🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابٌ فِي تَغْلِيظِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ نَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَذَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَذَا، فَقَالَ: شَاهَتِ الْوُجُوهُ، أَتَدْرُونَ مَا تَقُولُونَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ) )
محمد بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم احادیث بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، انہوں نے یہ دیکھ کر کہا: قبیح ہو جائیں یہ چہرے، کیا تم اپنی کہی ہوئی ان باتوں کو جانتے بھی ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے تیار کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابي محمد بن معبد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23016»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ) )
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جو شخص مجھ پر جھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے آگ میں ایک گھر تیار کیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 314]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه البزار: 210، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6309»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولنے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایسے قول یا فعل کو منسوب کر دیا جائے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا یا کیا نہ ہو۔ ان لوگوں کا نظریہ باطل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ تو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ترغیب دلانے اور اس کی نافرمانی سے بچانے کے لیے جھوٹی احادیث گھڑتے ہیں، جیسا کہ ابو عصمہ نوح بن ابی مریم نے عن عکرمۃ عن ابن عباس کے طریق سے قرآن مجید کی ہر سورت کی فضیلت میں احادیث گھڑنا شروع کیں، جب اس سے اِن احادیث کی حقیقت کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ لوگ ابو حنیفہ کی فقہ اور ابو اسحاق کے مغازی میں مشغول ہو کر قرآن مجید سے اعراض کر رہے ہیں تو میں نے یہ سلسلہ شروع کر دیا، تاکہ وہ قرآن مجید کی طرف لوٹ آئیں۔
حافظ ابن حجر نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان مجھ پر جھوٹ نہ بولو میں ہر جھوٹے کے حق میں عام حکم ہے اور یہ جھوٹ کی ہر قسم کو شامل ہے، کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جھوٹ کو میری طرف منسوب نہ کرو، یہاں عَلَیَّ میں اس قسم کا مفہوم نہیں پایا جاتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جھوٹ سے مطلق طور پر منع کر دیا ہے۔ بعض جاہل لوگوں کو دھوکہ ہوا اور انھوں نے ترغیب و ترہیب کے باب میں احادیث گھڑیں اور کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جھوٹ نہیں بول رہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کی تائید و نصرت کے لیے یہ کام کر رہے ہیں۔ ان بیچاروں کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولا جا رہا ہے، کیونکہ اس جھوٹ سے شرعی حکم ثابت کیا جا رہا ہے، اس کا تعلق واجب اور مندوب سے ہو یا حرام اور مکروہ سے۔ اس مقام پر کرامیہ کے نظریے سے دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، جنھوں نے ترغیب و ترہیب کے باب میں جھوٹی احادیث بیان کرنے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا: ہم لوگ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر جھوٹ بول رہے ہیں، نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت میں، یعنی ہمارا جھوٹ لَہٗ ہے، نہ کہ عَلَیْہ دراصل یہ دلیل پیش کرنے والے عربی زبان سے جاہل ہیں۔ اسی طرح بعض لوگوں نے مسند بزار کی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓسے مروی اس حدیث سے جھوٹی احادیث بیان کرنے کے جواز کا استدلال کیا ہے: ((مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ لِیُضِلَّ بِہِ النَّاسَ)) … جو آدمی مجھ پر اس نظریے سے جھوٹ بولے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے۔ جواباً گزارش ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے، امام دارقطنی اور امام حاکم نے اس کے مرسل ہونے کو راجح قرار دیا ہے اور امام دارمی نے اس کو یعلی بن مرہ کی حدیث سے ضعیف سند کے ساتھ بیان کیا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس حدیث کو صحیح تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس میں لام علت کے لیے نہیں ہے، بلکہ صیرورت کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: {فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ} … اس آدمی سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے، جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے جھوٹ کا انجام لوگوں کا گمراہ کرنا ہے۔ اور (تیسرا جواب یہ ہے کہ) اس قسم کی قید کا تعلق عموم کے بعض افراد کی تخصیص کر دینے کے ساتھ ہے، جس کا خارج میں کوئی مفہوم نہیں ہوتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَاتَأْکُلُوْا الرِّبَا اَضْعَافًا مُّضَاعَفَۃً}(سورۂ آل عمران: ۱۳۰) … بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ۔ {وَلَاتَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ} (سورۂ انعام: ۱۵۱) … اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ اب گزارش یہ ہے کہ بھوک کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا، سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانا اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا، یہ سب قیدیں حکم کو خاص کرنے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ معاملے میں تاکید پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ (فتح الباری: ۱/ ۲۶۶)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف صرف وہ بات منسوب کی جائے، جس کی سند کے صحیح ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْعِلْمِ
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا) )
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ وہ اس کو لوگوں سے سلب کر لے، وہ تو علماء کو فوت کر کے علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، پس جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جائیں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 315]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 100، ومسلم: 2673، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6511 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6511»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 316
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ أَنْ يُعْطِيَهُمْ إِيَّاهُ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ بِالْعُلَمَاءِ، وَكُلَّمَا ذَهَبَ عَالِمٌ ذَهَبَ بِمَا مَعَهُ مِنَ الْعِلْمِ حَتَّى يَبْقَى مَنْ لَا يَعْلَمُ، فَيَتَّخِذُ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا فَيُسْتَفْتَوْنَ فَيُفْتُونَ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَيَضِلُّونَ وَيُضِلُّونَ) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو علم عطا کر دیتا ہے تو وہ اس کو لوگوں سے چھین نہیں لیتا، بلکہ وہ علماء کو فوت کرنا شروع کر دیتا ہے، جب ایک عالم فوت ہوتا ہے تو وہ علم بھی چلا جاتا ہے، جو اس کے پاس ہوتا ہے، یہاں تک کہ صرف وہ لوگ باقی رہ جاتے ہیں، جن کو علم نہیں ہوتا، پس لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں اور پھر جب ان سے فتویٰ طلب کیا جاتا ہے تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیتے ہیں اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 316]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6896»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 317
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، شراب پی جائے گی اور زنا عام ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 317]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 81، ومسلم: 2671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13126»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 318
عَنْ قَابُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: آخِرُ شِدَّةٍ يَلْقَاهَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ، وَفِي قَوْلِهِ: {يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ} قَالَ: كَدُرْدِيِّ الزَّيْتِ، وَفِي قَوْلِهِ: {آَنَاءَ اللَّيْلِ} قَالَ: جَوْفُ اللَّيْلِ وَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنَ الْأَرْضِ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آخری سختی، جس میں مومن مبتلا ہوتا ہے، موت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان «یَوْمَ تَکُوْنُ السَّمَاءُ کَالْمُہْلِ» میں مُہْل سے مراد تیل کی تلچھٹ ہے اور «آنَاءَ اللَّیْلِ» سے مراد رات کا درمیانہ حصہ ہے۔ پھر انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ علم کا ختم ہو جانا کیا ہے؟ وہ زمین سے اہل علم کا اٹھ جانا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 318]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، قابوس بن ابي ظبيان الجنبي ضعيف يكتب حديثه ولا يحتج به۔ أخرجه ابن ابي حاتم في التفسير: 1228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1946»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 319
عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَالَ: ( (وَذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ) ) قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاءُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: ( (ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ أُمِّ لَبِيدٍ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ لَا يَنْتَفِعُونَ مِمَّا فِيهِمَا بِشَيْءٍ) )
سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ اس وقت ہو گا، جب علم اٹھ جائے گا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! علم کیسے ختم ہو جائے گا، جبکہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر ہمارے بیٹے اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیں گے اور قیامت کے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن ام لبید! تجھے تیری ماں گم پائے، میرا خیال تو یہ تھا کہ مدینہ میں سب سے بڑا سمجھ دار اور فقیہ آدمی تو ہے، کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل کو نہیں پڑھتے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ یہ لوگ ان میں سے کسی چیز سے مستفید نہیں ہو رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 319]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 4048، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17473 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17612»
وضاحت: فوائد: … اگلی حدیث کے فوائد دیکھیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 320
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ (الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: ( (هَذَا أَوَانُ الْعِلْمِ أَنْ يُرْفَعَ) ) ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ زِيَادُ بْنِ لَبِيدٍ: أَيُرْفَعُ الْعِلْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ وَقَدْ عَلَّمْنَا أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ) ) ثُمَّ ذَكَرَ ضَلَالَةَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ وَعِنْدَهُمَا مَا عِنْدَهُمَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَقِيَ جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) بِالْمُصَلَّى فَحَدَّثَهُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَوْفٍ فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، ثُمَّ قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَا رَفْعُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: ذَهَابُ أَوْعِيَتِهِ، قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي أَيُّ الْعِلْمِ أَوَّلُ أَنْ يُرْفَعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: الْخَشْوُعُ حَتَّى لَا تَكَادُ تَرَى خَاشِعًا
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ علم کے اٹھ جانے کا وقت ہو گا۔ زیاد بن لبید نامی ایک انصاری آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا علم اٹھا لیا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو تجھے اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کتابوں والوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی اور ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب کی جو صورتحال ہے، اس کا ذکر کیا۔ جب جبیر بن نفیر کی سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے عید گاہ کے مقام پر ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان کو سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جی عوف نے سچ کہا ہے، پھر انہوں نے کہا: اور کیا تم جانتے ہو کہ علم کا اٹھ جانا کیا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: اس سے مراد علم کے برتنوں کا اٹھ جانا ہے، اور کیا تو جانتا ہے کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: نماز میں خشوع، (اور اس چیز کا اتنا فقدان ہو جائے گا کہ) ممکن ہو گا کہ تو خشوع کرنے والا کوئی شخص نہ دیکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 320]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2653، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24490»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید، تفاسیر، احادیث، تشریحات اور مفتیانِ امت کے فتاوی جات، ان چیزوں کا لائبریریوں میں موجود ہونا اور بات ہے اور لوگوں کا شرعی علم اور اس کا فہم حاصل کر کے لوگوں کی اصلاح کرنا اور بات ہے۔
حضرات! شرعی علم حاصل کرنا، یہ ایک فکر ہے، یہ ایک منہج ہے، اس مقصد کے لیے تگ و دو کرنے کا مطلب اپنے آپ کو پابند کرنا ہے، بار بار نیت کو درست کرنا ہے۔ نیز اس نقطے پر غور کرنا ہے کہ شرعی علم کے حصول کا مقصد کیا ہے، اگر اپنی اور امت کی اصلاح مطلوب ہو تو مبارک، لیکن اگر بیچ میں نمود و نمائش، ریاکاری، شخصیت کو نمایاں کرنے، لوگوں کی طرف سے تعریف وصول کرنے اور دنیا حاصل کرنے کی بد بو آنے لگ گئی تو رفعتیں پستیوں میں بدل جاتی ہیں۔اس حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ عمل بھی علم ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شریعت کا اصل مطلوب تو عمل ہی ہے، البتہ اس مقصود کے حصول کے لیے علم ضروری ہے، جس علم کے ساتھ عمل نہ ہو، وہ اہل علم کے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے، عمل سے مراد فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 321
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَى جَمَلٍ آدَمٍ فَقَالَ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ) ) وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ، وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ، عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ} قَالَ: فَكُنَّا نَذْكُرُهَا كَثِيرًا مِنْ مَسْأَلَتِهِ وَاتَّقَيْنَا ذَاكَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بِرِدَاءٍ، قَالَ: فَاعْتَمَّ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَةَ الْبُرْدِ خَارِجَةً مِنْ حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَهُ: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِيهَا وَعَلَّمْنَا هَا نِسَاءَنَا وَذُرَّارِيَّنَا وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ: ( (أَيْ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُونَ بِحَرْفٍ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ ذَهَابِ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتُهُ) ) ثَلَاثَ مِرَارٍ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید اونٹ پر سوار تھے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! علم حاصل کرو، قبل اس کے کہ علم سلب کر لیا جائے اور اس کو اٹھا لیا جائے۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان بھی نازل کر دیا تھا: «یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآئَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ» (اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں۔) ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے سوالات کرتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی تو ہم نے سوال کرنے سے بچنا شروع کر دیا۔ (ایک دن ایک سوال کرنے کی خاطر) ہم ایک بدو کے پاس گئے اور اس کام کے لیے اسے ایک چادر دی، اس نے اس سے پگڑی باندھی اور چادر کا کنارہ دائیں ابرو کی طرف سے نکلا ہوا نظر آ رہا تھا، پھر ہم نے اس سے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سوال کر، پس اس نے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھایا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر قرآن مجید موجود ہے اور ہم نے اس کی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنی عورتوں، بچوں اور خادموں کو اس کی تعلیم دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور غصے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر سرخی نظر آ رہی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! تجھے تیری ماں گم پائے، یہ یہودی اور عیسائی ہیں، ان کے اندر ان کی کتابیں موجود ہیں، لیکن صورتحال یہ ہے کہ ان کے انبیاء جو کچھ لائے ہیں، یہ اس کی ایک شق پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، خبردار! علم کا اٹھ جانا یہ ہے کہ حاملینِ علم اٹھ جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔ [الفتح الربانی/كتاب العلم/حدیث: 321]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 7867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22290 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22646»
وضاحت: فوائد: … علم شرعی کا فقدان، اگرچہ محدثین اور سلف صالحین نے بھی اپنے ادوار کو ان احادیث کا مصداق بنائے رکھا، لیکن جس دور سے ہمارا تعلق ہے، ہم صرف اس کو دیکھ کر اپنے اندر فکر پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم جس زمانے سے گزر رہے ہیں، اس میں شرعی علوم کا بڑا فقدان ہے، محقق اور مفکر اہل علم تیزی سے دنیائے فانی سے کوچ کر رہے ہیں، عجیب انداز میں اسلامی فقاہت کو عوام الناس کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، جن مساجد و مدارس نے راسخ العلم افراد کو تیار کرنا تھا، ان کے متخرجین کا علم شرعی اور فقۂ اسلامی کے ساتھ سرسری سا تعلق ہوتا ہے۔ جن وکیل،پروفیسر اور سکالر حضرات کو شرعی مسائل دریافت کرنے کیلئے منتخب کیا جاتا ہے، وہ سرے سے عربی زبان سے ہی ناواقف ہوتے ہیں، رہا مسئلہ کہ شرعی علوم کے ساتھ ان کا کتنا اور کیا تعلق ہوتا ہے، اس عجوبے کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔دورِ حاضر میں پاکستان میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز عروج پر ہیں، اگرچہ یہ بڑی ڈگریوں کے نام ہیں، لیکن میں اپنے ذاتی مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں اور اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر بات کر رہا ہوں کہ شعبۂ علوم اسلامیہ کی ان ڈگریوں کا قرآن و حدیث کے علم اور فقۂ اسلامی کے حصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، لہٰذا بندۂ غریب کسی کے ڈاکٹر آف فلاسفی ہونے سے کسی صورت میں متأثر نہیں ہو گا۔ اسلامیات اور عربی سے متعلقہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی جس مخلوط کلاس میں بے پردگی کی بدترین صورتحال ہو، جبکہ بے پردہ لڑکیوں کی صورتحال کسی دلہن سے کم نہ ہو، دونوں جنسوں کی نگاہیں محفوظ نہ ہوں، نماز جیسے سب سے عظیم اسلامی شعار کیلئے وقفہ ہی نہ کیا جاتا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ جہاں نماز کو ترک کر دینا عار نہ سمجھا جاتا ہے، ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں کہ ایک دن ایک یونیورسٹی کی ایم فل اسلامیات کی کلاس کے بیس طلبہ میں سے اٹھارہ افراد نے نماز عصر ترک کر دی تھی، ایک دن ایک نوجوان لڑکی ڈائیس پر آ کر اسلام سے متعلقہ اپنی اسائنمنٹ پیش کر رہی تھی، آہستہ آہستہ اس کا دوپٹہ سر سے اتر گیا، جب اس نے دوپٹہ سیدھا کرنے کے لیے بازو اٹھایا تو اس کے سینے کی بے پردگی ہونے لگی، جبکہ سارے حاملینِ علم اس کو یوں تک رہے تھے، جیسے عنقریب ان سے اس کی شکل پر انٹرویو لیا جانے والا ہو۔ (العیاذ باللہ)،جہاں دوسرے لڑکوں کے سامنے قرآن و حدیث کے علوم سے مزین اور شریعت کے پابند فرد کو مولوی صاحب کہہ کر اس کے علم و عمل اور شکل و صورت کے ساتھ استہزاء کیا جاتا ہو، جس ماحول میں بڑی داڑھی والوں کو قدامت پرست اور بے پردہ لڑکیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرنے والے کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگی نہ کرنے والا سمجھ کر قابل مذمت سمجھا جاتا ہو، کسی امام سے دریافت کر کے بتائیں کہ کیا شریعت ِ اسلامیہ ایسے علمی ماحول میں پلنے والے کو مفتی تسلیم کر سکتی ہے؟ کیا یہ لوگ اس اہل ہوں گے کہ امت ِ اسلامیہ کی قیادت کر سکیں، لیکن ایسے لوگوں کو لچکدار اور مصلحت پسند قرار دے کر ان کی آراء کو حتمی طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے، ذہن نشین کر لیں کہ جن حقائق کی بنا پر میں نے یہ گزارشات پیش کی ہیں، ان کو یہاں بیان کردینا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ حضرات قرآن مجید اور اسلام کو اچھے انداز میں پیش کرنا اور بات ہے اور قرآن و حدیث کا علم وفہم حاصل کر کے ان پر عمل کرنا اور بات ہے۔ بہرحال شرعی علم کا شدید فقدان ہے، لوگوں نے اسلام کی اصطلاح میں جاہلوں سے مسائل دریافت کرنا شروع کر دئیے ہیں، جس کا نتیجہ گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اسلامی علوم کے حقیقی خادم اسلامی مدارس ہیں، اِن مدارس کے منتظمین اور اساتذہ سے گزارش ہے کہ وہ سلف صالحین کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اور دنیاداری سے اجتناب کر کے اپنے طلبہ کو علم شرعی سے مزین کریں اور ان میں خدمت ِ اسلام کا جذبہ اجاگر کریں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں