صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب غَيْرَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ:
باب: اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان اور بےحیائی کے کاموں کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2760 ترقیم شاملہ: -- 6992
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ ".
عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے، اسی لیے اس نے بے حیائی کے تمام کام، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، حرام کر دیے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے جسے مدح زیادہ پسند ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6992]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی باغیرت نہیں ہے، اس لیے اس نے ظاہر اور چھپی بے حیائیوں کو حرام قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6992]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2760
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2760 ترقیم شاملہ: -- 6993
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: قُلْتُ لَهُ: آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟، قَالَ: نَعَمْ وَرَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ: " لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ ".
عمرو بن مرہ نے کہا: میں نے ابووائل کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، وہ کہتے تھے۔۔ (عمرو بن مرہ نے) کہا: میں نے ان (ابووائل) سے کہا: کیا آپ نے خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اور انہوں نے اسے مرفوعاً بیان کیا:۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں، اسی لیے اس نے تمام کھلی اور پوشیدہ فواحش (بے حیائی کی باتیں) حرام کر دیں اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو مدح پسند نہیں (کیونکہ حقیقت میں وہی مدح کا حقدار ہے)، اسی لیے اس نے اپنی مدح فرمائی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6993]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیور نہیں ہے، اس لیے اس نے کھلی اور چھپی بے حیائیوں کو حرام قرار دیا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند ہے، اسی لیے اس نے اپنی تعریف خود فرمائی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6993]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2760
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2760 ترقیم شاملہ: -- 6994
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ، وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ، وَلَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَنْزَلَ الْكِتَابَ وَأَرْسَلَ الرُّسُلَ ".
عبدالرحمان بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر مدح پسند ہو، اسی بنا پر اس نے اپنی مدح فرمائی اور کوئی نہیں جو اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہو، اسی بنا پر اس نے تمام فواحش حرام کر دیں اور کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر (بندوں کا اس سے) معذرت کرنا پسند ہو، اسی بنا پر اس نے کتاب نازل فرمائی اور پیغمبروں کو بھیجا۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6994]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عز وجل سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں ہے، اس وجہ سے اس نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے، اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیور نہیں ہے، اس بنا پر اس نے بے حیائیوں کو حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی کو عذر قبول کرنا یا عذر و بہانہ ختم کرنا پسند نہیں ہے، اس خاطر اس نے کتابیں اتاری ہیں اور رسول بھیجے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6994]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2760
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2761 ترقیم شاملہ: -- 6995
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ ".
حجاج بن ابی عثمان نے کہا: یحییٰ (بن ابی کثیر) نے کہا: مجھے ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ غیرت فرماتا ہے اور بے شک مومن بھی غیرت کرتا ہے۔ اللہ کی غیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ مومن ایسے کام کا ارتکاب کرے جو اس نے اس پر حرام کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6995]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ غیرت کھاتا ہے اور مومن بھی غیرت کھاتا ہے اور اللہ اس سے غیرت کھاتا ہے کہ اس کا مومن بندہ حرام کردہ امور کا ارتکاب کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6995]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2761
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2762 ترقیم شاملہ: -- 6996
(حديث مرفوع) قَالَ يَحْيَى ، وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "،
یحییٰ نے کہا: مجھے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی نہیں جو اللہ عزوجل سے زیادہ غیرت مند ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6996]
حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ باغیرت کوئی چیز نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6996]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2762
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2761 ترقیم شاملہ: -- 6997
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ رِوَايَةِ حَجَّاجٍ، حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ خَاصَّةً، وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ أَسْمَاءَ.
ابان بن یزید اور حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حجاج کی روایت کے مانند صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6997]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، پھر حدیث نمبر 36 بیان کی، اس کے ساتھ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی روایت بیان نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6997]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2761
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2762 ترقیم شاملہ: -- 6998
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَسْمَاءَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا شَيْءَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6998]
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل سے زیادہ غیور کوئی چیز نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6998]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2762
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2761 ترقیم شاملہ: -- 6999
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا "،
عبدالعزیز بن محمد نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد (عبدالرحمان) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن (دوسرے) مومن کے لیے غیرت کرتا ہے (کہ اس کی حرمت پامال نہ کی جائے) اور اللہ تعالیٰ تو غیرت میں اس سے بڑھ کر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6999]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن غیرت کھاتا ہے اور اللہ کی غیرت بہت شدید ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6999]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2761
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2761 ترقیم شاملہ: -- 7000
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
شعبہ نے کہا: میں نے علاء کو اسی سند کے ساتھ (یہی حدیث بیان کرتے ہوئے) سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 7000]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 7000]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2761
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ}:
باب: اللہ تعالی کا فرمان: ”نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں“۔
ترقیم عبدالباقی: 2763 ترقیم شاملہ: -- 7001
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ كلاهما، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: " فَنَزَلَتْ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 "، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي "،
یزید نے کہا: ہمیں تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے ایک عورت کو بوسہ دیا، (پھر) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعے کا ذکر کیا، تب (یہ آیت) نازل ہوئی: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ» ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم رکھو، بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ یاد دہانی ہے یاد رکھنے والوں کے لیے۔“ اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ (بشارت) صرف میرے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے جو بھی (گناہوں سے پاک ہونے کے لیے) اس پر عمل کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 7001]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کا بوسہ لیا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے سامنے اس کا ذکر کیا، اس پر یہ آیت اتری: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے دونوں کناروں اور رات کی گھڑیوں میں نماز قائم کیجیے، بلا شبہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں، یہ یاد رکھنے والوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے۔“ تو اس آدمی نے پوچھا: کیا یہ میرے لیے ہے؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا جو فرد بھی اس پر عمل کرے، اس کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 7001]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2763
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة