الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. الْفَصْلُ الثَّامِنُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَذِكْرِ أَمَارَتِهَا
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
حدیث نمبر: 4046
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ( (مَنْ يَذْكُرُ مِنْكُمْ لَيْلَةَ الصَّحْبَاوَاتِ؟) ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَإِنَّ فِي يَدِي لَتَمَرَاتٍ أَتَسَحَّرُ بِهِنَّ، مُسْتَتِرًا بِمُؤَخَّرَةِ رَحْلِي مِنَ الْفَجْرِ وَذَلِكَ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ
۔ سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ سوال کیا: شب ِ قدر کب ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو یاد ہے کہ صہباوات والی رات کون سی تھی؟ سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مجھے یاد ہے، اس رات کو سحری کے وقت میں ہاتھ میں کھجوریں لے کر سحری کر رہا تھا اور طلوع فجر کے ڈر سے پالان کے پیچھے چھپا ہوا تھا، جبکہ اس وقت چاند طلوع ہو چکا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4046]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه۔ اخرجه الطيالسي: 329، وابو يعلي: 6393، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 10289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3565»
وضاحت: فوائد: … خیبر کے قریب ایک جگہ کا نام ”صہبائ“ ہے۔ سنن بیہقی اور قاموس وغیرہ میں اس جگہ کا نام مفرد ہی مذکور ہے، جبکہ اس حدیث میں جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، ممکن ہے کہ اس مقام کو ”صہبائ“ بھی کہتے ہوں اور ”صہباوات“ بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صہباوات والی رات کے بارے میں سوال کر کے سائل کو یہ سمجھانا چاہا کہ وہ قدر والی رات تھی، کیونکہ اسی رات کو اس وقت میں چاند طلوع ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 4047
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنِّي شَيْخٌ عَلِيلٌ، يَشُقُّ عَلَيَّ الْقِيَامُ فَأْمُرْنِي بِلَيْلَةٍ لَعَلَّ اللَّهَ يُوَفِّقُنِي فِيهَا لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ: ( (عَلَيْكَ بِالسَّابِعَةِ) )
۔ سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اوراس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں بوڑھا اوربیمار آدمی ہوں، میرے لیے قیام کرنا مشکل ہے، لہذا آپ میرے لیے کسی ایک رات کا تعین کر دیں، شاید اللہ تعالیٰ مجھے اس میں شب ِ قدر کی سعادت سے نواز دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساتویں یعنی ستائیسویں رات کا اہتمام کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4047]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه الطبراني: 11836، والبيھقي: 4/ 312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2149»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شب ِ قدر کا زیادہ امکان ستائیسویں تاریخ کی رات کو ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه الطبراني: 11836
حدیث نمبر: 4048
عَنْ أَبِي عَقْرَبٍ، قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاتَ غَدَاةٍ فِي رَمَضَانَ فَوَجَدْتُهُ فَوْقَ بَيْتِهِ جَالِسًا فَسَمِعْنَا صَوْتَهُ وَهُوَ يَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنَ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاةَ إِذًا صَافِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ) ) ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَوَجَدْتُهَا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ ابو عقرب کہتے ہیں:میں ماہِ رمضان میں ایک دن صبح کے وقت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے تھے، اتنے میں ہم نے ان کو یوں کہتے ہوئے سنا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسول نے پہنچا دیا، پھریہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: بلاشبہ ماہِ رمضان کی آخری سات راتوں کی درمیانی شب قدر والی ہے، اس کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ بالکل صاف ہوتا ہے اور اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔ میں نے ابھی اس کی طرف دیکھا ہے اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق پایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4048]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 394، وابن ابي شيبة: 2/ 512، 3/ 7، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3857»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه الطيالسي: 394
حدیث نمبر: 4049
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ وَسَمِعْتُهُ سَمَاعًا، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ: أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ: ( (مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي لَيْلَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ) ) ، قَالَ: شُعْبَةُ وَذَكَرَ لِي رَجُلٌ ثِقَةٌ عَنْ سُفْيَانَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّمَا قَالَ: ( (مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْبَوَاقِي) ) ، قَالَ شُعْبَةُ: فَلَا أَدْرِي قَالَ ذَا أَوْ ذَا، شُعْبَةُ شَكَّ، قَالَ أَبِي: الرَّجُلُ الثِّقَةُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں فرمایا: جو آدمی اس رات کا متلاشی ہو تو وہ اسے ستائیسویں شب میں تلاش کرے۔ امام شعبہ نے کہا: ایک ثقہ آدمی نے مجھے بیان کیا کہ امام سفیان تو یہ کہا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس طرح فرمایا تھا کہ جو آدمی اس رات کا متلاشی ہو تو وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔ امام شعبہ نے کہا: اب میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ ارشاد فرمایایا دوسرا، امام شعبہ کو شک ہو گیا، امام احمد نے کہا: ثقہ آدمی سے مراد امام یحیی بن سعید قطان ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4049]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2015، ومسلم: 1165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6474»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2015
حدیث نمبر: 4050
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: ( (إِنَّهَا لَيْلَةُ سَابِعَةٍ أَوْ تَاسِعَةٍ وَعِشْرِينَ، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فِي الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں فرمایا: یہ ستائیسویں یا انتیسویں رات ہوتی ہے، اس شب کو کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4050]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ اخرجه البزار: 1030، وابن خزيمة: 2194، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2543، والطيالسي: 2545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10745»
وضاحت: فوائد: … پچھلے چھ سات ابواب سے شب ِ قدر کے تعین کے بارے میں احادیث ِ مبارکہ کا سلسلہ جاری ہے، ان تمام احادیث کا خلاصہ یہ ہے: شب ِ قدر کو تلاش کرنے کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں کا قیام کیا جائے۔ ان میں سے کوئی رات، شب ِ قدرکے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ رات منتقل ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۴۰۳۳، ۴۰۳۵) سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں رمضان کی اکیس اور تئیس تاریخ کو شب ِ قدر تھی اور آخری باب کی احادیث سے ستائیسویںشب کے حق دلائل ملتے ہیں۔ شب ِ قدر کازیادہ امکان ستائیس تاریخ کو ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف اس رات کو قیام کا خصوصی اہتمام کیاجائے اور باقی طاق راتوں سے غفلت برتی جائے۔ لیلۃ القدر کی علامتیں حدیث نمبر (۴۰۲۲) میں بیان ہو چکی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين ۔ اخرجه البزار: 1030