🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب فِي سَعَةِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ:
باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2752 ترقیم شاملہ: -- 6972
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ تَتَرَاحَمُ الْخَلَائِقُ حَتَّى تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ ".
سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے رحمت کے ایک سو حصے کیے، ننانوے حصے اپنے پاس روک کر رکھ لیے اور ایک حصہ زمین پر اتارا، اسی ایک حصے میں سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے حتیٰ کہ ایک چوپایہ اس ڈر سے اپنا سم اپنے بچے سے اوپر اٹھا لیتا ہے کہ کہیں اس کو لگ نہ جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6972]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے ٹھہرائے، چنانچہ ننانوے اپنے پاس روک لیے اور زمین میں صرف ایک حصہ اتارا، اس ایک جزء کی بنا پر تمام مخلوق ایک دوسرے پر مہربانی کرتی ہے حتیٰ کہ چوپایہ اپنے بچے سے اپنا پاؤں اٹھا لیتا ہے اس ڈر سے کہ اسے تکلیف نہ پہنچے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6972]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2752
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2752 ترقیم شاملہ: -- 6973
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونُ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ وَخَبَأَ عِنْدَهُ مِائَةً إِلَّا وَاحِدَةً ".
علاء کے والد (عبدالرحمان) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں، اس نے ایک رحمت اپنی مخلوق میں رکھی اور ایک کم سو رحمتیں (آئندہ کے لیے) اپنے پاس چھپا کر رکھ لیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6973]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا فرمائیں، سو ان میں سے ایک کو اپنی مخلوق میں رکھ دیا اور ایک کم سو اپنے پاس چھپا رکھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6973]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2752
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2752 ترقیم شاملہ: -- 6974
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت اس نے جن و انس، حیوانات اور حشرات الارض کے درمیان نازل فرما دی، اسی (ایک حصے کے ذریعے) سے وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، آپس میں رحمت کا برتاؤ کرتے ہیں، اسی سے وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں مؤخر کر کے رکھ لی ہیں، ان سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6974]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: اللہ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے صرف ایک اس نے جنوں، انسانوں، حیوانوں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتاری ہے، چنانچہ وہ اس کی بنا پر ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، اس کے سبب ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور اس کے باعث وحشی (جنگلی جانور) اپنی اولاد پر شفقت کرتے ہیں، اور اللہ نے ننانوے رحمتیں مؤخر کر دی ہیں، ان کے سبب قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحمت فرمائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6974]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2752
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2753 ترقیم شاملہ: -- 6975
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ، وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ "،
معاذ نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوعثمان نہدی نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت ہے جس کے ذریعے سے مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور ننانوے (رحمتیں) قیامت کے دن کے لیے (محفوظ) ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6975]
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت کے سبب مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور ننانوے قیامت کے لیے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6975]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2753
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2753 ترقیم شاملہ: -- 6976
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6976]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6976]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2753
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2753 ترقیم شاملہ: -- 6977
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ، كُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَجَعَلَ مِنْهَا فِي الْأَرْضِ رَحْمَةً، فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَكْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ ".
داود بن ابی ہند نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس دن اس نے سو رحمتیں پیدا کیں، ہر رحمت آسمانوں اور زمین کے درمیان کی وسعت کے برابر ہے، اس نے ان میں سے ایک رحمت زمین میں رکھی، اسی رحمت کی وجہ سے والدہ اپنی اولاد پر رحمت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت کا سلوک کرتے ہیں، جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کو اس رحمت کے ساتھ ملا کر پوری (سو) کرے گا (اور بندوں کے ساتھ سو فیصد رحمت کا سلوک فرمائے گا۔) [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6977]
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، سو رحمتیں پیدا کیں، ہر رحمت آسمان و زمین کی پورائی بھرائی کے برابر ہے، چنانچہ ان میں سے ایک رحمت زمین میں رکھی، اس کے سبب ماں اپنی اولاد پر شفقت کرتی ہے، وحشی اور پرندے ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں، سو جب قیامت کا دن ہوگا، اس رحمت سے ان سو کو مکمل کر دے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6977]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2753
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2754 ترقیم شاملہ: -- 6978
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لِحَسَنٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ تَبْتَغِي إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ، فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟ "، قُلْنَا " لَا وَاللَّهِ وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا ".
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے، ان قیدیوں میں سے ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی، اچانک قیدیوں میں سے اسے ایک بچہ مل گیا، اس نے بچے کو اٹھا کر پیٹ سے چمٹا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے کہا: اللہ کی قسم! اگر اس کے بس میں ہو کہ اسے نہ پھینکے (تو ہرگز نہیں پھینکے گی۔) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا اس عورت کو اپنے بچے کے ساتھ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6978]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صورت حال یہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی لائے گئے، چنانچہ قیدیوں میں سے ایک عورت کچھ تلاش کر رہی تھی کہ اچانک قیدیوں میں سے اسے ایک بچہ ملا، اس نے اس کو پکڑ کر اپنے پیٹ سے چمٹا لیا اور اسے دودھ پلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: کیا تمہارا خیال ہے، یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی؟ ہم نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک اسے نہ ڈالنے کا اختیار ہے (یہ نہیں ڈالے گی)۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی اپنے بندوں پر، اس کی اپنے بچے پر سے رحمت زیادہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6978]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2754
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2755 ترقیم شاملہ: -- 6979
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مومن کو یہ علم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سزا کیا ہے تو کوئی شخص اس کی جنت کی امید ہی نہ رکھے، اور اگر کافر کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ کے پاس رحمت کس قدر ہے تو کوئی ایک بھی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6979]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مومن اللہ کی سزا اور عقوبت کو جان لے (جو ہر گناہ کے لیے تیار ہے) تو کوئی انسان (اپنے گناہوں کو دیکھ کر) جنت کی امید نہ رکھے اور اگر کافر اللہ کی رحمت کو جان لے (جو اس کے مومن بندوں کے لیے ہے) تو کوئی انسان اس کی جنت سے مایوس نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6979]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2755
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2756 ترقیم شاملہ: -- 6980
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ بِنْتِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ رَجُلٌ: لَمْ يَعْمَلْ حَسَنَةً قَطُّ لِأَهْلِهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ، وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، فَلَمَّا مَاتَ الرَّجُلُ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، وَأَمَرَ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، اپنے گھر والوں سے کہا: جب وہ مرے تو اسے جلا دیں، پھر اس کا آدھا حصہ (ہواؤں میں اڑا کر) خشکی پر بکھیر دیں اور آدھا حصہ سمندر میں بہا دیں، کیونکہ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے قابوکر لیا تو اس کو ضرور بالضرور ایسا عذاب دے گا جو تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دے گا، چنانچہ جب وہ آدمی مر گیا تو انہوں نے وہی کیا جس کا اس نے حکم دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خشکی کو حکم دیا، اس شخص کا جو بھی حصہ اس (خشکی) میں تھا اس نے اس کو اکٹھا کر دیا اور سمندر کو حکم دیا تو جو کچھ اس میں تھا اس نے اکٹھا کر دیا، پھر (اللہ نے) اس سے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا: میرے رب! تیرے ڈر سے (ایسا کیا تھا) اور تو سب سے زیادہ جاننے والا ہے (کہ میری بات سچ ہے) تو اللہ نے (اس سچی خشیت کی بنا پر) اسے بخش دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6980]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی، اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا دینا، پھر اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی راکھ سمندر میں بکھیر دینا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر اللہ اس پر گرفت کر سکا تو اسے اس قدر شدید عذاب دے گا جو کائنات میں کسی کو نہیں دیا ہو گا، پھر جب وہ آدمی فوت ہو گیا تو انہوں نے (گھر والوں نے) اس کے مشورے پر عمل کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خشکی کو حکم دیا تو اس نے اس میں بکھرے ہوئے ذرات کو جمع کر دیا اور سمندر کو حکم دیا تو اس نے اس میں موجود ذرات کو جمع کر ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے انسان! تو نے یہ کام کیوں کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیری خشیت اور ڈر کی وجہ سے اور تجھے خوب علم ہے، سو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6980]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2756 ترقیم شاملہ: -- 6981
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبد: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: قَالَ لِي الزُّهْرِيُّ : أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ؟، قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ بِهِ أَحَدًا، قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ، فَقَالَ لِلْأَرْضِ: أَدِّي مَا أَخَذْتِ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟، فَقَالَ: خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ أَوَ قَالَ مَخَافَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ " ,
معمر نے کہا: زہری نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟ (پھر) زہری نے کہا: مجھے حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے اپنے آپ پر ہر قسم کی زیادتی کی (ہر گناہ کا ارتکاب کر کے خود کو مجرم بنایا۔) تو جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے ریزہ ریزہ کر دینا، پھر مجھے ہوا میں، سمندر میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھے قابوکر لیا تو مجھے یقیناً ایسا عذاب دے گا جو کسی اور کو نہ دیا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے اس کے ساتھ یہی کیا۔ تو اللہ نے زمین سے کہا: جو تو نے لیا پورا واپس کر، تو وہ (پورے کا پورا سامنے) کھڑا تھا۔ اللہ نے اس سے فرمایا: تو نے جو کیا اس پر تمہیں کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا: میرے پروردگار! تیری خشیت نے۔۔ یا کہا۔۔: تیرے خوف نے تو اسی (بات) کی بنا پر اس (اللہ) نے اسے بخش دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6981]
معمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں مجھے زہری رحمہ اللہ نے کہا: کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟ مجھے حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے بتایا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے اپنے نفس پر زیادتی کی (معاصی اور منکرات کا ارتکاب کیا)، تو جب اس کی موت کا وقت آ پہنچا اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میرے جلے ہوئے جسم کو پیس ڈالنا، پھر میری راکھ کو سمندر میں اڑا دینا، اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھ پر قابو پا لیا تو مجھے اس قدر سخت عذاب دے گا، جو کسی کو نہیں دیا ہو گا، تو انہوں نے اس کے ساتھ یہی سلوک کیا، تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرمایا: جو لیا ہے وہ ادا کرو، تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا، سو اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: جو حرکت تو نے کی ہے، تجھے اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیری خشیت یا تیرے خوف نے، تو اس بنا پر اللہ نے اسے بخش دیا۔ زہری رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ سے کہا تھا: کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟ ان میں سے ایک مذکورہ بالا ہے اور دوسری حدیث مندرجہ ذیل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6981]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں