الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ فَرْضِ حُمُسِ الْغَنِيمَةِ لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ مَا جَاءَ فِي تَقْسِيمِهِ
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 5032
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) جَاءَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يُكَلِّمَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمُسِ حُنَيْنٍ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ وَبَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا وَقَرَابَتُنَا مِثْلُ قَرَابَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَى هَاشِمًا وَالْمُطَّلِبَ شَيْئًا وَاحِدًا قَالَ جُبَيْرٌ وَلَمْ يَقْسِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ
۔ (دوسری سند) سیدنا جبیر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کرنے کے لیے آئے، اس بات کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کا خمس بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تھا، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنو مطلب اور بنو عبد مناف میں مال تقسیم کیا ہے، لیکن ہمیں کچھ نہیں دیا، جبکہ آپ سے ہماری اور ان کی رشتہ داری ایک جیسی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو ہاشم اور مطلب کو ایک چیز خیال کرتا ہوں۔ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو اس خمس میں سے کچھ نہیں دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مال بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5032]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16904»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ بنو نوفل سے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بنو عبدشمس سے تھے، جبکہ عبد شمس، نوفل، ہاشم اور مطلب سب بنو عبد مناف ہونے کی وجہ سے برابر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو بنو ہاشم سے تھے، لیکن بنو مطلب کی جو رشتہ داری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھی، وہی قرابت بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو حاصل تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عباس کو اس وجہ سے فضیلت وبرتری دی اور ان کو اور بنو ہاشم کو ایک چیز قرار دیا کہ بنو عباس نے بنو ہاشم کی تائید و نصرت کی ہے، دورِ جاہلیت میں بھی اور اس کے بعد بھی، جبکہ بنو عبد شمس اور بنو نوفل، بنو ہاشم سے الگ رہے ہیں، بلکہ ان سے لڑائیاں بھی لڑی ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16904
حدیث نمبر: 5033
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْسِمْ لِعَبْدِ شَمْسٍ وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنَ الْخُمُسِ شَيْئًا كَمَا كَانَ يَقْسِمُ لِبَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقْسِمُ الْخُمُسَ نَحْوَ قَسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُعْطِي قُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيهِمْ وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُعْطِيهِمْ وَعُثْمَانُ مِنْ بَعْدِهِ مِنْهُ
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو خمس میں سے کچھ نہیں دیا اور یہ مال بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم کی طرح خمس کو تقسیم کیا کرتے تھے، البتہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرابتداروں کو اس طرح نہیں دیتے تھے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیتے تھے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برابر برابر تقسیم کر دیتے تھے، لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ حاجت کے مطابق کسی کو کم دیتے تھے اور کسی کو زیادہ)، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس مال کا بعض حصہ ان کو دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5033]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البخاري: 4229، وأبوداود!: 2979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16890»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 5034
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَالْعَبَّاسُ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَبِرَ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَكَثُرَتْ مُؤْنَتِي فَإِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَأْمُرَ لِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّكَ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا كَانَتْ مَعِيشَتِي مِنْهَا ثُمَّ قَبَضْتَهَا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي هَذَا الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا فِي كِتَابِهِ مِنْ هَذَا الْخُمُسِ فَأَقْسِمُهُ فِي حَيَاتِكَ كَيْ لَا يُنَازِعَنِيهِ أَحَدٌ بَعْدَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَاكَ فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمْتُ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى كَانَتْ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ كَثِيرٌ
۔ عبد الرحمن بن ابو لیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: میں، سیدہ فاطمہ، سیدنا عباس اور سیدنا زید بن حارثہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئے، سیدنا عباس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہو گئی ہے، میری ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں، جبکہ مجھ پر کلفت اور بوجھ زیادہ ہے، اس لیے اگر آپ میرے لیے اتنے اتنے وسق اناج کا حکم دینا مناسب سمجھتے ہیں تو دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! جیسے آپ نے اپنے چچا جان کے لیے حکم دیا ہے، اسی طرح اگر میرے لیے مناسب سمجھتے ہیں تو حکم دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایسا بھی کر دیں گے۔ پھر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی، میری معیشت کا انحصار اسی پر تھا، لیکن پھر آپ نے مجھ سے لے لی ہے، اگر آپ مناسب سمجھتے ہیں تو وہ زمین مجھے واپس کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہم کریں گے۔ پھر میں (علی) نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اس حق کا والی بنا دیں، جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خمس کی صورت میں ہمیں عطا کیا ہے، میں ہی آپ کی زندگی میں اس کی تقسیم کروں، تاکہ کوئی شخص آپ کے بعد یہ حق ہم سے چھین نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کا ذمہ دار بنا دیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کو تقسیم کرتا رہا، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے وہ حق میرے ہی سپرد کیے رکھا اور میں ان کی خلافت میں اس کو تقسیم کرتا رہا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے اس کا والی بنایا اور میں ان کی خلافت میں تقسیم کرتا رہا، یہاں تک کہ ان کے دورِ خلافت کا آخری سال شروع ہو گیا، اس وقت ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5034]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسين بن ميمون الخندفي الكوفي ليس بمعروف قلّ من روي عنه، وقال ابوزرعة: شيخ، وقال ابو حاتم: ليس بقوي في الحديث، يكتب حديثه، أخرجه ابوداود: 2983، 2984، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 646»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5035
عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ خَرَجَ مِنْ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ تَرَاهُ قَالَ هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ وَكَانَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ
۔ یزید بن ہرمز سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نجدہ حروری نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت سے خروج کیا تو اس نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے قرابتداروں کے حصے کے بارے میں سوال کیا کہ ان کے علم کے مطابق وہ کس کو دیا جائے گا، انھوں نے کہا: وہ ہمارے لیے ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ دار ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حصے کو ہم لوگوں میں تقسیم کیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مال میں کچھ حصہ ہمیں دیا اور ہم نے اس کو اپنے حق سے کم خیال کیا تو ہم نے ان کو واپس کر دیا اور قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو حصہ ان پر پیش کیا تھا، اس کی تفصیل یہ تھی کہ وہ نکاح کرنے والے کا تعاون کریں گے، ان کے قرض داروں کا قرضہ ادا کریں گے اور ان کے فقیر لوگوں کو دیں گے، انھوں نے اس سے زیادہ دینے سے انکار کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5035]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2941»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے شروع والے حصے کی وضاحت یہ ہے: خوارج کی ایک جماعت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حامی بن کر ان کا دفاع کرتی رہی، جب ان کی خلافت مضبوط ہوئی تو اس وجہ سے انھوں نے اپنے آپ کو ملامت کیا کہ ان کو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی رائے کا علم نہیں تھا، جب انھوں نے ان
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1812
36. باب مَا جَاءَ فِي الصَّفِيِّ الَّذِي كَانَ لِرَسُوْلِ الله صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
اس منتخب حصے کا بیان، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھا
حدیث نمبر: 5036
عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا بِهَذَا الْمِرْبَدِ بِالْبَصْرَةِ قَالَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَوْ قِطْعَةُ جِرَابٍ فَقَالَ هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو الْعَلَاءِ فَأَخَذْتُهُ فَقَرَأْتُهُ عَلَى الْقَوْمِ فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَأَدَّيْتُمُ الزَّكَاةَ وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ وَسَهْمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيَّ فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ قَالَ قُلْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ
۔ یزید بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم بصرہ کے اس باڑے میں تھے، ایک بدّو آیا، اس کے پاس چمڑے یا مشکیزے کا ایک ٹکڑا تھا، اس نے کہا: یہ خط ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے لکھا تھا، ابو العلاء کہتے ہیں: میں نے وہ خط پکڑا اور لوگوں کو پڑھ کر سنایا، اس کی عبارت یہ تھی: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کو لکھا گیا ہے، اگر تم لوگ نماز ادا کرتے رہے، زکوۃ دیتے رہے، غنیمتوں میں سے خمس، اپنے نبی کا حصہ اور منتخب حصہ دیتے رہے تو تم اللہ کی امان اور اس کے رسول کی امان کے ساتھ باامن رہو گے۔ پھر ہم نے اس سے کہا: تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا سنا، اس نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صبر والے مہینے کے روزے اور ہر ماہ میں سے تین روزے سینے کے کینے کو ختم کر دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5036]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23466»
وضاحت: فوائد: … اَلصَّفِیِّ (منتخب حصہ): وہ خصوصی حصہ جو امام و رئیس مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اپنی ذات کے لیے چن لیتا ہے، مثلا: لونڈی، غلام، اونٹ اور گھوڑا وغیرہ
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
37. بَابُ تَقْسِيمِ أَرْبَعَةِ أَحْمَاسِ الْغَيْمَةِ وَمَا يُعْطَى الفارس والرجل، وَمَن يُرْضَحُ لَهُ مِنْهَا كَالْمَرْأَةُ وَالْمَمْلُوكِ
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
حدیث نمبر: 5037
عَنْ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ وَمَعَنَا فَرَسٌ فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَهْمًا وَأَعْطَى الْفَرَسَ سَهْمَيْنِ
۔ سیدنا عمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چار افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ہمارے ساتھ ایک گھوڑا بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں سے ہرآدمی کو ایک حصہ اور گھوڑے کے دو حصے دیئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5037]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 2734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17371»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 5038
عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الزُّبَيْرَ سَهْمًا وَأُمَّهُ سَهْمًا وَفَرَسَهُ سَهْمَيْنِ
۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود زبیر کو ایک حصہ، اس کی ماں کو ایک حصہ اور اس کے گھوڑے کے دو حصے دیئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5038]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه النسائي: 6/ 228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1425»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 5039
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر والے دن گھوڑے کے لیے دو حصے اور پیادہ کے لیے ایک حصہ رکھا۔ ابو معاویہ راوی کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کے لیے کل تین حصے رکھے، ایک آدمی کا اور دو اس کے گھوڑے کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5039]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2863، 4228، ومسلم: 1762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4448 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4448»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑ سوار کو اس کے خاص حصے کے علاوہ گھوڑے کی وجہ سے دو مزید حصے دیئے۔ ان دو حصوں کی وجہ یہ ہے کہ گھوڑے کا خرچ زیادہ ہے اور گھوڑ سوار پیدل سے کئی گنا زیادہ مفید ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2863
حدیث نمبر: 5040
عَنْ مَجْمَعِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُدْخِلْ مَعَهُمْ فِيهَا أَحَدًا إِلَّا مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُ مِائَةِ فَارِسٍ فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا
۔ سیدنا مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر کو اہل حدیبیہ پر تقسیم کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ کسی اور کو شامل نہیں کیا، بس صرف وہی جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے اٹھارہ حصے بنائے، لشکر کی تعداد پندرہ سو(۱۵۰۰) تھی، ان میں تین سو گھوڑ سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑ سوار کو دو حصے دیئے اور پیادہ کو ایک۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5040]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، يعقوب بن مجمع بن جارية، وان كان حسن الحديث، انفرد به، وقد خولف فيه، أخرجه ابوداود: 2736، 3015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15549»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5041
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنَ الْغَنَائِمِ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ وَفِي رِوَايَةٍ دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالِ غنیمت میں سے عورت اور غلام کو اتنا حصہ دیتے تھے، جتنا لشکر والے افراد کو ملتا تھا، لیکن ایک روایت میں ہے: لشکر والے افراد سے کم حصہ عورت اور غلام کو دیا جاتاتھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5041]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2929»
الحكم على الحديث:
حديث حسن