🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
82. الْفَصْلُ السَّادِسُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4036
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ هَذَا الشَّهْرِ (يَعْنِي رَمَضَانَ) فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَتَى نَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ الْمُبَارَكَةَ؟ قَالَ: ( (الْتَمِسُوهَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ) ) ، وَقَالَ: وَذَلِكَ مَسَاءَ لَيْلَةِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَهِيَ إِذًا يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَّلُ ثَمَانٍ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّهَا لَيْسَتْ بِأَوَّلِ ثَمَانٍ وَلَكِنَّهَا أَوَّلُ السَّبْعِ، إِنَّ الشَّهْرَ لَا يَتِمُّ) )
۔ سیدناعبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ماہِ رمضان کے اواخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس برکت والی رات کو کب تلاش کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو اسی آج والی رات میں تلاش کرو۔ یہ تئیسویں رات کی شام کو بات ہو رہی تھی، ایک آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول! اس کا مطلب یہ ہوا کہ بقیہ آٹھ راتوں میں پہلی رات شب ِ قدر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بقیہ آٹھ میں پہلی نہیں ہے، بلکہ بقیہ سات میں پہلی ہے، یہ مہینہ تیس دن کا پورا نہیں ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ اخرجه ابن خزيمة: 2185، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 5481، و أخرجهه بنحوه ابوداود: 1380، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16142»

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ اخرجه ابن خزيمة: 2185
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4037
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حُذَيْفَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى الْقَمَرِ صَبِيحَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ، وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: إِنَّمَا يَكُونُ الْقَمَرُ كَذَاكَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ
۔ ایک صحابی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے شب ِ قدر کی صبح کو چاند کی طرف دیکھا، وہ مجھے آدھے تھال کی مانند نظر آیا، ابو اسحاق نے کہا: تئیسویں رات کی صبح کو چاند ایسے ہی دکھائی دیتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4037]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 3411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23517»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 3411
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4038
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَرَجْتُ حِينَ بَزَغَ الْقَمَرُ، كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ) ) ، فَقَالَ: ( (اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ) )
۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت نکلا جب چاند طلوع ہو رہا تھا، وہ آدھے تھال کی طرح لگ رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج شب ِ قدر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4038]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حديج بن معاويه، كان سييء الحفظ كثير الوھم، وسماعه من ابي اسحاق السبيعييغلب علي ظننا انه بعد الاختلاف لمخالفة شعبة له في اسناد الحديث۔ اخرجه ابو يعلي: 525، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 793»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف حديج بن معاويه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4039
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، قَالَ: فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي، قَالَ: فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ماہِ رمضان میں سویا ہوا تھا، مجھے خواب میں کہا گیا کہ آج شب ِ قدر ہے، میں اونگھتا ہوا اٹھ پڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمے کی رسیوں کے ساتھ لٹکا، پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، یہ تئیسویں رات تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4039]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني: 11777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2302»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني: 11777
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4040
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟) ) ، قَالَ: قُلْنَا: مَضَتْ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ ثَمَانٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا، بَلْ مَضَتْ مِنْهُ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ سَبْعٌ، اطْلُبُوهَا اللَّيْلَةَ) ) ، قَالَ: يَعْلَى فِي حَدِيثِهِ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس مہینہ کے کتنے دن گزر چکے ہیں؟ ہم نے کہا: بائیس دن گزر چکے ہیں اور آٹھ باقی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، بلکہ بائیس گزر چکے ہیں اور سات باقی ہیں، اس رات کو شب ِقدر کو تلاش کرو، مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4040]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابن ماجه: 1656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7417»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی پہلی احادیث کے راوی سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ رمضان کی تئیسویں رات کو شب ِ قدر قرار دیتے تھے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال اس باب سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں رمضان کی تئیسویں کی رات بھی، قدر والی رات ہوئیہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابن ماجه: 1656
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. الْفَصْلُ السَّابِعُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4041
عَنْ بِلَالِ (بْنِ رَبَاحٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ أَرْبَعِ وَعِشْرِينَ) )
۔ سیدنابلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چوبیسویں رات قدر والی رات ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4041]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ عبد الله بن لھيعة وقد خولف۔ اخرجه البزار في ’’مسنده‘‘: 1376، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)،والطبراني: 1102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24387»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لسوء حفظ عبد الله بن لھيعة وقد خولف۔ اخرجه البزار في ’’مسنده‘‘ : 1376
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. الْفَصْلُ الثَّامِنُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَذِكْرِ أَمَارَتِهَا
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4042
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَذَاكَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ أُبَيٌّ: أَنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ! أَعْلَمُ أَيَّ لَيْلَةٍ هِيَ، هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَخْبَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ تَمْضِي مِنْ رَمَضَانَ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ الشَّمْسَ تُصْبِحُ الْغَدَ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ تَرَقْرَقُ، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ، فَزَعَمَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ أَنَّ زِرًّا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَصَدَهَا ثَلَاثَ سِنِينَ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ يَدْخُلُ رَمَضَانُ إِلَى آخِرِهِ، فَرَآهَا تَطْلُعُ صَبِيحَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، تَرَقْرَقُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْضَاءَ تَرَقْرَقُ)
۔ زربن حبیش بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے شب ِ قدر کے بارے میں آپس میں بحث کی، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: معبودِ برحق کی قسم! میں جانتا ہوں کہ وہ کونسی رات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کے بارے میں بتلایا تھا، یہ ماہِ رمضان کی ستائیس تاریخ کی رات ہے، اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو جب سورج بلند ہو رہا ہوتا ہے تو اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ زرّ نے اسے بتلایا کہ اس نے مسلسل تین برس تک پورا ماہِ رمضان طلوع آفتاب کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ واقعی ستائیس کی صبح کو سورج طلوع کے بعد جب بلند ہو رہا ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، جبکہ اس کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4042]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21509»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 762
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4043
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: ( (لَا أَحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ) ) ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ: ( (لَا أَحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ) ) ، فَقُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى أَصْبَحَ وَسَكَتَ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے ماہِ رمضان کی تئیسویں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رات کے پہلے ایک تہائی تک قیام کیا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم جس چیز کو تلاش کر رہے ہو، وہ بعد میں آئے گی۔ پس ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم جس رات کے متلاشی ہو وہ اس کے بعد ہوگی۔ سو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ستائیسویں شب کو صبح تک قیام کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4043]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابن خزيمة: 2205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21899»
وضاحت: فوائد: … ستائیسویںشب کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاموش ہو جانا اور اگلی طاق رات کی طرف رہنمائی نہ کرنا، اس ثابت ہو رہا ہے کہ یہی شب ِ قدر ہو گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابن خزيمة: 2205
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4044
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيٍّ: أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَإِنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ كَانَ يَقُولُ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا، قَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّهَا لِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَكِنَّهُ عَمَّى عَلَى النَّاسِ لِكَيْ لَا يَتَّكِلُوا، فَوَاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا فِي رَمَضَانَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ! وَأَنَّى عَلِمْتَهَا؟ قَالَ: بِالْآيَةِ الَّتِي أَنْبَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا فَوَاللَّهِ إِنَّهَا لَهِيَ مَا يُسْتَثْنِي، قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا الْآيَةُ؟ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ غَدَاةَ إِذًا كَأَنَّهَا طَسْتٌ، لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: حَتَّى تَرْتَفِعَ)
۔ زِرّ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے شب ِ قدر کے بارے میں بتائیں، ام عبد کا بیٹایعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو یہ کہتے ہیں کہ جو آدمی سارا سال قیام کرے گا،وہ اس رات کو پا ہی لے گا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ رات ماہِ رمضان میں ہے اور ہے بھی ستائیسویں رات، دراصل انہوں نے اس رات کے تعین کو لوگوں سے اس لیے پوشیدہ رکھا کہ لوگ اسی پر اکتفا کر لیں گے (باقی راتوں کا قیام ترک کر دیں گے)۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب اتارنے والے اللہ کی قسم! یہ رات ماہِ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابومنذر! یہ علم آپ کو کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک علامت بتلائی تھی، پھر ہم نے اسے شمار کیا اور خوب یاد رکھا۔ اللہ کی قسم! وہ یہی رات ہے۔ زِرّ نے کہا: سیدنا ابی نے استثنا نہیں کیا، (ان شاء اللہ بھی نہیں کہا)۔ میں (عاصم) نے زر سے کہا: وہ علامت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: وہ یہ ہے کہ شب ِ قدر کی صبح کو سورج ایک تھال کی مانند دکھائی دیتا ہے، اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں،یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4044]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21513»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 762
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4045
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ يَقُولُ: لَوْلَا سُفَهَاؤُكُمْ، لَوَضَعْتُ يَدَيَّ فِي أَذُنَيَّ ثُمَّ نَادَيْتُ: أَلَا إِنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي رَمَضَانَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، قَبْلَهَا ثَلَاثٌ وَبَعْدَهَا ثَلَاثٌ، نَبَّأَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبْنِي عَنْ نَبَإِ مَنْ لَمْ يَكْذِبْهُ، قُلْتُ لِأَبِي يُوسُفَ: يَعْنِي أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَذَا هُوَ عِنْدِي
۔ زربن حبیش نے کہا: اگر یہ کم عقل لوگ نہ ہوتے تو میں کان میں انگلی ڈال کر زور زور سے یہ اعلان کرتا کہ شب ِ قدر، ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی آخری سات راتوں میں سے پہلے تین راتوں کے بعد اور آخری تین راتوں سے پہلے ہوتی ہے، اس شخصیت نے مجھے یہ بات بتائی جو مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی اور اس کو ایسی ہستی نے بیان کیا کہ وہ بھی اس کو جھوٹی بات بیان نہیں کر سکتی۔ میں نے ابو یوسف سے کہا: کیا ان کی مراد سیدنا ابی بن کعب اور نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں؟ انھوں نے کہا: جی، اسی طرح بات ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4045]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل يزيد بنابي سليمان الكوفي، فھو مجھول الحال، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21518»
وضاحت: فوائد: … زِرّ بن حبیش کی مراد ستائیسویں شب ہے، وہ ماہِ رمضان کو تیس دنوں کا فرض کر کے آخری سات راتوں کی درمیان والی شب کو قدر والی شب سمجھ رہے ہیں، جو کہ رمضان کی ستائیسوں شب بنتی ہے، انھوں نے یہ روایت سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے لی اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، ان کی جھوٹ نہ بول سکنے والی ہستیوں سے مراد یہی دو شخصیات ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف من اجل يزيد بنابي سليمان الكوفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں