صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا:
باب: توبہ کی ترغیب دینے اور توبہ کرنے پر خوش ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2747 ترقیم شاملہ: -- 6962
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حبان نے کہا: ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6962]
یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6962]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2747
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب سُقُوطِ الذُّنُوبِ بِالاِسْتِغْفَارِ تَوْبَةً:
باب: توبہ استغفار کرنے سے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 2748 ترقیم شاملہ: -- 6963
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَاصِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّهُ قَالَ: حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ يَغْفِرُ لَهُمْ ".
عمر بن عبدالعزیز کے قصہ گو محمد بن قیس نے ابوصرمہ سے، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے چھپا رکھی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم (لوگ) گناہ نہ کرو تو (تمہاری جگہ) اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق کو پیدا فرما دے جو گناہ کریں (پھر اللہ سے توبہ کریں اور) وہ ان کی مغفرت فرما دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6963]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے مرتے وقت بتایا: میں نے تم سے ایک ایسی چیز چھپائی تھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم گناہ نہ کرتے ہوتے، اللہ ایسی مخلوق پیدا کرتا جو گناہ کرتی (اور معافی مانگتی) وہ انہیں معاف فرماتا۔” [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6963]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2748 ترقیم شاملہ: -- 6964
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَوْ أَنَّكُمْ لَمْ تَكُنْ لَكُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا اللَّهُ لَكُمْ لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ لَهُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا لَهُمْ ".
محمد بن کعب قرظی نے ابوصرمہ سے، انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسے ہوتے کہ تمہارے (نامہ اعمال میں کچھ بھی) گناہ نہ ہوتے جن کی اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بخشش فرماتا تو وہ ایسی قوم کو (اس دنیا میں) لے آتا جن کے گناہ ہوتے اور وہ ان کے لیے ان (گناہوں) کی مغفرت فرماتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6964]
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے گناہ نہ ہوتے جن کی وجہ سے اللہ تمہیں معاف فرماتا تو اللہ ایسے لوگوں کو لاتا جن کے گناہ ہوتے اور وہ انہیں معاف فرماتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6964]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2749 ترقیم شاملہ: -- 6965
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم (لوگ) گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تم کو (اس دنیا سے) لے جائے اور (تمہارے بدلے میں) ایسی قوم کو لے آئے جو گناہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگیں تو وہ ان کی مغفرت فرمائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6965]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تمہیں لے جاتا اور ایسے لوگوں کو لاتا، جو گناہ کر کے بخشش طلب کرتے سو وہ انہیں معاف فرماتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6965]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
3. باب فَضْلِ دَوَامِ الذِّكْرِ وَالْفِكْرِ فِي أُمُورِ الآخِرَةِ وَالْمُرَاقَبَةِ وَجَوَازِ تَرْكِ ذَلِكَ فِي بَعْضِ الأَوْقَاتِ وَالاِشْتِغَالِ بِالدُّنْيَا:
باب: ذکر کے دوام اور امور آخرت میں غور و فکر کی فضیلت، اور بعض اوقات اس کو چھوڑنے، اور دنیا کے ساتھ مشغول ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2750 ترقیم شاملہ: -- 6966
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَقَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ ، قَالَ: وَكَانَ مِنْ كُتَّابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟، قَالَ: قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُولُ؟، قَالَ: قُلْتُ: نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ، فَنَسِينَا كَثِيرًا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي، وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ، وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ".
جعفر بن سلیمان نے سعید بن ایاس جریری سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے حضرت حنظلہ (بن ربیع) اسیدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا۔۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں میں سے تھے۔۔ کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور دریافت کیا: حنظلہ! آپ کیسے ہیں؟ میں نے کہا: حنظلہ منافق ہو گیا ہے، (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے) کہا: سبحان اللہ! تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں حتیٰ کہ ایسے لگتے ہیں گویا ہم (انہیں) آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے نکلتے ہیں تو بیویوں، بچوں اور کھیتی باڑی (اور دوسرے کام کاج) کو سنبھالنے میں لگ جاتے ہیں اور بہت سی چیزیں بھول بھلا جاتے ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہی کچھ ہمیں بھی پیش آتا ہے، پھر میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چل پڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہو گیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا معاملہ ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس حاضر ہوتے ہیں، آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں، تو حالت یہ ہوتی ہے گویا ہم (جنت اور دوزخ کو) اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جب ہم آپ کے ہاں سے باہر نکلتے ہیں تو بیویوں، بچوں اور کام کاج کی دیکھ بھال میں لگ جاتے ہیں۔۔ ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس طرح میرے پاس ہوتے اور ذکر میں لگے رہو تو تمہارے بچھونوں پر اور تمہارے راستوں میں فرشتے (آ کر) تمہارے ساتھ مصافحے کریں، لیکن اے حنظلہ! کوئی گھڑی کسی طرح ہوتی ہے اور کوئی گھڑی کسی (اور) طرح۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6966]
حضرت حنظلہ اسیدی رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور پوچھا: ”اے حنظلہ! کیسے ہو؟“ میں نے کہا: ”حنظلہ منافق بن گیا!“ انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ! ”کیا کہہ رہے ہو؟“ میں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود ہوتے ہیں، آپ ہمیں دوزخ اور جنت یاد دلاتے ہیں حتیٰ کہ وہ گویا ہمیں نظر آنے لگتے ہیں اور جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اپنی بیویوں، بچوں اور جاگیر و کاروبار میں مشغول ہو جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”تو اللہ کی قسم! ایسی کیفیت سے تو ہم بھی دوچار ہوتے ہیں۔“ چنانچہ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہما دونوں چل پڑے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حنظلہ منافق ہو گیا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا معاملہ ہے؟“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کے پاس موجود ہوتے ہیں، آپ ہمیں دوزخ اور جنت کے ذریعے وعظ و نصیحت فرماتے ہیں کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جب ہم آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں، بیویوں، بچوں اور کاروبارِ حیات میں مشغول ہو جاتے ہیں تو بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو، جس پر میرے پاس ہوتے ہو اور ذکر میں لگے رہو تو تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں فرشتے تم سے مصافحہ کریں، لیکن اے حنظلہ! ایسے وقتاً فوقتاً ہی ہوتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین دفعہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6966]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2750
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2750 ترقیم شاملہ: -- 6967
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَعَظَنَا فَذَكَّرَ النَّارَ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَضَاحَكْتُ الصِّبْيَانَ وَلَاعَبْتُ الْمَرْأَةَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: وَأَنَا قَدْ فَعَلْتُ مِثْلَ مَا تَذْكُرُ، فَلَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَافَقَ حَنْظَلَةُ، فَقَالَ: مَهْ فَحَدَّثْتُهُ بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَنَا قَدْ فَعَلْتُ مِثْلَ مَا فَعَلَ، فَقَالَ يَا حَنْظَلَةُ: " سَاعَةً وَسَاعَةً وَلَوْ كَانَتْ تَكُونُ قُلُوبُكُمْ كَمَا تَكُونُ عِنْدَ الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُسَلِّمَ عَلَيْكُمْ فِي الطُّرُقِ "،
عبدالصمد کے والد (عبدالوارث بن سعید) نے کہا: ہمیں سعید جریری نے ابوعثمان نہدی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ نے ہمیں وعظ فرمایا اور دوزخ کی یاد دلائی۔ کہا: پھر میں گھر آیا تو بچوں کے ساتھ ہنسی مذاق کیا اور بیوی سے خوش طبعی کی، پھر میں باہر نکلا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، میں نے یہی بات ان کو بتائی۔ انہوں نے کہا: میں نے بھی یہی کیا ہے جس طرح تم نے ذکر کیا ہے، پھر ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا بات ہے؟“ تو میں نے پوری بات آپ سے عرض کر دی، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس طرح انہوں نے کیا ہے، میں بھی بالکل یہی کیا ہے (گھر جا کر بیوی بچوں کے ساتھ مشغول ہو گیا۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حنظلہ (یہ) گھڑی گھڑی کا معاملہ ہے (ایک گھڑی کسی طرح ہوتی ہے اور دوسری کسی اور طرح۔) اگر تمہارے دل ہر وقت اسی طرح رہیں جیسے تذکیر و تلقین کے وقت ہوتے ہیں تو تمہارے ساتھ فرشتے مصافحے کریں حتیٰ کہ راستوں میں تم کو سلام کہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6967]
حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمائی اور آگ یاد دلائی، پھر میں گھر آگیا، بچوں سے ہنسی مذاق کیا اور بیوی سے اٹکھیلیاں کیں، پھر میں گھر سے نکلا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملا اور انہیں ان چیزوں سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا: جو کام تم بیان کرتے ہو، یہ تو میں بھی کر چکا ہوں۔ سو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حنظلہ منافق ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باز رہو، ایسی بات مت کرو۔“ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ سنایا، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی اس جیسے کام کر چکا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حنظلہ! وقتاً فوقتاً کسی کسی گھڑی، اگر تمہارے دل اس طرح رہیں، جیسے ذکر کے وقت ہوتے ہیں تو فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں، حتیٰ کہ تمہیں راستے میں سلام کہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6967]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2750
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2750 ترقیم شاملہ: -- 6968
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ التَّمِيمِيِّ الْأُسَيِّدِيِّ الْكَاتِبِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَّرَنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا.
سفیان نے سعید جریری سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے حضرت حنظلہ تمیمی اسیدی کاتب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے۔۔ پھر ان دونوں (جعفر بن سلیمان اور عبدالوارث بن سعید) کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6968]
حضرت حنظلہ تمیمی اسیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جو آپ کے کاتب تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ نے ہمیں جنت اور دوزخ یاد دلائی، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6968]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2750
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب فِي سَعَةِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ:
باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2751 ترقیم شاملہ: -- 6969
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ، فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي ".
مغیرہ حزامی نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنی کتاب میں لکھ دیا اور وہ (کتاب) عرش کے اوپر اس کے پاس ہے: «ان رحمتی تغلب غضبی» یقیناً میری رحمت میرے غضب پر غالب ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6969]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا، اپنے نوشتہ میں لکھا، جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے: میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6969]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2751 ترقیم شاملہ: -- 6970
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي ".
سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: «رحمتی سبقت غضبی» میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6970]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: ”اللہ عزوجل کا فرمان ہے: میری رحمت میرے غضب سے پہلے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6970]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2751 ترقیم شاملہ: -- 6971
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ عَلَى نَفْسِهِ، فَهُوَ مَوْضُوعٌ عِنْدَهُ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي ".
عطاء بن مینا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کے بارے میں فیصلہ فرما لیا تو اس نے اپنی کتاب میں اپنے اوپر لازم کرتے ہوئے لکھ دیا، وہ اس کے پاس رکھی ہوئی ہے: «ان رحمتی تغلب غضبی» یقیناً میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6971]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا، اپنے نوشتہ میں اپنے اوپر لازم قرار دیا، جو اس کے پاس رکھا ہوا ہے: ”میری رحمت، میرے غضب پر غالب ہو گی۔““ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6971]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة