🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ فِيهَا الْخُرُوجُ إِلَى الْغَزْوِ وَالنُّهُوضُ إِلَى الْقِتَالِ وَتَرْتِيبِ
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4972
عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ شِعَارُنَا لَيْلَةَ بَيَّتْنَا فِي هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمِتْ أَمِتْ وَقَتَلْتُ بِيَدَيَّ لَيْلَتَئِذٍ سَبْعَةً أَهْلَ أَبْيَاتٍ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے جس رات کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوازن پر حملہ کیا تھا، اس دن ہمارا شعار أَمِتْ أَمِتْ (تو مار دے،، تو مار دے) تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر بنایا تھا اور میں نے اس دن اپنے ہاتھوں سے سات افراد کو قتل کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4972]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه أبوداود: 2596، 2638، وابن ماجه: 2840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16612»
وضاحت: فوائد: … أَمِتْ أَمِتْ کے الفاظ شعار ہیں، اگر ان کا مخاطَب اللہ تعالیٰ ہو تو یہ دشمنوں کے حق میں بد دعا بھی ہوں گے اور اگر ان کا مخاطَب مجاہد ہو تو ان سے لڑنے کی مزید رغبت پیدا ہو گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ اسْتِحْبَابِ الْخُيَلَاءِ فِي الْحَرْبِ وَالنَّهْيِ عَنْ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ وَالِاغْتِرَارِ بِكَثْرَةِ الْجُنْدِ
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4973
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ وَمِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ وَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ اخْتِيَالُ الْعَبْدِ بِنَفْسِهِ لِلَّهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ بِالصَّدَقَةِ وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْخُيَلَاءُ فِي الْفَخْرِ وَالْكِبْرِ أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ غیرت کی بعض صورتوں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند، اسی طرح وہ فخر کی بعض قسموں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند، وہ جس غیرت کو پسند کرتا ہے، اس کا تعلق تہمت سے ہے اور جس غیرت کو ناپسند کرتاہے، اس میں کوئی تہمت اور گمان نہیں ہوتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جس فخر کو پسند کرتا ہے، وہ ہے بندے کا قتال کے وقت اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کے ساتھ فخر کرنا اور صدقہ کے ساتھ فخر کرنا اور وہ جس فخر کو ناپسند کرتا ہے، اس کا تعلق تکبر سے ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4973]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2659، والنسائي: 5/ 78، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24151»
وضاحت: فوائد: … وہ جس غیرت کو پسند کرتا ہے، اس کا تعلق تہمت سے ہے مثال کے طور پر جب آدمی اپنے محرم رشتہ داروں میں کوئی حرام فعل دیکھتا ہے تو اس پر اس کو غیرت آتی ہے اور وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح بدنام لوگوں سے میل جول رکھنا، مے خانوں اور جوا خانوں میں بیٹھنا، غیر محرم عورتوں کے ساتھ تنہائی اور خلوت اختیار کرنا۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4974
قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا قَلَّمَا يُجَالِسُ النَّاسَ إِنَّمَا هُوَ فِي صَلَاةٍ فَإِذَا فَرَغَ فَإِنَّمَا يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَقَدِمَتْ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ لَوْ رَأَيْتَنَا حِينَ الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْعَدُوُّ فَحَمَلَ فُلَانٌ فَطَعَنَ فَقَالَ خُذْهَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ كَيْفَ تَرَى فِي قَوْلِهِ قَالَ مَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ أَبْطَلَ أَجْرَهُ فَسَمِعَ ذَلِكَ آخَرُ فَقَالَ مَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا فَتَنَازَعَا حَتَّى سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ لَا بَأْسَ أَنْ يُحْمَدَ وَيُؤْجَرَ قَالَ فَرَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ سُرَّ بِذَلِكَ وَجَعَلَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَيَقُولُ أَنْتَ سَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَمَا زَالَ يُعِيدُ عَلَيْهِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ لَيَبْرُكَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ
۔ قیس بن بشر تغلبی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے بتایا، جبکہ وہ سیدنا ابو درداء کے ہم نشیں تھے، انھوں نے کہا: دمشق میں ایک صحابی تھا، اس کو ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، یہ خلوت پسند آدمی تھا اور لوگوں کے ساتھ بہت کم بیٹھتا تھا، بس ہر وقت نماز میں لگا رہتا، جب اس سے فارغ ہوتا تو تسبیح و تکبیر شروع کر دیتا، یہاں تک کہ اپنے گھر والوں کے پاس آ جاتا، ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرا، جبکہ ہم سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے اسے کہا کہ ایک ایسی بات بتائیں، جو ہمیں فائدہ دے اور تجھے نقصان نہ دے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا، پس جب میں پہنچا تو اس سریہ میں سے ایک آدمی بھی پہنچ گیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ گیا اور اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے آدمی سے کہا: اس کے بارے میں تیرا خیال ہے کہ ہماری دشمن سے ٹکر ہو جاتی ہے، فلاں مسلمان آدمی حملہ کرتا ہے اور نیزہ مارتے ہوئے کہتا ہے: یہ لے نا اور میں غفاری جوان ہوں، اس کی اس بات کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ اس نے اپنے اجر کو ضائع کر دیا ہے، لیکن جب تیسرے آدمی نے بات سنی تو اس نے کہا: ایسا کہنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، ان کا تو اس میں جھگڑا ہونے لگا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات سن لی اور فرمایا: بڑا تعجب ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی کی تعریف بھی کی جائے اور اس کو اجر بھی دیا جائے۔ میں نے دیکھا کہ سیدنا ابو درداء کو اس بات سے خوشی ہوئی اور وہ اس آدمی کی طرف سر اٹھا کر دیکھنے لگے اور پوچھا: کیا تو نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اس بات کو دوہراتے رہے، یہاں تک کہ انھوں نے اس بات کو اتنی بار دوہرایا کہ میں نے کہا: وہ ضرور ضرور اس کے گھٹنوں پر ٹیک لگا دیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4974]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه أبوداود: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17767»
وضاحت: فوائد: … سوال یہ تھا کہ مارنے والے کا ان الفاظ یہ لے نا اور میں غفاری جوان ہوں سے مقصود یہ ہو کہ لوگ اس کی تعریف کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب سے معلوم ہوا کہ جہاد میں ایسے امور کی گنجائش ہے، تاکہ مجاہدین بہادری کا مظاہرہ کر سکیں، جیسا کہ فخر کی بعض صورتوں کو جہاد میں جائز قرار دیا گیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4975
عَنْ أَبِي حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ إِذْ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ الْحَرُورِيَّةَ فَقُلْتُ لِكَاتِبِهِ وَكَانَ لِي صَدِيقًا انْسَخْهُ لِي فَفَعَلَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ قَالَ فَيَنْظُرُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ نَهَدَ إِلَى عَدُوِّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ
۔ ابو حیان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ کی طرف ایک خط لکھا، یہ اس وقت کی بات ہے، جب اس نے حروریہ یعنی خوارج سے لڑنا چاہا تھا، اس کا کاتب میرا دوست تھا، میں نے اس سے کہا: تو اس کو میرے لیے بھی حرف بہ حرف لکھ، اس نے ایسے ہی کیا، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دشمنوں سے لڑنے کی تمنا نہ کیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کیا کرو، ہاں جب ان سے ٹکر ہو جائے تو پھر صبر کیا کرو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتظار کرتے، یہاں تک کہ جب سورج ڈھل جاتا تو دشمن کی طرف کھڑے ہوتے اور یہ دعا کرتے: اَللَّہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ، وَمُجْرِیَ السَّحَابِ، وَہَازِمَ الْأَحْزَابِ، اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ۔(اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے! بادلوں کو چلانے والے! لشکروں کو شکست دینے والے! تو ان کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما۔) [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4975]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2818، 2833، 2965، 3024، ومسلم: 1742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19324»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2818
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4976
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُ فَاصْبِرُوا وَفِي لَفْظٍ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَكُونُ فِي ذَلِكَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دشمنوں سے ملنے کی تمنا نہ کیا کرو، لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس لڑائی میں کیا ہو گا (اس لیے تمنا نہ کیا کرو)۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4976]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري معلقا: 3026، ومسلم: 1741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10784»
وضاحت: فوائد: … یقینا جہاد باعث ِ اجر و ثواب ہے، لیکن مشکل اور آزمائش والا عمل ہے، لشکر ِ اسلام کو فتح بھی ہو سکتی ہے اور شکست بھی، پھر شکست کی کئی صورتیں ہیں، اس لیے دشمن سے لڑنے کی تمنا نہیں ہونی چاہیے، ہاں جب جنگ چھڑ جائے تو پھر ہر قسم کے خطرے کو بالائے طاق رکھ کر میدان میں اترا جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري معلقا: 3026
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4977
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى هَمَسَ شَيْئًا لَا أَفْهَمُهُ وَلَا يُخْبِرُنَا بِهِ قَالَ أَفَطِنْتُمْ لِي قُلْنَا نَعَمْ قَالَ إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ فَقَالَ مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ أَوْ غَيْرَهَا مِنَ الْكَلَامِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ أَوِ الْجُوعَ أَوِ الْمَوْتَ فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ فَكُلُّ ذَلِكَ إِلَيْكَ خِرْ لَنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَيْ رَبِّ أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَيْرِهِمْ فَلَا أَوِ الْجُوعُ فَلَا وَلَكِنِ الْمَوْتُ فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتُ فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ وَبِكَ أُصَاوِلُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تو چپکے چپکے کچھ کلمات کہتے، نہ میں سمجھ سکا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم سمجھ گئے ہو کہ میں کچھ کلمات کہتا ہوں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسے نبی کی یاد آئی جسے اپنی قوم میں سے کئی لشکر دیے گئے، اس نے اپنی امت پر اتراتے ہوئے کہا: کون ہے جو ان کے ہم پلہ ہو گا؟ یا کون ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے گا؟ یا اس قسم کی بات کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے اِن تین امور میں سے ایک کو اختیار کر: ہم تیری امت پر ان کا دشمن مسلط کر دیں یا بھوک یا موت۔ اس نے اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ انھوں نے کہا: تو اللہ کا نبی ہے، معاملہ تیرے سپر دہے، تو خود اختیار کر لے۔ اس نے نماز شروع کر دی، جب وہ گھبرا جاتے تو نماز کا سہارا لیتے تھے، اس نے نماز پڑھی جتنی کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھی، پھر کہا: اے میرے ربّ: ان پر ان کے دشمن کو بھی مسلط نہیں کرنا اور بھوک کو بھی، چلو موت ہی سہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کر دی، ایک دن میں ان میں سے ستر ہزار افراد مر گئے۔ یہ تھا میرا گنگنانا، جیسا کہ تم دیکھ رہے تھے، میں نے کہا: اللّٰہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ، وَبِکَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ (اے اللہ! میں تو تیری توفیق سے حائل ہوتا ہوں، تیری توفیق سے حملہ کرتا ہوں اور تیری توفیق سے لڑتا ہوں۔) [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4977]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 319، والبزار: 2089، والنسائي في الكبري: 10450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19145»
وضاحت: فوائد: … انسان کبھی بھی اپنی اعلی سے اعلی صلاحیتوں کو اپنے کمال کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ہے، قارون ایک باغی اور نافرمان انسان تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بے حد و حساب مال و دولت عطا کیا تھا، جب اس نے یہ دعوی کیا کہ {اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ} کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہ میری اپنی فہم و بصیرت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے، تو

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ الْكَفُ وَقْتَ الْإِغَارَةِ عَمَّنْ عِنْدَهُ شِعَارُ الإسلام
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4978
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَيَسْتَمِعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ قَالَ فَتَسَمَّعَ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ طلوع فجر کے بعد شب خون مارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان لگاتے، اگر اذان کی آواز آ جاتی تو رک جاتے، وگرنہ حملہ کر دیتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کان لگائے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو یہ کہتے ہوئے سنا: اَللَّہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فطرت پر ہیں۔ پھر جب اس نے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو آگ سے نکل گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4978]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12376»
وضاحت: فوائد: … اذان، امن وسلامتی اور دینِ اسلام کی علامت ہے، اس کی وجہ سے جان و مال کو تحفظ ملتاہے، جب کسی علاقے یا فرد کے بارے میں سمجھ نہ آ رہی ہو کہ تو اذان جیسی علامتوں کاانتظار کیا جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 382
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4979
عَنْ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ السَّرِيَّةَ يَقُولُ إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُنَادِيًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا قَالَ ابْنُ عِصَامٍ عَنْ أَبِيهِ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ
۔ سیدنا عصام مزنی رضی اللہ عنہ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے تھے، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی سریّہ روانہ کرتے تو فرماتے: جب تم مسجد دیکھ لو یا اذان سن لو تو کسی کو قتل نہ کرنا۔ ابن عصام راوی کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عصام رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4979]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لجھالة ابن عصام المزني، أخرجه ابوداود: 2635، والترمذي: 1549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15805»
وضاحت: فوائد: … بہرحال مسجد اور مؤذن اسلام کی بہت بڑی علامتیں ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ الْكَفِّ عَنِ الْمُحَارِبِ إِذَا عَرَفَ بِ لا سلامِ وَوَعِيدِ قَاتِلِهِ وَعُدْرِ مَنْ أَخْطَأَ فِي قَتْلِهِ لِعَدْمِ فَهُم كَلامِهِ
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی¤وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4980
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عُبَيْسًا أَوْ ابْنَ عُبَيْسٍ فِي أُنَاسٍ مِنْ بَنِي جُشَمٍ أَتَوْهُ فَقَالَ لَهُ أَحَدُهُمْ أَلَا تُقَاتِلُ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ قَالَ لَعَلِّي قَدْ قَاتَلْتُ حَتَّى لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَرَاهُ يَنْفَعُكُمْ فَأَنْصِتُوا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اغْزُوا بَنِي فُلَانٍ مَعَ فُلَانٍ قَالَ فَصُفَّتِ الرِّجَالُ وَكَانَتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ الرِّجَالِ ثُمَّ لَمَّا رَجَعُوا قَالَ رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي غَفَرَ اللَّهُ لَكَ قَالَ هَلْ أَحْدَثْتَ قَالَ لَمَّا هُزِمَ الْقَوْمُ وَجَدْتُ رَجُلًا بَيْنَ الْقَوْمِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ أَوْ قَالَ أَسْلَمْتُ فَقَتَلْتُهُ قَالَ تَعَوُّذًا بِذَلِكَ حِينَ غَشِيَهُ الرُّمْحُ قَالَ هَلْ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ تَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا فَعَلْتُ فَلَمْ يَسْتَغْفِرْ لَهُ أَوْ كَمَا قَالَ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اغْزُوا بَنِي فُلَانٍ مَعَ فُلَانٍ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْ لُحْمَتِي مَعَهُمْ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ اسْتَغْفِرَ اللَّهَ لِي غَفَرَ اللَّهُ لَكَ قَالَ وَهَلْ أَحْدَثْتَ قَالَ لَمَّا هُزِمَ الْقَوْمُ أَدْرَكْتُ رَجُلَيْنِ بَيْنَ الْقَوْمِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَا إِنَّا مُسْلِمَانِ أَوْ قَالَا أَسْلَمْنَا فَقَتَلْتُهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَمَّا أُقَاتِلُ النَّاسَ إِلَّا عَلَى الْإِسْلَامِ وَاللَّهِ لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ أَوْ كَمَا قَالَ فَمَاتَ بَعْدُ فَدَفَنَتْهُ عَشِيرَتُهُ فَأَصْبَحَ قَدْ نَبَذَتْهُ الْأَرْضُ ثُمَّ دَفَنُوهُ وَحَرَسُوهُ ثَانِيَةً فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ ثُمَّ قَالُوا لَعَلَّ أَحَدًا جَاءَ وَأَنْتُمْ نِيَامٌ فَأَخْرَجَهُ فَدَفَنُوهُ ثَالِثَةً ثُمَّ حَرَسُوهُ فَنَبَذَتْهُ الْأَرْضُ ثَالِثَةً فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ أَلْقَوْهُ أَوْ كَمَا قَالَ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عُبیس یا ابن عُبیس سمیت بنو جشم قبیلے کے کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان میں ایک آدمی نے ان سے کہا: کیا تم فتنہ دب جانے تک لڑائی نہیں کرتے؟ انھوں نے کہا: شاید میں اس مقصد کے لیے قتال کر چکا ہوں کہ فتنہ نہ رہے، کیا میں تمہیں وہ بات بیان نہ کر دوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہو؟ اور میرا خیال ہے کہ شایدہ وہ تم کو نفع نہ دے، بہرحال خاموش ہو جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو فلاں! تم بنو فلاں سے قتال کرو۔ پس یہ فرمانا ہی تھا کہ مردوں کی صفیں بنا دی گئیں اور ان کے پیچھے ان کی خواتین بھی تھیں، پھر جب وہ لوگ لوٹے تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ میرے لیے بخشش طلب کریں، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بخش دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تو نے کوئی نیا کام کر دیا ہے؟ اس نے کہا: جی جب دشمن قوم کو شکست ہو رہی تھی تو میں نے مردوں اور عورتوں کے درمیان ایک آدمی پایا، اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، یا میں نے اسلام قبول کر لیا ہے، لیکن میں نے اس کو قتل کر دیا، دراصل جب اس نے نیزوں کی بوچھاڑ دیکھی تو ان سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کا دل چاک کر کے اس کو دیکھا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! ایسے تو میں نے نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے لیے استغفار نہیں کیا۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو فلاں! تم لوگ بنوفلاں سے جہاد کرو۔ میرے رشتہ داروں میں سے ایک آدمی بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لیکن جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں، اللہ تعالیٰ آپ کو بخشے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تو نے کوئی نیا کام کر دیا ہے؟ اس نے کہا: جب دشمنوں کو شکست ہو گئی تو میں نے مردوں اور عورتوں کے درمیان دو آدمیوں کو پایا، انھوں نے یہ تو کہا کہ وہ مسلمان ہیں یا انھوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن میں نے ان کو قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے لوگوں سے اسلام پر ہی جہاد کرنا ہے، اللہ کی قسم! میں تیرے لیے بخشش طلب نہیں کروں گا۔ بعد میں یہ آدمی فوت ہو گیا اور اس کے رشتہ داروں نے اس کو دفن کیا، لیکن جب صبح ہوئی تو صورتحال یہ تھی کہ زمین نے اس کو باہر پھینک دیا تھا، انھوں نے پھر اس کو دفن کیا اور باقاعدہ اس کا پہرہ دیا، لیکن زمین نے اس کو باہر پھینک دیا، انھوں نے پہرہ داروں سے کہا: شاید کسی آدمی نے آ کر اس کو نکال دیا ہو، جبکہ تم سو رہے ہو، پس انھوں نے تیسری بار اس کو دفن کیا اور پہرہ بھی دیا، لیکن زمین نے اس بار بھی اس کو باہر پھینک دیا، جب انھوں نے یہ صورتحال دیکھی تو اس کو ایسے ہی باہر ڈال دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4980]
تخریج الحدیث: «حسن بالشواھد، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 3930، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20179»
وضاحت: فوائد: … زمین بڑے بڑے مجرموں کو قبول کر لیتی ہے، اس حدیث میں ایک خاص جرم کی طرف اشارہ کر کے ہمیں چوکنا کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن بالشواھد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4981
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ جَمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ رَجُلٌ فَحَدَّثَنِي عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سَرِيَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَشُوا أَهْلَ مَاءٍ صُبْحًا فَبَرَزَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَحَمَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَتَلَهُ فَلَمَّا قَدِمُوا أَخْبَرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْمُسْلِمِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ وَهُوَ يَقُولُ إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّمَا قَالَهَا مُتَعَوِّذًا فَصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ وَمَدَّ يَدَهُ الْيُمْنَى وَفِي لَفْظٍ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَعْرِفُ الْمَسَاءَةَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ أَبَى اللَّهُ عَلَيَّ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
۔ حمید بن ہلال سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے مجھے اور بشر بن عاصم کو جمع کر کے سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بات بیان کی: رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک سریہ کے لوگ صبح کے وقت پانی والوں کے پاس پہنچے، جب ان میں سے ایک آدمی باہر آیا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے اس پر حملہ کر دیا، اس نے آگے سے کہا کہ وہ مسلمان ہے، لیکن اس نے اس کو قتل کر دیا، جب یہ لوگ واپس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: أَمَّا بَعْدُ،اس مسلمان کا کیا حال ہو گا، جو ایسے آدمی کو قتل کر دیتا ہے، جویہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ اس آدمی نے کہا: جی اس نے یہ بات بچاؤ کی خاطر کہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور اپنا دایاں ہاتھ لمبا کیا، ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تو برائی کو اس کے چہرے میں پہچان لیتا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کو قتل کر دیا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر انکار کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4981]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 981، والحاكم: 1/ 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17134»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں