🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. بَابُ تَعْزِيَةِ الْمُصَابِ وَثَوَابِ صَبْرِهِ وَأَمْرِهِ بِهِ وَمَا يُقَالُ لِذَلِكَ
مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم¤اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3282
عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ طَالَ عَهْدُهَا، قَالَ عُبَادَةُ: قَدُمَ عَهْدُهَا، فَيُحْدِثُ لِذَلِكَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَأَعْطَاهُ مِثْلَ أَجْرِهَا يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا) )
سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی مسلمان مردو زن کو کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے اور پھر وہ بعد میں اسے یاد کر کے از سرِ نو إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتا ہے، اگرچہ اس صدمے کو لمبا عرصہ گزر چکا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس چیز کی تجدید کر کے اسے اتنا اجر عطا کرتا ہے، جتنا صدمے والے دن دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3282]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، هشام بن ابي هشام متروك، وأمه لايعرف حالھا أخرجه ابن ماجه: 1600، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1734»
وضاحت: فوائد: … یہ کلمات مصیبت زدہ لوگوں کا ملجا و مأوی ہیں اور بندہ یہ کلمات ادا کر کے اپنی موت اور حشر کا اقرار کرتا ہے اور یقینی طور پر تسلیم کرتا ہے کہ ہر چیز نے اپنے مالک ِ حقیقی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3283
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصَيبَةٌ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي (وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأَجُرْنِي فِيهَا) وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَخَلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا) ) ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَعَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي، فَقُلْتُهَا: اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا: جس آدمی کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھے: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْہَا۔ (بیشک ہم سب اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! میں تیرے ہاں اپنی مصیبت پر ثواب طلب کرتا ہوں، پس تو مجھے اس میں اجر دے اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور نعم البدل عطا کرتا ہے۔ ہوا یوں کہ جب میرے شوہر سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہو گا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت دی اور میں یہ دعا پڑھتی رہی: اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا۔ (اے اللہ!تو مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما۔) تو (اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر لی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3283]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 918، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27170»
وضاحت: فوائد: … اس دعا کے الفاظ ”اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصَیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا “ کی بجائے یہ الفاظ ”اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ“ کہنا بھی درست ہیں، عام کتب میں یہی مؤخر الذکر الفاظ لکھے جاتے ہیں۔ یہ دعا انتہائی بابرکت ہے، جبکہ تمام مصائب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں، اس لیے صبر کے ساتھ یہ دعا پڑھتے رہنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 918
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3284
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ بَنَاتِهِ أَنَّ صَبِيًّا لَهَا ابْنًا أَوْ ابْنَةً قَدْ احْتُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا يَقْرَأُ لَهَا السَّلَامَ وَيَقُولُ: ( (إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى (وَفِي لَفْظٍ: لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى) وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ) )
سیّدنااسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پیغام بھیجا کہ اس کا بیٹا یا بیٹی موت کے قریب جا پہنچا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سلام بھیجا اور (تسلی دینے کے لیے) فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے جو اس نے لے لیا اور اس کے لیے ہے جو اس نے دیا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس (میرے بیٹی) صبر کرے اور اس پر اجر کی امید رکھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3284]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5655، 6655، ومسلم 923، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22119»
وضاحت: فوائد: … تعزیت اور تسلی دلانے کے لیے یہ بہترین الفاظ ہیں، بخاری ومسلم کی روایت میں اس دعا کے الفاظ یہ ہیں اور یہی عام کتب میں شائع ہوتے ہیں: إِنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہٗ مَا أَعْطٰی وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی۔ نیز دعا وغیرہ کے ذریعے تسلی دلانے کے لیے کوئی بھی جائز انداز اختیار کیا جا سکتا ہے، تعزیت کی فضیلت یہ ہے: محمد بن عمرو بن حزم روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یُعَزِّيْ أَخَاہُ بِمُصِیْبَۃٍ، إِلَّا کَسَاہُ للّٰہُ سُبْحَانَہٗ مِنْ حُلَلِ الْکَرَامَۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (ابن ماجہ: ۱۶۰۱، صحیحہ: ۱۹۵)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5655
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ صُنْعِ طَعَامٍ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ وَكَرَاهَةِ مِنْهُمْ لِأَجْلِ اجْتِمَاعِ النَّاسِ عَلَيْهِ
اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3285
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ حِينَ قُتِلَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَقَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ أَوْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ) )
سیّدناعبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سیّدناجعفر بن ابی طالب کی شہادت کی اطلاع آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3285]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3132، وابن ماجه: 1610، والترمذي: 998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1751»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3132
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3286
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ مَوْتِ زَوْجِهَا جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِهِ: ( (لَا تُغْفِلُوا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا فَإِنَّهُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمْ) )
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اپنے شوہر سیّدناجعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے میں غفلت نہ برتو، کیونکہ وہ اپنے سربراہ (کی شہادت) کہ وجہ سے مصروف ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3286]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ام عيسي الجزار، لكن يشھد له ما قبله أخرجه ابن ماجه: 1611، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27626»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ام عيسي الجزار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3287
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهُ وَخَاصَّتَهُ، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ، فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ) )
عروہ کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کوئی فوت ہوتا اور عورتیں جمع ہوتیں اور پھر ان کے چلے جانے کے بعد خاص خاص عورتیں باقی رہ جاتے تو وہ حکم دیتیں کی ہنڈیا میں تلبینہ پکایا جائے، پس وہ تیار کیا جاتا، پھر ثرید بنا کر اس پر تلبینہ ڈال دیا جاتا، پھر وہ کہتیں: عورتو! اس سے کھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور کسی حد تک غم کو بھی ہلکا کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3287]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5417، ومسلم: 2216، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24512، 25219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25734»
وضاحت: فوائد: … تلبینہ: مختلف تعریفوں کے ساتھ اس کی وضاحت کی گئی ہے: (۱)بھوسی یا چھنے ہوئے آٹے میں دودھ اور شہد ملا کر بنایا ہوا حریرہ، (۲) دودھ، (۳) خالص آٹا، (۴) وہ آٹا، جس میں چربی ہو۔ عام طور پر پہلا معنی ہی مراد لیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5417
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3288
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنِيعَةِ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِهِ مِنَ النِّيَاحَةِ
سیّدناجریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم تدفین کے بعد میت کے لواحقین کے ہاں لوگوں کے جمع ہونے کو اور کھانا تیار کرنے کو نوحہ شمار کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3288]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، نصر بن باب، وان كان ضعيف الحديث، متابَعٌ أخرجه ابن ماجه: 1612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6905»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ میت کے انتہائی قریبی رشتہ داروں کے لیے کھانا تیار کیا کریں۔ لیکن اس وقت ہمارے ہاں بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت جنازے اور تعزیت میں شرکت کرنے والوں کے لیے کھانے کا اہتمام کرنا ہے، جس کا جنازہ گاہ میں باقاعدہ اعلان بھی کیا جاتا ہے اور جس کو اہل میت چارو ناچار اپنی عزت سمجھنے لگ گئے ہیں۔یہ عجیب ہمدردی اور خیرخواہی ہے کہ ایک طرف تو اہل میت کرب و اذیت میں مبتلا ہوں اور دوسری طرف بڑے پیمانے پر ان کو کھانے کا اہتمام بھی کرنا پڑ جائے، بندۂ غریب نے خود بعض ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ برادری کے ایک بڑے آدمی کی فوتگی پر ابھی تک اس کے لیے غسل و کفن کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا کہ اہل میت جمع ہو کر کھانے کے بارے میں فکر مند تھے اور اپنی ایک گائے ذبح کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے اور ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں کہ وہ فوتگی کے رواجوں کو پورا کرتے کرتے کنگال ہو گئے اور دس دس سالوں تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکے، جبکہ اس سے قبل ان کے ذاتی کاروبار بھی تھے۔یہ نظام شرعاً اور اخلاقاً کسی طرح بھی جائز نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس رواج سے انتہائی تنگ ہے، لیکن بزعم خود اپنی عزت اور ناک کا مسئلہ سمجھ بیٹھے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ مَا جَاءَ فِي بَابِ وُصُولِ ثَوَابِ الْقَرِيبِ الْمُهْدَاةِ إِلَى الْمَوْتَى
وہ اعمالِ صالحہ جن کا ثواب فوت شدگان تک پہنچتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3289
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ، وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ بِشَيْءٍ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الْمِخْرَفَ (وَفِي لَفْظٍ: الْمِخْرَافَ) صَدَقَةٌ عَلَيْهَا
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنو ساعدہ کے بھائی سیّدناسعد بن عبادہ ساعدی رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا، جبکہ وہ موجود نہیں تھے،بعد میں انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھتے ہوئے کہا:اے اللہ کے رسول! میری عدم موجودگی میں میری ماں فوت ہو گئی ہے،اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے فائدہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں۔ تو انہوں نے کہا:میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخرف (یا مخراف) نامی باغ اس کے لیے صدقہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3289]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3080، 3508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3508»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2756
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3290
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ: میری والدہ اچانک فوت ہو گئی ہے، میرا خیال ہے کہ وہ بات کر سکتی تو صدقہ کرتی، تو اب اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اسے ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3290]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2760، ومسلم: 1004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24755»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2760
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3291
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ( (سَقْيُ الْمَاءِ) ) ، قَالَ: فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَنْ يَقُولُ ’’تِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ‘‘؟ قَالَ: الْحَسَنُ
حسن کہتے ہیں کہ سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہو گیا،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: میری والدہ فوت ہو گئی ہے، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانا۔ اس نے کہا: مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا کہ مدینہ میں یہ آل سعد کی سبیل ہے کے الفاظ کہنے والا راوی کون ہے۔ انھوں نے کہا: حسن ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3291]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 1681، والنسائي: 6/ 255، وابن ماجه:3684، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24346»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کی طرف سے کنواں کھدوایا تھا۔

الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه ابوداود: 1681
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں