الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ وَآدَابِ الْجُلُوسِ فِيهِ وَالْمُرُورِ
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے¤اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 1336
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِسُوقٍ أَوْ مَجْلِسٍ أَوْ مَسْجِدٍ وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا) ) ثَلَاثًا، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَاءُ حَتَّى سَدَّدَ بِهَا بَعْضُنَا فِي وَجُوهِ بَعْضٍ
سیّدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بازار یا کسی مجلس یا کسی مسجد سے اس حالت میں گزرے کہ اس کے پاس تیر ہوں تو وہ ان کے پھلوں سے پکڑ لیا کرے۔ ابو موسی فرماتے ہیں: ہم پر ہمیشہ آزمائش آتی رہی یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے یہ تیر بعض کے چہروں میں سیدھے کردیے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2615، وانظر الحديث بالطرق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19577، 19754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19992»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2615
حدیث نمبر: 1337
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرٍو أَسْمَعْتَ جَابِرًا يَقُولُ: مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ سِهَامٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا) ) ؟ فَقَالَ: نَعَمْ
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمروبن دینارسے پوچھا کہ کیا آپ نے سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی مسجد سے تیر سمیت گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ان کے پھلوں سے پکڑ۔؟ تو عمر و کہنے لگے: جی ہاں! میں نے سنا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 451، 7073، ومسلم: 2614، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14361»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 451
حدیث نمبر: 1338
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُوسَى ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ بَنَّةَ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ فِي الْمَجْلِسِ يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ، فَقَالَ: ( (لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ، أَوَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَٰذَا؟ فَإِذَا سَلَلْتُمُ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ ثُمَّ لْيُعْطِهِ كَذَلِكَ) )
دوسری سند سے مروی ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کو سیّدنا بنّہ جہنی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں یا کسی مجلس میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو بغیر نیام کے تلوار سونت کر ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسا کرتا ہے اللہ اس پر لعنت کرے، کیا میں نے تمہیں اس طرح کرنے سے منع نہیں کیا؟ جب تم تلوار نکالو توآدمی اسے نیام میں رکھے، پھر وہ اسی طرح آگے دے دے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، روي عن ابن لھيعة عبد الله بن وھب۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 1190، وفي الاوسط: 2591، والبزار: 3335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14742، 14980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14801»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ کسی مسلمان کو تکلیف دینا اللہ تعالیٰ کو کتنا ناپسند ہے۔ عصر حاضر میں اس نقطے پر غور و فکر کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 1339
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَّ بِهِ كَمَا يُبَسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ فَإِذَا سَكَنَ لَهُ زَنَقَهُ أَوْ أَلْجَمَهُ) ) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِكَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاهُ مَائِلًا كَذَا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَفَاتِحٌ فَاهُ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے تو شیطان اس سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جب وہ اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے تو وہ اسے جھکا لیتا ہے یا لگام ڈال لیتا ہے۔ سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہو، جسے جھکا لیا جاتا ہے تو تم اسے ایسے جھکا ہوا ہی دیکھتے ہو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، اور جسے لگام ڈال لی جاتی ہے، تو وہ اپنا منہ کھول لیتا ہے اور اس طرح اللہ کا ذکر نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1339]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8370 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8352»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! کیا سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے! موجودہ زمانے کے لوگ اس حدیث کا سب سے بڑھ کر مصداق بنے ہوئے ہیں۔ فرضی نمازوں کے علاوہ تو مسجد میں آنا ہی درکنار، ان فرائض کی ادائیگی کے لیے مسجد میں آنے والوں کی کثیر تعداد مفقود ہو چکی ہے اور جو آتے ہیںوہ آنے میں تاخیر اور جانے میں تعجیل کرتے ہیں۔ اب پتہ چلا کہ ان بیچاروں کے سینوں میں شیطان گھس جاتا ہے اور ان کے سینوں سے تسکین غصب کر کے ان کو مسجد سے بھگا دیتا ہے۔ مانا کہ بعض لوگ مجبور ہوتے ہوں گے، لیکنیہ کلیہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مسجد میں نماز عشاء کی ادائیگی کے لیے نمازیوں کی کل تین صفیں بن گئیں، ابتدائے نماز کے وقت آدھی صف موجود تھی اور ڈیڑھ صف کے پاس تو نماز کے بعد مختصر سا درس سننے کا وقت بھی نہیں تھا کہ سلام کے بعد فورا انھوں نے مسجد سے نکلنا شروع کر دیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
5. بَابُ تَنْزِيهِ الْمَسَاجِدِ عَنِ الْأَقْذَارِ
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1340
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيُغَيِّبْ نُخَامَتَهُ أَنْ تُصِيبَ جِلْدَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَهُ فَتُؤْذِيَهُ) )
سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں کھنکارپھینکے تو وہ اسے چھپا دیا کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی مومن کے جسم یا کپڑے پر لگ جائے اور اس طرح اسے تکلیف ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 1127، وابو يعلي: 808، وابن ابي شيبة: 2/ 367، وابن خزيمة: 1311، والبيھقي في شعب الايمان: 11179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1543»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 1127
حدیث نمبر: 1341
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَرَأَى فِي الْقِبْلَةِ نُخَامَةً، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: ( (إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَسْتَقْبِلُهُ بِوَجْهِهِ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ) ) ثُمَّ دَعَا بِعُودٍ فَحَكَّهُ ثُمَّ دَعَا بِخَلُوقٍ فَحَضَبَهُ
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجدمیں نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبلہ کی سمت میں ایک کھنکار نظر آیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازسے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجا ت کرتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے کوئی شخص قبلہ کی طر ف اور نہ ہی اپنی دائیں طر ف کھنکار پھینکا کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لکڑی منگوا کر اسے کھرچ دیا اور خوشبو منگوا کر وہاں لگا دی۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1341]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1213، 6111، ومسلم: 547، وابوداود: 479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4509، 4908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4908»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1213
حدیث نمبر: 1342
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَدْفِنْهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں تھوکے تو اسے دفن کردیا کرے، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تواپنے کپڑے میں تھوکا کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1342]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرج بنحوه ابوداود: 477، وأخرج مسلم: 550 مطوّلا منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7405، 7531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7522»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرج بنحوه ابوداود: 477
حدیث نمبر: 1343
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ ثُمَّ نَهَى أَنْ يَبْصُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: ( (لْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى) )
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں ایک کھنکار دیکھااور اسے کنکری سے کھرچ دیا، پھر آدمی کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے منع کر دیا اور فرمایا: آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوکا کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1343]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 414، ومسلم: 548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11025 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11039»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 414
حدیث نمبر: 1344
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ أَنْ يُمْسِكَهَا بِيَدِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ يَوْمٍ وَفِي يَدِهِ وَاحِدٌ مِنْهَا فَرَأَى نُخَامَاتٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّهَا بِهِ حَتَّى أَنْقَاهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضِبًا فَقَالَ: ( (أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ؟ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى أَوْ عَنْ يَسَارِهِ، فَإِنْ عَجَّلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ هَٰكَذَا) ) وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ وَتَفَلَ يَحْيَى فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَهُ
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ میں کھجور کی ٹہنیاں رکھنا پسند تھا، ایک دن آپ کے ہاتھ میں یہی ایک ٹہنی تھی کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں کچھ کھنکار دیکھ کر انہیں کھرچا حتی کہ انہیں صاف کر دیا، پھر غصہ کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: کیا تم سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی آدمی آئے اوراس کے چہرے پہ تھوک دے؟ (غور کرو کہ) جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا ربّ اس کے سامنے ہوتا ہے اور فرشتہ اس کی دائیں جانب، (اس لیے) وہ اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ وہ اپنے بائیں قدم کے نیچےیا اپنی بائیں طرف تھوکے، اگر اس کو کوئی جلدی پڑ جائے تو وہ اس طرح کرلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے کے بعض حصے کو بعض پر مل دیا۔ اور راویٔ حدیث یحییٰ نے (اس تمثیل کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1344]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 480، وابن حبان: 2271، وابن خزيمة: 926، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11185) وقد سلف مختصرا برقم: 324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11203»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 480
حدیث نمبر: 1345
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (النُّخَامَةُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1345]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: 415، مسلم: 552، وابوداود: 475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12062، 12775، 13450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13484»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: 415