🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. وَفِي أَيِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَفِيهِ فُصُولٌ - الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلِهَا وَمَا يَقُولُ مَنْ رَآهَا
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4016
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ؟ قَالَ: ( (تَقُولِينَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! اگر میں شب ِ قدر کو پالوں تو کونسی دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کرنا: اَللّٰہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی۔ (اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف کر دے۔) [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4016]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 3513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25898»
وضاحت: فوائد: … شب ِ قدر انتہائی عظمت و فضیلت والی رات ہے، اس کی فضیلت کو معلوم کرنے کے لیے سورۂ قدر کو سمجھ لینا ہی کافی ہے، جس کے مطابق اس ایک رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے، یقینا اس رات کا قیام فرض نہیں ہے، لیکن جو شخص قیام کر کے اس میں موجود خیر و بھلائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ِ مبارکہ یہ ہے: سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((قَدْ جَائَ کُمْ رَمَضَانُ، شَہْرٌ مُبَارَکٌ، افْتَرَضَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ صِیَامَہُ، تُفْتَحُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ، وَتُغْلَقُ فِیْہِ اَبْوَابُ الْجَحِیْمِ، وَتُغَلْقُ فِیْہِ الشَّیَاطِیْنُ، فِیْہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ اَلْفِ شَہْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَیْرَہَا فَقَدْ حُرِمَ۔)) (نسائی: ۴/ ۱۲۹،مسند احمد: ۹۴۹۳،حدیث صحیح، وھذا اسناد منقطع)
”ماہِ رمضان شروع ہو چکا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس ماہ کے روزے فرض کئے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزارمہینوں سے بھی افضل ہے، جو اس رات کی برکت سے محروم رہا، وہ محروم قرار پائے گا۔“
اس باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ اس رات کا اللہ تعالیٰ کی معافی کے ساتھ گہرا تعلق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ کے سوال پر صرف اس دعا کی تعلیم دی:
اَللّٰہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی۔ ترجمہ: اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف کر دے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 3513
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا جَاءَ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ أَوْ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4017
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ هِيَ أَوْ فِي غَيْرِهِ؟، قَالَ: ( (بَلْ هِيَ فِي رَمَضَانَ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: تَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا، فَإِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: ( (بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ؟ قَالَ: ( (الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَّلِ، أَوْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ) ) ، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ ثُمَّ اهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ، قُلْتُ: فِي أَيِّ الْعِشْرِينَ هِيَ؟ قَالَ: ( (ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا) ) ، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ وَحَدَّثَ ثُمَّ اهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي عَلَيْكَ لَمَا أَخْبَرْتَنِي فِي أَيِّ الْعَشْرِ هِيَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ مُنْذُ صَحِبْتُهُ أَوْ صَاحَبْتُهُ، كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: ( (الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! مجھے شب ِ قدر کے بارے میں بتلائیں کہ یہ ماہِ رمضان میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ماہِ رمضان میں ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیایہ رات اس وقت تک ہوتی ہے، جب تک اللہ کے نبی دنیا میں موجود ہوں اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو یہ بھی اٹھا لی جاتی ہے یایہ قیامت تک باقی رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،یہ تو قیامت تک باقی رہے گی۔ میں نے کہا: یہ ماہِ رمضان کے کس حصہ میں ہوتی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے پہلے یا آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف باتیں بیان کیں، لیکن بیچ میں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصروفیت سے وقتی عدم توجہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے اچانک یہ سوال کر دیا کہ ان بیس راتوں میں سے کونسی شب ِ قدر ہو سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو، اب اس کے بعد مجھ سے کوئی سوال نہ کرنا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید گفتگو جاری رکھی اور میں نے پھر موقع پا کر اور آپ کی مصروفیت سے وقتی عدم توجہ کو غنیمت جان کر یہ سوال کر دیا کہ اے اللہ کے رسول! میرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو حق ہے، میں اس کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مجھے بتلا دیں کہ ان دس راتوں میں قدر والی رات کون سی ہے؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ پر اس قدر غصہ آیا کہ جب سے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں تھا، کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر اس قدر غضبناک نہیں ہوئے تھے، بہرحال پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیتے ہوئے فرما دیا کہ: تم اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرو، اب اس کے بعد کوئی سوال نہ کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4017]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مرثد بن عبد الله الزماني، لم يرو عنه سوي ابنه مالك، قال الذھبي: فيه جھالة، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 3427، والبزار في ’’مسنده‘‘: 4068، وابن خزيمة: 2170، والحاكم: 1/ 437، والبيھقي: 4/ 307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21831»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ قدیم صحبت والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصے کی وجہ ان کا اصرار کے ساتھ سوال کرنا تھا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع بھی کر چکے تھے، لیکن شب ِ قدر کی معرفت اور حصول علم کی حرص ان کو مزید سوال پر آمادہ کر رہی تھی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4018
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَرَوْنَ الرُّؤْيَا فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِنِّي أَوْ قَالَ: أَسْمَعُ رُؤْيَاكُمْ تَوَاطَأَتْ عَلَى السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَحَرِّيهَا، فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ مختلف خواب دیکھتے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کرتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے خواب سن رہا ہوں، یہ ماہِ رمضان کی آخری سات راتوں سے موافقت رکھتے ہیں، لہذا تم میں سے جو آدمی شب ِ قدر کو تلاش کرنا چاہتا ہے، وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4018]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2015، ومسلم: 1165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4499»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2015
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4019
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ، فِي التِّسْعِ الْغَوَابِرِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو آخری دس یا آخری نو راتوں میں تلاش کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4019]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4925»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4925
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4020
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِمْ مُسْرِعًا، قَالَ: حَتَّى أَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِهِ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا قَالَ: جِئْتُ مُسْرِعًا أُخْبِرُكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَلَكِنِ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی تیزی سے صحابہ کی طرف آئے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلدی کو دیکھ کر گھبرا گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس پہنچے تو فرمایا: میں تمہیں شب ِ قدر سے آگاہ کرنے کے لیے تیزی سے آرہا تھا، لیکن جو چیز تمہیں بتانا چاہتا تھا وہ راستہ میں مجھے بھلا دی گئی، بہرحال تم اس رات کو ماہِ رمضان کے آخری دھاکے میں تلاش کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4020]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني: 12621، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2352»
وضاحت: فوائد: … بھول جانے کی وجہ یہ تھی کہ دو آدمی جھگڑ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُدھر مصروف ہوئے تو شب ِ قدر کی علامتیں بھلا دی گئیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني: 12621
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4021
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَإِنْ غُلِبْتُمْ، فَلَا تُغْلَبُوا عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي) )
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کیا کرو، اگر تم ایسا کرنے سے مغلوب ہو جاؤ تو آخری سات دنوں میں اس کو تلاش کرنے سے پیچھے نہ رہنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4021]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1111»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. (الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ وَذِكْرِ أَمَارَاتِهَا
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4022
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْبَوَاقِي مَنْ قَامَهُنَّ ابْتِغَاءَ حِسْبَتِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَهِيَ لَيْلَةُ وِتْرٍ تِسْعٍ، أَوْ سَبْعٍ أَوْ خَامِسَةٍ، أَوْ ثَالِثَةٍ، أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ) ) ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أَمَارَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَنَّهَا صَافِيَةٌ بَلْجَةٌ، كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا سَاطِعًا، سَاكِنَةٌ سَاجِيَةٌ، لَا بَرْدَ فِيهَا وَلَا حَرَّ، وَلَا يَحِلُّ لِكَوْكَبٍ أَنْ يُرْمَى بِهِ فِيهَا حَتَّى تُصْبِحَ، وَإِنَّ أَمَارَتَهَا أَنَّ الشَّمْسَ صَبِيحَتَهَا تَخْرُجُ مُسْتَوِيَةً، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ مِثْلَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَلَا يَحِلُّ لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا يَوْمَئِذٍ) )
۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شب ِ قدر، ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے، جو آدمی اجرو ثواب کی خاطر ان دس راتوں میں قیام کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے گا، یہ رات طاق راتوں یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں یا انتیسوں کو ہو گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: شب ِ قدر کی علامت یہ ہے کہ یہ رات صاف اور روشن ہوتی ہے، گویا اس میں چاند چمک رہا ہے، انتہائی پرسکون ہوتی ہے، اس رات میں سردی ہوتی ہے نہ گرمی، اس رات کو صبح تک کسی تارے کو نہیں پھینکا جاتا اور جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، وہ چودھویں کے چاند کی مانند ہوتا ہے اوراس روز اس کے طلوع ہوتے وقت شیطان اس کے سامنے نہیں آتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4022]
تخریج الحدیث: «الشطر الاول من الحديث حسن، والشطر الثاني محتمل للتحسين لشواهده، وفي ھذا السند بقيه بن الوليديدلس تدليس التسوية، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23145»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے اس جملے ”وَہِیَ لَیْلَۃُ وِتْرٍ تِسْعٍ، اَوْ سَبْعٍ اَوْ خَامِسَۃٍ اَوْ ثَالِثَۃٍ، اَوْ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔“ کے معانییہ ہیں: ”قدر والی رات نویںیا ساتویںیا پانچویںیا تیسرییا آخری رات ہوتی ہے۔“ یہ دراصل عربوں کا ایک خاص انداز ہے کہ جب کسی ماہ کا نصف حصہ گزر جائے تو وہ آسانی کے لیے اس کی تاریخ کو آخر سے گننا شروع کر دیتے ہیں، اس حدیث میں ”نویں“ سے مراد یہ ہے کہ جب مہینہ کے (۹) دن باقی ہوں، علی ہذا القیاس، ہم نے اپنے رواج کو دیکھ کر اس ٹکڑے کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ”یہ رات طاق راتوں یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویںیا انتیسوں کو ہو گی۔“ ”اس رات کو صبح تک کسی تارے کو نہیں پھینکا جاتا“ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس رات کو کلمات کی چوری کرنے کے لیے شیطان کو آسمان کی طرف چڑھنے کی جرأت نہیں ہوتی۔
شب ِ قدر کی جتنی علامتیں اس حدیث میں بیان کی گئی ہیں، ان میں سے درج ذیل دو علامتوں کے ذریعے اس رات کا اندازہ کر لینا ہمارے بس میں ہے:
(۱)رات کا صاف اور روشن ہونا، انتہائی پرسکون ہونا اور اس رات کو سردی کا ہونا نہ گرمی کا۔
(۲) جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، وہ چودھویں کے چاند کی مانند ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ ”اس رات کو صبح تک کسی تارے کو نہیں پھینکا جاتا۔“اس سے مراد شہابِ ثاقب ہے، جو آسمان کی باتیں چرانے کے لیے وہاں پہنچ جانے والے شیطانوں پر فائر کیا جاتا ہے، چونکہ شب ِ قدر کو فرشتوں کا کثرت سے نزول ہو رہا ہوتا ہے، اس لیےیہ شیطان آسمان کی طرف چڑھنے کی جرأت ہی نہیں کرتے۔

الحكم على الحديث:
الشطر الاول من الحديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4023
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: ( (هِيَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَإِنَّهَا فِي وِتْرٍ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، مَنْ قَامَهَا احْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَمَا تَأَخَّرَ) ) )
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ رات ماہِ رمضان میں ہوتی ہے، پس تم اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو اور اس عشرے کی بھی طاق راتوں میں،یعنی اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا رمضان کی آخری رات میں، جس نے اجرو ثواب کے حصول کے لیے اس رات قیام کیا، اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4023]
تخریج الحدیث: «حديث حسن دون قوله: ’’او في آخر ليلة‘‘، وھذا اسناده فيه عبد الله بن محمد بن عقيل ضعيف، وعمر بن عبد الرحمن لم يرو عنه غير ابن عقيل، فھو في عداد المجھولين، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘ أخرجه الشاشي في ’’مسنده‘‘: 1288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23143»
وضاحت: فوائد: … چونکہ انتیس روزوں کے بعد چاند کی نظر آنے کی توقع ہوتی ہے، اس لیے انتیسویں رات کو آخری رات قرار دیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن دون قوله: ’’او في آخر ليلة‘‘
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4024
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ لِتِسْعٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ لِسَبْعٍ يَبْقَيْنَ أَوْ لِخَمْسٍ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ) )
۔ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس رات کو آخری عشرہ میں تلاش کرو، یعنی جب ماہِ رمضان کے نو دن یا سات دن یا پانچ دن یا تین دن باقی ہوں یا پھر اس ماہ کی آخری رات کو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4024]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20647»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 794
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي أَنَّهَا فِي الْوِتْرِ مِنْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4025
عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِمُلْتَمِسِهَا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي عَشْرِ الْأَوَاخِرِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ مِنْهُ) ) ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو بَكْرَةَ يُصَلِّي فِي الْعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ كَصَلَاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ
۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس شب ِ قدر کا ذکر ہوا، انہوں نے کہا:میں تو اس رات کو صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا، کیونکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا معمول یہ تھا کہ وہ رمضان کے پہلے بیس دنوں میں تو پورے سال والی عادت کے مطابق نماز پڑھتے، لیکن جب آخری عشرے کا آغاز ہو جاتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4025]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20688»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الترمذي: 794
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں