الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب النهي عَنِ الْمُثْلَةِ وَالتَّحْرِيقِ وَقَطْعِ الشَّجَرِ وَهَدْمِ الْعَمَرَانِ إِلَّا لِحَاجَةٍ وَمَصْلِحَةِ
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
حدیث نمبر: 5002
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ قَالَ قَالَ أَلَا وَإِنَّ الْمُثْلَةَ أَنْ يَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُمَ أَنْفَهُ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی ہمیں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تو ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیتے اور مثلہ سے منع کرتے اور فرماتے: خبرادار! یہ بھی مثلہ ہے کہ آدمی یہ نذر مانے کہ وہ اپنی ناک میں سوراخ کرے گا یا اس کو پھاڑے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5002]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: الا ان من المثلة۔ وھذا اسناد ضعيف، أخرجه الطيالسي: 836، والبزار: 3566، والطبراني: 18/ 345، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20181»
الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: الا ان من المثلة ۔ وھذا اسناد ضعيف
حدیث نمبر: 5003
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُثْلَةِ
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثلہ سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5003]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 2/ 894، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18152 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18333»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 5004
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی نضیر کے کھجوروں کے درخت کاٹے بھی تھے اور جلائے بھی تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5004]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3021، ومسلم: 1746، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5520»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3021
حدیث نمبر: 5005
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَجَّهَهُ وَجْهَةً فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا الَّذِي عَهِدَ إِلَيْكَ قَالَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ أُغِيرَ عَلَى أَبْنَاءِ صَبَاحًا ثُمَّ أُحَرِّقَ
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک طرف بھیجا تھا، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تھے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے سوال کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں کون سی نصیحت کی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ نصیحت کی تھی کہ میں اَبْنٰی بستی پر صبح کے وقت حملہ کروں اور پھر جلادوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5005]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2616، وابن ماجه: 2843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21824 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22167»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 5006
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا أَبْنَاءُ فَقَالَ ائْتِهَا صَبَاحًا ثُمَّ حَرِّقْ
۔ (دوسری سند) سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اَبْنٰی نامی ایک گاؤں کی طرف بھیجا تھا اور فرمایا تھا: تم صبح کے وقت وہاں جانا اور اس کو جلا دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5006]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22128»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22128
حدیث نمبر: 5007
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَّةَ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي سَبْعِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ قَالَ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَبَعَثَ جَرِيرٌ بَشِيرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تم مجھے ذو خلصہ سے راحت نہیں پہنچاتے؟ یہ خثعم قبیلے کا ایک گھر تھا، اس کو کعبۂ یمانیہ کہا جاتا تھا، میں احمس قبیلے کے ایک سو ستر گھوڑ سوار لے کر اس کی طرف گیا، وہ وہاں گئے اور آگ لگا کر اس کو جلا دیا، پھر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک خوشخبری دینے والا بھیجا اور اس نے آ کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس گھر کو خارشی اونٹ کی طرح چھوڑ کر آپ کو خوشخبری دینے کے لیے آیا ہوں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احمس قبیلے کے گھوڑ سواروں اور پیادہ لوگوں کے لیے پانچ بار برکت کی دعا کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5007]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2823، 4355، ومسلم: 2476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19402»
وضاحت: فوائد: … ذوخلصہ گھر کے اندر ایک بت بھی تھا، اس کا نام خلصہ تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2823
حدیث نمبر: 5008
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ فَقَالَ إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا: اگر تم قریش کے فلاں فلاں دو آدمیوں کو پا لو تو ان کو آگ کے ساتھ جلا دینا۔ پھر جب ہم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو فلاں فلاں آدمیوں کو آگ کے ساتھ جلا دینے کا حکم دیا تھا، جبکہ آگ کے ساتھ عذاب دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے اگر تم ان کو پا لو تو ان کو قتل کر دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5008]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8442»
وضاحت: فوائد: … یہ دو آدمی ہبار بن اسود اور نافع بن عبد قیس تھے، اول الذکر فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہو گیا اور آخر الذکر کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3016
حدیث نمبر: 5009
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَرَهْطًا مَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ عُذْرَةَ فَقَالَ إِنْ قَدَرْتُمْ عَلَى فُلَانٍ فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا تَوَارَوْا مِنْهُ نَادَاهُمْ أَوْ أَرْسَلَ فِي أَثَرِهِمْ فَرَدُّوهُمْ ثُمَّ قَالَ إِنْ أَنْتُمْ قَدَرْتُمْ عَلَيْهِ فَاقْتُلُوهُ وَلَا تُحْرِقُوهُ بِالنَّارِ فَإِنَّمَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ رَبُّ النَّارِ
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک لشکر سمیت عُذرہ قبیلے کے ایک آدمی کی طرف بھیجا اور فرمایا: اگر تم نے فلاں پر غلبہ پا لیا تو اس کو آگ کے ساتھ جلا دینا۔ پس وہ چل پڑے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اوجھل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور کسی آدمی کو بھیج کر ان کو واپس بلا لیا اور پھر فرمایا: اگر تم نے اس آدمی پر غلبہ پا لیا تو اس کو قتل کرنا، آگ کے ساتھ جلانا نہیں ہے، کیونکہ آگ کا ربّ ہی ہے، جو آگ کے ذریعے عذاب دے سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5009]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه أبوداود: 2673، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16131»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
30. بَابُ تَحْرِيمِ الْفِرَارِ مِنَ الزَّحْفِ إِلَّا الْمُتَحَيِّر إِلَى فِئَةٍ وَإِنْ بَعُدَتْ
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
حدیث نمبر: 5010
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ أَوْ بَهْتُ مُؤْمِنٍ أَوْ الْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ أَوْ يَمِينٌ صَابِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ اس نے اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، دل کی خوشی کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے زکوۃ ادا کی ہو اور امام کی بات سنی ہو اور اس کی اطاعت کی ہو تو اس کے لیے جنت ہو گی، یا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پانچ گناہ ہیں، ان کا کوئی کفارہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق جان کو قتل کرنا، مؤمن پر تہمت لگانا، لڑائی والے دن بھاگ جانا اور جھوٹی قسم، جس کے ذریعے وہ ناحق مال حاصل کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5010]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، المتوكل او ابو المتوكل مختلف في اسمه، وھو مجھول، أخرجه البيھقي في الشعب: 4928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8722»
وضاحت: فوائد: … جمہور سلف صالحین کے مسلک کے مطابق زندگی میں توبہ اور ندامت کی وجہ سے ہر قسم کا گناہ معاف ہو جاتا، البتہ حقوق العباد کے سلسلے میں متعلقہ آدمی کو اس کا حق ادا کرنا یا معاف کر وا لینا ضروری ہے، اور موت کے بعد شرک کے علاوہ ہر گناہ قابل معافی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جرم کی نوعیت کے مطابق عارضی طور پر کسی قسم کا عذاب دیا جائے، مثلا قبر میں عذاب، میدانِ حشر میں عذاب، جہنم میں عذاب۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5011
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رُهْمٍ السَّمَعِيُّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبَائِرُ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ وَفِرَارٌ يَوْمَ الزَّحْفِ
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں آیا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، نماز قائم کی ہو، زکوۃ ادا کی ہو، رمضان کے روزے رکھے ہوں اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا ہو تو اس کے لیے جنت ہو گی۔ جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبائر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مسلمان نفس کو قتل کرنا اور لڑائی والے دن بھاگ جانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5011]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بمجموع طرقه، أخرجه النسائي: 7/88، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23898»
الحكم على الحديث:
حديث حسن بمجموع طرقه