الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ وَقْتِ السَّحُورِ وَاسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهِ
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3738
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَحَرَّمَ الطَّعَامَ، وَكَانَ لَا يُؤَذَّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب موذن اذان کہتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ادا فرماتے اور (روزے دار کے لیے) کھانا حرام کر دیتے، اور جب تک صبحِ (صادق) طلوع نہ ہو جاتی تھی، اس وقت تک اذان نہیں دی جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3738]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه البخاري: 1181، ومسلم: 723 دون ذكر تحريم الطعام، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26962»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه البخاري: 1181
حدیث نمبر: 3739
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ، وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ، وَلَكِنِ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الْأُفُقِ) )
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اور صبح کاذب تم کو سحری کھانے سے نہ روکے،ہاں جب افق میں پھیلنے والی روشنی یعنی صبح صادق ہو جائے (تو کھانے سے رک جاؤ)۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3739]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20420»
وضاحت: فوائد: … کیونکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پہلی اذان دیتے تھے، جو طلوع فجر سے کچھ دیر پہلے رات کو دی جاتی ہے۔ جب روشنی بھیڑیے کی دم کی طرح مشرقی افق میں بلند ہوتی ہے تو اسے فجر کاذب کہتے ہیں
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1094
حدیث نمبر: 3740
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ وَهَذَا الْبَيَاضُ حَتَّى يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ أَوْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اور یہ (صبح کاذب) والی سفیدی تم کو کسی شک و شبہ میں نہ ڈالے، البتہ جب فجر پھٹ جائے یا طلوع ہو جائے (تو سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3740]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20339»
وضاحت: فوائد: … ہم حدیث نمبر (۳۷۳۱) کی شرح میں فجر کی ان دو قسموں کی وضاحت کر آئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20339
22. فَصْلٌ مِنْهُ فِي صِفَةِ الْفَجْرِ الصَّادِقِ وَالْفَجْرِ الْكَاذِبِ وَمَا جَاءَ فِي أَذَانِ بِلَالٍ وَابْنِ أُمِّ
صبح صادق اور کاذب کی کیفیت اور سیدنا بلال اور سیدنا ام مکتوم رضی اللہ عنہما کی اذانوں کا بیان
حدیث نمبر: 3741
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَمْنَعُكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنَ السَّحُورِ، فَإِنَّ فِي بَصَرِهِ شَيْئًا) )
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تمہیں سحری سے نہ روکے، کیونکہ ان کی نظر میں کچھ خلل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3741]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 9، والبزار: 982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12455»
وضاحت: فوائد: … ”کیونکہ اس کی نظر میں کچھ خلل ہے۔“ اس وجہ کااذانِ بلالی کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس وجہ کا تعلق سیدنابلال رضی اللہ عنہ کو سحری والی اذان کا ذمہ دار بنانے سے ہے، کیونکہ جب وہ طلوعِ فجر کے بعد والی اذان دیتے تھے تو بسا اوقات ان سے خطا ہو جاتی تھی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے طلوعِ فجر سے پہلے اذان دے دی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان الفاظ کے ساتھ آواز لگائیں: ((اَلَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ، اَلَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔)) ”خبردار! بندہ سو گیا تھا، خبردار! بندہ سو گیا تھا۔“ پس وہ لوٹے اور یہ اعلان کرنے لگے: اَ لَا اِنَّ الْعَبْدَ نَامَ۔ (ابوداود: ۵۳۲) اور دوسری اذان سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی گئی، چونکہ وہ نابینا تھا، اس لیے طلوع فجر پر ان کو متنبہ کیا جاتا تھا، پس وہ اذان شروع کر دیتے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب
زیر مطالعہ حدیث کی مزید وضاحت کیلئے دیکھیں مسند احمد محقق، رقم الحدیث: ۱۶۰۵۰، ج۱۰/ ص۲۳۳۔ (عبداللہ رفیق)
زیر مطالعہ حدیث کی مزید وضاحت کیلئے دیکھیں مسند احمد محقق، رقم الحدیث: ۱۶۰۵۰، ج۱۰/ ص۲۳۳۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 9
حدیث نمبر: 3742
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 617، ومسلم: 1092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4551»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 617
حدیث نمبر: 3743
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ) ) ، قَالَتْ: فَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا كَانَ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ هَذَا وَيَرْقَى هَذَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے دے۔ سیدہ کہتی ہیں: میرے علم کے مطابق (ان دو اذانوں میں اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ) ایک اذان کہہ کر اترتا تھا تو دوسرا اذان کہنے کے لیے چڑھ جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3743]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 622، 623، ومسلم 1092، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24777»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 622
حدیث نمبر: 3744
عَنْ خُبَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي تَقُولُ وَكَانَتْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ أَوْ، إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ) ) ، وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا وَيَنْزِلُ هَذَا فَنَتَعَلَّقُ بِهِ فَنَقُولُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ
۔ خبیب کہتے ہیں: میں نے اپنی پھوپھی (سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا)، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا تھا، سے سنا وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرویہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دے دے۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان تک کھاتے پیتے رہا کرو۔ (دونوں اذانوں میں معمولی وقفہ ہوتا تھا، بس) ایک اذان کہہ کر نیچے آتا تو دوسرا کہنے کے لیے چڑھ جاتا، (بسا اوقات) ہم دوسرے موذن کے ساتھ چمٹ جاتے اور کہتے کہ ذرا رک جاؤ تاکہ ہم سحری کھا لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3744]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 1661، والبيھقي: 1/ 382، وابن خزيمة: 405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27985»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 1661
حدیث نمبر: 3745
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا) ) ، قَالَتْ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَيَبْقَى عَلَيْهَا مِنْ سُحُورِهَا فَتَقُولُ لِبِلَالٍ: أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ سُحُورِي
۔ (دوسری سند) خبیب اپنی پھوپھی سیدہ انیسہ بنت خبیب رضی اللہ عنہا سے بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے تو کھاتے پیتے رہا کرو، لیکن جب بلال رضی اللہ عنہ اذان دے دے تو کھانا پینا چھوڑ دیا کرو۔ سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب کسی عورت کی سحری باقی ہوتی تو وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہتی:ذرا رک جاؤ، تاکہ میں سحری سے فارغ ہو جاؤں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3745]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 2/ 10، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27986»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا مفہوم تو یہی ہے کہ اِن دو اذانوں میں معمولی وقفہ ہوتا تھا، لیکن الفاظ ایسے ہیں کہ اس وقفے کی مقدار کا تعین نہیں کیا جا سکتا، البتہ درج ذیل حدیث، جس میں اس اذان کا مقصد بیان کیا گیا ہے، اس سے اس وقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَمْنَعَنَّ اَحَدَکُمْ اَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُوْرِہٖفَاِنَّہٗیُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ لِیَرْجِعَ قَائِمَکُمْ وَ لِیُنَبِّہَ نَائِمَکُمْ۔)) ”سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کسی کو سحری سے نہ روکنے پائے، کیونکہ وہ تو رات کو اس لیے اذان دیتے ہیں، تاکہ قیام کرنے والے کو لوٹا دے اور سونے والوں کو بیدار کر دے۔“ (بخاری، مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ اذان اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ قیام کرنے والے قیام بند کر دیں اور سونے والے نماز فجر کی تیاری کے لیے جاگ جائیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ فجر کی دو اذانوں کے مؤذن سیدنا بلال اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تھے، اس باب کی اکثر احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سحری والی اذان دیتے تھے، لیکن سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا سحری والی اذان دینا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا فجر والی اذان دینا بھی ثابت ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ اذان اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ قیام کرنے والے قیام بند کر دیں اور سونے والے نماز فجر کی تیاری کے لیے جاگ جائیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ فجر کی دو اذانوں کے مؤذن سیدنا بلال اور سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تھے، اس باب کی اکثر احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سحری والی اذان دیتے تھے، لیکن سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا سحری والی اذان دینا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا فجر والی اذان دینا بھی ثابت ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 2/ 10
23. فَصْلٌ مِنْهُ فِي مِقْدَارِ مَا بَيْنَ الْفَرَاغِ مِنَ السَّحُورِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ
سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 3746
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سُحُورِهِمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى فَقُلْنَا لِأَنَسٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سُحُورِهِمَا وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ رَجُلٌ خَمْسِينَ آيَةً
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سحری کی، پھر جب وہ سحری سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان کا سحری سے فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انھوں نے کہا: ایک آدمی کا پچاس آیات پڑھ لینے کے برابر وقفہ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3746]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12769»
وضاحت: فوائد: … سحری سے فراغت اور نمازِ فجر کے آغاز کے درمیان پچاس آیتوں کے برابر وقفہ تھا، تقریبا (۱۲، ۱۳) منٹوں میں اتنی تلاوت کی جا سکتی ہے، دوسری نصوص کی روشنی میں سحری اور نماز کے اوقات معین ہیں، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی اذان اور جماعت میں تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا اور یہ اس وقت ممکن ہے جب لوگ اس نماز کے وقت سے پہلے بیدار ہو چکے ہوں اور اسی مقصد کے لیے پہلی اذان دی جاتی تھی۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1134
حدیث نمبر: 3747
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، قُلْتُ: (وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ لِزَيْدٍ:) كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ،سیدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سحری کی، اس کے بعد ہم مسجد میں چلے گئے اور وہاں نماز کے لیے اقامت کہی گئی۔ میں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان دونوں کاموں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انھوں نے کہا: اتنا کہ جتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیات پڑھ لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3747]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1921، ومسلم 1097، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21918»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1921