الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ تَحْرِيمِ الْفِرَارِ مِنَ الزَّحْفِ إِلَّا الْمُتَحَيِّر إِلَى فِئَةٍ وَإِنْ بَعُدَتْ
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
حدیث نمبر: 5012
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً وَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ فَقُلْنَا كَيْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنَ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَبِتْنَا ثُمَّ قُلْنَا لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ تَوْبَةٌ وَإِلَّا ذَهَبْنَا فَأَتَيْنَاهُ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَخَرَجَ فَقَالَ مَنِ الْقَوْمُ قَالَ فَقُلْنَا نَحْنُ الْفَرَّارُونَ قَالَ لَا بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ أَنَا فِئَتُكُمْ وَأَنَا فِئَةُ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ حَتَّى قَبَّلْنَا يَدَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا میں سے ایک سریّہ کی بات ہے، میں خود بھی اس میں تھا، لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا اور میں بھی فرار اختیار کرنے والوں میں سے تھا، پھر ہم نے کہا: اب ہم کیا کریں، ہم تو لڑائی سے بھاگے ہیں اور غضب ِ الہی کے ساتھ لوٹے ہیں، پھر ہم نے کہا: اب ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں اور اندر جا کر رات گزاریں، لیکن پھر ہمارے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کرتے ہیں، اگر توبہ کا حق ہوا تو ٹھیک، وگرنہ ہم چلے جائیں گے، پس ہم نمازِ فجر سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو پوچھا: کون لوگ ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہم ہیں، لڑائی سے بھاگ کر آ جانے والے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ تم تو قتال کی طرف پلٹ جانے والے ہو اور میں تمہارا مدد گار ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی پناہ گاہ اور ان کا مددگار ہوں۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بوسہ لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5012]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد، أخرجه الترمذي: 1716، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5384»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھاگنے والے مجاہدین کو تسلی دلا رہے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد
31. بَابُ اسْتِحْبَابِ الْإِقَامَةِ بِمَوْضِعِ النَّصْرِ ثَلاثاً قِسْمُ الْغَنَائِمِ وَالْفَيْءِ
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5013
عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَاتَلَ قَوْمًا فَهَزَمَهُمْ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثًا وَفِي لَفْظٍ لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثًا
۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی قوم سے لڑتے اور ان کو شکست دے دیتے تو وہاں کھلے میدان میں تین دن قیام کرتے۔ ایک روایت میں ہے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بدر سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھلے میدان میں تین دن قیام کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5013]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2875، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16469»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2875
حدیث نمبر: 5014
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَلَبَ قَوْمًا أَحَبَّ أَنْ يُقِيمَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا وَفِي لَفْظٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آ جاتے تو پسند کرتے کہ ان کے کھلے میدان میں تین دن تک قیام کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5014]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16468»
وضاحت: فوائد: … عَرْصَۃ اس کھلی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں کوئی عمارت وغیرہ نہ ہو۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16468
32. بَابُ حَلْ الْغَنِيمَةِ مِنْ خَصُوصِيَاتِهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ وَأُمَّتِهِ وَذِكْرِ أَحْكَامِ تَتَعَلَّقُ بِالْغَنِيمَةِ قَبْلَ قِسْمَتِهَا
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
حدیث نمبر: 5015
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِي
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں،جبکہ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5015]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 335، 438، 3122، ومسلم: 521، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14314»
وضاحت: فوائد: … مالِ غنیمت کا حلال ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی امت کے لیے یہ مال حلال نہیں تھا، جبکہ اس کا حلال نہ ہونا بڑی آزمائش تھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 335
حدیث نمبر: 5016
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ الرُّءُوسِ قَبْلَكُمْ كَانَتْ تَنْزِلُ النَّارُ مِنَ السَّمَاءِ فَتَأْكُلُهَا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ أَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا [الأنفال: 68، 69]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے کالے سروں والی قوم یعنی بنو آدم کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں، بلکہ ان کے ہاں یوں ہوتا تھا کہ آگ آسمان سے نازل ہوتی تھی اور غنائم کو کھا جاتی تھی۔ جب بدر والے دن لوگوں نے غنیمتیں حاصل کرنے میں جلدی کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ، فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَیِّبًا} اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمھیں کوئی بڑی سزا ہوتی، پس جو کچھ حلال اور پاکیزہ غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ۔ (سورۂ انفال: ۶۸، ۶۹) [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5016]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3085، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7427»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 5017
عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِيمَةً فَانْتَهَبُوهَا فَأَمَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُنَادِيًا يُنَادِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا فَرُدُّوا هَذِهِ الْغَنِيمَةَ فَرَدُّوهَا فَقَسَمَهَا بِالسَّوِيَّةِ
۔ ابو لبید کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں جہاد کیا، جب لوگوں نے غنیمت حاصل کی تو انھوں نے تقسیم سے پہلے اس کو لوٹنا شروع کر دیا، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ایک مُنادِی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ لہذا یہ غنیمتیں واپس کر دو، پس انھوں نے واپس کر دیں، پھر انھوں نے برابری کے ساتھ ان میں تقسیم کر دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5017]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبوداود: 2703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20907»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5018
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَ مُعَاوِيَةَ حِينَ سَأَلَهُ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِقَالًا قَبْلَ أَنْ يَقْسِمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اتْرُكْهُ حَتَّى يُقْسَمَ وَقَالَ عَتَّابٌ حَتَّى نَقْسِمَ ثُمَّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْنَاكَ عِقَالًا وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَيْنَاكَ مِرَارًا
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا، جس نے تقسیمِ غنائم سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معمولی سی چیز کا سوال کیا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہ جواب دیا تھا: اس کو چھوڑ دے، یہاں تک کہ ان کو تقسیم کر دیا جائے۔ عتاب راوی کے یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو رکھ دے، یہاں تک کہ ہم خود تقسیم کریں گے، پھر اگر تو نے چاہا تو تجھے اونٹ کا گھٹنا باندھنے والی رسی دے دیں گے اور اگر تو نے چاہا تو ہم تجھے رسی دے دیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5018]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبادة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23119»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبادة
حدیث نمبر: 5019
عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرْيَةً مِنْ قُرَى الْمَغْرِبِ يُقَالُ لَهَا جَرَبَّةُ فَقَامَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَا أَقُولُ فِيكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَامَ فِينَا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ يَعْنِي إِتْيَانَ الْحُبَالَى مِنَ السَّبَايَا وَأَنْ يُصِيبَ امْرَأَةً ثَيِّبًا مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا يَعْنِي إِذَا اشْتَرَاهَا وَأَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ وَأَنْ يَرْكَبَ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ وَأَنْ يَلْبَسَ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ
۔ حنش صنعانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مغرب کی جَرَبَّہ نامی بستی والوں سے جنگ کی، وہ خطاب کرنے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! میں تم سے وہی بات کروں گا، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حنین والے دن ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے بندے کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنا پانی دوسرے کی کھیتی کو پلائے، یعنی استعمال شدہ لونڈی خریدنے کی صورت میں استبرائے رحم سے پہلے اس سے جماع کرے، تقسیم سے پہلے مالِ غنیمت بیچ دے، مسلمانوں کے مال غنیمت سے کوئی سواری لے کر اس پر سواری کرے اور اس کو لاغر کر کے اسے مال غنیمت میں چھوڑ دے اور مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں سے کپڑا لے کر پہن لے اور پھر اس کو بوسیدہ کر کے مال غنیمت میں رکھ دے۔ دوسرے کی کھتی کو پانی پلانے کی ممانعت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ استبرائے رحم سے پہلے حاملہ قیدی خواتین سے خاص تعلق قائم نہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5019]
تخریج الحدیث: «صحيح بشواھده، أخرجه ابوداود: 2159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17122»
وضاحت: فوائد: … حلال نہیں ہے کہ آدمی اپنا پانی دوسرے کی کھیتی کو پلائے اس کامفہوم یہ ہے کہ جب آدمی حاملہ لونڈی خریدی، یا کوئی قیدی حاملہ خاتون اس کی ملکیت میں آ جائے تو وضع حمل تک اس سے بالاتفاق جماع حرام ہو گا۔
الحكم على الحديث:
صحيح بشواھده
حدیث نمبر: 5020
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَامٍ وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقسیم سے پہلے مالِ غنیمت کو فروخت کرنے سے، آفت سے محفوظ ہونے سے پہلے پھلوں کو فروخت کرنے سے اورپیٹی کسنے سے پہلے آدمی کو نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5020]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 3369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9005»
وضاحت: فوائد: … اس وقت لوگ کھلے گریبان والی قمیصیں پہنتے تھے، جبکہ اکثر و بیشتر افراد نے شلواریں بھی نہیں پہنی ہوتی تھیں، اس سے بے پردگی ہونے کا خطرہ ہوتا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیٹی کسنے کا حکم دیا تاکہ گریبان سے شرم گاہ پر نظر نہ پڑے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره
حدیث نمبر: 5021
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ خَيْبَرَ فَلَمَّا انْهَزَمُوا وَقَعْنَا فِي رِحَالِهِمْ فَأَخَذَ النَّاسُ مَا وَجَدُوا مِنْ خُرْثِيٍّ فَلَمْ يَكُنْ أَسْرَعَ مِنْ أَنْ فَارَتِ الْقُدُورُ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْقِدْرِ فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَنَا فَجَعَلَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ شَاةً
۔ سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں خیبر کی فتح کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا، جب وہ یہودی شکست کھا گئے تو ہم ان کے گھروں میں گھس گئے اور گھروں سے ساز و سامان حاصل کرنے لگے، بہت جلدی ہنڈیاں ابلنے لگیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہنڈیوں کے متعلق حکم دیا تو ہنڈیاں انڈیل دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالِ غنیمت تقسیم کیا اور ہر دس آدمیوں کو ایک بکری عطا کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5021]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الدارمي: 2470، والحاكم: 2/ 134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19268»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح