🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ تَنْزِيهِ الْمَسَاجِدِ عَنِ الْأَقْذَارِ
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1346
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ مُنَاجٍ رَبَّهُ، فَلَا يَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: فَلَا يَتْفُلْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے کوئی آدمی اپنی دائیں طرف نہ تھوکا کرے۔ ابن جعفر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے اور اپنی بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک لے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1346]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 531، ومسلم: 551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12063، 12809 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12086»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 531
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1347
عَنْ أَبِي غَالِبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ سَيِّئَةٌ وَدَفْنُهَا حَسَنَةٌ) )
سیّدنا ابو امامۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا برائی ہے اور اسے دفن کرنا نیکی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1347]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 365، والطبراني في الكبير: 8091، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22598»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 365
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1348
عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَسَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: ( (لَا يُصَلِّي لَكُمْ) ) فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (نَعَمْ) ) وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: ( (آذَيْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ) )
ابو سعد کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا وا ثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو مسجد ِدمشق میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک کر اسے قدم کیساتھ رگڑ دیا، جب فارغ ہوئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہو کر مسجد میں تھوک رہے ہیں؟ تو سیّدنا وا ثلہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1348]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 484، والطيالسي: 1013، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16677»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 484
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1349
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنَةٍ وَسَيِّئَةٍ، فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا إِمَاطَةَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ) )
سیّدنا ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اس نے دوران نماز قبلہ کی طرف تھوکا۔ جس وقت وہ فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص آئندہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔ بعد میں جب اس نے نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے منع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اسے سنا دیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ہاں، (میں نے منع کیا ہے) کیونکہ تو نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1349]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 481، وابن حبان: 1636، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21883»
وضاحت: فوائد: … ابو داود کی روایت میں ہے: ((اِنَّکَ قَدْ آذَیْتَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ)) تونےاللہاوراسکےرسولکوتکلیف دی ہے۔ یہ بہت بڑی ڈانٹ ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس آدمی نے ایسا کام کیا جس کو اللہ اور اس کا رسول پسند نہیں کرتا ہے۔امامت و خطابت جیسی ذمہ داریاں سنبھالنے والوں کو متنبہ ہو جانا چاہیے اور اپنے منصب کی قدر کرتے ہوئے تمام آلائشوں سے باز رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 481
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1350
عَنْ أَبِي سَعْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ عَرَكَهَا بِرِجْلِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبْزُقُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: هَٰكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
سیّدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت مجھ پر اپنے اچھے اور برے اعمال کے ساتھ پیش کی گئی، میں نے ا ن کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور برے اعمال میں مسجد میں غیر مدفون کھنکاردیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1350]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 553، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21549، 21550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16105»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 553
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1351
عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنِ ابْصُقْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا، وَإِلَّا فَتَحْتَ قَدَمَيْكَ وَادْلُكْهُ) )
سیّدنا طارق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز پڑھے تو اپنے آگے اور دائیں طرف نہ تھوک، البتہ اپنی بائیں جانب تھوک لیا کر، بشرطیکہ وہ خالی ہو (یعنی اس طرف کوئی نمازی نماز نہ پڑھ رہا ہو)، وگرنہ اپنا قدم اٹھا اور (اس کے نیچے تھوک کر) اسے مل دے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1351]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 571، والنسائي: 2/ 52، وابن ماجه: 1021، وابن خزيمة: 876، الطيالسي: 1275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27221، 27222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27764»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا احادیث مین یہ صراحت کردی گئی ہے کہ مسجد میں تھوکنا غلطی ہے، اگر تھوکنا پڑ جائے تو درج ذیل آداب کو مد نظر رکھا جائے:
٭ قبلہ سمت میں نہیں تھوکنا
٭ دائیں جانب نہیں تھوکنا
٭ اگر بائیں جانب کوئی نمازی ہو تو اس طرف بھی نہیں تھوکنا، بصورت دیگر کوئی حرج نہیں
٭ بائیں جانب نمازی ہونے کی صورت میں بائیں پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے رگڑ دینا
٭ یا پھر کپڑے پر تھوک کر اسے مل دینا
یہ آداب اس وقت مرتب کیے گئے، جس وقت مسجد نبوی کی زمین کچی تھی۔ موجود دور میں قالین، پکا فرش اور پتھر وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوئے صرف آخری طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 571
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ صِيَانَةِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الرَّوَائِحِ الْكَرِيهَةِ
مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1352
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي خُطْبَةٍ لَهُ: ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ، هَٰذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ، وَأَيْمُ اللَّهِ! لَقَدْ كُنْتُ أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ رِيحَهَا مِنَ الرَّجُلِ فَيَأْمُرُ بِهِ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ فَيُخْرَجُ بِهِ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يُؤْتَى بِهِ الْبَقِيعَ، فَمَنْ أَكَلَهَا فَلَا بُدَّ، فَلْيُمِتْهَا طَبْخًا
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: لوگو! تم دو درخت تھوم اور پیاز کھاتے ہو، میں تو انہیں خبیث (مکروہ) ہی سمجھتا ہوں، اللہ کی قسم! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتا تھا، جب آپ کسی آدمی سے ان کی بو محسوس کرتے تو اس کے متعلق ایسا حکم دیتے کہ اس کا ہاتھ پکڑ کراسے مسجدسے باہر نکال دیا جاتا تھا،یہاں تک کہ اسے بقیع مقام پر لایا جاتا۔ اگر کسی شخص نے ان کو کھانا ہی ہے تو پکا کر (ان کی بو کو) ختم کر لیا کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1352]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 567، 1617، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 186»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 567
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1353
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَكَلَ مِنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ) )
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ درخت (پیازیا لہسن) کھالے وہ اللہ تعالیٰ کے گھروں(یعنی مسجدوں) میں نہ آئے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1353]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 853، مسلم: 561، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4715»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 853
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1354
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَكَلَ مِنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ فَلَا يُؤْذِيَنَّا فِي مَسْجِدِنَا) ) وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: ( (فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُؤْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس درخت یعنی تھوم سے کچھ کھا لیا تو وہ ہماری مسجد میں آکر ہرگز ہمیں تکلیف نہ دے۔ ایک دوسرے مقام میں فرمایا: ایسا شخص نہ ہماری مسجدکے قریب آئے اور نہ تھوم کی بو سے ہمیں اذیت پہنچائے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1354]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7599»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 563
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1355
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ نَعُدْ أَنْ فُتِحَتْ خَيْبَرُ وَقَعْنَا فِي تِلْكَ الْبَقَلَةِ فَأَكَلْنَا مِنْهَا أَكْلًا شَدِيدًا وَنَاسٌ جِيَاعٌ، ثُمَّ رُحْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الرِّيحَ، فَقَالَ: ( (مَنْ أَكَلَ مِنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّا فِي الْمَسْجِدِ) ) فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ! فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي تَحْرِيمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ وَلَكِنْهَا شَجَرَةٌ أَكْرَهُ رِيحَهَا) )
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح سے آگے نہیں بڑھے تھے کہ سبزی (کھیت) میں گھس گئے، لوگوں کو بھوک لگی ہوئی تھی، اس لیے ہم نے اسے خوب کھایا، پھر ہم مسجد میں چلے گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بو محسوس کی تو فرمایا: جو شخص اس خبیث (مکروہ) درخت سے کچھ کھا لے تو وہ مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔ لوگ کہنے لگے: یہ حرام ہو گیایہ حرام ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر موصول ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! مجھے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء کوحرام کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، دراصل یہ ایسا درخت ہے کہ جس کی بو مجھے ناپسند لگتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1355]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11084، 11583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11604»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 565
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں