الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب
افطار وسحری کے مسائل اور آداب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: Q3709]
16. بَابُ وَقْتِ جَوَازِ الْفِطْرِ
روزہ افطارکرنے کا وقت
حدیث نمبر: 3709
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ: ( (انْزِلْ يَا فُلَانُ فَاجْدَحْ لَنَا) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلَيْكَ نَهَارٌ، قَالَ: ( (انْزِلْ فَاجْدَحْ) ) ، قَالَ: فَفَعَلَ فَنَاوَلَهُ فَشَرِبَ فَلَمَّا شَرِبَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَغْرِبِ فَقَالَ: ( (إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هَاهُنَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمَ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ماہِ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر پر تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! اترو اور ہمارے لیے ستو تیار کرو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابھی دن باقی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: اترو اور ستو تیار کرو۔ چنانچہ اس نے یہ کام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستو لے کر پیئے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جب اس طرف سورج غروب ہو جائے اور اُدھر (مشرق) سے رات آجائے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3709]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1955، 1956،ومسلم: 1101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19614»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1955
حدیث نمبر: 3710
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَدَعَا صَاحِبَ شَرَابِهِ بِشَرَابٍ، فَقَالَ صَاحِبُ شَرَابِهِ: لَوْ أَمْسَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: لَوْ أَمْسَيْتَ ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا فَقَدْ حَلَّ الْإِفْطَارُ أَوْ كَلِمَةً هَذَا مَعْنَاهَا (وَفِي لَفْظٍ) إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا اس لیے (افطاری کے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پینے کا انتظام کرنے والے کو بلایا اور مشروب لانے کا حکم دیا۔ آگے سے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! شام تو ہو لینے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دوبارہ بلایا، اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! شام تو ہو لینے دیں۔ تین بار ایسے ہوا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب (مشرق) سے رات آجائے تو افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: جب تم دیکھو کہ (مشرق) سے رات آ گئی ہے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3710]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19633»
وضاحت: فوائد: … ابو داود کی روایت میں وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ خدمت کرنے والے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ ”شام تو ہو لینے دیں۔“ یہ جملہ کہنے والے کا خیال تھا کہ جو روشنی اور سرخی نظر آ رہی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ سورج ابھی تک غروب نہیں ہوا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کہ دن ختم ہو چکا ہے اور رات شروع ہو چکی ہے۔ یہ حدیث ِ مبارکہ یہ درج ذیل تین اہم امور پر دلالت کرتی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ افطار کرنے میں غروبِ آفتاب کے فوراً بعد اس قدر جلدی فرمائی کہ صحابییہ سمجھ رہا تھا کہ سورج ابھی تک غروب نہیں ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی تین دفعہ مراجعت کے باوجود حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا اور ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے نرمی و ملاطفت سے کام لیا۔ اگر کسی آدمی کو یہ اندیشہ ہونے لگے کہ عالم سے نسیانیا غلطی ہو رہی ہے اور اس بنا پر وہ یاددہانی کرائے تو عالم کو چاہیے کہ اگر اس آدمی کو ہونے والے اشکال کی گنجائش موجود ہو تو اس کی بات محسوس نہ کرے اور اصل مسئلہ کی وضاحت کر دے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19633
حدیث نمبر: 3711
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَقَالَ مَرَّةً جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا وَذَهَبَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ) ) ، يَعْنِي الْمَشْرِقَ وَالْمَغْرِبَ
۔ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات (مشرق) سے آجائے اور دن (مغرب) کی طرف سے چلا جائے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد مشرق اور مغرب تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3711]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1954،ومسلم: 1100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 192»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1954
حدیث نمبر: 3712
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمَ) )
۔ (دوسری سند) سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات آ جائے، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کی افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3712]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 338»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 338
حدیث نمبر: 3713
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ
۔ سیدنا قطبہ بن قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب سورج غروب ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ افطار کر لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3713]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن قطبة بن قتادة، ومحمد بن بن ثعلبة مستور الحال۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 38، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16838»
وضاحت: فوائد: … ”جب رات آجائے، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے“ ان سب کا مفہوم ایک ہی ہے اور اول الذکر دونوں چیزوں کا انحصار غروبِ آفتاب پر ہے، جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو مشرق سے رات کی آمد شروع ہو جاتی اور دن تو ویسے ہی ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اس باب کی احادیثسے معلوم ہوا کہ جب سورج کی ٹکیہ غروب ہو جائے تو اسی وقت روزہ افطار کر دینا چاہیے اور مزید انتظار نہیںکرنا چاہیے، وگرنہ یہودیوں اور عیسائیوں سے مشابہت لازم آئے گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ حنفی لوگ سورج غروب ہو جانے کے بعد مزید انتظار کرتے ہیں، بلکہ ایک حنفی عالم کو ہم نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مزید انتظار کرنا تقوی ہے۔ لیکنیہ عجیب تقوی ہے، جو احادیث ِ رسول پر عمل کرنے میں کوتاہی کا سبب بن رہا ہے۔ ہر کوئییہ کلیہ تو تسلیم کرتا ہے کہ افطاری کا وقت یہی ہے، لیکن معلوم نہیں کہ عملاً تاخیر کرنے کا سبب کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن قطبة بن قتادة
17. بَابُ فَضْلِ تَعْجِيلِ الْفِطْرِ وَمَا يُسْتَحَبُّ الْإِفْطَارُ بِهِ
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 3714
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک لوگ روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے، دین غالب رہے گا، یہودی اور عیسائی روزہ افطار کرنے میں تاخیر کر دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3714]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2353، وابن ماجه: 1698، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9809»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2353
حدیث نمبر: 3715
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میرے بندوں میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو سب سے جلدی روزہ افطار کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3715]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، قرة بن عبد الرحمن المعافري، الجمھور علي تضعيفه، وتساھل بعضھم فوثقه۔ اخرجه الترمذي: 700، 701، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7240»
وضاحت: فوائد: … سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُو الْفِطْرَ۔)) (بخاری: ۱۹۵۷، مسلم: ۱۰۹۸)”لوگ اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہیں گے، جب تک جلدی افطاری کریں گے۔“
اور مسند احمد میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ((وَاَخَّرُوالسحور)) کے الفاظ بھی ہیں،یعنی افطاری میں جلدی کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سحری میں تاخیر بھی کرتے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَکِّرُوْا بِاْلإِفْطَارِ، وَأَخِّرُوْا السُّحُوْرَ۔)) ”افطاری میں جلدی کرو، لیکن سحری میں تاخیر کرو۔“ (السیوطي في”الجامع الکبیر“، الدیلمی: ۲/ ۱/ ۳، صحیحہ:۱۷۷۳)
سو معلوم ہوا کہ غروب ِ آفتاب کے بعد فوراً افطاری کر لینی چاہیے، سحری میں تاخیر کرنے کا یہ معنی ہے کہ ا س کو آخری وقت میں کھایا جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض فرقوں کییہ عادت ہے کہ وہ افطاری کو غروب ِ آفتاب سے مؤخر کرتے ہیں اور سحری کے بند ہونے کا اعلان وقت سے پہلے کر دیتے ہیں۔ ان روایات سے معلوم ہوا جو لوگ غروب ِ آفتاب کے فوراً بعد افطاری کرتے ہیں، وہ خیر و بھلائی پر ہیں۔
اور مسند احمد میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ((وَاَخَّرُوالسحور)) کے الفاظ بھی ہیں،یعنی افطاری میں جلدی کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سحری میں تاخیر بھی کرتے ہیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَکِّرُوْا بِاْلإِفْطَارِ، وَأَخِّرُوْا السُّحُوْرَ۔)) ”افطاری میں جلدی کرو، لیکن سحری میں تاخیر کرو۔“ (السیوطي في”الجامع الکبیر“، الدیلمی: ۲/ ۱/ ۳، صحیحہ:۱۷۷۳)
سو معلوم ہوا کہ غروب ِ آفتاب کے بعد فوراً افطاری کر لینی چاہیے، سحری میں تاخیر کرنے کا یہ معنی ہے کہ ا س کو آخری وقت میں کھایا جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض فرقوں کییہ عادت ہے کہ وہ افطاری کو غروب ِ آفتاب سے مؤخر کرتے ہیں اور سحری کے بند ہونے کا اعلان وقت سے پہلے کر دیتے ہیں۔ ان روایات سے معلوم ہوا جو لوگ غروب ِ آفتاب کے فوراً بعد افطاری کرتے ہیں، وہ خیر و بھلائی پر ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3716
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ أَحْيَانًا يَبْعَثُهُ وَهُوَ صَائِمٌ فَيُقَدِّمُ لَهُ عَشَاءَهُ وَقَدْ نُودِيَ بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ تُقَامُ وَهُوَ يَسْمَعُ فَلَا يَتْرُكُ عَشَاءَهُ وَلَا يَعْجَلُ حَتَّى يَقْضِيَ عَشَاءَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي، قَالَ: وَقَدْ كَانَ يَقُولُ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَعْجَلُوا عَنْ عَشَائِكُمْ إِذَا قُدِّمَ إِلَيْكُمْ) )
۔ امام نافع کہتے ہیں: بسا اوقات ایسے ہوتا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روزہ سے ہوتے اور وہ مجھے کھانا لانے کے لیے بھیجتے، مغرب کی اذان اور پھر اقامت بھی ہو جاتی اور وہ سن رہے ہوتے مگر نہ کھانا چھوڑتے تھے اور نہ جلدی کرتے تھے، اطمینان سے کھانا کھانے کے بعد جا کر مغرب کی نماز ادا کرتے، اور وہ کہتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: جب شام کا کھانا پیش کر دیا آجائے تو جلدی نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3716]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 673،ومسلم: 559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6359»
وضاحت: فوائد: … عہد ِ نبوی میں لوگ شام کا کھانا مغرب سے پہلے کھاتے تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 673
حدیث نمبر: 3717
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ (وَفِي لَفْظٍ:) فَإِنَّهُ لَهُ طَهُورٌ (وَفِي لَفْظٍ آخَرَ) فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ) )
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی روزہ افطار کرے تو وہ کھجور کے ساتھ افطاری کرے، اگر کھجور دستیاب نہ ہو تو پانی سے افطاری کر لے، بیشک یہ خوب پاک کرنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3717]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرباب۔ اخرجه الترمذي: 695، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16335»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ ترتیب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فعلی سنت سے ثابت ہے: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُفْطِرُ عَلٰی رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَن یُّصَلِّیَ، فَإِن لَّمْ یَکُنْ رُطَبَاتٌ فَعَلٰی تَمَرَاتٍ فَإِن لَّمْ یَکُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِّنْ مَائٍ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے سے پہلے تازہ کھجوروں کے ساتھ روزہ افطار کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں کے ساتھ اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ (سنن اربعہ، صحیحہ: ۲۸۴۰)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرباب۔ اخرجه الترمذي: 695