🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. بَابُ الِاشْتِرَاطِ فِي الْإِحْرَامِ
احرام میں شرط لگانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4169
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي كَيْفَ أُهِلُّ؟ قَالَ: ( (أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي) ) ، قَالَ: فَأَدْرَكَتْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور کہا: میں بھاری جسم والی خاتون ہوں اور میں حج کے لئے جانے کا ارادہ رکھتی ہوں، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں کیسے احرام باندھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احرام باندھ لو اور اللہ سے یہ شرط لگا لوکہ اے اللہ! تو نے مجھے جہاں روک دیا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ پھر اس نے حج کر لیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4169]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3117»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1208
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4170
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَحُجَّ فَأَشْتَرِطَ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: ( (قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي) )
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حج کی ادائیگی کا ارادہ رکھتی ہوں، تو میں کوئی شرط لگا سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھرمیں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اس طرح کہہ: لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ مَحِلِّیْ مِنَ الْأَرْضِ حَیْثُ تَحْبِسُنِیْ (میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہو گی، جہاں تو مجھے روک لے گا)۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4170]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27570»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27570
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4171
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهِيَ شَاكِيَةٌ، فَقَالَ: ( (أَلَا تَخْرُجِينَ مَعَنَا فِي سَفَرِنَا هَذَا؟) ) وَهُوَ يُرِيدُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي شَاكِيَةٌ، وَأَخْشَى أَنْ تَحْبِسَنِي شَكْوَايَ، قَالَ: ( (فَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَقُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیمار تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا،سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تو بیمار ہوں اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ میری بیماری مجھے روک دے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حج کا احرام باندھ لو اور یوں کہو: اے اللہ! تو مجھے جہاں روک دے گا، وہی میرے حلال ہونے کی جگہ ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4171]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 894، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27125»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 894
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4172
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ: إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے کہا: میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، لیکن میں بیمار بھی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حج کے لئے روانہ ہو جاؤ اور یہ شرط لگالو کہ اے اللہ تو مجھے جہاں روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4172]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5089، ومسلم: 1207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25822»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5089
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4173
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: أَرَدْتِّ الْحَجَّ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ! مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: ( (حُجِّي وَاشْتَرِطِي) ) ، فَقَالَ: ( (قُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي) ) ، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اوران سے فرمایا: کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار سمجھتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم حج کے لئے نکلواور یہ شرط لگا لو کہ اے اللہ! تو مجھے جہاں روک لے گا، میں اسی مقام پر حلال ہو جاؤں گی۔ یہ خاتون ان دنوں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4173]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26178»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26178
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4174
عَنْ سَالِمِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ: أَمَا حَسْبُكُمْ بِسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يَشْتَرِطْ
۔ سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ حج میں شرط لگانے کو پسند نہیں کرتے تھے اوروہ کہا کرتے تھے: کیا تمہارے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی شرط نہیں لگائی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4174]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1810، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4881 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4881»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی پہلی پانچ احادیث سے معلوم ہوا کہ احرام کے دوران کسی مانع یا رکاوٹ کے خدشہ کے پیش نظر احرام سے حلال ہونے کی شرط لگا لینا جائز ہے، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا جابر، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عمار، سیدہ عائشہ، سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ضباعہ بنت زبیر کا یہی موقف تھا، نیز بہت سارے تابعین اور امام احمدبھی اسی نظریے کے قائل تھے، البتہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک کی رائے یہ تھی کہ اس قسم کی شرط لگانا درست نہیں ہے، لیکنیہ رائے مرجوح ہے۔ جب حج وعمرہ کرنے والے شخص کو کسی بیمارییا طوفان یا سیلابیا دشمن یا کسی اور وجہ سے اس طرح روک دیا جائے کہ اس سے حج و عمرہ فوت ہو جائے تو ان تمام صورتوں کو احصار اور ایسے شخص کو مُحْصَر کہتے ہیں۔ ایسا شخص اسی مقام اپنا سر منڈوائے اور قربانی کرے اور احرام کھول کر حلال ہو جائے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اس باب کی احادیث کے مطابق مشروط احرام باندھتا ہے اور پھر واقعی کوئی رکاوٹ پیش آ جاتی ہے تو مُحْصَر کی طرح اس پر قربانی وغیرہ لازم نہیں ہو گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1810
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ مَنْ أَحْرَمَ مُطْلَقًا أَوْ قَالَ أَحْرَمْتُ بِمَا أَحْرَمَ بِهِ فُلَانٌ
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے:¤میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4175
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي، فَلَمَّا حَضَرَ الْحَجُّ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَجَجْتُ فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْأَبْطَحِ، فَقَالَ لِي: ( (بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ؟) ) قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِحَجٍّ كَحَجِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ( (أَحْسَنْتَ) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟) ) فَقُلْتُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ لِي: ( (اذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ ثُمَّ احْلِلْ) ) ، فَانْطَلَقْتُ فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي، وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي، فَغَسَلَتْ رَأْسِي بِالْخِطْمِيِّ وَفَلَتْهُ ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، فَمَا زِلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى تُوُفِّيَ، ثُمَّ زَمَنَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ زَمَنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ أَوِ الْمَقَامِ، أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ فَسَارَّنِي فَقَالَ: لَا تَعْجَلْ بِفُتْيَاكَ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَحْدَثَ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا، فَقُلْتُ: أَيُّهَا النَّاسُ! مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا، فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ فِيهِ فَأْتَمُّوا، قَالَ: فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! هَلْ أَحْدَثْتَ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ (وَفِي لَفْظٍ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ}) وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَمْ يَحْلِلْ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میری قوم کی طرف (یمن کے علاقہ میں) عامل بنا کر روانہ کیا، جب حج کا موسم آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے لئے روانہ ہوئے تو میں بھی حج کا ارادہ کرکے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری ملاقات ابطح وادی میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے عبد اللہ بن قیس!تم نے کیسے احرام باندھا ہے؟ یعنی کن الفاظ کے ساتھ نیت کی ہے؟میں نے کہا: میں نے کہا تھاکہ میں اس حج کے لیے حاضر ہوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حج ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم قربانی کا جانور ہمراہ لائے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جاؤ اوربیت اللہ کا طواف کرکے صفا مروہ کی سعی کرو اور احرام کھول دو۔ پس میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق عمل کیا، اس کے بعد میں اپنی قوم کی ایک خاتون کے پاس گیا، انہوں خطمی بوٹی کے ساتھ میرا سر دھویا اور اس سے جوئیں تلاش کیں، اس کے بعد آٹھ ذوالحجہ کو میں نے حج کا احرام باندھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جو کچھ فرمایا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تک اسی طرح لوگوں کو فتوے دیتا رہا، بعد ازاں عہد صدیقی اور عہدفاروقی میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا، اچانک ایک دن میں حجر اسود یا مقام ابراہیم کے پاس کھڑا یہی بات بیان کر رہا تھا کہ ایک آدمی میرے قریب آیا اور اس نے آہستہ سے مجھے کہا: تم فتویٰ دینے میں جلدی نہ کرو، امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مناسک ِ حج کے متعلق ایک نیا حکم جاری کیا ہے، میں نے بآواز بلند کہا: لوگو! ہم نے مناسک کے بارے میں جس کسی کو فتویٰ دیا ہے وہ ذرا رک جائے، امیر المومنین تشریف لانے والے ہیں، تم ان کی اقتدا کرنا، وہ جیسے کہیں گے، ویسے کرنا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو میں نے ان سے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ نے مناسک ِ حج کے متعلق کوئی نیا حکم جاری کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، بات یہ ہے کہ اگر ہم کتاب اللہ پر عمل کریں تو وہ ہمیں حج و عمرہ کو مکمل کرنے کا حکم دیتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {وَأَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ}(تم حج و عمرہ کو اللہ تعالی کے لئے پورا کرو) (سورۂ بقرۃ:۱۹۶) اوراگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جانور ذبح کرنے کے بعد احرام کھولا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4175]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1559، 4346، ومسلم: 1221، 1222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19734»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1559
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4176
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ( (بِمَ أَهْلَلْتَ؟) ) قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ: ( (وَمَعِي الْهَدْيُ) ) ، قَالَ: ( (فَلَا تَحِلَّ) )
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم نے تلبیہ کس طرح پڑھا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا تھا: اے اللہ! میں وہی احرام باندھ رہا ہوں، جو تیرے رسول نے باندھا ہے۔ پھر انھوں نے کہا: میرے پاس ہَدِی کا جانور بھی ہے، آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم حلال نہیں ہو سکتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4176]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14493»
وضاحت: فوائد: … چونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ہدی تھی، اس لیے وہ حلال نہ ہو سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقۂ حج کے سارے احکام ان پر لاگو ہو گئے، جبکہ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس ہدی کا جانور نہیں تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ عمرہ کر کے حلال ہو جائیں اور آٹھ ذوالحجہ کو از سرِ نو حج کا احرام باندھیں گے، اس طرح وہ حج تمتع ادا کریں گے۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تلبیہ کو معلق طور پر بھی ذکر کیا جا سکتا ہے، پھر اگر وہ محرِم متعلقہ آدمی کے احکام پر پورا نہ اترتا ہو تو وہ شریعت کے دوسرے احکام کے مطابق تبدیلی کر لے گا، جیسے جب سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احرام کا مصداق نہیں بن سکتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس احرام میں عمرہ ادا کر کے حلال ہو جائیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1218
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ التَّخْيِيرِ فِي الْإِحْرَامِ بَيْنَ التَّمَتُّعِ وَالْإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4177
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ فَلْيُهِلَّ فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ) ) ، قَالَتْ: فَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ) ) ، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَرْدَفَهَا فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا، فَقَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَوْمٌ، وَلَا صَدَقَةٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے والا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج کے لئے روانہ ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ عمرہ کا احرام باندھ لے اور جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے، رہا مسئلہ میرا تو اگر میں قربانی کا جانور ہمراہ نہ لایا ہوتا تو میں بھی صرف عمرہ کا احرام باندھتا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ بعض صحابہ نے عمرے کا اور بعض نے حج کا احرام باندھا،میں نے بھی عمرے کا احرام باندھا تھا، لیکن ہوا یوں کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مجھے حیض آ گیا اور اسی حالت میں عرفہ کا دن آنے والا ہو گیا، میں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عمرے کو چھوڑ دو، اپنا سر کھول کر کنگھی کرو اورحج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا،جب وادیٔ محصب والی رات تھی، توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بھائی عبد الرحمن کو میرے ہمراہ تنعیم کی طرف بھیجا، انہوں نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، میں نے عمرے کا احرام باندھا، یہ عمرہ دراصل پہلے والے عمرے کے عوض میں تھا، اس طرح اللہ تعالی نے میرا حج اور عمرہ دونوں کرا دیئے، جبکہ اس صورت میں نہ تو ہدی تھی، نہ روزہ اور نہ صدقہ۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4177]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 317، 1783، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26105»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے احرام کے دوران احرام کی وجہ سے کسی ممنوعہ چیز کا ارتکاب نہیں کیا، جیسے خوشبو لگانا، شکار قتل کرنا، بالوں اور ناخنوں کو کاٹنا وغیرہ وغیرہ۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 317
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4178
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذِي الْحُلَيْفَةِ، قَالَ: ( (مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ) ) ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكُنْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ وَالْمِقْدَادُ وَالزُّبَيْرُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، جب ہم ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو آدمی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے اور تم میں سے جو فرد عمرے کا احرام باندھنا چاہتا ہو وہ عمرے کا احرام باندھ لے“۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں، سیدہ عائشہ، سیدنا مقداد اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ (مسند احمد: 27502) [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4178]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بهذه السياقة من حديث اسماء، لجهالة عبادة بن المهاجر، وابن لهيعة سييء الحفظ، وقوله: ((مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ)) صحيح من حديث عائشة - أخرجه البخاري: 1796، و مسلم: 1237: بلفظ: .... انه كان يسمع اسماء كلما مرت بالحجون تقول: لقد نزلنا معه ها هنا ونحن يومئذ خفاف الحقائب، قليل ظهرنا، قليلة ازوادنا، فاعتمرت انا واختي عائشة والزبير، وفلان وفلان، فلما مسحنا البيت احللنا، ثم اهللنا من العشي بالحج -، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27502»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بهذه السياقة من حديث اسماء
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں