🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ جَامِعِ فِيمَا تُصَانُ عِنْدَ الْمَسَاجِدِ
تمام ان چیزوں کا بیان جس سے مساجد کو محفوظ رکھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
عَنِ الْخَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْقَمْلَةَ فِي ثَوْبِهِ فَلْيَصُرَّهَا وَلَا يُلْقِهَا فِي الْمَسْجِدِ) )
حضرمی بن لاحق ایک انصاری آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے کپڑے میں جوں محسوس کرے تو وہ اسے دبا لے اور مسجد میں نہ پھینکے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1366]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، الا ان الحضرمي لا يروي الا عن التابعين، ولم يثبت له لقاء أحد من الصحابة، فان كان الرجل الانصاري صحابيا، فھو منقطع، والا فھو مرسل۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 368، والبيھقي: 2/ 294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23881»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1367
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ كُرْزٍ عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ: وَجَدَ رَجُلٌ فِي ثَوْبِهِ قَمْلَةً فَأَخَذَهَا لِيَطْرَحَهَا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَفْعَلْ، اِرْدُدْهَا فِي ثَوْبِكَ حَتَّى تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ) )
طلحہ بن عبید اللہ بن کرز، مکہ مکرمہ کے ایک قریشی شیخ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے کپڑے میں ایک جوں محسوس کی اور وہ اسے مسجد میں پھینکنے لگا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ایسا نہ کر، مسجد سے نکلنے تک اسے اپنے کپڑے میں ہی رکھ۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1367]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن اسحاق مدلس وقد عنعن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23558)۔ لكن في الباب عن الحضرمي بن لاحق عن رجل من الانصار، ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم قال: ((اذا وجد احدكم القَمْلة في ثوبه، فليَصُرَّھا ولا يلقِھا في المسجد۔)) أخرجه احمد: 23485، وابن ابي شيبة: 2/ 368، والبيھقي: 2/ 294 ورجاله ثقات، الا ان الحضرمي بن لاحق لا يروي الا عن التابعين، ولم يثبت له لقاء احد من الصحابة، فان كان الرجل الانصاري صحابيا، فھو منقطع، والا فھو مرسل۔ (انظر المسند: 23485)۔ وھذا الحديثيشھد للحديث الاول ان شاء الله تعالي۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23954»
وضاحت: فوائد: … احادیث مبارکہ کا متن ہی مسئلہ سمجھانے کے لیے کافی ہے، لوگوں کو مساجد کے ساتھ اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1368
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَأَصْحَابُهُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: مَهْ مَهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ) ) ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: ( (إِنَّ هَٰذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنَ الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ وَالْخَلَاءِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا هِيَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ) ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: ( (قُمْ فَأْتِنَا بِدَلْوِ مِنْ مَاءٍ فَشُنَّهُ عَلَيْهِ) ) فَأَتَاهُ بِدَلْوِ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، اس وقت ایک بدو آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ آپ کے صحابہ کہنے لگے: ٹھہر جا ٹھہرجا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو، اسے چھوڑ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: یہ مساجد گندگی، پیشاب اور پائخانہ میں سے کسی چیز کے لیے درست نہیں،یہ تو صرف نماز، اللہ کے ذکر اور تلاوت ِ قرآن کے لیے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمایا: اٹھ اور پانی کا ایک ڈول لا کر اس پر بہا دے۔ پس اس نے پانی کا ڈول لا کر اس پر ڈال دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1368]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 285، وأخرجه البخاري: 219 ومسلم: 284 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13015»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منفی اور مثبت اندازمیں مساجد کے آداب و مقاصد کی وضاحت کر دی ہے۔ یہ حدیث کئی اسباق و احکام پر مشتمل ہے: جاہل لوگوں کے ساتھ معاملہ بالعموم اور بالخصوص دین کی تعلیم میں ہمدردی کا ہونا چاہیے۔ مبلغ اور خطیب لوگوں کے لیے اس حدیث میں بہت بڑا سبق بیان کیا گیا ہے، انھیں سمجھنا چاہیے کہ شریعت کا مقصود یہ ہے کہ مجرم کی اصلاح ہو جائے، موقع پر یہ فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ فلاں شخص کے لیے نرم رویہ مفید رہے گا یا سخت رویہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکمت و دانائی اور رأفت و شفقت سے متصف تھے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیدانائی تھی کہ مسجد میں پیشاب کرنے والے بدّو کو دورانِ پیشاب اٹھایا جائے نہ اسے جھڑکا جائے، بصورتِ دیگر بڑی خرابی کا امکان پیدا ہو سکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس کردار سے معلوم ہوا کہ ضروری نہیں کہ برائی کو روکنے کے لیے غیظ و غضب اور ڈانٹ ڈپٹ کا ماحول ہی پیدا کر دیاجائے، بلکہ حالات و واقعات کو دیکھ کر مصلِح کوئی نرم یا سخت رویہ اختیار کر سکتا ہے، بہرحال اقدام جو بھی ہو، نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔ اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ بڑے فساد سے بچنے کے لیے چھوٹے فساد کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کی تفصیلیہ ہے کہ مسجد میں پیشاب کرنا واضح طور پر فساد ہے، لیکن ایسا کرنے والے کو فوراً اس کے کیے سے روکنا بڑی خرابی ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ پیشاب روکنے کی وجہ سے اسے تکلیف ہو یا وہ اس چیز کو محسوس کر کے ایمان سے دور ہو جائے یا اس کا پیشاب نکلتا رہنے کی وجہ سے مسجد کا مزید حصہ متاثر ہو جائے۔ نتیجتاً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوٹے فساد کی پروا نہ کی۔ ایک فقہی اصطلاح اَخَفُّ الْمَفْسَدَتَیْن (دو فسادوں میں سے ہلکا فساد) کا یہی معنی و مفہوم ہے۔
مسجدکو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں:
۱۔ نجاست پر پانی بہا دینا: اس طریقے سے اول تو نجاست کے اثرات زمین میں جذب ہو جائیں گے، اگر بچ گئے تو ہوا، سورج کی روشنی، لوگوں کے چلنے پھرنے اور مٹی کی ذاتی صلاحیت کی وجہ سے ختم ہو جائیں گے۔ بہرحال یہ ایک شرعی رخصت ہے، جسے بلا چون و چرا قبول کیا جانا چاہیے۔
۲۔ زمین کا خشک ہو جانا اور نجاست کے اثرات ختم ہو جانا: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نوجوان آدمی تھا، لیکن ابھی تک میری شادی نہیں ہوئی تھی، میں دیکھتا تھا کہ کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب بھی کر دیتے تھے، مگر وہ (صحابہ) اس پر کوئی پانی نہ چھڑکتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۱۷۴، ابو داود: ۳۸۲، واللفظ لہ، امام ابوداود نے اس حدیث پر ((فی طھور الارض اذا یبست۔)) جب زمیں خشک ہو جائے تو اس کے پاک ہونے کا بیان کا باب ثبت کیا ہے۔)
شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے کہا: اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اگر زمین پر پڑنے والی نجاست سورج کی روشنییا ہوا کی وجہ سے خشک ہو جائے اور اس کے اثرات ختم ہو جائیں تو اسے پاک سمجھا جائے گا، پانی نہ چھڑکنے کا یہی مفہوم ہو سکتا ہے۔ (عون المعبود: ۱ / ۲۱۷) جس حدیث میں زمین کے متاثرہ حصے کی مٹی کو اٹھا لینے کا ذکر ہے، وہ انقطاع و ارسال کی وجہ سے متکلم فیہ ہے، جیسا کہ نصب الرایۃ: ۱/ ۲۱۲ میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر مٹی کو اٹھا لینا ہی کافی ہوتا تو اس پر پانی بہانا بے سود ہوتا۔ واللہ اعلم بالصواب

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 285
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا يُبَاحُ قُعُودٌ فِي الْمَسَاجِدِ
مساجد میں جو کام کرنے جائز ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1369
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ نَقِيلُ فِيهِ وَنَحْنُ شَبَابٌ
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہم مسجد میں سوتے تھے، قیلولہ کر لیا کرتے تھے، حالانکہ ہم نوجوان تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1369]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 440، ومسلم: 2479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4607»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 440
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1370
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: مَا كَانَ لِي مَبِيتٌ وَلَا مَأْوَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ
دوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں میرے لیے مسجد کے علاوہ نہ کوئی رات گزارنے کی جگہ ہوتی تھی اور نہ کوئی اور پناہ گاہ۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1370]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح و ھذا اسناد ضعيف۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5839»
وضاحت: فوائد: … پہلے بھی فوائد و متون میں اس قسم کی احادیث گزر چکی ہے، ثابت ہوا کہ مسجد میں سونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اعتکاف کرنے والوں کا معاملہ بھی اس حوالے سے واضح ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح و ھذا اسناد ضعيف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1371
عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَاسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى ظَهْرِهِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى
عباد بن تمیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر مسجد میں پیٹھ کے بل چت لیٹے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1371]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 475، ومسلم: 2100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16558»
وضاحت: فوائد: … مسجد میں لیٹنا تو واضح طور پر معلوم ہور ہا ہے۔ نیز درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا اسْتَلْقٰی أَحَدُکُمْ عَلٰی ظَھْرِہِ فَـلَایَضَعْ إِحْدٰی رِجْلَیْہِ عَلٰی الْأُخْرٰی۔)) یعنی: جب آدمی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہوا ہو تو ایک ٹانگ کو دوسری پر نہ رکھے۔ (ترمذي: ۲/۱۲۷، صحیحہ: ۱۲۵۵واخرجہ مسلم: ۶/ ۱۵۴بلفظ: لایستلقین احدکم، ثم یضع احدی رجلیہ علی الاخری)
بظاہر ان دو احادیث میں تعارض نظر آ رہا ہے، لیکن حقیقت میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ نہی والی حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس کو ستر کھلنے اور بے پردہ ہونے کا خطرہ ہو، اگر پردے کا مکمل اہتمام کیا ہوا ہو تو پھر اس طرح لیٹنے اور ٹانگ پر ٹانگ رکھنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسجد میں چت لیٹے ہوئے تھے اورایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 475
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1372
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ يُخْبِرُنِي عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فِي الْمَسْجِدِ، قُلْتُ لِابْنِ لَهِيعَةَ: فِي مَسْجِدِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: لَا، فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں سینگی لگوائی۔ روای کہتے ہیں: میں نے ابن لہیعہ سے پوچھا: اپنے گھر کی مسجد میں؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ مسجد نبوی میں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1372]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن بلفظ: احتجر دون احتجم وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة۔ أخرجه البخاري: 731، 7290، ومسلم: 781 مطولا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21582، 21608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21944»
وضاحت: فوائد: … صحیح روایت کے مطابق اس حدیث کا معنییہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں حجرہ لگایا تھا، مسجد میں سینگی لگوانے والییہ روایت صحیح نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1373
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (دَعْهُمْ يَا عُمَرُ، فَإِنَّهُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور حبشی لوگ کھیل رہے تھے، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ بنو ارفدہ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1373]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2901، ومسلم: 893، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8080، 10967)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10980»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی (صحیح بخاری: ۹۵۰)کی روایت کے مطابق یہ عید کا دن تھا اور عید کے دن کھیلنا ویسے بھی جائز ہے، جب تک کوئی کھیل کسی حرام کام پر مشتمل نہ ہو۔ رہا مسئلہ حبشی لوگوں کا تو ان کا کھیلنا محض کھیل نہیں تھا، بلکہ وہ جنگی آلات کے ذریعے جنگی مہارت کا اظہار کر رہے تھے، جو کہ مطلوب ِ شریعت ہے۔ بنوارفدہ، حبشی لوگوں کا لقب تھا یا ان کے نسب میںکسی باپ کا نام ارفدہ تھا، جس کی طرف ان کو منسوب کیا جاتا تھا، یہ لوگ عید کے روز دوسرے صحابہ کی بہ نسبت کھیل کود کا زیادہ شوق رکھتے تھے۔ مسجد کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی زجرو توبیخ کی، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کہ مسجد میں اس قسم کے امور جائز ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مہلب کہتے ہیں: جماعۃ المسلمین کے معاملات مسجد کے ساتھ معلق ہیں، اس لیے جن امور کا تعلق دین اور اہل دین کی منفعت سے ہو، نہ کہ فردِ واحد کی ذات سے، ان کا مسجد میں سرانجام دینا جائز ہے۔ (فتح الباری: ا/ ۷۲۱)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2901
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1374
عَنْ سَعِيدِ (بْنِ الْمُسَيَّبِ) قَالَ: مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يَنْشُدُ (وَفِي رِوَايَةٍ وَهُوَ يَنْشُدُ الشِّعْرَ) فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَالَ: فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَنْشُدُ الشِّعْرَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَنْشُدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ) ) ؟ قَالَ: نَعَمْ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَالَ فَانْصَرَفَ عُمَرُ وَهُوَ يَعْرِفُ أَنَّهُ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)
سعید بن مسیّب کہتے ہیں: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیّدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا اور وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف غصے کی نظر سے دیکھا اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں شعر پڑھ رہے ہو؟ آگے سے سیّدناحسان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ سے بہتر ہستی کی موجودگی میں میں شعر پڑھاکرتا تھا، پھر وہ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: (حسان!) میری طرف سے جواب دے۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی تائید فرما۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ (یہ سن کر)سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے اور سمجھ گئے کہ حسان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1374]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3212، ومسلم: 2485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22284»
وضاحت: فوائد: … بَابٌ جَامِعٌ فِیْمَا تُصَانُ عَنْہُ الْمَسَاجِدُ مین یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ مسجد میں اچھے اشعار پڑھنا درست ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3212
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ مَسَاجِدَ لِلتَّبَرُّكِ وَالتَّعْظِيمِ
تبرک و تعظیم کے لیے انبیاء وصالحین کی قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1375
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَتَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ رَفَعْنَاهَا عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: ( (لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) ) تَقُولُ عَائِشَةُ: يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا
سیّدناعبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات کے قریب ہوئے تو آپ اپنے چہرے پر چادر ڈالتے، جس وقت آپ کو گُھٹن محسوس ہوتی تو ہم چادر اٹھا دیتے تھے،اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (دراصل) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو ان جیسا کام کرنے سے ڈرا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1375]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 435، 3453، ومسلم: 531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1884)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1884»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 435
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں