الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي الْمَسَاجِدِ وَالسَّعْيِ إِلَيْهَا وَفَضْلِ أَهْلِ الدُّوْرِ الْقَرِيبَةِ مِنْهَا
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1326
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا، الْمَلَائِكَةُ جُلَسَاءُهُمْ إِنْ غَابُوا يَفْتَقِدُونَهُمْ، وَإِنْ مَرِضُوا عَادُوهُمْ، وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ) ) وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (جَلِيسُ الْمَسْجِدِ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، أَخٌ مُسْتَفَادٌ أَوْ كَلِمَةٌ مُحْكَمَةٌ أَوْ رَحْمَةٌ مُنْتَظَرَةٌ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ میخوں کی طرح مسجدوں میں بیٹھے رہتے ہیں، ان کے ہم مجلس فرشتے ہوتے ہیں، اگر وہ غائب ہو جائیں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو وہ ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں اگر وہ کسی کام میں مصروف ہوں تو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں بیٹھنے والا تین خصلتوں پر ہوتا ہے: ایسا بھائی جس سے فائدہ حاصل ہو، یا کوئی محکم بات یا ایسی رحمت جس کا انتظار ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1326]
تخریج الحدیث: «اسنادھما ضعيف، ابن لھيعة سيء الحفظ، امام الباني رحمته الله عليه نے اس حديث كو (صحيحه: 3401) ميں ذكر كيا اور كها: جن لوگوں نے اس حديث كو عبد الله بن لهيعه كي وجه سے ضعيف قرار ديا، ان كے ذهن ميںيه نكته نه آسكا كه اس مقام پر اس سے روايت كرنے والے قتيبه بن سعيد مصري هيں اور ان كي روايت عبادله كي طرح صحيح هوتي هے، اور اس حديث كا ايك شاهد بھي سيّدنا عبد الله بن سلام رضي الله عنه سے موقوفا مروي هے، جو كه مرفوع كے حكم ميں هے اور اس ميں ((جَلِيْسُ الْمَسْجِدِ)) كے الفاظ نهيں هيں۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9414»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کی وجہ یہ ہے کہ مسجد اسلامی بھائیوں کی گزرگاہ ہوتی ہے اور شرعی علوم کے ذکر اور رحمت کے نزول کا محل ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص مسجد میں بیٹھنے کا التزام کرتا ہے، تو وہاں سے گزرنے والے اس سے مستفید ہوتے ہیں، پھر تعلیم و تعلّم اور افتاء و استفتاء کے بہانے حکمت بھری باتیں ہوتی ہیں۔ نوری مخلوق بھی خاکی مخلوق کی خادم بن سکتی ہے، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ سے لو لگا لی جائے۔ اس سے بڑھ کر کیا کہا جائے کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، مومنوں کی سجدہ گاہ ہے، وہ کتنی مبارک و مقدس جگہ ہو گی، جہاں برس ہا برس سے اللہ تعالیٰ کی تہلیلات، تسبیحات، تحمیدات اور تکبیرات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جہاں سالہا سال سے اس کے کلام پاک کی کثرت سے تلاوتیں کی جا رہی ہیں، شیطانوں سے بچنے کے لیے مضبوط قلعہ مسجد ہے۔ جو مسجد سے محبت کرے گا، جو مسجد کو آباد کرنے میں حصہ ڈالے گا، جس کو وہاں سکون نصیب ہو گا، وہ کتنا سعادت مند اور خوش نصیب ہو گا۔
لیکن صد افسوس! امت ِ مسلمہ کی کثرت اس منصب سے کوسوں دور ہے اورنمازیوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ دو چار چار روپے جمع کر کے روایتی ڈیوٹی سر انجام دینے والے بطورِ ملازم ایک امام اور ایک خادم کا اہتمام کر لیا جائے، مسجد کے تقاضے پورے ہو جائیں۔ ایسا کرنے کے بعد کسی نمازی مین یہ رغبت نہیں رہتی کہ وہ مسجد میں جھاڑو پھیر دے، پہلے پہنچ کر اذان دے دے، نمازیوں کے لیے صفیں بچھا دے، وضو کے لیے پانی بھر دے …
اس کے خام دماغ نے فیصلہ کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ ماہوار پچاس روپے مسجد فنڈ دینے سے وہ بریء الذمہ ہو گیا ہے۔ قارئین کرام! اپنی روز مرہ مصروفیات کا جائزہ لیں اور منصبِ انسانیت اور منصبِ مومنیت کی روشنی میں اپنی حرکات و سکنات کو پرکھیں۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((سَبْعَۃٌیُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ … وَرَجُلٌقَلْبُہٗمُعَلَّقٌبِالْمَسْجِدِاِذَاخَرَجَمِنْہُحَتّٰییَعُوْدَ اِلَیْہِ …۔)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یعنی: اللہ تعالیٰ سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: (ان میں سے ایک قسم یہ ہے:) وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو اس کا دل مسجد کے ساتھ ہی معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ واپس مسجد میں آ جائے۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے گھروں میں نفلی نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا اہتمام کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے گھروں کے بھی کچھ تقاضے ہیں، جب ہم کسی قریبی رشتہ دار کے گھر جانے میں تاخیر کرتے ہیں تو وہ مخصوص انداز میں شکوہ کرتا ہے، شاید اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی ہم سے شکوہ کناں ہوں۔
لیکن صد افسوس! امت ِ مسلمہ کی کثرت اس منصب سے کوسوں دور ہے اورنمازیوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ دو چار چار روپے جمع کر کے روایتی ڈیوٹی سر انجام دینے والے بطورِ ملازم ایک امام اور ایک خادم کا اہتمام کر لیا جائے، مسجد کے تقاضے پورے ہو جائیں۔ ایسا کرنے کے بعد کسی نمازی مین یہ رغبت نہیں رہتی کہ وہ مسجد میں جھاڑو پھیر دے، پہلے پہنچ کر اذان دے دے، نمازیوں کے لیے صفیں بچھا دے، وضو کے لیے پانی بھر دے …
اس کے خام دماغ نے فیصلہ کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ ماہوار پچاس روپے مسجد فنڈ دینے سے وہ بریء الذمہ ہو گیا ہے۔ قارئین کرام! اپنی روز مرہ مصروفیات کا جائزہ لیں اور منصبِ انسانیت اور منصبِ مومنیت کی روشنی میں اپنی حرکات و سکنات کو پرکھیں۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((سَبْعَۃٌیُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ … وَرَجُلٌقَلْبُہٗمُعَلَّقٌبِالْمَسْجِدِاِذَاخَرَجَمِنْہُحَتّٰییَعُوْدَ اِلَیْہِ …۔)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یعنی: اللہ تعالیٰ سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: (ان میں سے ایک قسم یہ ہے:) وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو اس کا دل مسجد کے ساتھ ہی معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ واپس مسجد میں آ جائے۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے گھروں میں نفلی نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا اہتمام کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے گھروں کے بھی کچھ تقاضے ہیں، جب ہم کسی قریبی رشتہ دار کے گھر جانے میں تاخیر کرتے ہیں تو وہ مخصوص انداز میں شکوہ کرتا ہے، شاید اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی ہم سے شکوہ کناں ہوں۔
الحكم على الحديث:
اسنادھما ضعيف
حدیث نمبر: 1327
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (لَا يُوْطِنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ يَعْنِي حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان آدمی نماز اور ذکر کے لیے مساجد کو اپنا ٹھکانہ نہیں بناتا مگر جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسا کہ غائب آدمی کے گھر والے اس کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 800، والطيالسي: 2334، وابن خزيمة: 1503، وابن حبان: 1607، والحاكم: 1/ 213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8350، 9841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9840»
وضاحت: فوائد: … یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے کہ بندہ اپنے فائدے کے لیے مسجد کا رخ کرتا ہے، لیکن اس کی آمد پر اللہ تعالیٰ کو خوشی ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين ۔ أخرجه ابن ماجه: 800
حدیث نمبر: 1328
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ الْجَنَّةَ نُزُلًا كُلَّمَا غَدَا وَرَاحَ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا: جو شخص مسجد کی طرف آتا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے میزبانی (کا سامان) تیار کرتے ہیں، جب بھی وہ آتا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 662، ومسلم: 669، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10616»
وضاحت: فوائد: … اصل میں صبح کے وقت جانے کے غَدَا اور زوال کے بعد جانے کو رَاحَ کہتے ہیں، لیکن بعد میں ان کے معانی میں وسعت پیدا کر دی گئی اور ان کا اطلاق ہر جانے اور آنے پر ہونے لگا۔ اور اس حدیث کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد مسجد کی طرف جانا اور پھر واپس آنا ہے۔ لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ گھر میں آنے والے کی ضیافت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا گھر مسجد ہے، جو اس میں رات اور دن کی کسی گھڑی میں داخل ہو گا، اللہ تعالیٰ جنت کی صورت میں اس کی میزبانی کرے گا، وہ اکرم الاکرمین ہے اور نیکوکاروں کا اجر ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ جو آدمی ہر نماز پر حاضر ہوتا ہے، اس کی میزبانی کتنی اعلی ہو گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 662
حدیث نمبر: 1329
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالْإِيمَانِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ}) )
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی ایسے آدمی کو دیکھو جو مسجد میں آنے جانے کا عادی ہے تو اس پر ایمان کے شاہدبن جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اللہ کی مسا جد کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آ خرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم۔ أخرجه الترمذي: 2617، 3093، وابن ماجه: 802، وابن خزيمة: 1502، وابن حبان: 1721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11674»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَاَقَامَ الصَّلَاۃَ وَآتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ} (سورۂ توبہ: ۱۸) یعنی: اللہ کی مسجدوں کی رونق کو آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوۃ دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقینا ہدایتیافتہ ہیں۔ مساجد کی انتظامیہ، ائمہ، خطباء اور خُدام کو اپنے منصب پر غور کرنا چاہیے اور مسجد کی آبادی کو اپنی سعادت سمجھ کر عجز و انکساری کے ساتھ اس تسلسل کو برقرار رکھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم۔ أخرجه الترمذي: 2617
حدیث نمبر: 1330
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ حَابِسُ بْنُ سَعْدٍ الطَّائِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ السَّحَرِ وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى النَّاسَ يُصَلُّونَ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مُرَاوِيُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! أَرْعِبُوهُمْ فَمَنْ أَرْعَبَهُمْ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَأَتَاهُمُ النَّاسُ فَأَخْرَجُوهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُصَلُّونَ مِنَ السَّحَرِ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ
عبداللہ بن عامر ألھانی کہتے ہیں: سیّدنا حابس بن سعید طائی رضی اللہ عنہ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا، سحری کے وقت مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصہ میں نماز پڑھ رہے ہیں،یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے: رب کعبہ کی قسم! یہ لوگ ریاکار ہیں، انہیں ڈراؤ، جس نے انہیں ڈرایا، اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی۔ یہ سن کر لوگ ان کے پاس گئے اور انہیں باہر نکال دیا، پھر سیّدنا حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: سحری کے وقت مسجد کے اگلے حصہ میں فرشتے نماز پڑھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث: «اثر صحيح الي حابس بن سعد۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 3564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16972، 17002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17127»
وضاحت: فوائد: … شرعی نصوص سے اس قسم کی پابندی ثابت نہیں ہوتی کہ سحری کے وقت اگلی صفوں میں نماز نہ پڑھی جائے، ممکن ہے کہ سیّدنا حابس رضی اللہ عنہ کو کچھ قرائن کی بنا پر یہ ظنِّ غالب ہو گیا ہو کہ واقعییہ لوگ ریاکاری کر رہے ہیں، اس لیے ان کو وہاں سے بھگا دینا مناسب سمجھا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب
الحكم على الحديث:
اثر صحيح الي حابس بن سعد۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 3564
4. بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ وَآدَابِ الْجُلُوسِ فِيهِ وَالْمُرُورِ
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے¤اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 1331
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ وَأَبَا أُسَيْدٍ يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ
عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا ابو حمید اور سیّدناابو اسید رضی اللہ عنہما دونوں سے سنا، وہ یہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: اللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ، اے اللہ! تو اپنی رحمت اور جب مسجد سے نکلے تو یہ پڑھے: أَللّٰھُمّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 713،والنسائي: 2/ 53، وأخرجه ابوداود: 465 و زاد: ((فليسلم او ليصل علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16154»
وضاحت: فوائد: … چونکہ مسجد آخرت کی تجارت کا محل ہے، اس لیے اس میں داخل ہوتے وقت خصوصیت کے ساتھ رحمت کا سوال کیا جاتا ہے اور عام طور پر مومن رزق کی تلاش کے لیے مسجد سے نکلتا ہے، اس لیے اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل کا سوال کیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 713
حدیث نمبر: 1332
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرْضَاهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ( (بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ) ) ) وَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ) ) ، وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ( (بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ) ) ثُمَّ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ) ) )
سیدۃ فاطمہ بنت رسول اللہ رضی اللہ عنہا وارضاھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے: یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ (اللہ کے نام کے ساتھ، اور رسول اللہ پر سلامتی ہو) اور پھر یہ پڑھتے: اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلتے تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے)۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، دون قوله: ((اللھم اغفر لي ذنوبي)) فحسن۔ أخرجه الترمذي: 314، وابن ماجه: 771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26416، 26419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26951»
وضاحت: فوائد: … مسجد میں داخل ہوتے وقت یا خارج ہوتے وقت کی دعاؤں پر دلالت کرنے والی مذکورہ بالا احادیث کے علاوہ مزید روایات درج ذیل ہیں، آخر میں خلاصہ پیش کیا جائے گا۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (میں عظمت والے اللہ، اس کے کرم والے چہرے اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ میں آتا ہوں، شیطان مردود سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمییہ دعا پڑھتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ یہ شخص سارا دن یا دن کے باقی حصے میں مجھ سے محفوظ ہو گیا۔ (ابوداود: ۴۶۶)
سیّدنا ابو حمیدیا ابو اسید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب نکلے تو کہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں) (صحیح مسلم: ۷۱۳) لیکن ابوداود (۴۶۵) کی روایت میں شروع مین یہ اضافہ ہے: جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر اَللّٰھُمَّ افْتَحْ … کہے۔
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر یہ دعا پڑے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ اور جب نکلے تو پھر نبی پر سلامتی بھیجے اور یہ پڑے: اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (ابن ماجہ: ۷۷۳)
خلاصۂ کلام: … ان احادیث سے مسجد میں داخل ہوتے وقت کی مندرجہ ذیل مختلف دعائیں ثابت ہوئیں:
٭ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
مسجدسے نکلتے وقت کی مختلف دعائیں:
٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ۔
٭ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔
٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
سیّدنا ابو حمیدیا ابو اسید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب نکلے تو کہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں) (صحیح مسلم: ۷۱۳) لیکن ابوداود (۴۶۵) کی روایت میں شروع مین یہ اضافہ ہے: جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر اَللّٰھُمَّ افْتَحْ … کہے۔
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر یہ دعا پڑے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ اور جب نکلے تو پھر نبی پر سلامتی بھیجے اور یہ پڑے: اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (ابن ماجہ: ۷۷۳)
خلاصۂ کلام: … ان احادیث سے مسجد میں داخل ہوتے وقت کی مندرجہ ذیل مختلف دعائیں ثابت ہوئیں:
٭ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
مسجدسے نکلتے وقت کی مختلف دعائیں:
٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ۔
٭ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔
٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1333
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهِبٍ عَنْ مَوْلَى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبٍ مُشَبِّكًا أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَفْطِنِ الرَّجُلُ لِإِشَارَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ: ( (إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ فَإِنَّ الِاشْتِبَاكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ مَادَامَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ) )
عبید اللہ بن عبدالرحمن بن موہب، سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے ایک غلام سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں سیّدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم مسجد میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد کے درمیان میں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کرگوٹھ مارے ہوئے بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اشارہ فرمایا، مگر وہ آدمی نہ سمجھ پایا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کی طرف مڑ کر فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو تو وہ انگلیوں میں تشبیک نہ ڈالے، کیونکہ تشبیک شیطان کی طرف سے ہے اور یقینا جب تک کوئی آدمی مسجد میں رہتا ہے تو وہ نماز میں ہی رہتا ہے حتی کہ وہ مسجد سے نکل جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي خطأ فيه، عبيد الله بن عبد الله بن موھب، قال احمد والشافعي: لايعرف، وقال ابن القطان الفاسي: مجھول الحال، وعبيد الله بن عبد الرحمن بن موھب ليس بالقوي، ومولي ابي سعيد لم نعرفه۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 75، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11385، 11512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11405»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف علي خطأ فيه
حدیث نمبر: 1334
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّكْتُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ لِي: ( (يَا كَعْبُ! إِذَا كُنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتَ الصَّلَاةَ) )
سیّدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں میرے پاس اس حالت میں آئے کہ میں نے انگلیوں کے درمیان تشبیک ڈالی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے کعب! جب تم مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ ڈالا کرو،کیونکہ جب تک تم نماز کے انتظار میں رہتے ہو تب تک نماز میں ہی ہوتے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 967، وابن خزيمة: 444، وأخرجه ابوداود بلفظ: ((اذا توضأ أحدكم فأحسن وضوء ه ثم خرج عامدا)): 562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18103، 18115، 18130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18310»
وضاحت: فوائد: … تشبیک: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں مضبوطی کے ساتھ داخل کرنا۔ لیکن ذہن نشین رکھیں کہ تشبیک مطلق طور پر منع نہیں ہے، بلکہ صرف اس وقت منع ہے، جب آدمی نماز کے قصد سے مسجد کی طرف جا رہا ہو، یا نماز کا انتظار کر رہا ہو یا نماز ادا کر رہا ہو، کیونکہ ایک حدیث میں تشبیک سے منع کرنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جب آدمی نماز کے لیے مسجد کی طرف جا رہا ہوتو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔ان صورتوں کے علاوہ کئی مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تشبیک کرنا ثابت ہے، جیسا کہ سیّدنا ابو ہریرہ اور سیّدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہما والی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشبیک کی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم) اسی طرح سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے، کہ اس کا بعض اس کے بعض کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بات سمجھانے کے لیے تشبیک کی۔ (صحیح بخاری)
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 967
حدیث نمبر: 1335
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا مَرَرْتُمْ بِالسِّهَامِ فِي أَسْوَاقِ الْمُسْلِمِينَ أَوْ مَسَاجِدِهِمْ فَأَمْسِكُوا بِالْأَنْصَالِ لَا تَجْرَحُوا بِهَا أَحَدًا) )
سیّدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم مسلمانوں کے بازاروں یا ان کی مسجدوں سے تیروں سمیت گزرو تو ان کے پھلوں (تیز دھار حصے) سے پکڑا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے کسی کو زخمی کر بیٹھو۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم۔ أخرجه عبد الرزاق: 1735،أخرج نحوه الطيالسي: 520، وأخرجه البخاري: 452، 7075، ومسلم: 2615، وابوداود: 2587، وابن ماجه: 3778 بلفظ: ((اذا مر احدكم بالنبل في مساجدنا او اسواقنا، فليمسك بيده عليمشاقصھا لايعقِر احدا۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19488، 19500، 19545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19729»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح