🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي أَنَّهَا فِي الْوِتْرِ مِنْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4026
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِي وِتْرٍ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهَا فَنُسِّيتُهَا وَهِيَ لَيْلَةُ مَطَرٍ وَرِيحٍ أَوْ قَالَ: قَطْرٍ وَرِيحٍ) )
۔ سیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو، میں نے اس رات کو دیکھا تو تھا، لیکن پھر مجھے بھلا دیا گیا، (اس دفعہ) یہ بارش اور ہوا والی رات ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4026]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ’’وھي ليلة مطر وريح‘‘ وھذا اسناد ضعيف، عبد الرحمن بن شريك واھي الحديث، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘ وقال: ربما اخطأ، وابوه شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ۔ اخرجه البزار: 1031، والطبراني: 1962، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21237»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: ’’وھي ليلة مطر وريح‘‘ وھذا اسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4027
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ فَرُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ، أَوِ السَّابِعَةِ أَوِ الْخَامِسَةِ، (وَفِي لَفْظٍ فَاطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ أَوْ سَابِعَةٍ أَوْ خَامِسَةٍ) ) )
۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں بتلانا چاہتے تھے، (لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ) دو آدمی جھگڑ رہے تھے، اور پھر فرمایا: میں تمہیں شب ِ قدر کے بارے میں بتلانے کے لیے آرہا تھا، لیکن جب دو آدمیوں کو جھگڑتا ہوا پایا تو وہ علامتیں اٹھا لی گئیں اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو، اب تم اس کو آخری عشرے میں اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4027]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 49، 2023، 6049، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23048»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ استدلال بھی کر لینا چاہیے کہ مسلمانوں کا آپس میں جھگڑناکس قدر نحوست والا فعل ہے کہ اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ ٔ مبارکہ سے شب ِ قدر کی علامتیں اٹھا لی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرماناکہ” ممکن ہے کہ اسی میں تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔“ بہتری کی وجہ یہ ہے کہ اگر شب ِ قدر کا تعین کر دیا جاتا ہے تو صرف ایک رات کا قیام کیا جاتا، اب جو شخص لیلۃ القدر کو پانے کا ارادہ کرے گا، اس کو آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں کا قیام کرنا پڑے گا، ان میں سے ایک قدر والی رات ہو گی اور باقی چار راتوں کے قیام کا ثواب بھی مل جائے گا۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 49
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4028
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا، فَفِي أَيِّ الْوِتْرِ تَرَوْنَهَا
۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے، تم اس کو جانتے ہی ہو، تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو، تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ کونسی طاق رات ہوگی؟ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4028]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 513، والبزار: 210، وابو يعلي: 165، 168، وابن خزيمة: 2172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 85 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 85»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 513
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4029
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس رات کو آخری عشرے میں اس وقت تلاش کیا کرو، جب نو یا پانچ یا سات راتیں باقی ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4029]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3401»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2021
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4030
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4030]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4031
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ وَقَدْ بُيِّنَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَمَسِيحُ الضَّلَالَةِ، فَكَانَ تَلَاحٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ بِسُدَّةِ الْمَسْجِدِ، فَأَتَيْتُهُمَا لِأَحْجِزَ بَيْنَهُمَا فَأُنْسِيتُهَا وَسَأَشْدُو لَكُمْ شَدْوًا، أَمَّا لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا، وَأَمَّا مَسِيحُ الضَّلَالَةِ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ، أَجْلَى الْجَبْهَةِ، عَرِيضُ النَّحْرِ، فِيهِ دَفْءٌ، كَأَنَّهُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ!، يَضُرُّنِي شَبَهُهُ؟ قَالَ: ( (لَا، أَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ امْرُؤٌ كَافِرٌ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے شب ِ قدر اور ضلالت والے مسیح دجال کے بارے میں حتمی طور پر بتلا دیا گیا تھا، میں تمہیں آگاہ کرنے کے لیے آیا، لیکن مسجد کے دروازے پر دو آدمی آپس میں الجھ رہے تھے، میں ان کے درمیان رکاوٹ بننے کے لیے ان کی طرف گیا، اتنے میں مجھے ان باتوں کا علم بھلا دیا گیا، اب بالاختصار بات یہ ہے کہ تم شب ِ قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور دجال کانا ہوگا، پیشانی پر بال تھوڑے ہوں گے، گردن موٹی ہوگی، کبڑے پن کی وجہ سے جھکا ہوا ہو گا، یوں سمجھیں کہ گویا کہ وہ قطن بن عبدالعزی کے مشابہ ہوگا۔ یہ سن کر سیدنا قطن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس کے ساتھ میری مشابہت میرے لیے نقصان دہ تو نہیں ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، تم مسلمان ہو اور وہ کافر ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4031]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7892»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4032
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ، فَلَمَّا تَفَضَّلَ أَمَرَ بِبُنْيَانِهِ، فَنُقِضَ ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَنَّهَا أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ فَخَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ فَجَاءَ رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ، مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ) ) ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ! إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: أَنَا أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكُمْ، فَمَا التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ؟ قَالَ: تَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا التَّاسِعَةُ، وَتَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، وَتَدَعُ الَّتِي تَدْعُونَ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ وَالَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب ِ قدر کی وضاحت سے قبل رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا، جب یہ عشرہ بیت گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حجرے کو اکھاڑنے کا حکم دیا، سو اسے اکھاڑ دیا گیا، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر واضح ہوا کہ وہ رات تو آخری عشرے میں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ حجرہ دوبارہ لگا دیا جائے، پس اسے دوبارہ کھڑا کر دیا گیا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا، پھر لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! مجھے حتمی طور پر شب ِ قدر کے بارے میں بتلا دیا گیا تھا اور میں تمہیں آگاہ کرنے کے لیے آرہا تھا، لیکن ہوا یوں کہ دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے،ان کے ساتھ شیطان بھی تھا، پس مجھے یہ علم بھلا دیا گیا، اب تم اس رات کو نویں اور ساتویں اور پانچویں طاق رات میں تلاش کرو۔ میں ابونضرہ نے کہا:اے ابوسعید! آپ ہم سے بہتر گنتی جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم (صحابہ ہونے کی وجہ سے) تمہاری بہ نسبت اس کے زیادہ حقدار بھی ہیں۔ میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: جس رات کو تم اکیسویں رات کہتے ہو، اسے چھوڑ دو، اس سے اگلی رات نویں ہے،جس رات کو تم تئیسویں رات کہتے ہو، اسے چھوڑ دو اس سے اگلی رات ساتویں ہے اور جس رات کو تم پچیسویں رات کہتے ہو، اسے چھور دو، اس سے اگلی رات پانچویں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4032]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11092»
وضاحت: فوائد: … اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول ”نویں، ساتویں اور پانچویں“ سے مراد اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات ہے، لیکن سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی وضاحت کا مقصد مہینہ کو تیس دنوں کا فرض کر کے سائل کو سمجھانا ہے کہ عرب لوگ آخر سے بھی مہینہ کو شمار کر لیتے ہیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا تعلق (۲۹) دنوں کے مہینہ سے ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1167
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. الْفَصْلُ الْخَامِسُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4033
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِنَّهَا تَدُورُ مِنَ السَّنَةِ فَمَشَيْنَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ! سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا صَبِيحَةَ عِشْرِينَ رَجَعَ وَرَجَعْنَا مَعَهُ، وَأُرِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيَتْ، فَقَالَ: ( (إِنِّي رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا فَأَرَانِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَمَنِ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ، ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ مِنْهَا وَهَاجَتْ عَلَيْنَا السَّمَاءُ آخِرَ تِلْكَ الْعَشِيَّةِ، وَكَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ عَرِيشًا مِنْ جَرِيدٍ، فَوَكَفَ، فَوَالَّذِي هُوَ أَكْرَمُهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ لَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي بِنَا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَإِنَّ جَبْهَتَهُ وَأَرْنَبَةَ أَنْفِهِ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ) )
۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں شب ِ قدر کا تذکرہ ہوا۔ تو بعض لوگوں نے کہا کہ یہ سارے سال میں گھومتی ہے۔ یعنی کبھی کسی مہینہ میں آتی ہے اور کبھی کسی مہینہ میں۔ تو ہم سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے۔ میں نے کہا: ابوسعید رضی اللہ عنہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شب ِ قدر کے متعلق کچھ سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان کے درمیانی عشرہ کا اعتکاف کیا۔ اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ اعتکاف کیا۔جب بیس کی صبح ہوئی تو آپ اور ہم سب اعتکاف سے باہر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب ِ قدر کے متعلق حتمی طور پر بتلا دیا گیا تھا لیکن بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ علم بھلا دیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے شب ِ قدر کو دیکھا پھر مجھے وہ بھلوا دی گئی۔ اس رات میں نے خود کو دیکھا کہ میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ جن لوگوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا وہ واپس آجائیں۔ اب اس رات کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کریں۔ اس دن کے آخری حصہ میں ہم پر آسمان خوب برسا۔ مسجد کی چھت شاخوں کی تھی۔ وہ بہہ پڑی۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عزت سے نوازا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتاب نازل کی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناک پر کیچڑ لگی ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4033]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2018، 2027، ومسلم: 1167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11204»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں ”نمازِمغرب“ کا ذکر غلطی ہے، یہ نمازِ فجر کا واقعہ تھا، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ اور خود اس حدیث کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے، کیونکہ ”آخِرَ تِلْکَ الْعَشِیَّۃِ“ عشاء کے بعد کا یا ایک تہائی رات کا وقت بنتا ہے، اس طرح اس وقت میں ہونے والی بارش کے بعد نماز فجر ہی پڑھی گئی تھی۔ صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: اکیسویں رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے نماز پر مسجد کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر سے فارغ ہو کر پھرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مٹی اور پانی سے بھرا ہوا تھا۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اکیسویں شب، قدر والی رات تھی، کیونکہ جو علامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یاد تھی، وہ اسی رات کو پوری ہوئی۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2018
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. الْفَصْلُ السَّادِسُ فِيمَا وَرَدَ أَنَّهَا لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4034
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ وَسَأَلُوهُ عَنْ لَيْلَةٍ يَتَرَاءَوْنَهَا فِي رَمَضَانَ، قَالَ: ( (لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رمضان کے بارے میں شب ِ قدر کے بارے میں سوال کیا، تاکہ وہ اسے تلاش کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تئیسویں رات ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4034]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ اخرجه ابوداود: 1379، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16140»

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ اخرجه ابوداود: 1379
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4035
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأَرَانِي صَبِيحَتَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ) ) ، فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ
۔ سیدناعبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے شب ِ قدر کو دیکھا تو تھا، لیکن پھر وہ مجھے بھلوا دی گئی، اب میں دیکھتا ہوں کہ میں اس رات کی صبح کو پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پس تئیسویں رات کو بارش ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں (صبح) کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کا نشان تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 4035]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16141»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1168
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں