )
سیدنا عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! قریظہ کے ایک بھائی کے پاس سے میرا گزر ہوا، پس اس نے میرے لیے تورات کی اہم اہم باتیں لکھ دیں، کیا میں ان کو آپ پر پیش کروں؟“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہونا شروع ہو گیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر کیا تبدیلی آئی ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (غصے والی کیفیت) ختم ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تم میں آ جائیں اور پھر تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگ جاؤ تو گمراہ ہو جاؤ گے، بیشک تم امتوں میں سے میرا حصہ ہو اور میں انبیاء میں سے تمہارا حصہ ہوں۔“ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 302]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي وفيه اضطراب۔ أخرجه عبد الرزاق: 10164، والبيھقي في الشعب: 5201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15958»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي وفيه اضطراب۔ أخرجه عبد الرزاق: 10164