الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِفْرَادِ
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
حدیث نمبر: 4179
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَمَنْ كَانَ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ مَعًا، لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصَرَ، أَحَلَّ مِمَّا حَرُمَ مِنْهُ، حَتَّى يَسْتَقْبِلَ حَجًّا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:ہم تین قسم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے،بعض لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا، بعض نے حج اِفراد کا اور بعض نے صرف عمرے کا احرام باندھا، جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے اکٹھااحرام باندھا تھا، وہ حج مکمل کرنے تک ان چیزوں سے حلال نہیں ہوا، جو اللہ تعالی نے اس پر احرام کی وجہ سے حرام کی تھیں اور جن حضرات نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا کر حلال ہو گئے اور احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی چیزیں ان کے لیے اس وقت تک حلال ہو گئیں، جب تک وہ از سرِ نو حج کے احرام نہ باندھ لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4179]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1562، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25609»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1562
حدیث نمبر: 4180
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَأَهْدَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يُهْدِ، فَلْيَحِلَّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى فَلَا يَحِلُّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ) ) ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہم میں سے بعض نے صرف حج کا اور بعض نے صرف عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور عمرے کا احرام باندھنے والے بعض لوگ قربانی کا جانور بھی ہمراہ لائے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا اور قربانی کا جانور ان کے ہمراہ نہیں ہے، وہ عمرہ کے بعد احرام کی پابندی سے آزاد ہو جائیں اور جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، لیکن قربانی کا جانور ان کے ہمراہ ہے تو وہ احرام نہیں کھولیں گے اور جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا تھا وہ اپنا حج پورا کریں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4180]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25388»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں حج کی تینوں اقسام میں کوئی حج ادا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، البتہ جس آدمی کے ہمراہ ہدی ہو گی، وہ حج قران ادا کرے گا۔ اس بات میں اختلاف ہے کہ حج کی کون سی قسم افضل ہے۔ بلاشک شبہ حج تمتع اور حج قران دونوں حج افراد کی بہ نسبت افضل ہوں گے، کیونکہ ان کے ساتھ عمرہ بھی اد اکر لیا جاتا ہے اور یہ حج کرنے والوں پر قربانی بھی لازم ہوتی ہے۔ اب رہا یہ مسئلہ کی حج قران اور حج تمتع میں سے کون سی قسم افضل ہے، تو حج قران میں احرام کی پابندی زیادہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حج ادا کیا تھا اور حج تمتع میں محنت اور مشقت زیادہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کے لیے الگ الگ طواف اور سعی کرنا پڑتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر یہ حج ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، درست بات یہی ہے کہ حج قران افضل ہے، حافظ ابن قیم نے اس کی افضلیت پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25388
29. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِرَانِ
… حج افراد کا بیان
حدیث نمبر: 4181
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يَحِلَّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو بیت اللہ کا طواف کیا، صفا مروہ کی سعی کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال نہ کٹوائے اور قربانی کا جانور ہمراہ ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلال نہ ہوئے اور جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ طواف اور سعی کے بعد بال منڈا کر یا کٹوا کر حلال ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4181]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1792، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3128»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1792
حدیث نمبر: 4182
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ( (مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَبْدَأَ مِنْكُمْ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ) ) ، وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیا اور فرمایا: تم میں سے جو آدمی حج سے قبل عمرہ کرنا پسند کرتا ہو وہ عمرہ کر سکتا ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف حج کا احرام باندھا تھا، عمرہ نہیں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4182]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قولھا: ولم يعتمر، وھذا اسناد ضعيف، ام علقمة روي عنها راويان، ولم يؤثر توثيقھا عن غير ابن حبان والعجلي۔ أخرجه مسلم: 1211 بلفظ: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم افرد الحج۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25122»
وضاحت: فوائد: … یہ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے ساتھ عمرہ کیا تھا، تو پھر اس حدیث میں اس امر کا کیا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج افراد کیا تھا، حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۳/ ۴۲۹ میں) جمع تطبیق کییہ صورت پیش کی: جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حج افراد نقل کیا، اس کی بات کو ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہے ہوئے تلبیہ پر محمول کیا جائے گا، جس نے حج تمتع کی بات کی، اس کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابہ کو دیا جانے والا حکم ہے اور جس نے حج قران کی بات کی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخر میں پیش آنے والا عمل بیان کیا۔ بہرحال جو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے حج قران کی بات کرتا ہے، اس کی بات مقبول ہو گی، کیونکہ اس کے پاس زیادہ علم ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قولھا: ولم يعتمر
حدیث نمبر: 4183
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ، خَالِصًا وَحْدَهُ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (حِلُّوا وَجْعَلُوهَا عُمْرَةً) ) الْحَدِيثَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف اور صرف حج کا احرام باندھا تھا، اس کے ساتھ کوئی دوسری چیز نہیں تھی، لیکن جب ہم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال ہو جاؤ اور اس کو عمرہ بنا دو، …۔ الحدیث [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4183]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1557، 2506، 4352، 7367، ومسلم: 1216، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14462»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1557
حدیث نمبر: 4184
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بِالْحَجِّ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کا احرام باندھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4184]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1651، 1785، 7230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14433»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1651
حدیث نمبر: 4185
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4185]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5719»
وضاحت: فوائد: … حج افراد کی مشروعیت واضح ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج قران ہی کیا تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1231
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
حج تمتع کا بیان
حدیث نمبر: 4186
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَمَنْ أَرَادَ ذَلِكَ فَلْيَقُلْ كَمَا أَقُولُ، ثُمَّ لَبَّى قَالَ: لَبَّيْكَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ مَعًا، قَالَ: وَقَالَ سَالِمٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللَّهِ إِنَّ رِجْلِي لَتَمَسُّ رِجْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا
۔ سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیّت میں حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو حج اور عمرہ کو اکٹھا ادا کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا جو آدمی اس طرح کرنا چاہتا ہو، وہ اسی طرح کہے جیسے میں کہوں، پھر انہوں نے یوں تلبیہ پڑھا: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا (میں حاضر ہوں، حج اور عمرے دونوں کے ساتھ)۔ سالم کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتلائی: اللہ کی قسم! دورانِ سفر میری ٹانگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ٹانگ کو لگ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4186]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1251، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14029»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1251
حدیث نمبر: 4187
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ قُرْآنٌ فِيهِ يُحَرِّمُهُ، وَإِنَّهُ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ أُمْسِكَ عَنِّي، فَلَمَّا تَرَكْتُهُ عَادَ إِلَيَّ
۔ مطرف کہتے ہیں:سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے نفع پہنچائے گا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کر کے ادا کیا تھا،پھر نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع فرمایا اور نہ کوئی قرآن مجید کا ایسا حصہ نازل ہوا، جس نے اسے حرام کر دیا ہو۔ نیز میں عمران کہتا ہوں: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، لیکن جب میں نے (بواسیر کے زخم کا علاج کرنے کے لیے اس کو) داغا تو انھوں نے سلام کہنا بند کر دیا، پھر جب میں نے داغنے کا یہ عمل ترک کر دیا تو وہ مجھے دوبارہ سلام کہنے لگ گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4187]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20071»
وضاحت: فوائد: … زخم کو داغنا جائز ہے، لیکن مکروہ ہے، کیونکہیہ توکل اور ایمان کے اعلی درجے کے منافی ہے، اسی کراہت کی بنا پر فرشتوں نے سلام کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1226
حدیث نمبر: 4188
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ أَبِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ وَهُوَ يَقُولُ: ( (لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا) )
۔ ہر ماس بن زیاد کہتے ہیں: میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا، میں نے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ پر سوار تھے اور یوں تلبیہ پکار رہے تھے: لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ مَعًا۔ (میں حج اور عمرہ دونوں کے لئے حاضر ہوں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4188]
تخریج الحدیث: «حديث حسن دون قوله: ((لبيك بحجة وعمرة معا۔)) فانھا زيادة منكرة، عبد الله بن عمران الاصبھاني اخطأ في ھذا الحديث۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 534، وفي ’’الاوسط‘‘: 4323، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16067»
الحكم على الحديث:
حديث حسن دون قوله: ((لبيك بحجة وعمرة معا۔)) فانھا زيادة منكرة