🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ خَاصًّا بِإِكْمَالِ رَمَضَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِذَا غُمَّ عَلَى هِلَالِ شَوَّالٍ
جب بادلوں کی وجہ سے شوال کا چاندنظر نہ آئے تو رمضان کے تیس دن¤پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3689
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ( (فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا) )
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سابق حدیث کی طرح ایک حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ: اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن شمار کر لیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3689]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابو يعلي: 2248، والبيھقي: 4/ 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14580»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3690
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ أَحَدُكُمْ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا، ثُمَّ أَفْطِرُوا) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان سے پہلے ایک یا دو روزے مت رکھو، ہاں اگر کوئی ایسا دن آ جائے جس میں تم میں سے کوئی آدمی روزہ رکھا کرتا ہو تو وہ روزہ رکھ لے، چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو، اگر فضا ابر آلود ہو تو تیس دن پورے کر کے روزہ ترک کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3690]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1914، ومسلم: 1082، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10455»
وضاحت: فوائد: … ماہِ رمضان سے متصل پہلے روزے رکھنے کا کیا حکم ہے؟ اس کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي اسْتِقْبَالِ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ وَحُكْمِ صَوْمِ يَوْمِ الشَّكِّ
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3691
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَلْيَصُمْهُ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے پہلے ایک دو دنوں کے روزے نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی کسی متعین دن کا روزہ رکھتا ہو تو وہ روزہ رکھا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3691]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1914، ومسلم: 1082، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7200 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7199»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی آدمی پہلے سے عادت کے ساتھ بعض روزے رکھ رہا ہو تو وہ اس مناسبت سے رمضان سے پہلے روزہ رکھ سکتا ہے، مثلا ایک آدمی کییہ عادت ہو کہ وہ سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتا ہو، جبکہ جمعرات کا دن (۲۹) یا (۳۰) شعبان کو آ جائے تو ایسا آدمی روزہ رکھ سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3692
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ الْيَوْمِ الَّذِي يُخْتَلَفُ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَتْ: لَا أَنْ أَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَالَ: أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ بِذَكَ مِنَّا
۔ عبد اللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماہِ رمضان کے مشکوک دن میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا؟انہوں نے کہا: شعبان کا ایک روزہ رکھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں رمضان کا ایک روزہ ترک کر دوں۔ میں یہ سن کر وہاں سے نکل پڑا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا ابوہریرہ سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ان امور کو زیادہ جانتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3692]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه البيھقي: 4/ 211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25458»
وضاحت: فوائد: … مشکوک دن سے مراد شعبان کی (۳۰) تاریخ والا دن ہے، اس دن کو روزہ رکھنا درست نہیں ہے، اگر شعبان کی (۲۹) تاریخ کو چاند نظر نہ آئے تو اگلے دن کو ہر صورت میں شعبان کی (۳۰) تاریخ سمجھی جائے گی، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطورِ احتیاط اس دن کو روزہ رکھنے کی قائل تھیں اور درج بال حدیث میں وہ یہی بات کہنا چاہتی ہیں، لیکن اس باب کی پہلی اور درج ذیل دو احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان سے متصل پہلے رمضان کی مناسبت سے یا احتیاط کے طور پر روزہ رکھنا درست نہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَحْصُوْا ھِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ، وَلَا تَخْلِطُوْا بِرَمَضَانَ، إِلاَّ أَن یُّوَافِقَ ذٰلِکَ صِیَاماً کَانَ یَصُوْمُہُ أَحَدُکُمْ، وَصُوْمُوْا لرُؤْیَتِہٖ وَأَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَإِنَّھَا لَیْسَتْ تُغْمٰی عَلَیْکُمُ الْعِدَّۃُ۔)) رمضان کے لیے شعبان کے چاند (کی تاریخ کو) شمار کر کے رکھو اوراُس کو رمضان کے ساتھ نہ ملا دو، ہاں اگر کوئی آدمی (باقاعدہ کسی مخصوص) دن کا روزہ رکھتا ہو اور وہ اس دن سے موافقت کر جائے (تو روزہ رکھا جا سکتا ہے)۔چاند کو دیکھ کر روز رکھو اور اسے دیکھ کر افطار کرو، اگر (انتیس تاریخ کی شام کو) چاند بادلوں میںیا کہر میں چھپ جائے تو گنتی تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی (اس کا اعتبار کر کے تیس دن پورے کر لو)۔ (ترمذی: ۱/ ۱۳۳، صحیحہ:۵۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہٖ، وَأَفْطِرُوْا الرُّؤْیَتَہُ، فَإِنْ حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُ سَحَابٌ أَوْ ظُلْمَۃٌ أَوْ ھَبْوَۃٌ، فَأَکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ، لَاتَسْتَقْبِلُوْا الشَّھْرَ اسْتِقْبَالاً وَلَا تَصِلُوْا رَمَضَانَ بِیَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ۔)) چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو۔اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل، اندھیرایا گردوغبار حائل ہوجائے تو پھر (شعبان کی تیس کی) گنتی پوری کر لو۔ مہینے کا استقبال نہ کرو اور نہ ہی رمضان کو شعبان کے دن کے ساتھ ملائو۔ (نسائی: ۱/۳۰۶، صحیحہ:۱۹۱۷)
اس باب سے متعلقہ مزید احادیث اور جمع تطبیق کی صورتیں درج ذیل ہیں: عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ
زَیْدٍ (وَلَمْ یَقُلِ النُّسَائِی: عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَاکَ تَصُوْمُ فِی شَھْرِ لَمْ أَرَکَ تَصُوْمُ فِی شَھْرٍ مِثْلَ مَاتَصُوْمُ فِیْہِ؟ قَالَ: ((أَیُّ شَھْرٍ؟)) قُلْتُ: شَعْبَانَ۔قَالَ: ((شَعْبَانُ بَیْنَ َرَجَبَ وَرَمَضَانَ، یَغْفِلُ النَّاسُ عَنْہُ، تُرْفَعُ فِیْہِ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، فَأُحِبُّ أَنْ لاَّیُرْفَعَ عَمَلِی إِلاَّ وَأَنَا صَائِمٌ۔)) سیدنا ابوہریرہ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،امام نسائی نے ابوہریرہ کا نام ذکر نہیں کیا، سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایک مہینے میں بہت روزے رکھتے ہیں، جبکہ دوسرے کسی ماہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے، (کیا وجہ ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سا مہینہ؟ میں نے کہا: شعبان۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شعبان، جو رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے، سے لوگ غافل ہوتے ہیں۔ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال (آسمانوں کی طرف) اٹھائے جاتے ہیں، میں چاہتا ہے کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزے دار ہوں۔ (صحیحہ:۱۸۹۸، نسائی:۱/۳۲۲)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رمضان کے علاوہ) سال کے کسی دوسرے مکمل مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے، مگر شعبان کے، اس ماہ کو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ (ابوداود:۲۳۳۶، ترمذی: ۷۳۶، نسائی: ۲۱۷۵، ابن ماجہ: ۱۶۴۸) دوسری روایات سے واضح ہوتا ہے کہ مکمل شعبان سے مراد اس مہینے کے اکثر دنوں کے روزے رکھنے ہیں۔
لیکن سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُوْمُوا۔)) جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھا کرو۔ اس حدیث کا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث کے ساتھ تعارض ہے، اس کی تطبیقیہ دی گئی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا تعلق اس شخص سے ہے جس کی پندرہ شعبان سے پہلے سے روزہ رکھنے کی عادت نہ ہو، ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ شعبان کے دوسرے نصف میں بھی روزے نہ رکھے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَنْ يَكْتَفِي بِشَهَادَتِهِ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3693
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ خَطَبَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَالَ: أَلَا إِنِّي قَدْ جَلَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلْتُهُمْ، أَلَا وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ وَانْسُكُوا لَهَا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ، وَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ مُسْلِمَانِ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا) )
۔ عبد الرحمن بن زید بن خطاب کہتے ہیں: میں نے ایسے دن میں خطبہ دیا کہ جس کے بارے میں یہ شک کیا جا رہا تھا کہ (وہ شعبان کا ہے یا رمضان کا)، میں نے کہا: میں صحابۂ کرام کے ساتھ بیٹھا ہوں اور ان سے سوالات کیے ہیں، انہوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو اور اسی کے حساب سے دوسری عبادات ادا کرو، اگر کسی وجہ سے چاند چھپ جائے، تو تیس دن پورے کر لو اور اگر دو مسلمان چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کی گواہی دے دیں تو اس بنیاد پر روزہ رکھنا شروع کر دو اور ترک کردو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3693]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه النسائي: 4/132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18895 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19101»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3694
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَصْبَحَ النَّاسُ لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا أَنَّهُمَا أَهَلَّاهُ بِالْأَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ لوگوں نے رمضان کی تیس تاریخ کو روزے کی حالت میں صبح کی، اتنے میں دو بدّو آئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اسی وقت روزہ افطار کرنے کا حکم دے دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3694]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2339، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19029»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3695
عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسَ حَدَّثَنِي عُمُومَةٌ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غُمَّ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَشَهِدُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا مِنْ يَوْمِهِمْ وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ
۔ ابو عمیر بن انس کہتے ہیں: مجھے میرے انصاری چچوں، جو کہ صحابہ میں سے تھے، نے بیان کیاکہ (۲۹ رمضان کو) ان کو شوال کا چاند نظر نہ آیا، اس لیے لوگوں نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر دن کے پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور اگلے دن عید کے لیے نکلیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ اخرجه ابوداود: 1157، والنسائي: 3/ 180، وابن ماجه: 1653، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20860»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اگر چاند کی خبر ملنے پر نماز عید کا وقت ختم ہو چکا ہو تو دوسرے دن یہ نماز ادا کی جائے گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3696
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمُومَةً لَهُ شَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ، فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا وَأَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے چچوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چاند نظر آ جانے کی گواہی دی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور کل کو عید کے لیے نکلیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه البزار: 972، وابن حبان: 3456، والبيھقي: 4/ 249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14019»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3697
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ هِلَالَ شَوَّالٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْطِرُوا
۔ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے کل شوال کا چاند دیکھ لیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! روزہ توڑ دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3697]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف عبد الاعلي بن عامر الثعلبي، ثم ھو منقطع، عبد الرحمن بن ابي ليلي لم يسمع من عمر رضي الله عنه، قوله في ھذا الحديث ’’كنت مع عمر‘‘ وهم من عبد الاعلي۔ اخرجه البيھقي: 4/ 249، والدارقطني: 2/ 168، والبزار: 240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 193»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی صحیح اور مرفوع احادیث سے معلوم ہوا کہ رؤیت ِ ہلال کے لیے کم از کم دو عادل مسلمانوں کی شہادت ضروری ہے، لیکن درج ذیل حدیث سے ایک مسلمان کی شہادت کی قبولیت کا ثبوت مل رہا ہے:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تَرَائَ ی النَّاسُ الْھِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِنِّیْ رَأَیْتُہٗ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِیَامِہٖ۔ لوگوں نے (رمضان کا) چانددیکھنے کی کوشش کی، میں نے اللہ کے رسول کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (ابوداود: ۲۳۴۲)
اب رؤیت ِ ہلال کے لیے ایک شخص پر اعتبار کیا جائے یا دو کی گواہی ضروری ہے، اس بارے میں کل تین آراء سامنے آ گئیں:
(۱) ایک مسلمان کی شہادت بھی جائز اور درست ہے، کیونکہ جن احادیث میں دو افراد کی گواہی کا حکم دیا ہے گیا، ان کا مفہوم یہ ہے کہ ایک کی شہادت قبول نہ کی جائے، جبکہ مذکورہ بالا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کا منطوق یہ ہے کہ ایک کی گواہی بھی قبول کی جا سکتی ہے اور اصول فقہ کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب مفہوم اور منطوق میں تضاد آ جائے تو منطوق کو ترجیح دی جائے گی۔
(۲)دو افراد کی شہادت ضروری ہے، جیسا کہ اس باب کی احادیث کا تقاضہ ہے، جن احادیث میں ایک فرد کی گواہی کا ذکر ہے، اِن کے نزدیک ان کی تاویل کی جاتی ہے کہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوسرے لوگوں نے بھی چاند کے نظر آنے کی اطلاع دی ہو۔
(۳)ابتدائے رمضان کے لیے ایک فرد کی شہادت کافی ہے، لیکن انتہائے رمضان کے لیے دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، تاکہ جھوٹ کی تہمت کا شبہ دور ہو جائے، کیونکہ طبعی طور پر لوگوں کا میلانیہ ہوتا ہے کہ رمضان (۲۹) تاریخ
کی شام کو ہی ختم ہو جائے۔ ہمارے نزدیک پہلا قول راجح ہے، دوسرے مسلک والوں نے ایک فرد کی شہادت والی احادیث کی جو تاویل کی ہے، یہ خواہ مخواہ کا احتمال ہے، اِن احادیث کے ظاہری الفاظ اس کی اجازت نہیں دیتے، اسی طرح رمضان کی ابتداء و انتہاء میں فرق کرنا بلا دلیلہے، جیسے ایک فرد کی شہادت کی بنا پر رمضان کو شروع کیا جا سکتا ہے، اسی طرح ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ عادل: اس شخص کو عادل کہتے ہیں، جو مسلمان ہو، عاقل ہو، بالغ ہو اور فسق و فجور سے محفوظ ہو۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ إِذَا رُؤِيَ الْهِلَالُ فِي بَلَدٍ دُونَ غَيْرِهِ هَلْ يَلْزَمُ بَقِيَّةَ الْبِلَادِ الصَّوْمَ أَمْ لَا؟)
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3698
عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُوهُ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ فَقَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ کریب کہتے ہیں: سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف شام میں بھیجا، میں وہیں تھا کہ ماہِ رمضان کا چاند نظرآ گیا، ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا تھا، میں اسی مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ واپس آ گیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کچھ امور کے بارے میں پوچھا اور پھر چاند کا ذکر ہونے لگا، انھوں نے مجھ سے کہا: تم نے کب چاند دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انھوں نے کہا: تو نے خود بھی دیکھا تھا، میں نے کہا: جی ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا تھا، پھر سب لوگوں نے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا تھا۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: لیکن ہم نے ہفتہ کی شام کو دیکھا تھا، اس لیےہم تو روزہ رکھتے رہیں گے، یہاں تک تیس دن پورے ہو جائیں یا چاند نظر آ جائے، میں نے کہا: کیا آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤیت اور روزے کو معتبر نہیں سمجھیں گے؟ انھوں نے کہا: یہ بات نہیں ہے، اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1087، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2789»
وضاحت: فوائد: … یہ بات تو سمجھ آ گئی کہ شام میں جمعہ کی شام کو اور مدینہ میں ہفتہ کی شام کو چاند دیکھا گیا تھا، جبکہ اس وقت اور عرصۂ دراز سے شام اور سعودی عرب چاند کی تاریخ کے سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول یہ بات نہیں ہے، اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔ سے کیا مراد ہے؟ اگرچہ اس کے بارے میں مختلف باتیں کی گئی ہیں، لیکن زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ ان کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ حدیث تھی: ((لَاتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوُا الْھِلَالَ وَلَا تُفْطِرُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ۔)) تم اس وقت تک روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو، اس طرح اس وقت تک روزہ نہ چھوڑو، جب تک چاند نظر نہ آ جائے۔ اس حدیث سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ استدلال کیا کہ ہم خود چاند دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ رؤیت ِ ہلال کا فیصلہ کیسے کیا جائے؟ ہماری مراد یہ ہے کہ اگر ایک ملک کے مسلمانوں کو چاند نظرآ جاتا ہے تو ان ممالک کے باشندے کیا کریں گے، جن میں کوشش کے باوجود چاند نہیں دیکھا جا سکا؟
سب سے پہلے دو تنبیہات پیش کرنا ضروری ہیں:
(أ) جن احادیث میں رمضان کی ابتداء و انتہاء کے لیے چاند کو معیار قرار دینے کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ حدیث نمبر(۳۶۷۶)والے باب اور اس کے بعد والے دو ابواب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے، گزارش ہے کہ یہ حکم مسلمانوں کی جماعت کو دیا گیا ہے، نہ کہ ہر ملک والوں کو علیحدہ علیحدہ، اگر ایک علاقے والے چاند دیکھ لیتے ہیں تو دوسروں پر بھی لازم ہو جائے گا کہ وہ اِن مسلمانوں کی شہادت قبول کر کے چاند کے نظر آ جانے کا اعلان کریں۔
(ب) عصر حاضر میں مختلف ممالک کی حدبندی کا رؤیت ِ ہلال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ انڈیا کے مسلمان تب روزہ رکھیں گے، جب انڈیا میں چاند نظر آئے گا، پاکستان کو لوگ تب عید منائیں گے، جب پاکستان میں چاند نظر آئے اور ایران کے باشندے دس ذوالحجہ کو تب قربانی کریں گے، جب ایران میں چاند نظر آئے گا۔ تقریباً پندرہ سولہ برس پہلے کی بات ہے کہ انڈیا میں عید الفطر کا چاند نظر آ گیا تھا، لیکن اہل پاکستان نے چاند نہ دیکھ سکنے کی وجہ سے عید الفطر کا اعلان نہیں کیا تھا، اب ۲۰۱۲؁ءہے۔
اب ہم اصل مسئلہ کی طرف آتے ہیں کہ رؤیت ِ ہلال کے بارے میں زیادہ سے زیادہ درج ذیل دو آراء میں سے کسی ایک کا سہارا لیا جا سکتا ہے:
(اول) مطلع کے فرق کو مدنظر رکھ کر زمین کے خطوں کا تعین کر لیا جائے، مثلا اگر سعودی عرب میں چاند نظر آ جاتا ہے تو دو چیزیں سامنے آئیں گی، مغرب کی سمت کے تمام ممالک میں چاند کے نظر آ جانے کا اعلان کر دیا جائے، اگرچہ وہاں نظر نہ بھی آئے، لیکن مشرق کی طرف والا معاملہ تھوڑا مختلف ہے، دیکھا جائے کہ چاند نظر آنے کے بعد کتنی دیر کے بعد غروب ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک گھنٹہ تک چاند مطلع پر موجود رہتا ہے، تو سعودی عرب سے مشرق کی طرف جن جن ممالک کا فرق ایک گھنٹے سے کم ہو، وہاں رؤیت ِ ہلال کا اعلان کر دیا جائے، کیونکہ ان علاقوں میں چاند موجود تھا، لیکن وہ دیکھ نہ پائے۔
اس نظریے کا یہ تقاضا بھی ہے کہ پاکستان اور سعودیہ کے مابین چاند کی تاریخ میں دو دنوں کا فرق نہیں پڑ سکتا، کیونکہ اگر پاکستان میں رمضان کی (۲۸) تاریخ ہو اور سعودی عرب میں (۲۹)، جبکہ سعودی عرب میں اسی تاریخ کو چاند نظر آجائے، تو دوسرے دن اہل پاکستان کو رؤیت ِ ہلال کا اعلان کر دینا چاہیے، کیونکہ سعودی عرب میں چاند نظر آ جانے کا مطلب یہ ہے کہ چاند افق پر موجود ہے، لیکنیہ ضروری نہیں کہ وہ دوسرے دن اہل پاکستان کو نظر آجائے۔
(دوم) جب کسی ایک علاقے کے مسلمان رؤیت ِ ہلال کی شہادت دے دیں، تو تمام اسلامی ممالک چاند کے نظر آنے کا اعلان کر دیں، جیسا کہ شیخ البانیiکہتے ہیں: اس بحث سے مسلمانوں کی ایک بڑی مشکل آسان ہو سکتی ہے، اور وہ ہے مختلف مطالع کی وجہ سے ہلال رمضان کے نظر آنے یا نہ آنے میں باہمی اختلاف۔ ظاہر بات ہے کہ اگر چاند ایک علاقے میں نظر آ جاتا ہے تو ضروری نہیں کہ ہر علاقے والے اس کو دیکھ سکیں۔مثلا: اگر چاند مغرب میں نظر آتا ہے تو ناممکن ہو گا کہ تمام مشرق والوں کو بھی نظر آ سکے۔ کچھ علمائے اسلام کا یہ خیال ہے کہ درج ذیل حدیث: ((… صُوْمُوْا لرُؤْیَتِہٖ وَأَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ …)) (صحیحہ:۵۶۵) … چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر افطار کرو۔
اپنے عموم پر باقی ہے اور مختلف مطالع کے ساتھ اس کو مقیّد کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ مطالع کا سلسلہ غیر محدود اور غیر معین ہے، شرعاً اور عقلاً یہی بات درست معلوم ہوتی ہے، لہذا اس حدیث کو مقید کرنا دینا درست نہیں ہے، جبکہ عصرِ حاضر میں تو یہ بھی ممکن ہے کہ اگر ایک ملک میں چاند نظر آ جاتا ہے تو میڈیا کے ذریعے تمام اسلامی ممالک کو مطلع کیا جا سکتا ہے، اس صورت میں جس کو رؤیت ِ ہلال کی خبر ہو گی، وہ روزہ رکھے گا، اگرچہ یہ خبر یکم رمضان کو غروبِ آفتاب سے کچھ وقت پہلے موصول ہو، اس پر کوئی قضا نہیں ہو گی، کیونکہ اس نے اپنی استطاعت کے مطابق اس واجب کو ادا کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا اصول ہے کہ وہ کسی کی طاقت سے بڑھ کر اس کو تکلیف نہیں دیتا۔ بہرحال ہمارا خیال ہے کہ تمام اسلامی حکومتیں روزہ رکھنے اور عید منانے کے دن کو متحد و مربوط کریں، جیسا کہ حج کا معاملہ ہے، ہم یہ نہ دیکھنے پائیں کہ کسی علاقے والے اپنے ملک کے ساتھ اور دوسرے علاقے والے دوسرے ملک کے ساتھ روزہ رکھ رہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے، جو توفیق دیتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۶۲۴) مؤخر الذکر نظریہ زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، یہی سہولت آمیز اور اتحاد بین المسلمین کی علامت ہے، حدیث نمبر (۳۶۹۵) سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ جب قافلے والوں نے دن کے پچھلے پہر یہ شہادت دی کہ انھوں نے تو کل شام کو چاند دیکھ لیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو روزہ توڑ دینے کا اور اگلے دن نمازِ عید کے لیے جانے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قافلے سے نہ یہ تفصیل پوچھی کہ انھوں نے کس مقام پرچاند دیکھا تھا اور نہ مطلع کے اختلاف کے مسئلہ کی وضاحت کی۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حج تو ایک جگہ ہوتا ہے اور تمام مسلمان مکہ میں جا کر حج کرتے ہیں۔ یہ واضح اور ایک وقت میں حج میں کوئی رکاوٹ اور الجھن نہیں۔ لیکن پوری دنیا میں تمام مسلمانوں کا ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ہی چھوڑنا کیسے ممکن ہے۔ جبکہ مختلف ممالک میں چاند طلوع ہونے کے اوقات مختلف ہیں اور ایکیا دو دن کا فرق بھی عام ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں اتحاد ممکن نہیں لہٰذا حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے ہر ہر علاقے کی اپنی اپنی رؤیت کا اعتبار ہونا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
قافلے والوں نے رات چاند دیکھا اور اگلے دن مدینہ پہنچ کر چاند طلوع ہونے کی خبر دی۔ ظاہر ہے کہ قافلوں کا سفر عام طور پر اونٹوں وغیرہ پر ہوتا تھا۔ ہوائی جہازوں کی رفتار کی طرح تو نہیں ہوتا تھا۔ وہ رات سے اگلے دن تک کتنا سفر طے کر کے آئے ہوں گے۔ یہ واضح تھا اور اس سے اختلاف مطالع کی صورت نہیں بنتی تھی۔ اس لیے آپ نے وضاحت کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب اس صورت حال سے پوری دنیا کے اندر ایک وقت میں چاند کے طلوع ہونے کا اعتبار کر لینا عقلی طور پر بہت زیادہ بعید ہے۔ اور واقعاتی طور پر ایسا ہونا ناممکن ہے۔ بشریت نے تمام مسلمانوں کو ایک ہی دن روزہ رکھنے اور ایک ہی دن چھوڑنے کا مکلف بنایا بھی نہیں۔ شرعی لحاظ سے ایک چیز کی پابندی نہیں اور واقعاتی لحاظ سے پوری دنیا میں ایک وقت میں چاند کا طلوع ہونا ممکن بھی نہیں تو پھر اس معاملہ میں زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں