🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. بَابُ جَوَازِ اعْتِكَافِ النِّسَاءِ حَتَّى الْمُسْتَحَاضَةِ
استحاضہ والی خاتون سمیت عورتوں کے اعتکاف کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4006
عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَذِنَ لَهَا، فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَتْ، فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا، فَضُرِبَ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ أَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ، فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ، فَقَالَ: ( (هَذِهِ؟) ) قَالُوا: بِنَاءُ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، وَزَيْنَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (آلْبِرَّ أَرَدْتُنَّ بِهَذَا؟ مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ) ) ، فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشْرَ شَوَّالٍ
۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کا ذکر کیا،یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعتکاف کی اجازت لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی،پھر انہوں نے اپنے لیے ایک خیمے کا حکم دیا،جو نصب کر دیا گیا، اس کے بعد سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ اس کے لیے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعتکاف کی اجازت طلب کریں۔ انہوں نے اجازت لی لے، چنانچہ انہوں نے بھی اپنے لیے خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا، جو نصب کر دیا گیا۔ جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ کچھ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنا خیمہ لگوا لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر پھرے تو یہ خیمے دیکھ کر پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدہ عائشہ، سیدہ حفصہ اور سیدہ زینب کے اعتکاف کیلئے خیمے لگائے گئے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس سے تمہارا مقصود نیکی کا ہے؟ میں نے اب اعتکاف نہیں کرنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آگئے اور جب ماہِ رمضان سے فارغ ہوئے تو شوال کے دس دنوں کا اعتکاف کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4006]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2045، ومسلم: 1173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25051»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مصلحت کے لیے اعتکاف ترک کر دیا تھا، لیکنیہ مسئلہ ثابت ہو گیا کہ خواتین کے لیے جائے اعتکاف بھی مسجد ہی ہے۔ اگر کوئی خاتون اعتکاف میں بیٹھنا چاہے تو وہ خاوند سے اجازت لے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2045
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4007
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: اعْتَكَفَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ مُسْتَحَاضَةٌ فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اہلیہ نے اعتکاف کیا، حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں، ان کو زردی اور سرخی مائل خون آتا تھا، بسا اوقات تو ہم ان کے نیچے تھال رکھتیں، جبکہ وہ نماز ادا کر رہی ہوتی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4007]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 310، 2037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25512»
وضاحت: فوائد: … استحاضہ: وہ خون ہے، جو کسی رگ کے پھٹنے کی وجہ سے عورت کی شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے، یہ خون حیض اور نفاس کے خون کے علاوہ ہوتا ہے، ایسی عورت کو مستحاضہ کہتے ہیں اور یہ صوم و صلاۃ سے مستثنی نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 310
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4008
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4008]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2026، ومسلم: 1171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25120»
وضاحت: فوائد: … اعتکاف کا محل مسجد ہی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسَاجِدِ} (سورۂ بقرہ: ۱۸۷) … ”عورتوںسے اس وقت مباشرت نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو۔“ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کی مردوں اور عورتوں میں جائے اعتکاف کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے، جو خواتین اعتکاف کرنے کی خواہش مند ہوں، وہ مسجد میں ہی اعتکاف کریں۔ عہد ِ نبوی میں عورتوں کا اعتکاف بھی مسجد میں ہی ہوتا تھا، اگر کسی علاقے میں کسی فتنے کا اندیشہ ہو تو خواتین اعتکاف نہ کریں، فتنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ مسئلہ کو تبدیل کر کے گھروں میں اعتکاف کا اہتمام شروع کر دیں۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2026
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. بَابُ الِاجْتِهَادِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4009
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوقِظُ أَهْلَهُ (وَفِي لَفْظٍ: نِسَاءَهُ) فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں اپنے اہل وعیال کو عبادت کے لیے بیدار رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4009]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ اخرجه الترمذي: 795، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 762»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ اخرجه الترمذي: 795
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4010
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَيْقَظَ أَهْلَهُ وَرَفَعَ الْمِئْزَرَ، (وَفِي لَفْظٍ: وَشَدَّ الْمِئْزَرَ) ، قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَا رَفَعَ الْمِئْزَرَ؟ قَالَ: اعْتِزَالُ النِّسَاءِ
۔ (دوسری سند) جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل وعیال کو بیدار رکھتے اور چادر کس لیا کرتے تھے، ابو بکر بن عیاش سے کسی نے پوچھا: چادر کس لینے کا مفہوم کیا ہے؟ انھوں نے کہا: بیویوں سے علیحدگی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4010]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1103»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1103
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4011
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ماہِ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ رات کو خود بھی بیدار رہتے اور اپنے اہل وعیال کو بھی جگا کر رکھتے اور چادر کس لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4011]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2024، ومسلم: 1174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24632»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2024
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4012
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَتْ: كَانَ يَخْلِطُ فِي الْعِشْرِينَ الْأُولَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ وَصَلَاةٍ، فَإِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ جَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ماہِ رمضان کے پہلے بیس دنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو سوتے بھی تھے اور نماز بھی پڑھتے تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے اور چادر کس لیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4012]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24894»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24894
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4013
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت کرنے میں جو محنت کرتے تھے، وہ باقی دنوں میں نہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4013]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25033»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رمضان کے آخری عشرے کی راتوں کو خوب عبادت کی جائے اور آل اولاد کو بھی اس مقصد کے لیے بیدار رکھا جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شب ِ قدر بھی اسی عشرے میں ہے اور یہ رمضان کا آخر بھی ہے اور عام لوگوں نے رہی سہی کمی بیشی کو بھی اسی دھاکے میں پورا کرنا ہے۔ آج کل اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب وہ اس عشرے کی راتوں کونوافل کا اور شب ِ قدر کے قیام کے لیے بیدار رہنے کا اہتمام کرتے ہیں تو ان کا بیشتر وقت گپ شپ لگانے اور چائے وائے پینے میں گزر جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25033
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. وَفِي أَيِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَفِيهِ فُصُولٌ - الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِهَا وَمَا يَقُولُ مَنْ رَآهَا
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4014
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بحالت ِ ایمان اور اجرو ثواب کے حصول کی خاطر ماہِ رمضان کا قیام کیا، اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4014]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2014، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7278»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2014
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4015
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) ، بِمِثْلِهِ وَفِيهِ) ( (فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) ) بَدَلَ قَوْلِهِ فِي الطَّرِيقِ الْأَوْلَى: ( (غُفِرَ لَهُ) )
۔ (دوسری سند) اوپر والی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں غُفِرَ کی بجائے یُغْفَرُ کے الفاظ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4015]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9278»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9278
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں