🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ أَرَادَ الْإِحْرَامَ مِنَ الْغُسْلِ وَالطِّيبِ
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4159
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: گویا میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر لگی ہو کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں ہوتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4159]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24608»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1190
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4160
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: فِي مَفَارِقِهِ) وَهُوَ يُلَبِّي
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلبیہ پڑھ رہے ہوتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4160]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26928»
وضاحت: فوائد: … ترجمہ میں صرف مفرد لفظ ”مفرق“ کا لحاظ رکھا گیا ہے جبکہ ایک روایت میں مفارق کا لفظ ہے جو مفرق کی جمع ہے یہ سر کی مختلف جہتوں کا لحاظ کر کے بول دیا گیا ہے۔ (بلوغ الامانی)۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26928
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4161
وَعَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُنَّ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ الضِّمَادُ، قَدْ أَضْمَدْنَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمْنَ ثُمَّ يَغْتَسِلْنَ، وَهُوَ عَلَيْهِنَّ، يَعْرَقْنَ وَيَغْتَسِلْنَ لَا يَنْهَاهُنَّ عَنْهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج و عمرہ کے لئے روانہ ہوتیں تو ان پر خوشبو ملی ہوئی ہوتی تھی، وہ احرام سے پہلے خوشبو ملتی تھیں، پھر غسل کرتی تھیں اور وہ ان پر ہوتی تھی، ان کو پسینہ آتا تھا اور وہ غسل کرتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4161]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25007»
وضاحت: فوائد: … ”اَلضِّمَاد“ یہ لفظ اصل میں اس پٹی کے لیے وضع کیا گیا ہے جو زخمی عضو پر باندھی جاتی ہے، پھر اس زخم پر دوا وغیرہ لگانے کے معنی میں استعمال کیا گیا، بعد ازاں بطورِ استعارہ اس کو ہر اس چیز کے لیے استعمال کیا گیا، جو جسم پر رکھی جاتی ہے، وہ دوا ہو یا خوشبو یا کوئی اور چیز، اس حدیث میں خوشبو مراد ہے۔ سنن ابوداود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ((کُنَّا نَخْرُجُ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِلٰی مَکَّۃَ فَنْضْمِدُ جِبَاھَنَا بِالسُّکِّ الْمُطَیَّبِ عِنْدَ الْاِحْرَامِ، فَاِذَا عَرَقَتْ اِحْدَانَا سَالَ عَلٰی وَجْھِھَا فَیَرَاہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَلَا یَنْھَانَا)) … جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتی تھیں تو ہم احرام باندھتے وقت مشک ملی ہوئی ایک قسم کی خوشبو اپنی پیشانیوں پر ملتی تھیں، جب کسی کو پسینہ آتا تھا تو وہ اس کے چہرے پر بہہ پڑتی تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے تھے اور منع نہیں کرتے تھے۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ احرام باندھنے سے پہلے اس طرح خوشبو لگانا جائز ہے کہ اس کا اثر احرام کے بعد تک جاری رہے، وہ اثر خوشبو کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور خوشبو کے وجود کے برقرار رہنے کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے، لیکن درج ذیل حدیث ِ مبارکہ اس اعتبار سے قابل توجہ ہے کہ اس میں محرم کو خوشبو کا اثر دور کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے: سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم جعرانہ مقام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے جبّہ پہنا ہوا تھا اور ”خلوق“ خوشبو لگائی ہوئی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے عمرے کے لیے کیا کچھ کرنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِخْلَعْ عَنْکَ ھٰذِہِ الْجُبَّۃَ وَاغْسِلْ عَنْکَ اَثَرَ الْخَلُوْقِ وَاصْنَعْ فِیْ عُمْرَتِکَ کَمَا تَصْنَعُ فِیْ حَجِّکَ۔)) … ”تو یہ جبّہ اتار دے، اس ”خلوق“ خوشبو کا اثر دھو دے اور جیسے تو حج میںکرتا تھا، اس طرح عمرے میں کر۔“
خلوق: ایک قسم کی خوشبو جس کا بیشتر حصہ زعفران ہوتا ہے۔
اعتراضیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو خوشبو دھونے کا حکم کیوں دیا؟ اس اعتراض کے تین جوابات ممکن ہیں:
۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خوشبولگانے کا عمل۱۰ھ میں حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آیا، جبکہ جعرانہ مقام کی بات کا تعلق ۸ھ سے ہے، اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری عمل خوشبو لگانا ہے اور اسی پر عمل کیا جائے گا۔
۲۔ ممکن ہے کہ اس آدمی نے احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگائی ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دھو دینے کا حکم دیا ہو، اس تطبیق سے تمام احادیث ِ مبارکہ پر عمل ہو جائے گا، لیکن حدیث نمبر (۴۲۵۵) سے پتہ چلتا ہے کہ اس آدمی نے احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی تھی۔
۳۔ اس خوشبو میں زعفران تھی، جس کا استعمال مردوں کے لیے ناجائز ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا تھا، حدیث نمبر (۴۲۴۴) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محرم کے لباس کا تعین کرتے ہوئے فرمایا: ”محرِم وہ کپڑے بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس اور زعفران کی خوشبو لگی ہو ئی ہو۔“
لیکن احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگانا حرام ہے، اس کی وضاحت ”محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان“ کے تحت پہلے باب میں آئے گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1830
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4162
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَقَالَ: مِمَّنْ هَذِهِ الرِّيحُ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! فَقَالَ: مِنْكَ لَعَمْرِي، فَقَالَ: طَيَّبَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ، وَزَعَمَتْ أَنَّهَا طَيَّبَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَأَقْسِمْ عَلَيْهَا لَمَا غَسَلَتْهُ فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَغَسَلَتْهُ
۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ذوالحلیفہ میں خوشبو کی مہک محسوس کی اور پوچھا: یہ خوشبو کس سے آ رہی ہے؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المومنین! مجھ سے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری زندگی کی قسم! تم سے آ رہی ہے،انھوں نے کہا: مجھے تو ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ خوشبو لگائی ہے اور ان کا خیال ہے کہ انہوں نے احرام باندھتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی خوشبو لگائی تھی، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جاؤ اور اس کو قسم دوکہ وہ اس کو ہر صورت میں دھو ڈالے، پھر وہ سیدہ کی طرف گئے اور انھوں نے اس کو دھو ڈالا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4162]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان بن يسار لم يسمع من عمر۔ أخرجه البزار: 1099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27295»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4163
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ عِنْدَ إِحْرَامِهِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَهُ، قَالَ: فَسَأَلَ أَبِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْتَضِحُ طِيبًا
۔ محمد بن منتشر نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے احرام کے وقت خوشبو لگانے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: اگر میں گندھک مل لوں، تو یہ مجھے خوشبو لگانے سے زیادہ پسندیدہ ہو گا، پھر انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات بھی ان کو بتائی، تو سیدہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس جاتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کو احرام باندھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خوشبو آ رہی ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4163]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 267،270،و مسلم: 1192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25935»
وضاحت: فوائد: … دراصل سیدنا عمر، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عثمان احرام سے پہلے بھی اس طرح خوشبو لگانے کے قائل نہیں تھے کہ اس کا اثر احرام کے بعد تک جاری رہے، لیکن اس باب کے شروع میں مذکورہ احادیث اور ان کی شرح کا تقاضا یہ ہے کہ اس انداز میں خوشبو لگانا جائز ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 267
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا تَفْعَلُ الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ قَبْلَ الْإِحْرَامِ وَبَعْدَهُ
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4164
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النُّفَسَاءَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ، وَتُحْرِمُ، وَتَقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”نفاس اور حیض والی عورت غسل کر کے احرام باندھ لے گی، پھر وہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی تمام مناسک ادا کرے گی، جب وہ پاک ہو جائے گی تو تب بیت اللہ کا طواف کرے گی۔“ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4164]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1744، والترمذي: 945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3435»
وضاحت: فوائد: … حیض اور نفاس والی عورت کا احرام باندھتے وقت غسل کرنا، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ یہ غسل صرف صفائی ستھرائی کے لیے ہے، اس سے حیض اور نفاس کے احکام میں کوئی فرق نہیں آئے گا، یہ غسل مستحبّ ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابوداود: 1744
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4165
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ بِالْبَيْدَاءِ فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ) )
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) بیداء کے مقام پر محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو جنم دیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو حکم دو کہ وہ غسل کرکے احرام باندھ لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4165]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1209، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27624»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم وغیرہ کی کئی روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا کا بچہ ذوالحلیفہ کے مقام پر پیدا ہوا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ یہ ولادت درخت کے پاس ہوئی تھی، جبکہ یہ تینوں مقامات ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں، درخت ذوالحلیفہ میں تھا اور ذوالحلیفہ کے ساتھ متصل ایک اونچے مقام کا نام بیداء ہے۔ قاضی عیاض نے کہا: ممکن ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا لوگوں سے دور ہونے کے لیے بیداء مقام میں چلی گئی ہوں، لیکن چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحلیفہ میں اترے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مقام میں رات گزاری تھی، اس لیے سب لوگوں کی منزل کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منزل کی طرف منسوب کیا گیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1209
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4166
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ، طَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: ( (مَا يُبْكِيكِ؟) ) قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجِ الْعَامَ، قَالَ: ( (لَعَلَّكِ نَفِسْتِ، يَعْنِي حِضْتِ؟) ) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ( (إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي …) ) الْحَدِيثَ
۔ قاسم بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا، جب ہم سرف مقام پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: کاش کہ میں اس سال حج کے لئے نہ آئی ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے، اب تم وہ تمام امور سر انجام دو جو دوسرے حجا ج کریں گے، البتہ بیت اللہ کا طواف اس وقت تک نہ کرو، جب تک پاک نہ ہو جاؤ، …۔ الحدیث [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4166]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 305، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26344 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26875»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 305
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4167
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَكَّةَ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَاغْتَسِلِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ) ) ، فَفَعَلْتُ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے مجھے حیض آ گیا اور وہ جاری رہا، حتی کہ عرفہ والا دن آنے والا ہو گیا،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرہ کو رہنے دو اور سر کھول کر کنگھی کر لو اور غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا …۔ الحدیث۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4167]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25955»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25955
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4168
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ لَهَا: ( (مَا لَكِ تَبْكِينَ؟) ) قَالَتْ: أَبْكِي أَنَّ النَّاسَ أَحَلُّوا وَلَمْ أَحْلِلْ، وَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ أَطُفْ، وَهَذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ، قَالَ: ( (إِنَّ هَذَا أَمْرٌ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَحُجِّي) ) ، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَلَمَّا طَهُرَتْ قَالَ: ( (طُوفِي بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَمِنْ عُمْرَتِكِ) ) ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ عُمْرَتِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ طُفْتُ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ: ( (فَاذْهَبْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ! فَأَعْمِرْ أُخْتَكَ مِنَ التَّنْعِيمِ) )
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا بات ہے، رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا: لوگ حلال ہو گئے ہیں، لیکن میں حلال نہ ہو سکی اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا ہے، لیکن میں طواف نہ کر سکی اور اب حج کے دن بھی آ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے،اب تم غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو اور حج ادا کرو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے اسی طرح کیا، پھر جب میں حیض سے پاک ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لو، اس طرح تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو جاؤ گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ کھٹکا سا ہے کہ میں عمرہ کا احرام باندھنے کے باوجود بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی،یہاں تک کہ میں حج سے فارغ ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبد الرحمن! جاؤ اور اپنی بہن کو تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4168]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14373»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کودورانِ احرام حج کے لیے از سرِ نو غسل کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے، تاکہ طبعی تازگی اور عمل کی مزید اہمیت پیدا ہو جائے۔ حیض اور نفاس والی خواتین عام دوسری خواتین و حضرات کی طرح احرام باندھ کر حج وعمرہ کے تقاضوں کو پورا کریں گے، فرق صرف یہ ہے کہ وہ پاک ہونے تک بیت اللہ کے طواف کو مؤخر کر دیں گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1213
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں