🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي آدَابِهِ
فصل اوّل: اس کے آداب کے بارے میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 520
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوْتِرْ) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی پتھروں سے استنجا کرے تو طاق استعمال کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14174»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ پتھروں سے استنجا کرنے کی صورت میں ان کی تعداد طاق ہونی چاہیے، مزید وضاحت اگلے باب میں آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي النَّهْيِ عَنِ الِاسْتِجْمَارِ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ
تین پتھروں سے کم پر اکتفا کرنے سے نہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 521
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّا نَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ، قَالَ: أَجَلْ، إِنَّهُ يَنْهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَيَنْهَانَا عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ وَقَالَ: ( (لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ) )
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ مشرکوں نے ان سے مذاق کرتے ہوئے کہا: ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارا نبی تو تمہیں قضائے حاجت کے آداب کی بھی تعلیم دیتا ہے، انہوں نے آگے سے کہا: جی بالکل، بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا ہے کہ کوئی آدمی دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لید اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’کوئی آدمی تین پتھروں سے کم سے استنجا نہ کرے۔‘ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24109»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 522
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ ثَلَاثًا) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی پتھروں سے استنجا کرے تو وہ تین پتھر استعمال کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15370»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 523
عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْإِسْتِطَابَةَ، (وَفِي رِوَايَةٍ: الْإِسْتِنْجَاءَ) فَقَالَ: ( (ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ) )
سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجے کا ذکر کیا اور فرمایا: تین پتھر ہوں اور ان میں لید نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22205»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ لِلْحَاجَةِ فَلْيَسْتَطِبْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فَإِنَّهَا تُجْزِئُهُ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے جائے تو وہ تین پتھروں سے استنجا کیا کرے، پس بیشک یہ اس کو کفایت کریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 40، والنسائي: 1/ 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25280»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوهَا وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں اور تمہیں اسی طرح تعلیم دیتا ہوں، پس جب کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے جائے تو نہ وہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ کرے اور کوئی آدمی تین پتھروں سے کم سے استنجا نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 8، وابن ماجه: 312، وأخرجه مختصرا مسلم: 265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7403»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں واضح طور پر تین پتھروں سے کم پر اکتفا کرنے سے منع کیا گیا ہے، اگر اس سے زیادہ پتھروں کی ضرورت پڑے تو بھی طاق کا خیال رکھا جائے۔ امام احمد اور امام شافعی نے کم از کم تین پتھروں کو واجب قرار دیا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک نے اس لحاظ سے عدد کا کوئی اعتبار نہیں کیا، البتہ طاق تعداد کا خیال رکھا ہے، وہ ایک ہو یا تین، لیکن ان احادیث ِ مبارکہ سے ان کی رائے کی تائید نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِيمَا يَجُوزُ الِاسْتِجْمَارُ بِهِ وَمَا لَا يَجُوزُ
ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ: ( (الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ) ) قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ: ( (إِنَّهَا رِكْسٌ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے اور فرمایا: میرے لیے تین پتھر تلاش کر کے لاؤ۔ پس میں دو پتھر اور ایک لید لے کر آیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھر لے لیے اور لید پھینک دی اور فرمایا: یہ گندی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3966»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پتھروں کے ساتھ استنجا کیا تھا، کیونکہ مسند احمد کی ایک روایت میں یہ زیادتی ہے: ((اِئْتِنِیْ بِحَجَرٍ۔)) … ایک پتھر اور لے آ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) فَقَالَ: ( (ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَسْتَنْجِي بِهِ وَلَا تُقْرِبْنِي حَائِلًا وَلَا رَجِيعًا) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے کوئی ایسی چیز لے آؤ، جس سے میں استنجا کروں اور کسی بوسیدہ ہڈی اور لید کو میرے قریب نہ کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، لكنه له شواهد صحيحة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4053»
وضاحت: فوائد: … حَائِل کا معنی بدل جانے والی چیز ہے، یہاں اس سے مراد وہ ہڈی ہے، جو اصلی حالت سے تبدیل ہو کر بوسیدہ ہو چکی ہو۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
وَعَنْهُ أَيْضًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ وَمَعَهُ عَظْمٌ حَائِلٌ وَبَعْرَةٌ وَفَحْمَةٌ فَقَالَ: ( (لَا تَسْتَنْجِيَنَّ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا، إِذَا خَرَجْتَ إِلَى الْخَلَاءِ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں والی رات کو ان کے پاس آئے، جبکہ ان کے پاس بوسیدہ ہو جانے والی ہڈی، اونٹ کی مینگنی اور کوئلے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو قضائے حاجت کے لیے جائے تو ان میں سے کسی چیز سے استنجا نہیں کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابوداود: 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4375»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 529
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِبَعْرَةٍ أَوْ بِعَظْمٍ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اونٹ کی مینگنی یا ہڈی کے ساتھ استنجا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطهارة/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14668»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں