الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ الْكَفِّ عَنِ الْمُحَارِبِ إِذَا عَرَفَ بِ لا سلامِ وَوَعِيدِ قَاتِلِهِ وَعُدْرِ مَنْ أَخْطَأَ فِي قَتْلِهِ لِعَدْمِ فَهُم كَلامِهِ
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی¤وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
حدیث نمبر: 4982
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي أَحْسِبُهُ قَالَ جَذِيمَةَ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ أَسْرًا وَقَتْلًا قَالَ وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمًا أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ قَالَ فَقَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ صَنِيعَ خَالِدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَرَّتَيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو جذِیمہ کی طرف روانہ کیا، انھوں نے اس قبیلے کو اسلام کی دعوت دی، وہ آگے سے اچھے انداز میں یہ نہ کہہ سکے کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں۔ بلکہ انھوں نے أَسْلَمْنَا کے بجائے اس طرح کہنا شروع کر دیا: صَبَأْنَا صَبَأْنَا۔ اُدھر سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو قید کرنا اور قتل کرنا شروع کر دیا اور ہم میں سے ہر ایک آدمی کو ایک ایک قیدی دیا، حتی کہ جب ایک صبح ہوئی تو سیدنا خالد نے حکم دیا کہ ہر آدمی اپنے قیدی کو خود قتل کر دے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! نہ میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی آدمی اپنے قیدی کو قتل کرے گا، پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی کاروائی بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا: اے اللہ! خالد نے جو کچھ کیا، میں اس سے تیری طرف بری ہوتا ہوں (یعنی میرا اس کاروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ دو بار ارشاد فرمایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4982]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4339، 7189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6382 ترقیم بيت الأفكار الدولية:»
وضاحت: فوائد: … مشرک،مسلمانوں کی مذمت کرتے ہوئے اور عار دلانے کے لیے انکو صابی کہتے ہیں، جس کے معانی دین سے نکلنے کے ہیں، یہ نام رکھنے کی وجہ یہ تھی مسلمان اپنے آباء و اجداد کے دین سے نکل گئے تھے، جب یہ لوگ اَسْلَمْنَا کے الفاظ نہ کہہ سکتے تو انھوں نے صَبَأْنَا کے الفاظ کہنا شروع کر دئے، ان کا ظن غالب یہ تھا کہ وہ اس کلمے ذریعے قتل سے بچ جائیں گے۔ اُدھر جب سیدنا خالد بن ولید نے اندازہ لگایا کہ اسلام میں داخل ہوتے وقت تو یہ کلمہ نہیں کہلایا جاتا، بلکہ یہ تو مذمت والا کلمہ ہے، پس انھوں نے ان کو قتل کرنا شروع کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خالد بن ولید کے اس کیے کو برا جانا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4339
حدیث نمبر: 4983
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ أَسْقِي فَرَسًا لِي فِي السَّحَرِ فَمَرَرْتُ بِمَسْجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ وَهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَبَعَثَ الشُّرْطَةَ فَجَاءُوا بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ وَضَرَبَ عُنُقَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ فَقَالُوا أَخَذْتَ قَوْمًا فِي أَمْرٍ وَاحِدٍ فَقَتَلْتَ بَعْضَهُمْ وَتَرَكْتَ بَعْضَهُمْ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدِمَ عَلَيْهِ هَذَا وَابْنُ أُثَالِ بْنِ حَجَرٍ فَقَالَ أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَا نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا لَقَتَلْتُكُمَا قَالَ فَلِذَلِكَ قَتَلْتُهُ
۔ ابن معیز سعدی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سحری کے وقت اپنے گھوڑے کو پانی پلانے کے لیے نکلا، جب میں بنو حنیفہ مسجد کے پاس سے گزرا تو ان کو یہ کہتے ہوئے سنا: بیشک مسیلمہ اللہ کا رسول ہے، میں سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو اس واقعہ کی خبردی، انھوں نے لشکر کو بھیجا، وہ ان کو پکڑ کر لے آئے، انھوں نے ان سے توبہ کرنے کا مطالبہ کیا اور انھوں نے توبہ کر لی اور انھوں نے ان کو آزاد کر دیا، لیکن عبد اللہ بن نواحہ کا سر قلم کر دیا، انھوں نے کہا: یہ کیا ہوا کہ تم نے ایک قوم کو ایک جرم میں پکڑا، پھر کسی کو قتل کر دیا اور کسی کو چھوڑ دیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، یہ آدمی اور ابن اثال بن حجر،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا: کیا تم دونوں یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انھوں نے کہا: ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ بیشک مسیلمہ اللہ کا رسول ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں، اگر میں نے کسی وفد کو قتل کرنا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ انھوں نے کہا: اسی وجہ سے تو میں نے اس کو قتل کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4983]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الدارمي: 2/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3837»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں یہ بہت بڑی جرأت ہے، اگلی حدیث میں قتل نہ کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4984
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ حَيْثُ قُتِلَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ إِنَّ هَذَا وَابْنَ أُثَالٍ كَانَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولَيْنِ لِمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَا نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا قَالَ فَجَرَتْ سُنَّةً أَنْ لَا يُقْتَلَ الرَّسُولُ فَأَمَّا ابْنُ أُثَالٍ فَكَفَانَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا هَذَا فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ فِيهِ حَتَّى أَمْكَنَ اللَّهُ مِنْهُ الْآنَ
۔ (دوسری سند) جب ابن نواحہ کو قتل کیا گیا تو سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا؛ یہ اور ابن اثال دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، یہ دونوں مسیلمہ کذاب کے قاصد تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انھوں نے کہا: ہم تو یہ شہادت دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی قاصد کو قتل کرنا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں قلم کر دیتا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے یہ طریقہ نافذ ہو گیا کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جائے گا، رہا مسئلہ ابن اثال کا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے کفایت کیا ہے اور یہ آدمی، یہ اسی نظرے میں لگا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اب مجھے قدرت دی (اور میں نے اس کو قتل کر دیا)۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4984]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3708»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3708
حدیث نمبر: 4985
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِابْنِ النَّوَّاحَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَسْتَ بِرَسُولٍ يَا خَرَشَةُ قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ
۔ حارثہ بن مضرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ آج تو قاصد نہیں ہے، خرشہ! اٹھو اور اس کا سر قلم کر دو۔ پس وہ اٹھے اور اس کو قتل کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4985]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3642»
وضاحت: فوائد: … ابو داود میں اس حدیث کا متن یوں ہے: حارثہ بن مضرب نے کہا: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میری کسی عربی سے کوئی عداوت نہیں ہے، لیکن میں بنو حنیفہ مسجد کے پاس سے گزرا ہوں، وہ لوگ مسیلمہ کذاب پر ایمان لا رہے تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا، پس ان کو لایا گیا، انھوں نے ابن نواحہ کے علاوہ سب سے توبہ کروائی اور اس کے بارے میں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے بارے میں فرمایا تھا: اگر تو قاصد نہ ہو تو میں تجھے قتل کروا دیتا۔ لیکن آج تو قاصد نہیں ہے، پھر قرظہ بن کعب کو حکم دیا، پس اس نے اس کو بازار میں قتل کر دیا اور کہا: جو ابن نواحہ کو مقتول دیکھنا چاہے تو وہ یہ بازار میں قتل کی حالت میں پڑا ہوا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4986
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ قَرَأَ كِتَابَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ قَالَ لِلرَّسُولَيْنِ فَمَا تَقُولَانِ أَنْتُمَا قَالَا نَقُولُ كَمَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا
۔ سیدنا نعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسیلمہ کذاب کا خط پڑھا تو اس کے دو قاصدوں سے فرمایا: تم خود کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں، جو مسیلمہ کہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر قاصدوں کو قتل نہ کیا جاتا ہوتا، تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4986]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه أبوداود: 2761، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16085»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده
حدیث نمبر: 4987
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَحِبَ قَوْمًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَوَجَدَ مِنْهُمْ غَفْلَةً فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ فَجَاءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلَهَا
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ مشرکوں کی ایک قوم کے ساتھی بنے، لیکن جب انھوں نے ان کو غافل پایا تو ان سب کو قتل کر دیا اور ان کا مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مال قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4987]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي في الكبري: 8733، والطبراني في الكبير: 20/ 1076، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18334»
وضاحت: فوائد: … مشرکوں کو قتل کرنے کی جتنی صورتیں ہیں، یہ صورت ان میں سے نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں امانت اور عہد کی پاسداری کا تقاضا یہ تھا کہ ان کو قتل نہ کیا جائے، کیونکہ انھوں نے مغیرہ پر اعتماد واعتبار کیا ہوا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
27. بَابُ جَوَازِ تَبِيْتِ الْكُفَّارِ وَإِنْ أَدَّى إِلَى قَتْلِ ذُرَارِيهِمْ تَبَعًا
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
حدیث نمبر: 4988
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّارُ مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ نُصَبِّحُهَا لِلْغَارَةِ فَنُصِيبُ الْوِلْدَانَ تَحْتَ بُطُونِ الْخَيْلِ وَلَا نَشْعُرُ فَقَالَ إِنَّهُمْ مِنْهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مشرکوں کی بستی ہو اور ہم اس پر صبح کے وقت اچانک حملہ کر دیں اور ان کے بچے گھوڑوں کے نیچے آ کر مارے جائیں، جبکہ ہمیں سمجھ ہی نہ آئے تو (ان بچوں کا قتل کیسا ہو گا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ان کے بچے بھی ان ہی میں سے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4988]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1825، 2563، ومسلم: 1193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16806»
وضاحت: فوائد: … ایسی صورت میں بچوں کوقتل کیا جا سکتا ہے، اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ قصداً مشرکوںکے بچوں کو قتل کرنا جائز ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر مشرکوں تک پہنچتے پہنچتے بیچ میں بچے روند دیئے جائیں، یا شب خون کی صورت میں ان کا پتہ نہ چلے اور وہ بیچ میں قتل ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں ہو گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1825
حدیث نمبر: 4989
عَنْ سَلْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيَّتْنَا هَوَازِنَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ہوازن پر رات کو حملہ کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4989]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16611»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1755
حدیث نمبر: 4990
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ لَوْ أَنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر رات کو حملہ کر دے اور بیچ میں مشرکوں کے بچے بھی رگڑے جائیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بچے اپنے آباء میں سے ہی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4990]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1745، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16424 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16538»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1745
حدیث نمبر: 4991
عَنِ الْمُهْلَبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَرَاهُمُ اللَّيْلَةَ إِلَّا سَيُبَيِّتُونَكُمْ فَإِنْ فَعَلُوا فَشِعَارُكُمْ حم لَا يُنْصَرُونَ
۔ مہلب بن ابو صفرہ، ایک صحابی ٔ رسول (سیدنا براء بن عازب) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال یہی ہے کہ وہ لوگ (یعنی ابو سفیان اور اس کی قوم) رات کو تم پر حملہ کر دیں گے، اگر ایسے ہوا تو تمہارا شعار یہ ہو گا: {حم لَا یُنْصَرُوْنَ}۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4991]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2597، والترمذي: 1682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23591»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح