صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب فِي سَعَةِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ:
باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2619 ترقیم شاملہ: -- 6982
قَالَ الزُّهْرِيُّ، وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: ذَلِكَ لِئَلَّا يَتَّكِلَ رَجُلٌ وَلَا يَيْأَسَ رَجُلٌ،
زہری نے کہا: اور حمید نے مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت بلی کے معاملے میں جہنم میں ڈال دی گئی جسے اس نے باندھ رکھا تھا۔ اس نے نہ اس کو کھلایا، نہ اسے چھوڑا کہ زمین کے چھوٹے چھوٹے جانور کھا لیتی، وہ لاغر ہو کر مر گئی۔“ زہری نے کہا: یہ اس لیے (فرمایا گیا) ہے کہ کوئی شخص نہ صرف (رحمت پر) بھروسہ کر لے اور نہ صرف مایوسی ہی کو اپنا لے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6982]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عورت بلی کو باندھے رکھنے کے باعث آگ میں گئی، نہ تو اسے کھلایا اور نہ ہی اس نے اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی کہ وہ کمزوری سے مر گئی۔“ زہری رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ دو حدیثیں اس لیے سنائی ہیں تاکہ نہ تو کوئی انسان اللہ کی رحمت پر اعتماد کر کے گناہوں سے بے پروا ہو اور نہ ہی گناہوں کے سبب اللہ کی رحمت سے ناامید ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6982]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2619
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2756 ترقیم شاملہ: -- 6983
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَى نَفْسِهِ، بِنَحْوِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ إِلَى قَوْلِهِ: فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ الْمَرْأَةِ فِي قِصَّةِ الْهِرَّةِ، وَفِي حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِكُلِّ شَيْءٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا أَدِّ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ.
زبیدی نے مجھے حدیث سنائی کہ زہری نے کہا: مجھے حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ایک بندے نے اپنے آپ پر ہر طرح کی زیادتی کی۔“ (آگے) معمر کی حدیث کی طرح ہے، اس قول تک: ”پس اللہ نے اسے بخش دیا۔“ اور انہوں نے بلی کے واقعے (کے بارے) میں عورت والی حدیث کا ذکر نہیں کیا۔ اور زبیدی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہر شے سے، جس نے اس (جلائے جانے والے شخص) کی کوئی بھی چیز لی تھی، فرمایا: اس کا جو حصہ تیرے پاس ہے پورا واپس کر۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6983]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایک بندے نے اپنے نفس پر زیادتی کی،“ آگے مذکورہ بالا پہلی حدیث ہے، بلی والا واقعہ بیان نہیں کیا اور زبیدی کی حدیث میں ہے، اللہ عزوجل نے ہر اس چیز کو جس نے اس کا کوئی ذرہ بھی لیا تھا، کہا: ”اس سے جو کچھ تو نے لیا ہے، اس کو ادا کر۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6983]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2756
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2757 ترقیم شاملہ: -- 6984
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ رَجُلًا فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَاشَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا، فَقَالَ لِوَلَدِهِ: لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ أَوْ لَأُوَلِّيَنَّ مِيرَاثِي غَيْرَكُمْ إِذَا أَنَا مُتُّ، فَأَحْرِقُونِي وَأَكْثَرُ عِلْمِي، أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ اسْحَقُونِي وَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ، فَإِنِّي لَمْ أَبْتَهِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، وَإِنَّ اللَّهَ يَقْدِرُ عَلَيَّ أَنْ يُعَذِّبَنِي، قَالَ: فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا، فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ وَرَبِّي، فَقَالَ اللَّهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟، فَقَالَ مَخَافَتُكَ، قَالَ: فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا "،
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے: ”تم سے پہلے کے لوگوں میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا۔ اس نے اپنے بچوں سے کہا: ہر صورت وہی کچھ کرو گے جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں، یا میں اپنا ورثہ دوسروں کے سپرد کر دوں گا، جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دو۔۔ اور مجھے زیادہ یہ لگتا ہے کہ قتادہ نے کہا۔۔ پھر مجھے کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دو، پھر مجھے ہوا میں اڑا دو کیونکہ میں نے اللہ کے ہاں کوئی اچھائی ذخیرہ نہیں کی۔ اللہ مجھ پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ مجھے عذاب دے۔ کہا: اس نے ان (اپنی اولاد) سے پختہ عہد و پیمان لیا، تو میرے رب کی قسم! انہوں نے اس کے ساتھ وہی کیا (جو اس نے کہا تھا۔) اللہ تعالیٰ نے پوچھا: تم نے جو کچھ کیا اس پر تمہیں کس نے اکسایا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے۔ فرمایا: پھر اسے اس کے سوا (جو وہ بھگت چکا تھا، یعنی لاش کا جلنا اور اللہ کے سامنے پیشی وغیرہ) اور کوئی عذاب نہ ہوا۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6984]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا، چنانچہ اس نے اپنی اولاد سے کہا: جو میں تمھیں حکم دینے والا ہوں، لازماً تم اس پر عمل پیرا ہو گے یا میں اپنی وراثت تمھارے سوا کسی اور کو دے دوں گا، جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا۔ راوی کہتا ہے: میرا ظنِ غالب یہی ہے کہ اس نے کہا: پھر مجھے پیس ڈالنا اور مجھے ہوا میں اڑا دینا، کیونکہ میں نے اللہ کے ہاں کوئی نیکی نہیں بھیجی، ذخیرہ نہیں کی، کیونکہ اللہ مجھے عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے (اگر مجھے اسی حالت میں دفن کر دیا گیا)۔ چنانچہ اس نے ان سے پختہ عہد لیا، سو انھوں نے اس کے ساتھ یہی سلوک کیا، میرے رب کی قسم! تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا: جو کام تو نے کیا ہے، اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے۔ تو اسے اس خوف کے سوا کسی اور چیز نے نہیں بچایا (یعنی اس کے برے عملوں کا تدارک و ازالہ خوفِ الٰہی نے کیا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6984]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2757
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2757 ترقیم شاملہ: -- 6985
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ذَكَرُوا جَمِيعًا بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ، وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ، وَأَبِي عَوَانَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا، وَفِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ، فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، قَالَ: فَسَّرَهَا قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا، وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، مَا امْتَأَرَ بِالْمِيمِ.
سلیمان، شیبان بن عبدالرحمان اور ابوعوانہ سب نے قتادہ سے شعبہ کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ شیبان اور ابوعوانہ کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے بہت مال اور اولاد سے نوازا۔“ اور تمیمی کی حدیث میں ہے: ”اس نے اللہ کے پاس کوئی اچھائی جمع نہ کرائی۔“ کہا کہ قتادہ نے اس کی یہ تشریح کی: اس نے اللہ کے پاس کوئی اچھائی ذخیرہ نہ کی۔ اور شیبان کی حدیث میں ہے: ”بے شک اس نے، اللہ کی قسم! اللہ کے ہاں کوئی نیکی محفوظ نہ کرائی۔“ اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے: ”اس نے کچھ جمع نہ کیا۔“ امتار میم کے ساتھ (یہ سب بولنے میں بھی ملتے جلتے الفاظ ہیں اور معنی میں بھی۔) [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6985]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، شیبان اور ابو عوانہ کی روایت ہے: ”لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ نے بہت مال اور اولاد دی۔“ اور تیمی کی حدیث ہے: ”کیونکہ اس نے اللہ کے ہاں کوئی نیکی ذخیرہ نہیں کی۔“ قتادہ نے «لَمْ يَبْتَئِرْ» کی تفسیر «لَمْ يَدَّخِرْ» کی ہے یعنی جمع نہیں کیا، اور شیبان کی حدیث ہے: ”کیونکہ اس نے اللہ کی قسم! اللہ کے ہاں کوئی نیکی جمع نہیں کی۔“ اور ابو عوانہ کی روایت میں «مَا ابْتَأَرَ» کی جگہ «وَمَا امْتَأَرَ» ہے، یعنی باقی جگہ میم ہے، معنی ہر صورت میں ایک ہی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6985]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2757
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
5. باب قَبُولِ التَّوْبَةِ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ تَكَرَّرَتِ الذُّنُوبُ وَالتَّوْبَةُ:
باب: گناہوں کی توبہ کا قبول ہونا خواہ گناہ اور توبہ بار بار ہوں۔
ترقیم عبدالباقی: 2758 ترقیم شاملہ: -- 6986
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: " أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ، فَأَذْنَبَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ، ثُمَّ عَادَ، فَأَذْنَبَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ، قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: لَا أَدْرِي، أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ "،
عبدالاعلیٰ بن حماد نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے حدیث سنائی، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی عمرہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”ایک بندے نے گناہ کیا، اس نے کہا: «اللہم اغفر لی ذنبی» اے اللہ! میرا گناہ بخش دے، تو (اللہ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے، اس کو پتہ ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، اس بندے نے پھر گناہ کیا تو کہا: «رب اغفر لی ذنبی» میرے رب! میرا گناہ بخش دے، تو (اللہ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ ہے، اس نے گناہ کیا ہے تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور (چاہے تو) گناہ پر پکڑتا ہے۔ اس بندے نے پھر سے وہی کیا، گناہ کیا اور کہا: «رب اغفر لی ذنبی» میرے رب! میرے لیے میرا گناہ بخش دے، تو (اللہ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور (چاہے تو) گناہ پر پکڑ لیتا ہے، (میرے بندے! اب تو) جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا ہے۔“ عبدالاعلیٰ نے کہا: مجھے (پوری طرح) معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا یا چوتھی بار: ”جو چاہے کر۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6986]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”ایک بندے نے گناہ کیا، پھر کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي» ”اے اللہ! میرا گناہ بخش دے“ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا ہے اور اسے پتہ ہے، اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور گناہ پر پکڑ کرتا ہے“، پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا، چنانچہ کہا: «أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي» ”اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا ہے اور اسے علم ہے، اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے“، پھر اس نے سہ بارہ گناہ کیا اور عرض کیا: «أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي» ”اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے“ سو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا ہے اور اس نے جان لیا ہے، اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے، اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے، «اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ» ”جو چاہے عمل کر، (معافی مانگ) میں نے تجھے معافی دے دی“۔“ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں ہے، آپ نے تیسری دفعہ کہا، یا چوتھی دفعہ: ”جو چاہے عمل کر“۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2758
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2758 ترقیم شاملہ: -- 6987
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُرَشِيُّ الْقُشَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ،
محمد بن زنجویہ قشیری نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6987]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6987]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2758
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2758 ترقیم شاملہ: -- 6988
حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ عَبْدًا أَذْنَبَ ذَنْبًا بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَذْنَبَ ذَنْبًا وَفِي الثَّالِثَةِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ.
ہمام نے کہا: ہمیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مدینہ میں ایک واعظ تھا جسے عبدالرحمان بن ابی عمرہ کہا جاتا تھا، میں نے اسے کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً ایک بندے نے گناہ کیا“ (آگے) حماد بن سلمہ کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور اس نے ”گناہ کیا“ (کے الفاظ) تین بار کہے اور تیسری دفعہ کے بعد کہا: ”میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، لہٰذا جو چاہے کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6988]
ایک واعظ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ایک بندے نے ایک گناہ کیا“ مذکورہ بالا حدیث بیان کی، تین دفعہ ذکر کیا، ”اس نے ایک گناہ کیا اور تیسری بار کہا: میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، جو چاہے عمل کرے (بخش طلب کرتا رہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6988]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2758
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2759 ترقیم شاملہ: -- 6989
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا "،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوعبید کو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل رات کو اپنا دست (رحمت بندوں کی طرف) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست (رحمت) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے (اور وہ اس وقت تک یہی کرتا رہے گا) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6989]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عز وجل رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا لوٹ آئے اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا رجوع کر لے، حتی کہ سورج مغرب سے طلوع ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6989]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2759
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2759 ترقیم شاملہ: -- 6990
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابوداود نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6990]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6990]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2759
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
6. باب غَيْرَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ:
باب: اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان اور بےحیائی کے کاموں کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 2760 ترقیم شاملہ: -- 6991
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ، وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل (شقیق) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں جسے مدح (اس کی رحمت و عنایت کا اقرار اور اس پر اس کی تعریف) پسند ہو، اسی لیے اس نے خود اپنی مدح فرمائی ہے اور کوئی نہیں جو اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہو، اسی لیے اس نے بے حیائی کے تمام کام، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، حرام کر دیے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6991]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی کو تعریف پسندیدہ نہیں ہے، اسی وجہ سے اس نے خود اپنی تعریف کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی باغیرت نہیں ہے۔ اسی وجہ سے اس نے بے حیائیوں سے روکا ہے، ان کو حرام قرار دیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6991]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2760
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة