🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ فَضْلِ وَقْتِ الْإِفْطَارِ وَمَا يُقَالُ عِنْدَهُ - وَفَضْلِ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا
افطار کے وقت کی فضیلت،افطاری کے وقت کی دعا اور روزہ دار کو افطاری کرانے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3718
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ) )
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر روز افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3718]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 8088، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 3605، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22555»
وضاحت: فوائد: … رمضان کا مہینہ انتہائی باسعادت ہے، اللہ تعالیٰ کے راضی ہوجانے، جنت کے مل جانے اور جہنم سے دور ہو جانے کا اس مہینہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے، جب روزے دار بڑی خوشی کے ساتھ افطاری کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ جہنم سے آزادیاں عطا کر رہا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 8088
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3719
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ) )
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی روزہ دار کا روزہ افطار کراتا ہے تو اسے بھی روزے دار کے برابر ثواب ملتا ہے اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3719]
تخریج الحدیث: «حسن بالشواهد۔ اخرجه مطولا ومختصرا الترمذي: 807، ا1630، وابن ماجه: 2759، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17033 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17158»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ روزے دار کو روزہ افطار کرانا بھی انتہائی مبارک اور فضیلت والا عمل ہے۔ مؤلف نے افطاری کی کسی دعا کا ذکر نہیں کیا، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: بِسْمِ اللّٰہ پڑھ کر افطاری کی جائے جیسا کہ کھانے کے آداب والی احادیث سے پتہ چلتا ہے، پھر افطاری کر کے درج ذیل دعائیں پڑھی جائیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِذَا اَفْطَرَ قَالَ: ((ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افطاری کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: ”ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔“ (پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔) (ابوداود، نسائی) سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں روزہ افطار کیا اور یہ دعا کی: ((اَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُوْنَ وَاَکَلَ طَعَامَکُمُ الْاَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ۔)) (تمہارے ہاں روزے دار افطاری کرتے رہیں، نیکوکار لوگ تمہارا کھانا کھاتے رہیں اور فرشتوں تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے رہیں)۔ (ابوداود، ابن ماجہ) عوام الناس میں معروف دعا ”اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ … “ کی تمام اسانید میں ضعف پایا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن بالشواهد۔ اخرجه مطولا ومختصرا الترمذي: 807
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ مَا جَاءَ مُشْتَرَكًا فِي تَعْجِيلِ الْفِطْرِ وَتَأْخِيرِ السَّحُورِ
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3720
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ وَأَخَّرُوا السُّحُورَ) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہے گی، جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی اور سحری کھانے میں تاخیر کرتی رہے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3720]
تخریج الحدیث: «متن الحديث صحيح بالاحاديث الاخري، وھذا اسناد ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21637»

الحكم على الحديث:
متن الحديث صحيح بالاحاديث الاخري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3721
عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْنَا لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: قُلْنَا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: كَذَاكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَى
۔ ابو عطیہ کہتے ہیں: میں اور مسروق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے ام المومنین! صحابہ کرام میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک روزہ جلدی افطار کرتا ہے اور نماز جلدی ادا کرتا ہے اور دوسرا آدمی روزہ بھی دیر سے افطار کرتا ہے اور نماز بھی تاخیر سے پڑھتا ہے۔انہوں نے پوچھا: ان میں سے وہ کون ہے جو روزہ افطار کرنے میں اور نماز ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے؟ ہم نے کہا: وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے، دوسرا (تاخیر کرنے والا صحابی) سیدناا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3721]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24716»

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1099
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3722
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَ: قُلْنَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَيُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ، وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَيُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ، فَذَكَرَهُ
۔ (دوسری سند) ابو عطیہ کہتے ہیں: ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ایک صحابی نماز مغرب پڑھنے میں اور افطار کرنے میں جلدی کرتا ہے، اور دوسرا صحابی نماز مغرب بھی تاخیر سے پڑھتا ہے اور روزہ بھی دیر سے افطار کرتا ہے، … …۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3722]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاوّل۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24718»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۳۷۱۴) والے باب میں اِس باب کے مسئلے کی وضاحت ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاوّل۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24718
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ فَضْلِ السَّحُورِ وَالْأَمْرِ بِهِ
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3723
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو، بیشک سحری کے کھانے میں برکت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3723]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ اخرجه النسائي: 4/ 141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10188»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ اخرجه النسائي: 4/ 141
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3724
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ فِي السُّحُورِ وَالثَّرِيدِ
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سحری اور ثرید میں برکت کی دعا فرمائی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3724]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن ابي ليلي۔ اخرجه عبد الرزاق: 19571، وابويعلي: 6367، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7794»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن درج ذیل حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو جاتا ہے:
سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْبَرَکَۃُ فِی ثَلَاثٍ: الْجَمَاعَاتِ وَالثَّرِیْدِ وَ السَّحُوْرِ۔)) ”تین چیزوں میں برکت ہے، جماعتوں میں، ثرید میں اور سحری کے کھانے میں۔“ (الشعب للبیہقي:۲/۴۲۶/۲، المعجم الکبیر، صحیحہ: ۱۰۴۵) روٹی کو چور کر شوربے میں بھگو کر بنائے ہوئے کھانے کو ثرید کہتے ہیں،یہ زود ہضم ہوتا ہے اور کھانے کی زیادہ مقدار سے کفایت کرتا ہے، مثلا ایک انسان دو روٹیوں کی بھوک محسوس کر رہا ہے، لیکن ایک روٹی کا بنا ہوا ثرید اسے سیر کر سکتاہے۔ اسی طرح سحری کا کھانا بھیبابرکت چیز ہے۔ کھانے میں ”برکت“ کے معانی اس میں زیادہ خیر کے ہونے کے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن ابي ليلي۔ اخرجه عبد الرزاق: 19571
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3725
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ فَقَالَ: ( (إِنَّهُ بَرَكَةٌ، أَعْطَاكُمُوهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تَدَعُوهُ) )
۔ ایک صحابی رسول سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سحری کاکھانا کھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ برکت والا کھانا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے، پس اس کو نہ چھوڑو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3725]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23501»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 145
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3726
عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: ( (هَلُمَّ إِلَى هَذَا الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ) )
۔ سیدناعرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہِ رمضان میں مجھے سحری کی دعوت دی اور فرمایا: اس بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3726]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بالشواھد۔ اخرجه ابوداود: 2344، والنسائي: 4/145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17273»

الحكم على الحديث:
حديث حسن بالشواھد۔ اخرجه ابوداود: 2344
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3727
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (السَّحُورُ أَكْلَةٌ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کا کھانا بابرکت ہے، اس لیے اس کو نہ چھوڑا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ اور فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے رحمت کے نزول کی دعا کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3727]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11416»
وضاحت: فوائد: … عجیب بات ہے کہ بندہ کھانا کھا رہا ہے اور اس کھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پر رحمت بھیج رہا ہے اور فرشتے اس پر نزولِ رحمت کی دعا کر رہے ہیں، دراصل یہ روزے کی برکات ہیں اور روزے سے متعلقہ ہر چیز میں برکت آ جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں