الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّضْحِيَةِ عَنِ الْمَيِّتِ بِوَصِيَّةٍ مِنْهُ وَمَنْ أَذِنَ فِي انْتِهَابِ أُضْحِيَةٍ -
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4716
عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَفْعَلَهُ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ فِي حَدِيثِهِ ضَحَّى عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ وَاحِدٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ عَنْهُ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ إِنَّهُ أَمَرَنِي فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دو دنبوں کی قربانی کروں، پس میں چاہتا ہوں کہ یہ کام کروں۔ محمد بن عبید محاربی نے اپنی حدیث میں کہا: انھوں نے دو دنبوں کی قربانی کی، ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اور دوسری اپنی طرف سے، جب ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: بیشک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا، پس میں اس کو کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4716]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1279»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1279
حدیث نمبر: 4717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ النَّفْرِ وَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ بَدَنَاتٍ أَوْ سِتٌّ يَنْحَرُهُنَّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ أَيَّتُهُنَّ يَبْدَأُ بِهَا فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا فَسَأَلْتُ بَعْضَ مَنْ يَلِينِي مَا قَالَ قَالُوا قَالَ مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے عظیم قربانی والا دن ہے، اس کے بعد روانگی کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پانچ چھ اونٹ قریب کیے گئے، وہ اونٹ خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قریب ہونے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس سے شروع کریں گے، پس جب ان کے پہلو گر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے کوئی بات کی، میں اس کو نہ سمجھ سکا، پس میں نے اپنے قریب والے ایک آدمی سے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے، گوشت کا ٹ لے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4717]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (4717) أخرجه أبوداود: 1765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19285»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس اجازت سے مراد جھپٹنا اور اچک لینانہیں ہے، ایسا کرنے سے تو چیز کا ضیاع بھی ہوتا ہے، کمزور افراد محروم رہ جاتے ہیں اور بسا اوقات بعض افراد زخمی بھی ہو جاتے ہیں، جبکہ یہ اسلامی تہذیب کا تقاضا بھی نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
67. بَابُ حَقِيقَةِ الْعَقِيقَةِ وَالْفَرْعِ وَالْعَتِيرَةِ
عقیقہ، فرع اور عتیرہ کی حقیقت کا بیان
حدیث نمبر: 4718
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَزُورًا فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ فَنَادَى مُنَادِيهِ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنِ النُّهْبَةِ فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا أَخَذُوا فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ ذبح کیے اور لوگوں نے گوشت کو اچکنا شروع کر دیا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مُنادِی نے آواز دی اور کہا: بیشک اللہ اور اس کا رسول تم کو اچکنے سے منع کرتے ہیں۔ یہ سن کر لوگوں نے جو کچھ حاصل کیا تھا، وہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مابین تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4718]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8300»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 4719
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا نَسْأَلُكَ عَنْ أَحَدِنَا يُولَدُ لَهُ قَالَ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ قَالَ وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ قَالَ وَالْفَرَعُ حَقٌّ وَأَنْ تَتْرُكَهُ حَتَّى يَكُونَ شُغْزُبًّا أَوْ شُغْزُوبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوِ ابْنَ لَبُونٍ فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ يَلْصَقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ وَتُكْفِئُ إِنَاءَكَ وَتُوَلِّهِ نَاقَتَكَ وَقَالَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ فَقَالَ الْعَتِيرَةُ حَقٌّ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مَا الْعَتِيرَةُ قَالَ كَانُوا يَذْبَحُونَ فِي رَجَبٍ شَاةً فَيَطْبُخُونَ وَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ عقوق کو ناپسند کرتا ہے۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ لفظ ناپسند کیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ جب کسی کا بچہ پیدا ہو تو (اس کی طرف سے جو جانور ذبح کیا جاتا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے بچے کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو وہ کرے، تفصیل یہ ہے کہ بچے کی طرف سے بکری یا بھیڑ کی نسل کے دو برابر برابر جانور ہوں اور بچی کی طرف سے ایک۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرع کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرع حق ہے، لیکن اگر تو اس جانور کو چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا گوشت سخت ہو جائے، یعنی ابن مخاض بن جائے یا ابن لبون بن جائے، پھر تو اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں سواری کے لیے دے یا بیواؤں کو دے دے تو یہ عمل اس سے بہتر ہو گا کہ تو اس وقت اس کو ذبح کر دے، جب اس کا گوشت اس کے بالوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہو، اس طرح تو اپنا برتن بھی انڈیل دے اور اپنی اونٹنی کو بھی تکلیف پہنچائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عتیرہ کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عتیرہ حق ہے۔ کسی آدمی نے عمرو بن شعیب سے سوال کیا کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے، انھوں نے کہا: لوگ رجب میں ایک بکری ذبح کر کے اس کو پکاتے تھے، پھر خود بھی کھاتے اور لوگوں کو بھی کھلاتے تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4719]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2842، والنسائي: 7/ 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6713»
وضاحت: فوائد: … گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقیقہ کی بجائے نُسُک کا لفظ پسند فرمایا، جس کے معانی قربانی کرنے کے ہیں۔ اس حدیث میں فرع اور عتیرہ کی جائز صورتوں کا بیان ہے، ان کی وضاحت اگلے باب میں آئے گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 4720
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَفِي لَفْظٍ رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَأَطْعِمُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نُفَرِّعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَرَعًا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ قَالَ خَالِدٌ أُرَاهُ قَالَ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ قَالَ خَالِدٌ قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ كَمِ السَّائِمَةُ قَالَ مِائَةٌ
۔ سیدنا نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم زمانۂ جاہلیت میں ماہِ رجب میں عتیرہ ذبح کرتے تھے، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لیے ذبح کیا کرو، کوئی بھی مہینہ ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے نیکی کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے، اب آپ ہمیں اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:” ہر چرنے والے جانوروں میں فرع ہے، جس کو تیرے جانور دودھ پلاتے رہیں، یہاں تک کے وہ سواری کے قابل ہو جائے تو تو اس کو ذبح کر دے اور مسافر پر اس کے گوشت کا صدقہ کر دے، کیونکہ یہ بہتر ہے۔“ ..... الحدیث۔ خالد راوی نے کہا: میں نے ابو قلابہ سے کہا: وہ چرنے والے جانور کتنے ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایک سو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4720]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ماجه: 3167، والنسائي: 7/ 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20723 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20998»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
68. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي الْفَرْعِ وَالْعَتِيرَةِ مِنْ أَمْرٍ وَنَهْيٍ
فرع اور عتیرہ کے حکم اور ان سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 4721
عَنْ حَبِيبِ بْنِ مِخْنَفٍ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ قَالَ وَهُوَ يَقُولُ هَلْ تَعْرِفُونَهَا قَالَ فَمَا أَدْرِي مَا رَجَعُوا عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَيْتٍ أَنْ يَذْبَحُوا شَاةً فِي كُلِّ رَجَبٍ وَكُلِّ أَضْحَى شَاةً
۔ سیدنا حبیب بن مخنف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: کیا تم اس کو جانتے ہو؟ مجھے یہ علم نہیں ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا جواب دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گھر والوں پر ہے کہ وہ ایک بکری ہر ماہِ رجب میں ذبح کریں اور ایک بکری عید الاضحی کے موقع پر کریں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4721]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الكريم، قال النسائي والدارقطني: متروك، وحبيبُ بن مخنف مجھول، أخرجه عبد الرزاق: 8001، والطبراني: 20/ 740، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21010»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الكريم
حدیث نمبر: 4722
عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةَ
۔ سیدنا مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اے لوگو! بیشک ہر سال ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے، کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ ہوتا کیا ہے؟ یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4722]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2788، ابن ماجه: 3125، والترمذي: 1518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21011»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 4723
عَنْ أَبِي رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَذْبَحُ فِي رَجَبٍ ذَبَائِحَ فَنَأْكُلُ مِنْهَا وَنُطْعِمُ مِنْهَا مَنْ جَاءَنَا قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ فَقَالَ وَكِيعٌ لَا أَدَعُهَا أَبَدًا
۔ سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہم رجب میں جانور ذبح کرتے تھے، ان سے خود بھی کھاتے تھے اور اپنے پاس آنے والوں کو بھی کھلاتے تھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ وکیع راوی کہتے ہیں: میں کبھی بھی اس عمل کو نہیں چھوڑوں گا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4723]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، وكيع بن حدس مجھول الحال، أخرجه النسائي: 7/17، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16303»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4724
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي فَرَعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ مِنَ الْخَمْسَةِ وَاحِدَةٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرع کے بارے میں حکم دیا کہ وہ پانچ بکریوں میں سے ایک بکری ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4724]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن عثمان مختلف فيه، وقد تفرد به، أخرجه عبد الرزاق: 7997، والبيھقي: 9/ 312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25035»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4725
عَنْ يَحْيَى بْنِ زُرَارَةَ السَّهْمِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ قَالَ فَاسْتَدَرْتُ لَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ أَرْجُو أَنْ يَخُصَّنِي دُونَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْفَرَائِعُ وَالْعَتَائِرُ قَالَ مَنْ شَاءَ فَرَّعَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ وَمَنْ شَاءَ عَتَرَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّةٌ ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السُّهْمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ
۔ سیدنا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حجۃ الوداع کے موقع پر ملا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ میرے لیے بخشش طلب کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت اپنی عضباء اونٹنی پر تھے، میں گھوم کر دوسری طرف سے آیا، مجھے یہ امید تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے مخصوص دعا کریں، اس لیے میں نے پھر کہا: آپ میرے لیے بخشش طلب کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم سب لوگوں کو معاف کر دے۔ پھر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرع اور عتیرہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے وہ فرع ذبح کرے اور جو چاہے نہ کرے، اسی طرح جو چاہے عتیرہ ذبح کر لے اور جو چاہے نہ کرے اور بکریوں میں قربانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: خبردار! بیشک تمہارے خون اور مال تم پر اس طرح حرام ہیں، جیسے تمہارے اس شہر میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4725]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 1742، والنسائي: 7/ 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16068»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن