🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ هَيْئَةِ الْاضْطِجَاعِ لِلنَّوْمِ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ أَرَادَ ذلِكَ وَالنَّهَى عَنْ ضِبْعَةِ أَهْلِ النَّارِ وَغَيْرِ ذلِكَ
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5524
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ ضَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ قَالَ فَبِتْنَا عِنْدَهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ يَطَّلِعُ فَرَآهُ مُنْبَطِحًا عَلَى وَجْهِهِ فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ فَأَيْقَظَهُ وَقَالَ هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ
۔ (دوسری سند) سیدنا طہفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک گروہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہمان بنے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو ہمارے پاس تشریف لائے اور مجھے پیٹ کے بل لیٹے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جگایا اور فرمایا: یہ جہنمی لوگوں کے لیٹنے کی کیفیت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5524]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15630»
وضاحت: فوائد: … پیٹ کے بل سونا ناجائز ہے، افضل یہ ہے کہ دائیں کروٹ پر سویا جائے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15630
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5525
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يَقُولُ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ رَاقِدٌ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ هَذَا أَبْغَضُ الرُّقَادِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا عمرو بن شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ اپنے چہرے کے بل سویا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کی یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5525]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19473 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19702»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5526
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى بَطْنِهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ لَضِجْعَةٌ مَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس طرح لیٹنے کو پسند نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5526]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، أخرجه الترمذي: 2768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7849»

الحكم على الحديث:
حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5527
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْوَحْدَةِ أَنْ يَبِيتَ الرَّجُلُ وَحْدَهُ أَوْ يُسَافِرَ وَحْدَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنہائی سے منع کیا ہے، یعنی آدمی کا اکیلا رات گزارنا اور تنہا سفرکرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5527]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني في صحيحته، أخرجه البخاري: 2998 دون النھي عن ان يبيت الرجل وحده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5650»
وضاحت: فوائد: … نفع و نقصان کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس نے لوگوں کے ظاہری حالات و احساسات کو مد نظر رکھ کر تحفظ کے قوانین وضع کیے ہیں، ایک قانوں یہ ہے کہ نہ تنہا سفر کیا جائے اور تنہا رات گزاری جائے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. ... باب مَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ عِنْدَ النَّوْمِ
قرآن مجید کے اس حصے کا بیان، جو سونے سے پہلے تلاوت کیا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5528
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَقْرَأُ سُورَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مَلَكًا يَحْفَظُهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيهِ حَتَّى يَهُبَّ مَتَى هَبَّ
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے بستر پر آتا ہے اور کتاب اللہ کی ایک سورت تلاوت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو اس کی طرف بھیجتے ہیں، وہ اس کو ایذا پہنچانے والی ہر چیز سے اس کی حفاظت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، جب بھی بیدار ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5528]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن شداد بن اوس، وابو مسعود الجريري قد اختلط، ورواية يزيد بن ھارون عنه بعد اختلاطه، أخرجه الترمذي: 3407، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17262»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن شداد بن اوس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5529
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى إِلَى فِرَاشِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو جمع کر کے ان میں اس طرح پھونک مارتے کہ تھوڑی سی تھوک بھی ہوتی اور ان میں یہ سورتیں تلاوت کرتے: سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دونوں ہاتھ جہاں تک ہو سکتا، اپنے جسم پر اس طرح پھیرتے کہ اپنے سر اور چہرے سے شروع کرتے، پھر جسم کے سامنے والے حصے پر پھیرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ عمل تین بار دوہراتے تھے اور ہر رات کو یہ عمل کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5529]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5017، 6319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25365»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5017
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5530
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۂ سجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت کیے بغیر نہیں سوتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5530]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14713»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5531
عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ وَقَالَ إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً أَفْضَلَ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے پہلے تسبیح والی سورتوںکی تلاوت کرتے اور فرماتے: ان سورتوں میں ایک ایسی آیت ہے،جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5531]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه أبوداود: 5057، والترمذي: 2921، 3406، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17292»
وضاحت: فوائد: … اَلْمُسَبِّحَات (تسبیح والی سورتوں) سے مراد قرآن مجید کی وہ سورتیں ہیں، جن کی ابتداء میں {سُبْحَانَ، سَبَّحَ اور یُسَبِّحُ} آیا ہے اور یہ کل سات سورتیں ہیں: سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ حدید، سورۂ حشر، سورۂ صف، سورۂ جمعہ، سورۂ تغابن اور سورۂ اعلی۔

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب مَا يُقَالُ مِنَ الْأَذْكَارِ غَيْرِ الْقُرْآنِيَّةِ عِنْدَ النَّوْمِ
سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5532
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ يَقُولُ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنا پہلو بسترپر رکھتے تو یہ دعا پڑھتے: بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی فَإِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا تَحْفَظُ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ(اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا، اگر تو میرے نفس کو روک لے تو اس پر رحم کرنااور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جیسا کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5532]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7393، ومسلم: 2724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7354»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7393
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5533
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْأَرْضِ، وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی، مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْإِنْجِیلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُونَکَ شَیْئٌ، اقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَأَغْنِنِی مِنَ الْفَقْرِ(اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے ربّ! زمین کے ربّ! ہر چیز کے ربّ! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات و انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس شریر کے شرّسے کہ تو جس کی پیشانی پکڑنے والا ہے، تو اوّل ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو آخِر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو باطن ہے، تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں، تو میرا قرض اتار دے اور مجھے فقر سے غنی کر دے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5533]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8947»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں درج ذیل آیت کی بہترین تفسیر بیان کی گئی ہے:

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2713
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں