الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ حَلْ الْغَنِيمَةِ مِنْ خَصُوصِيَاتِهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ وَأُمَّتِهِ وَذِكْرِ أَحْكَامِ تَتَعَلَّقُ بِالْغَنِيمَةِ قَبْلَ قِسْمَتِهَا
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
حدیث نمبر: 5022
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ فَأَلْقَى إِلَيْنَا رَجُلٌ جِرَابًا فِيهِ شَحْمٌ فَذَهَبْتُ آخُذُهُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے خیبر کے محل کا محاصرہ کیا ہوا تھا، ایک آدمی نے چربی کا مشکیزہ ہماری طرف پھینکا، میں اس کو لینے کے لیے گیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر شرما گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5022]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3153، 4214، 5508، ومسلم: 1772، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20829»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3153
حدیث نمبر: 5023
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ فَالْتَزَمْتُهُ قُلْتُ لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ قَالَ بَهَزٌ إِلَيَّ
۔ (دوسری سند)خیبر والے دن چربی کا ایک مشکیزہ لٹکایا گیا، میں اس کو چمٹ گیا اور کہا: میں کسی کو اس میں سے کچھ بھی نہیں دوں گا، پھر جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5023]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16914»
وضاحت: فوائد: … ابو داود کی روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو اجازت دیتے ہوئے فرمایا: ((ھُوَ لَکَ۔)) … یہ تیرے لیے ہے۔ اس باب سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے لیے مال غنیمت اور مال فے حلال کیا گیا ہے اور تقسیم سے پہلے یہ مال لینا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ امام کسی مخصوص چیز کی اجازت دے دے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16914
33. بَابُ سَبَبِ نُزُولِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: «يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْإِنْفَالِ»
اللہ تعالیٰ کے فرمان: «يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْإِنْفَالِ» کے شان نزول کا بیان
حدیث نمبر: 5024
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْأَنْفَالِ فَقَالَ فِينَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ حِينَ اخْتَلَفْنَا فِي النَّفَلِ وَسَاءَتْ فِيهِ أَخْلَاقُنَا فَانْتَزَعَهُ اللَّهُ مِنْ أَيْدِينَا وَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ بَوَاءٍ يَقُولُ عَلَى السَّوَاءِ
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبادہ بن صامت سے انفال والی آیت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم بدر والوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، جب ہم نے مالِ غنیمت میں اختلاف کیا اور اس بارے میں ہم سے بداخلاقی ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں سے یہ چیز چھین لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مال مسلمانوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5024]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23133»
وضاحت: فوائد: … اختلاف کی تفصیل اگلی روایت میں موجود ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 5025
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدْتُ مَعَهُ بَدْرًا فَالْتَقَى النَّاسُ فَهَزَمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَتْ طَائِفَةٌ فِي آثَارِهِمْ يَهْزِمُونَ وَيَقْتُلُونَ فَأَكَبَّتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ يَحْوُونَهُ وَيَجْمَعُونَهُ وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُصِيبُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ وَفَاءَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْغَنَائِمَ نَحْنُ حَوَيْنَاهَا وَجَمَعْنَاهَا فَلَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا نَصِيبٌ وَقَالَ الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ الْعَدُوِّ لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا نَحْنُ نَفَيْنَا عَنْهَا الْعَدُوَّ وَهَزَمْنَاهُمْ وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخِفْنَا أَنْ يُصِيبَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً وَاشْتَغَلْنَا بِهِ فَنَزَلَتْ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَوَاقٍ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَلَ الرُّبْعَ وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكُلَّ النَّاسِ نَفَلَ الثُّلُثَ وَكَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، میں غزوۂ بدر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جب لوگوں کا مقابلہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کو شکست دی، لشکر ِ اسلام کا ایک حصہ دشمنوں کو شکست دیتے ہوئے اور ان کو قتل کرتے ہوئے ان کاپیچھا کرنے لگ گے اور ایک حصہ مالِ غنیمت پر ٹوٹ پڑا اور اس کو جمع کرنے لگا اور ایک حصے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرے میں لے لیا، تاکہ دشمن غفلت سے فائدہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے، یہاں تک کہ رات ہو گئی اور سارے لوگ لوٹ آئے، غنیمتیں جمع کرنے والوں نے کہا: ہم نے یہ مال جمع کیا ہے، کسی اور کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے، دشمن کا پیچھا کرنے والے گروہ نے کہا: تم لوگ ہم سے زیادہ اس مال کے مستحق نہیں ہو، ہم نے اس مال سے دشمن کو ہٹایا اور اس کو شکست دی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرنے والوں نے کہا: تم لوگ ہم سے زیادہ اس مال کا حق نہیں رکھتے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرا دیا اور ہم ڈر گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن غفلت سے فائدہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نقصان پہنچا دے اور اس طرح ہم اُدھر مصروف رہے، پس اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {یَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَنْفَالِ، قُلِ الْأَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ، فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ} … وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کے فَوَاق کی مقدار کے برابر وقت میں اس مال کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کی سرزمین میں حملہ کرتے تھے تو ایک چوتھائی حصہ زائد دیتے تھے اور اگر واپسی پر ایسا ہوتا ہے تو مجاہدین کی تھکاوٹ کی وجہ سے ایک تہائی حصہ زائد دیتے تھے، ویسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ لوگ زائد حصے کی حرص رکھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: قوی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کمزوروں کو زائد حصوں میں شریک کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5025]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1561، وابن ماجه: 2852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23142»
وضاحت: فوائد: … اونٹنی کا فَوَاق: یہ لفظ وقت کی ایک مقدار بیان کرتا ہے، اس کے یہ معانی ہیں: (۱)دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا وقت، (۲) دوہنے والے کے تھن کو دو دفعہ پکڑنے کے درمیان کا وقت، (۳) اتنا وقت جس میں اونٹنی اپنا دودھ دوھنے والے کے لیے دودھ اتار دیتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 5026
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَكُونُ حَامِيَةَ الْقَوْمِ يَكُونُ سَهْمُهُ وَسَهْمُ غَيْرِهِ سَوَاءً قَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ أُمِّ سَعْدٍ وَهَلْ تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی بوقت شکست لوگوں کی حفاظت کا کام سرانجام دیتا ہے، کیا اس کا اور دوسرے مجاہدین کا حصہ برابر برابر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او سعد کی ماں کے بیٹے! تیری ماں تجھے گم پائے، صرف تمہارے کمزوروں کی وجہ سے تم کو رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5026]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه النسائي: 6/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1493»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
34. وَتَقْسِيمِ الْغَنِيمَةِ عَلَى السَّوَاءِ بَيْنَ كُلِّ عَامِل عَمِلَ فِي الْمَوْقِعَةِ قَدْرَ جُهْـدِہِ
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5027
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ابْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ فَإِنَّكُمْ إِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے اپنے کمزوروں کو تلاش کر کے لاؤ۔ کیونکہ تم لوگوں کو صرف اپنے ضعیفوں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5027]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2594،والترمذي: 1702، والنسائي: 6/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21731 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22074»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ ان ضعفاء کو رزق دینا چاہتا ہے اور ان کا بھلا کرنا چاہتا ہے،مگر چونکہ وہ تمہارے محتاج ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ انھیں رزق پہنچانے کے لیے تمہیں بھی رزق دے دتیا ہے اور ان کے بھلے کے لیے تمہاری مدد بھی کرتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
35. بَابُ فَرْضِ حُمُسِ الْغَنِيمَةِ لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ مَا جَاءَ فِي تَقْسِيمِهِ
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 5028
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَتَذَاكَرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِعُبَادَةَ يَا عُبَادَةُ كَلِمَاتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا فِي شَأْنِ الْأَخْمَاسِ فَقَالَ عُبَادَةُ قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوَتِهِمْ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمُقَسَّمِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَ وَبَرَةً بَيْنَ أُنْمُلَتَيْهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ مِنْ غَنَائِمِكُمْ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي فِيهَا إِلَّا نَصِيبِي مَعَكُمْ إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ وَأَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَصْغَرَ
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنا ابو درداء اور سیدنا حارث بن معاویہ کندی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کا ذکر کیا، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عبادہ: فلاں فلاں غزوے میں خمس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں، سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غزوے کے دوران ہمیں نماز پڑھائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس مالِ غنیمت کا ایک اونٹ تھا، جس کو ابھی تک تقسیم نہیں کیا گیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہوگئے،اپنے دو پوروں میں اونٹ کے بال پکڑے اور فرمایا: یہ بال بھی تمہاری غنیمتوں میں سے ہیں اور اس مال میں تمہارے ساتھ میرا حصہ نہیں ہے، مگر خمس، اور وہ خمس بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا، لہذا دھاگہ اور سوئی اور ان سے چھوٹی بڑی چیزیں، سب کچھ ادا کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5028]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23157»
وضاحت: فوائد: … وہ خمس بھی تم پر لوٹا دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ خمس دراصل بیت المال میںجمع ہو جاتا ہے اور وہاں سے یہ مال مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 5029
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ الْمَغَانِمَ تُجْزَأُ خَمْسَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ يُسْهَمُ عَلَيْهَا فَمَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ لَهُ يَتَخَيَّرُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ غنیمتوں کے پانچ حصے بنائے جاتے تھے، پھر ان کے حصے بنائے جاتے تھے، جو حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہوتا تھا، اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود منتخب کرتے تھے، (یعنی جس کو چاہتے دیتے اور جس کو چاہتے نہ دیتے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5029]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه ابوداود: 2992، 2993، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5397»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة
حدیث نمبر: 5030
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ بِالْخُمُسِ قَالَ كَانَ يَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ الرَّجُلَ ثُمَّ الرَّجُلَ
۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خمس کا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک آدمی کو سواری دیتے، پھر ایک آدمی کو دیتے اور پھر ایک آدمی کو دیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5030]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 435، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14994»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 5031
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الْقُرْبَى مِنْ خَيْبَرَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ جِئْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو هَاشِمٍ لَا يُنْكَرُ فَضْلُهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وَصَفَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ مِنْهُمْ أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَإِنَّمَا هُمْ بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ قَالَ ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تو میں (جبیر) اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ہاشم ہیں، ان کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس مقام کی وجہ سے، جو ان سے اللہ تعالیٰ نے بیان کیا، لیکن آپ غور کریں کہ یہ جو ہمارے بھائی بنو مطلب ہیں، آپ نے ان کو دے دیا اور ہمیں چھوڑ دیا، جبکہ ہم اور بنو مطلب آپ سے ایک مقام پر ہیں، (یعنی آپ سے ہمارا اور ان کا رشتہ داری کا درجہ ایک ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ نہ مجھ سے جاہلیت میں جدا ہوئے ہیں اور نہ اسلام میں، بس بنو ہاشم اور بنومطلب ایک ہی چیز ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں میں تشبیک ڈالی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5031]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3140، 3502، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16862»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3140