🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ
حج اور عمرہ کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4061
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (النَّفَقَةُ فِي الْحَجِّ كَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِسَبْعِمِائَةِ ضَعْفٍ) )
۔ سیدنا بریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج کے دوران خرچ کرنا، اللہ تعالی کی راہ یعنی جہاد میں خرچ کرنے کی طرح سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4061]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه البيھقي: 4/ 332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23388»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه البيھقي: 4/ 332
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4062
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج، ہر کمزور آدمی کا جہاد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4062]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو جعفر محمد بن علي الباقر لم يسمع من ام سلمة۔ أخرجه ابن ماجه: 2902، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26674 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27209»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … ”جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔“ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ فضیلت والا عمل جہاد ہے، توکیا ہم بھی جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا، وَلَکُنَّ اَفْضَلُ الْجِھَادِ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) … ”جی نہیں، تمہارے لیے سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد تو حج مبرور ہے۔“ (صحیح بخاری: ۱۵۲۰) اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کی طرح حج و عمرہ کے سفر میں مشقت، محنت، تھکاوٹ، اپنے ساتھ زادِ راہ اٹھانے اور اپنے علاقے اور رشتہ داروں سے جدا ہونے جیسے امور پائے جاتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس میں لڑائی نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4063
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (إِنْ كَانَ قَالَهُ جِهَادُ الْكَبِيرِ وَالضَّعِيفِ وَالْمَرْأَةِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بوڑھے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4063]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن ابراهيم التيمي لم يدرك ابا ھريرة۔ أخرجه النسائي: 5/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9440»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی میںاس روایت کے الفاظ یوں ہیں: ((جِہَادُ الْکَبِیْرِ وَالصَّغِیْرِ وَالضَّعِیْفِ وَالْمَرْأَۃِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) اس میں ”إِنْ کَانَ قَالَہُ“ کے الفاظ نہیں ہیں۔اس موضوع سے متعلقہ ایک اہم حدیث درج ذیل ہے:
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((إِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: إِنَّ عَبْدًا أَصْحَحْتُ لَہٗجِسْمَہٗ،وَوَسَّعْتُعَلَیْہِ فِیْ الْمَعِیْشَۃِ، تَمْضِیْ عَلَیْہِ خَمْسَۃُ أَعْوَامٍ لَایَفِدُ إِلَیَّ، لَمَحْرُوْمٌ۔)) (بیہقي۵/ ۲۶۲، ابن حبان: ۹۶۰، صحیحہ: ۱۶۶۲)
”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں نے ایک بندے کا جسم تندرست رکھا، اس کی معیشت میں وسعت پیدا کی، لیکن اس حالت میں پانچ سال بیت گئے اوروہ میری طرف نہیں آیا، ایسا آدمی محروم ہے۔“

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ وُجُوبِ الْحَجِّ
حج کی فرضیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4064
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا}، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ فَسَكَتَ، فَقَالُوا: ( (أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ فَسَكَتَ، قَالَ: ثُمَّ قَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ فَقَالَ: ( (لَا، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ) ) ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُوءُكُمْ …} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا} (سورۂ آل عمران: ۹۷) یعنی: جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو اس پر بیت اللہ کا حج لازم ہے۔ تو صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر کہا: کیا ہر سال یہ فرض ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ انھوں نے تیسری مرتبہ کہا: کیا ہر سال یہ عبادت فرض ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْأَلُوْا عَنْ أَشْیَائَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ}(سورۂ مائدۃ: ۱۰۱) یعنی: ایمان والو! تم ایسی باتوں کے متعلق مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے بیان کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4064]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي ضعيف، ثم ھو منقطع، ابو البختري لم يسمع عليا۔ أخرجه ابن ماجه: 2884، والترمذي: 814، 3055، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 905»
وضاحت: فوائد: … یہ اصولِ فقہ کا ایک مسلّمہ قانون ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کا مطلق حکم، محکوم بہ کے تکرار پر دلالت نہیں کرتا، یعنی جب شریعت میں کسی قید کے بغیر کوئی حکم دیا جائے اور بندہ اس پر ایک دفعہ عمل کر لے، تو وہ اس حکم سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا اور اس سے دوبارہ اس حکم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔بالکل یہی مثال اس حدیث ِ مبارکہ میں ہے کہ اللہ تعالی نے مطلق طور پر حج کو فرض قرار دیا، اس اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ جب آدمی ایک دفعہ حج کر لے گا تو وہ بریٔ الذمہ ہو جائے گا، لیکن جب صحابہ نے اس قانون پر اکتفا نہ کیا اور مزید پابندیوں کے بارے میں سوال کرنا شروع کر دیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناگوار گزرا اور اللہ تعالی نے اس قسم کے سوالات سے منع کر دیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4065
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ) ) ، قَالَ: فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: فِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ( (لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا أَوْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا، فَمَنْ زَادَ، فَهُوَ تَطَوُّعٌ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے۔ سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتاتویہ ہر سال ہی واجب ہوجاتا اور اگر حج ہر سال فرض کر دیا گیا تو تم اس پر عمل نہیں کرو گے، یا اس پر عمل کرنے کی تم میں طاقت ہی نہیں ہو گی، ہاں جو آدمی ایک سے زائد مرتبہ حج کرے گا تو یہ نفلی عبادت ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4065]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1721، وابن ماجه: 2886، والنسائي: 5/ 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2304»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1721
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4066
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ؟ فَقَالَ: ( (لَا، بَلْ حَجَّةٌ، فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِيعُوا) )
۔ (دوسری سند) سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: آیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ایک بار فرض ہے، البتہ جو شخص اس کے بعد مزید حج کرے گا تو وہ نفل ہو گا اور اگر میں تیرے سوال کے جواب میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال فرض ہو جاتا اور اگر یہ ہر سال فرض کر دیا گیا تو تم نہ یہ حکم قبول کرو گے اور نہ اس پر عمل کرو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4066]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3510»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بنفسِ نفیس حجت ِ شرعی ہے اور اس سے اس کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ قرآن کی کسی آیت کی موافقت کر رہی ہے یا مخالفت۔
یہ ظاہری لحاظ سے ہی مخالفت ہو سکتی ہے، حقیقی نہیں۔ جیسے بعض قرآنی آیات آپس میں ظاہری لحاظ سے متعارض ہو سکتی ہیں لیکن ان کی توجیہ ہو جاتی ہے، جس سے وہ آپس میں مخالف ومتعارص نہیں رکھتیں۔ باقی رہا حقیقی تعارض یا مخالفت کا معاملہ تو وہ نہ قرآن مجید کا آپس میںہے، نہ احادیث کا آپس میں ہے اور نہ ہی قرآن وحدیث کا آپس میں ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3510
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4067
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ، أَوْ أَحَدِهِمَا عَنِ الْآخَرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ، فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَضِلُّ الضَّالَّةُ وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا فضل رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں یا (راوی کو شک ہے) ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے روایت کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی حج کرنا چاہتا ہو وہ جلدی کرے،کیونکہ وہ بیمار ہو سکتا ہے، سواری گم ہو سکتی ہے یا کوئی اور مجبوری پیش آ سکتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4067]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1834 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1834»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی نے جن لوگوں کو صحت اور دولت سے نواز رکھا ہے، ان کو چاہیے کہ وہ لیت و لعل سے باز آکر پہلی فرصت میں فریضۂ حج کی تکمیل کریں۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2883
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4068
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ، وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ لَكَانَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ حج کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اگر میں کہہ دیتا کہ یہ ہر سال فرض ہے تو یہ ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4068]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الدارامي: 1789، والطيالسي: 2669، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2663»
وضاحت: فوائد: … حج ایک اہم رکن اسلام ہے اور مسلمانوں کا اس حقیقت پر اتفاق ہے کہ ہر بالغ اور استطاعت رکھنے والے مسلمان پر زندگی میں ایک دفعہ فرض ہے، البتہ اس کے بعد نفلی حج کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، جیسا کہ پہلے باب کی احادیث سے معلوم ہوا، جمہور اہل علم کے نزدیکحج۶ھ میں فرض ہوا تھا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه الدارامي: 1789
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. وجوب الحج على النساء تتعلق بهن
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4069
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسَائِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: ( (هَذِهِ الْحَجَّةُ ثُمَّ، (وَفِي لَفْظٍ: إِنَّمَا هَذِهِ الْحَجَّةُ، ثُمَّ الزَّمْنَ) ظُهُورَ الْحُصْرِ) ) ، قَالَ: فَكُنَّ كُلُّهُنَّ يَحْجَجْنَ إِلَّا زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ وَسَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَكَانَتَا تَقُولَانِ: وَاللَّهِ! لَا تُحَرِّكُنَّا دَابَّةٌ بَعْدَ أَنْ سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ) بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنی بیویوں سے فرمایا: یہ تمہارا حج ہو گیا ہے، آئندہ تم (اپنے گھروں میں ہی)اپنی چٹائیوں پر بیٹھ جانا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ساری امہات المومنین حج کے لئے جایا کرتی تھیں،ماسوائے سیدہ زینب بنت جحش اور سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہما کے، یہ کہا کرتی تھیں: اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد یہ حج ہے‘ پھر (گھروں میں) اپنی چٹائیوں پر بیٹھ جانا ہے۔ کے بعد (حج کے لئے) سواری پر سوار نہیں ہوں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4069]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 1647، وابويعلي: 7154، والبيھقي: 5/228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9764»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 1647
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4070
عَنْ وَاقِدِ بْنِ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسَائِهِ فِي حَجَّتِهِ: ( (هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ) )
۔ سیدنا ابو واقدلیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے حج کے موقع پر اپنی بیویوں سے فرمایا تھاکہ یہ حج ہو گیا ہے‘ اس کے بعد (گھروں میں) اپنی چٹائیوں پر (بیٹھ جانا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4070]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1722، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22250»
وضاحت: فوائد: … شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امہات المومنین کو یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ اس حج کی ادائیگی کے بعد اب انہیں گھروں میں ہی رہنا چاہیے، کیونکہ حج صرف ایک دفعہ فرض ہے۔ اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حج صرف ایک دفعہ فرض ہے، یہی وجہ ہے کہ امام ابوداود نے اس حدیث کو ”باب فرض الحج“ میں ذکر کیا۔ اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ امہات المومنین کے لیے حجۃ الوداع کے بعد پھر حج کرنا جائز نہیں ہے۔
لیکن اس استدلال کے دو جوابات دیئے گئے ہیں:
(۱) یہ صرف ایک احتمال ہے، کوئی واضح اور صریح معنی نہیں ہے کہ دوسری نصوص سے ثابت ہونے والے یقینی جواز کو ترک کر دیا جائے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے سب سے بہترین اور خوبصورت جہاد حج مبرور ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پس میں یہ حدیثسننے کے بعد حج ادا کرنا نہیں چھوڑوں گی۔ ابن ماجہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، لیکن اس میں لڑنا نہیں ہے، اور وہ ہے حج اور عمرہ۔“
ان احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ جہاد جس طرح مردوں پر فرض ہے، اس طرح عورتوں پر فرض نہیں ہے، یہ معنی نہیں کہ جہاد کے لیے ان کا نکلنا ہی حرام ہے، کیونکہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عورتیں زخمیوںکا علاج کرنے کے لیے نکلتی تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کی ترغیب پر مشتمل ان احادیث سے یہ سمجھیں کہ وہ بار بار حج کر سکتی ہیں۔ اس لیے اُن دلائل کی روشنی میں ”ھذہ ثم ظہور الحصر“ اور {وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ} (سورۂ احزاب: ۳۳) کے عموم کو خاص کیا جائے گا۔شروع شروع میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی توقف اختیار کیا (اور امہات المومنین کو حج کرنے سے منع کر رکھا تھا)، پھر ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دلیل کے قوی ہونے کا احساس ہوا اور انھوں نے اپنے دور خلافت کے آخر میں امہات المومنین کو حج کرنے کی اجازت دی، پھر سیدناعثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے عہد میں ان کو حج کرایا تھا۔ امام بیہقی نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دلیل سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیدنا ابو واقد کی حدیث ((ھٰذِہٖثُمَّظُھُوْرُالْحُصْرِ))سےآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں پر بھی صرف ایک دفعہ حج ادا کرنا فرض ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کو آئندہ حج ادا کرنے سے منع نہیں کر رہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کو
واجبی طور پر گھروں میں ٹھہرنے کا حکم نہیں دے رہے، یہی بات فتح الباری میں ہے۔
(۲)سیدنا ابو واقد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نہی سے مراد یہ ہے کہ امہات المومنین آئندہ حج ترک کر سکتی ہے، یہ معنی نہیں کہ وہ حجۃ الوداع کے بعد حج ہی ادا نہیں کر سکتیں، کیونکہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حج ادا کیا تھا، …۔ (عون المعبود: ۱/ ۸۵۲) رحم اللہ شارحی الحدیث النبوی رحمۃ واسعۃ۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1722
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں