🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ صِيَانَةِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الرَّوَائِحِ الْكَرِيهَةِ
مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1356
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا، أَوْ قَالَ: فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تھوم یا پیاز کھا لے تو وہ ہم سے یا ہماری مسجد سے علیحدہ رہے اور اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1356]
تخریج الحدیث: «أخرجه أخرجه البخاري: 855، 5452، ومسلم: 564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15373»

الحكم على الحديث:
أخرجه أخرجه البخاري: 855
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1357
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَكَلْتُ ثُومًا ثُمَّ أَتَيْتُ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِرَكْعَةٍ فَلَمَّا صَلَّى قُمْتُ أَقْضِي فَوَجَدَ رِيحَ الثُّومِ، فَقَالَ: ( (مَنْ أَكَلَ هَٰذِهِ الْبَقْلَةَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا) ) قَالَ: فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي عُذْرًا، نَاوَلْنِي يَدَكَ، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ وَاللَّهِ سَهْلًا، فَنَاوَلَنِي يَدَهُ فَأَدْخَلَهَا فِي كُمِّي إِلَى صَدْرِي فَوَجَدَهُ مَعْصُوبًا فَقَالَ: ( (إِنَّ لَكَ عُذْرًا) )
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تھوم کھا کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت پڑھ چکے تھے، اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں ایک رکعت ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھوم کی بو محسوس کی اور فرمایا: جو شخص یہ سبزی کھائے تو وہ اس کی بو ختم ہونے تک ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آیا کرے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نماز پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا عذر ہے، اپنا ہاتھ مجھے دیجئے۔ وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے آپ کو نرم پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنا ہاتھ دے دیا، پھر اسے میری آستین میں سے داخل کر کے سینے تک پہنچایا اور میرے سینے پر بندھی ہوئی پٹی محسوس کر کے فرمایا: واقعی تیرا عذر ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1357]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، غير ان الدارقطني قد رجح ارساله، وقال الألباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود:3826، وابن ابي شيبة: 2/ 510، وابن حبان: 2095، وابن خزيمة: 1672، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18176، 18205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18392»
وضاحت: فوائد: … تمام روایات اپنے مفہوم میں انتہائی واضح ہیں اور ان سے کیا جانے والا استدلال بھی انتہائی بیّن ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ موجودہ دور میں انسان کی خواہشات، چاہتیں اور زبان کے چسقے اس کے مذہب پر غالب آ گئے ہیں، ہمارے ہاں کھانے کے ساتھ پیاز اور مولی وغیرہ بطور سلاد استعمال کئے جاتے ہیں۔ روکنے ٹوکنے کے باوجود کھانے والوں کی توجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات کی طرف جھکاؤ ہی اختیار نہیں کرتی اور بعض احباب وقت کو ٹالنے کے لیے اتنا تو کہہ دیتے ہیں کہ پیاز وغیرہ کے بعد چینییا گڑ وغیرہ کا استعمال کیا جائے تو بدبو ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ خود یہ نسخہ استعمال کئے بغیر مساجد کی طرف چل دیتے ہیں۔
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی اذاں رہ گئی مگر روحِ بلالی نہ رہی
اس بے توجہی کا مطلب یہ ہوا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرنا چاہتے ہیںیا فرشتوں کی قربت سے دور رہنا چاہتے یا ان کو تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْمُنْتِنَۃِ فَـلَایَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَتَأَذّٰی مِمَّا یَتَأَذّٰی مِنْہُ الْاِنْسُ۔)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یعنی: جو آدمی اس بدبودار درخت کا پھل (پیاز) کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں، جس سے انسان کرتے ہیں۔ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب وہ کسی آدمی سے پیاز اور لہسن کی بو محسوس کرتے تو اسے بقیع کی طرف نکل جانے کا حکم دے دیتے۔ (مسلم: ۵۶۷) آخر کیا وجہ ہے کہ اس قسم کی وعیدوں کے باوجود ہم ان احادیث کے مفاہیم پر غور نہیں کرتے اور اپنی طبیعت اور زبان کے چسقے کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ کیا کچا پیاز وغیرہ کھانے والے آدمی کے لیےیہ وعید کافی نہیں ہے کہ اگر مسجد نبوی ہوتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہوتے تو اسے مسجد نبوی سے باہر نکال دیا جاتا؟ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ((نَھٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ الثُّوْمِ وَالْبَصَلِ وَالْکُرَاثِ۔)) یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لہسن، پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ (مسند طیالسی: ۲۱۷۱، صحیحہ:۲۳۸۹)
گندنا: … ایک بدبودار قسم کی ترکاری جو پیاز کے مشابہ ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ اگر ان بدبودار چیزوں کو پکا کر ان کی بدبو ختم کر دی جائے تو ان کا کھانا جائز ہو گا۔ممکن ہے کہ اس ضمن میں ہم درج ذیل حدیث سے سبق حاصل کر لیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مسواک کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ یُصَلِّی أَتَاہُ الْمَلَکُ فَقَامَ خَلْفَہٗیَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ وَیَدْنُوْ فَلا یَزَالُیَسْتَمِعُ وَیَدْنُوْ حَتّٰییَضَعَ فَاہُ عَلٰی فِیْہِ فَـلَا یَقْرَأُ آیَۃً إِلاَّ کَانَتْ فِی جَوْفِ الْمَلَکِ۔)) یعنی: جب بندہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس کے پیچھے کھڑے ہو کر قرآن مجید سنتا اورقریب ہوتا رہتا ہے، وہ قرآن مجید سنتے سنتے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے اور نمازی جو آیت بھی پڑتا ہے فرشتہ اسے اپنے اندر سما لیتا ہے۔ (سنن بیہقی: ۱/ ۳۸، مسند بزار: ص ۶۰، صحیحہ: ۱۲۱۳)

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ جَامِعِ فِيمَا تُصَانُ عِنْدَ الْمَسَاجِدِ
تمام ان چیزوں کا بیان جس سے مساجد کو محفوظ رکھا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1358
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الضَّالَّةُ وَعَنِ الْحِلْقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا (سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے، اشعار پڑھنے اور گم شدہ چیز کا اعلان کرنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1358]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه بتمامه ابوداود: 1079، وابن خزيمة: 1304ورواه الترمذي: 322 دون انشاد الضالة، وأخرج النھي عن البيع والتحلق في المسجد النسائي: 2/ 47، وأخرج النھي عن البيع وتناشد الاشعار ابن ماجه: 749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6676 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6676»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا رَاَیْتُمْ مَنْ یَبِیْعُ أَوْ یَبْتَاعُ فِیْ الْمَسْجِدِ، فَقُوْلُوْا: لَا أَرْبَحَ اللّٰہُ تِجَارَتَکَ۔)) یعنی: جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو: اللہ تعالیٰ تیری تجارت کو نفع بخش نہ بنائے۔ (ترمذی: ۱۳۲۱) ضَالَّۃ کا اطلاق اس گم شدہ چیز پر ہوتا ہے جو جاندار ہو، ایسی غیر جاندار چیز کو ضَائِع اور لَقِیْط کہتے ہیں۔ چونکہ علت اور وجہ ایک ہے، اس لیے مسجد میں ہر قسم کی گم شدہ چیز کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔ شعر بحیثیت ِ شعر قابل مذمت نہیںہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کوئی کلام نثر یا شعر ہونے کی وجہ سے قابل تعریفیا قابل مذمت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار اس میں بیان کئے گئے مفہوم پر ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الشِّعْرُ بِمَنْزَلَۃِ الْکَلَامِ، حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلَامِ، وَقَبِیْحُہُ کَقَبِیْحِ الْکَلَامِ۔)) یعنی: اشعار، عام (نثر) کلام کی طرح ہیں،یعنی اچھے اشعار، اچھے کلام کی طرح ہیں اور برے اشعار، برے کلام کی طرح۔ (دارقطنی: ۴۹۰، الادب المفرد للبخاری: ۱۲۵، الصحیحہ: ۴۴۷) سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً۔)) یعنی: بعض اشعار، حکمت و دانائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ (بخاری، صحیحہ: ۲۸۵۱)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اشعار پڑھنا، سننا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے صحابہ کا اشعار پڑھنا بھی ثابت ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنا حسان رضی اللہ عنہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے، وہاں سے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے اور ان کی طرف گھورنا شروع کر دیا، لیکن آگے سے سیّدنا حسان نے کہا: ((قَدْ کُنْتُ اُنْشِدُ، وَفِیْہِ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِّنْکَ۔)) یعنی: (اے عمر!) میں تو اس وقت بھی اس میں اشعار پڑھتا تھا، جب اس میں تجھ سے بہتر ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہوتی تھی۔ (صحیح مسلم: ۲۴۸۵)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اچھے مضمون پر مشتمل اشعار کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بہرحال شعروں کی کثرت کا اہتمام نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا اصول تھا۔ نماز جمعہ سے قبل ہر قسم کا حلقہ ممنوع ہے، وہ عام دنیوی گفتگو پر مشتمل ہو یا علمی درس و تدریس پر، اس سے صفیں بھی غیر مرتب ہو جائیں گے اور نماز اور ذکر میں مصروف رہنے والے لوگوں کو بھی تشویش ہو گی۔ اس کی بجائے خطبۂ جمعہ سے پہلے والی عبادات یعنی نماز اور اذکار مسنونہ وغیرہ میں مشغول رہنا چاہیے، مسنون خطبے سے پہلے لوگوں کو کسی حلقے کا پابند نہ کیا جائے اور جب خطبہ شروع ہو تو خاموشی کے ساتھ اسی پر توجہ دھری جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه بتمامه ابوداود: 1079
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1359
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَيْعِ وَالِاشْتِرَاءِ فِي الْمَسْجِدِ
سیّدناعبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1359]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ انظر الحديث السابق: 339، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6991»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ انظر الحديث السابق: 339
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1360
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ فِي الْمَسْجِدِ ضَالَّةً فَلْيَقُلْ لَهُ: لَا أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَٰذَا) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسے آدمی کو سنے جو مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کر رہا ہو تو وہ اسے کہے: اللہ یہ چیز تجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ مساجد اس لیے تو نہیں بنائی گئیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1360]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 568، وابوداود: 473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8588، 9457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9438»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 568
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1361
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ فِي الْمَسْجِدِ: مَنْ دَعَا لِلْجَمَلِ الْأَحْمَرِ بَعْدَ الْفَجْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا وَجَدْتَّهُ لَا وَجَدْتَّهُ، إِنَّمَا بُنِيَتْ هَٰذِهِ الْبُيُوتُ قَالَ مُوَمِّلٌ هَٰذِهِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ) )
سیّدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں فجر کے بعد اعلان کیا کہ کس نے سرخ اونٹ کو بلایا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے نہ پائے، تو اسے نہ پائے، یہ مساجد صرف ان مقاصد کے لیے ہیں جن کے لیے ان کو تعمیر کیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1361]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 569، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23432»
وضاحت: فوائد: … اور مساجد کی تعمیر کا مقصد اللہ تعالیٰ کا ذکر، نماز،تلاوت ِ قرآن، علم شرعی اور مذاکرۂ خیر وغیرہ کا قیام ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 569
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1362
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُقَامُ الْحُدُودُ فِي الْمَسَاجِدِ وَلَا يُسْتَقَادُ فِيهَا) ) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ غَيْرِ مَرْفُوعَةٍ: وَلَا يُنْشَدُ فِيهَا الْأَشْعَارُ)
سیّدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مساجد میں نہ حدود کا نفاذ کیا جائے اور نہ قصاص لیا جائے۔ اور ایک غیر مرفوع روایت میں مزیدیہ الفاظ بھی ہیں: اور نہ ان میں اشعار پڑھے جائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1362]
تخریج الحدیث: «الرواية الاولي اسنادھا ضعيف لجھالة العباس بن عبد الرحمن المدني، لكن لھا شواھد۔ أخرجھا ابن ابي شيبة: 10/ 42، والطبراني في الكبير: 3131، والدارقطني: 3/ 086۔ والرواية الثانية ضعيف لانقطاعه، رواھا ابوداود: 4490، والنھي علي تناشد الاشعار ثابت بالاحاديث الاخري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15579، 15580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15665»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کا پہلا حصہ شواہد کی بنا پر اور دوسرا حصہ کئی احادیث میں ثابت ہے۔حدّ اور قصاص دونوں شرعی نصوص کا تقاضا ہیں، لیکن نتیجتاً مسجد کے گندا ہونے،اس میں آوازوں کے بلند ہونے اور اس کی بے ادبی کے کئی امور لازم آ سکتے ہیں۔ اس لیے سرے سے ایسے مقام میں ان کے نفوذ سے منع کر دیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
الرواية الاولي اسنادھا ضعيف لجھالة العباس بن عبد الرحمن المدني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1363
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ بِنْتِ سُفْيَانَ وَهِيَ أُمُّ بَنِي شَيْبَةَ الْأَكَابِرِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَقَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا شَيْبَةَ فَفَتَحَ فَلَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ وَرَجَعَ وَفَرَغَ، وَرَجَعَ شَيْبَةُ، إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ أَنْ أَجِبْ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: ( (إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرْنًا فَغَيِّبْهُ) ) قَالَ مَنْصُورٌ: فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ عَنْ أُمِّي عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ بِنْتِ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ لَهُ فِي الْحَدِيثِ: ( (فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يُلْهِي الْمُصَلِّينَ) )
اکابر بنوشیبہ کی ماں ام عثمان بنت سفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی،یہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیبہ کو بلایا، اس نے دروازہ کھولا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہو کر واپس آ گئے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو گئے اور شیبہ واپس چلا گیا۔ لیکن جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد پھر سے پہنچا اور کہنے لگاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن۔ سو وہ آپ کے پاس پہنچ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بیت اللہ میں ایک سینگ دیکھا ہے اسے چھپا دے۔ اسی حدیث کا ایک دوسرا راوی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا کہ بیت اللہ میں نمازیوں کو غافل کرنے والی کسی چیز کا ہونا نامناسب ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1363]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف محمد بن عبد الرحمن۔ والصواب ما جاء فيھا ان الذي دعاه النبي صلي الله عليه وآله وسلم وھو عثمان بن طلحة، لا شيبة۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16753»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1364
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ خَالِهِ مُسَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ أُمِّ مَنْصُورٍ قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِنَا، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّهَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ لِمَ دَعَاكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَالَ لِي: ( (إِنِّي كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَي الْكَبْشِ حِينَ دَخَلْتُ الْبَيْتَ فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا فَخَمِّرْهُمَا، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يُشْغِلُ الْمُصَلَّى) ) قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ تَزَلْ قَرْنَا الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى احْتَرَقَ الْبَيْتُ فَاحْتَرَقَا
ایک دوسری سند سے مروی ہے: صفیہ بنت شیبہ کہتی ہے:بنو سلیم کی ایک عورت، جو ہمارے گھر والوں میں سے اکثر کی والدہ ہے، نے مجھے بتایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن طلحہ کو پیغام بھیجا۔ ایک مرتبہ راوی نے یہ کہا کہ اس عورت نے عثمان بن طلحہ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے کیوں بلایا تھا؟ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب میں بیت اللہ میں داخل ہوا تو میں نے مینڈھے کے دو سینگ دیکھے تھے، پھر میں بھول گیا کہ تجھے ان کو ڈھانپ دینے کا حکم دوں، اس لیے ا ب انہیں ڈھانپ دے، کیونکہ بیت اللہ میں کسی ایسی چیز کا ہونا مناسب نہیں ہے جو نمازی کو مشغول کرے۔ سفیان فرماتے ہیں: مینڈھے کے دونوں سینگ بیت اللہ میں ہی رہے، جب بیت اللہ کو آگ لگی تو وہ بھی جل گئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1364]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأوّل: 344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23609»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیبہ کو بلایا جبکہ کتب ِ ستہ اور دوسری کتب ِ احادیث اور خود مسند احمد کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کا دروازہ کھولنے کے لیے عثمان بن طلحہ کو بلایا اور یہ روایت زیادہ معتبر ہے۔ اسماعیل علیہ السلام کے فدیے میں جو مینڈھا لایا گیا تھا، اس کے سینگ کعبہ کی عمارت کے اندر رکھے ہوئے تھے۔ جب یزید بن معاویہ کے دور میں واقعہ حرہ کے بعد بنو امیہ کا لشکر مکہ مکرمہ پہنچا اور عبد اللہ بن زبیر کا محاصرہ کیا اور منجنیق نصب کر کے کعبہ پر پتھر برسائے اور آگ لگ جانے کی وجہ سے بیت اللہ کے پردے، چھت اور یہ دو سینگ جل گئے، یہ صفر ۶۴ ھ کا واقعہ ہے۔ (بلوغ المعانی من اسرار الفتح الربانی: ۱/ ۳۶۰)
کتنی قابل غور بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ جیسی مقدم عمارت کے اندر بھی نمازی کے خشوع و خضوع کی خاطرسینگوں پر کپڑا ڈالنے کو پسند کیا، مسجد کی زیب و زینت، بیل بوٹوں، انتہائی جاذب نظر منبروں اور محرابوں، رنگا رنگ کی الماریوں اور منقش پتھروں کا اہتمام کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأوّل: 344
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1365
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، حتیٰ کہ لوگ مساجد (کے بنانے) میں ایک دوسرے سے فخر کرنے لگ جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1365]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 449، والنسائي: 2/ 32، وابن ماجه: 739، وابن خزيمة: 1322، وابن حبان: 1614، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12379، 14020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14065»
وضاحت: فوائد: … فخر کرنے کی دو صورتیں ہیں: (۱) زبان سے اظہار کرنا، جیسا کہ آج کل لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کی مسجد بہت خوبصورت اور وسیع ہے، اس میں لگا ہوا پتھر بڑا قیمتی ہے، اس کے مینار اتنے بلند ہیں، اس میں بچھا ہوا قالین اس قسم کا ہے، اس میں لکڑی کا کام بڑے ہنر کے ساتھ کیا گیا ہے، جبکہ سننے والے منتظم حضرات کو اس سے خوشی ہوتی ہو۔ (۲) فعل سے اظہار کرنا، مثلا مسجد کی تزیین و آرائش میں مبالغے سے کام لینا اور دل ہی دل مین یہ سمجھنا کہ ہماری مسجد باقی سب مسجدوں سے ممتاز ہے، بلکہ بعض دفعہ زبان سے اس کا اظہار بھی کر دینا۔ کوئی مانے یا نہ مانے، کسی نہ کسی صورت میں اکثر و بیشتر لوگوں مین یہ فخر اپنے دونوں قسموں کے ساتھ پایا جا رہا ہے، الا ما شاء اللہ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عالیشان مسجدیں تعمیر کرنے والی حکومتیں اور لوگ ان حقائق کو تسلیم ہی نہیں کرتے، حالانکہ ان کے اقوال و افعال میں واضح طور پر یہ اشارات مل رہے ہوتے ہیں کہ ان کا مقصد دوسری مساجد سے مقابلہ ہے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ درج ذیل بحث کا بغور مطالعہ کریں: ۱۔ سیّدنا ابو دردا اور سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِبْنُوْہُ عَرِیْشاً کَعَرِیْشِ مُوْسٰی۔)) یَعْنِی: مَسْجِدَ الْمَدِیْنَۃِ۔)) یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسی کے چھپر کی طرح اس کو تعمیر کر دو۔ (الفوائد المنتقاۃ للمخلص: ۹/ ۱۹۳/ ۱، دلائل النبوۃ للبیہقی: ۲/ ۵۴۲، مسند الشامیین للطبرانی: صـ ۴۲۵، الصحیحۃ:۶۱۶)
مساجد کی تعمیر میں بلا شک و شبہ بہت بڑا اجرو ثواب ہے، یہ عمل حصول جنت کا بہت بڑا سبب ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ تعاون کرنے والوں کو اجرِ عظیم سے نوازے (آمین)۔ بہرحال عصر حاضر میں اکثر مساجد کی انتظامیہ کی سوچوں کا مرکزو محور یہ بن چکا ہے کہ ان کی مسجد خوبصورت ترین ہونی چاہیے، آج کل ایک ایک مسجد پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہدایت او ر ان کی آبادی کامعاملہ تعمیر نو سے پہلے والا ہی نظر آتا ہے یا اس سے بھی کم۔
۲۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اُمِرْتُ بِتَشْیِیْدِ الْمَسْجِدِ۔)) یعنی: میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم نہیںدیا گیا کہ مساجد کی تزئین و آرائش کروں۔ پھر سیّدنا ابن عباس نے خود کہا: ((لَتُزَخْرِفُنَّھَا کَمَا زَخْرَفَتْھَا الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی۔)) یعنی: تم مساجد کو اس طرح مزین کرو گے، جیسےیہود و نصاری نے (اپنی عبادت گاہوں کو) کیا تھا۔ (ابوداود: ۴۴۸)
۳۔ سعید بن ابی سعید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذًا زَوَّقْتُمْ مَسَاجِدَکُمْ وَحَلَّیْتُمْ مَصَاحِفَکُمْ، فَالدِّمَارُ عَلَیْکُمْ۔)) یعنی: جب تم لوگ مساجد کو مزین کرو گے اور مصاحف کو خوبصورت بناؤ گے تو تم پر ہلاکت و بربادی آ پڑے گی۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۰۰/ ۲، الصحیحۃ: ۱۳۵۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں جہاد کے موقع پر کروڑہا روپوں کی مالیتوں کا فنڈ جمع کیا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ میں جتنا مالِ غنیمت حاصل کر کے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا، اس کا تو اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا ہے، لیکن جب مسجد نبوی کی تعمیر کا وقت آتا ہے تو اس کو موسیٰ علیہ السلام کے چھپر کا ڈیزائن دے دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خلفائے راشدین، بالخصوص سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سنہری عہدِ خلافت میں کثیر آمدنی کے انوکھے ذرائع عطا کیے، جن میں قیصر و کسری کے خزانوں کو بھی مسلمانوں پر لٹا دیا، لیکن مسجد نبوی کا عمارتی ڈیزائن نہیں بدلایا گیا۔ آخر ایسا کرنے میں کیا راز ہے؟ خیر و بھلائی اور تقوی و طہارت کا مرکز مسجد نبوی ہے، اس کے معمار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ہیں، مسجد حرام کے بعد اس کی فضیلت مسلّم ہے، اس میں ایک نماز کا ایک ہزار گنا سے زائد ثواب ملتا ہے، لیکن اس کو چھپر کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی اپنے کیے پر غور و خوض کر کے مساجد کو آباد کرنے کی فکر کرنی چاہیے، نہ کہ اس کو خوبصورت سے خوبصورت بنانے کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح شخصیتوں اور اقوام کے معماروں پر روپیہ پیسہ خرچ کر کے خدمت ِ اسلام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ یہ بات ذہن نشین کرنا پڑے گی کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اس کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ ہے، کیایہ کہنا مناسب نہ ہو گا کہ اس کے ڈیزائن اور بناوٹ کی ترتیب کی اجازت بھی گھر کے مالک یعنی اللہ تعالیٰ سے لی جائے گی؟ ہم اپنے معاشرے کے گھروں کی پرشکوہ اور پر جلال عمارتوں سے مرعوب ہو گئے اور ان سے مساجد کا تقابل اور موازنہ کر نا شروع کر دیا۔ اس معاملے مین یہ حقیقت انتہائی حیران کن ہے کہ جو لوگ مساجد پر بے حساب رقم خرچ کرتے ہیں، غور فرمائیں کہ دیواروں پر پردے لٹکائے جا رہے ہیں، منبر و محراب پر لاکھوں خرچ کیا جا رہا ہے، قسما قسم کی ٹائلیں لگائی جا رہی ہیں، قیمتی اور نقش و نگار والے قالین بچھائے جا رہے ہیں، وضو گاہوں اور طہارت خانوں کو مزین بنایا جا رہا ہے، مرکزی دروازوں کو دیدہ زیب بنایا جا رہا ہے،لیکن اسی مسجد میں جب خطیب، امام، خادم اور تعلیم قرآن کے سلسلہ میں بچوں کے مدرس کی تنخواہ کا مسئلہ زیر بحث آتا ہے تو انتہائی کنجوسی کا معاملہ کیا جاتا ہے اور بلا رورعایت لکھنا پڑے گا کہ انتظامیہ کے اکثر افراد کییہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ لوگ فارغ البال نہ ہوں اور ان کے پنجوں میں جکڑے رہیں۔ اگر خدمت ِ اسلام ہی مقصود ہے تو یہ تضاد کیوں ہے؟ قارئین کرام! کیا آپ حیران ہوں گے کہ آج اپریل۲۰۱۰ ء کی بات ہے، ایک شخص مسجد میں امامت، خطابت، ساٹھ بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے اور مسجد کی صفائی کرنے کا ذمہ دار ہے، مسجد اس کے گھر سے پانچ گھنٹوں کے سفر پر ہے، دو تین ماہ کے بعد اس کو دو تین دن چھٹی ملتی ہے، لیکن اس کی تنخواہ چھ ہزار روپے ہے، پانچ ہزار کا بندوبست ایک تنظیم کرتی ہے اور مسجد کے چودھری لوگ ایک ہزار روپیہ ماہانہ دے کر احسانِ عظیم کرتے ہیں اور اپنے امام کا احترام کرنا تو درکنار، اس کو اپنے ملازم کی حیثیت دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اب یہی لوگ جب مسجد کو مزین کرنے پر خرچ کریں گے تو کیا ان کے اقدام کو خدمت ِ اسلام سمجھا جائے گا؟ (فالی اللہ المشتکی) نہ میں اس نقطے کو سمجھ پا رہا ہوںاور نہ سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ بہرحال دعاگو ضرور ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خرچ کی ہوئی دولت قبول فرمائے اور ان کو مزید خلوص سے نواز دے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 449
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں