🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب مَا يَقُولُ وَيَفْعَلُ مَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِحَاجَةٍ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ الْانْتِبَاءِ مِنَ النَّوْمِ أَثْنَاءَ اللَّيْلِ وَعِنْدَ التَّيَقْطِ مِنْهُ فِي آخِرِهِ
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5554
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ نَمُوتُ وَنَحْيَا وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ نَمُوتُ وَنَحْیَا(اے اللہ! ہم تیرے نام کے ساتھ فوت ہوتے ہیں اور پھر زندہ ہوں گے)۔ اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ(ساری تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اس کی طرف لوٹنا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5554]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21693»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7395
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5555
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَمِنًا أَنْ يَقُولَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْيُمْنَى ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانِي بَعْدَمَا أَمَاتَنِي وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شایانِ شان بھی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے بھی ایسے ہی تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بستر پر آتے تو اپنا دایاں دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوتُ (اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ موت پاتا ہوں) پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: (ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5555]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6312، 6324، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23675»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6312
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ مَا يُقَالُ لِدُخُولِ الْمَنْزِلِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ وفي الشوقِ وَعِنْدَ انْقِضَاضِ الْمَجْلِسِ
گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی¤اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5556
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ حِينَ يَدْخُلُ وَحِينَ يَطْعَمُ قَالَ الشَّيْطَانُ لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ هَاهُنَا وَإِنْ دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ مَطْعَمِهِ قَالَ أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ قَالَ نَعَمْ
۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب بندہ گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے: نہ تم اس گھر میں رات گزار سکتے ہو اور نہ شام کا کھانا ملے گا، لیکن اگر آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے تو وہ شیطان کہتا ہے: تم نے اس گھر میں رات گزارنے کو پا لیا ہے، پھر اگر وہ کھانا کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنا بھی پا لیا ہے اور شام کا کھانا بھی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5556]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2018، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14788»
وضاحت: فوائد: … گھر کے تمام افراد کو گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ شیطان کی نحوستوں سے محفوظ رہا جا سکے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2018
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5557
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نَزِلَّ أَوْ نَضِلَّ أَوْ نَظْلِمَ أَوْ نُظْلَمَ أَوْ نَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيْنَا
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، … … أَوْ یُجْہَلَ عَلَیْنَا (میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ ہم پھسل جائیں، یا گمراہ ہو جائیں، یا ظلم کریں، یا ہم پر ظلم کیا جائے یا ہم جہالت والا کام کروں یا ہم پر جہالت مسلط کر دی جائے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5557]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 5094، والترمذي: 3427، والنسائي: 8/285، وابن ماجه: 3884، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27151»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5558
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يُرِيدُ سَفَرًا أَوْ غَيْرَهُ فَقَالَ حِينَ يَخْرُجُ بِسْمِ اللَّهِ آمَنْتُ بِاللَّهِ اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِلَّا رُزِقَ خَيْرَ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان سفر یا کسی اور کام کے ارادے سے گھر سے نکلے اور نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: بِسْمِ اللّٰہِ آمَنْتُ بِاللّٰہِ اعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ (میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، میں نے اللہ کی پناہ لی، میں نے اللہ تعالیٰ پر توکّل کیا، برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے) [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5558]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل الذي روي عنه صالح بن كيسان، أخرجه ابن السني في عمل اليوم والليلة: 491، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 471»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل الذي روي عنه صالح بن كيسان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5559
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي سُوقٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَلْفَ أَلْفِ حَسَنَةٍ وَمَحَا عَنْهُ بِهَا أَلْفَ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے، تعریف اسی کے لیے ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اس کی دس لاکھ برائیاں معاف کرے گا اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5559]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 2235، والترمذي: 3428، 3429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 327»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی کی روایت میں اس دعا کے الفاظ یوں ہیں: لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَہُوَ حَیٌّ لَا یَمُوتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ۔ سبحان اللہ! اتنا بڑا اجر و ثواب، در حقیقت اللہ تعالیٰ لامتناہی خزانوں کا مالک ہے اور اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرتا ہے، اجر و ثواب کی اس مقدار کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ بازار ایسی جگہ ہے، جہاں لوگ تجارت، خرید و فروخت اور زیادہ منافع کے حصول اور خسارے سے بچاؤ کے حیلوں میںمصروف ہو کر اللہ تعالیٰ اور اس کے ذکر سے غافل ہو جاتے ہیں، نیز بازاروں کو سب سے برا خطۂ زمین قرار دیا گیا ہے، لیکن جو آدمی ان امور کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ذکر کو یاد رکھے گا، وہ بڑا اجرو ثواب پائے گا۔

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5560
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَفَّارَةُ الْمَجَالِسِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجالس کا کفارہ ہے کہ بندہ مجلس کے آخر میں یہ دعا پڑھے: سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ۔ (اے اللہ! تو پاک ہے، اور تیسری حمد کے ساتھ، میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5560]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 4858، والترمذي: 3433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8804»
وضاحت: فوائد: … ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ جَلَسَ فِی مَجْلِسٍ فَکَثُرَ فِیہِ لَغَطُہُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ یَقُومَ مِنْ مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ إِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا کَانَ فِی مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ۔)) … جو آدمی ایسی مجلس میں بیٹھتا ہے، جس میں بہت زیادہ شور و غل اور لغو باتیں ہوتی ہیں، پھر وہ اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھتا ہے:سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَیْکَ۔ تو اس کے اس مجلس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ مَا يَقُولُ مَنِ اسْتَجَدَ ثَوْبًا
نیا کپڑا پہننے والے کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5561
عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ عِمَامَةً أَوْ قَمِيصًا أَوْ رِدَاءً ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَمِنْ شَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے کہ پگڑی ہے، یا قمیص، یا چادر اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ کَسَوْتَنِیہِ، أَسْأَلُکَ خَیْرَہُ وَخَیْرَ مَا صُنِعَ لَہُ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ وَمِنْ شَرِّ مَا صُنِعَ لَہُ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لئے ہی ہے‘ تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا‘ (اب) میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں‘ اور اس کی برائی اور جس چیز کیلئے یہ بنایا گیا اس کی برائی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔) [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5561]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4020، والترمذي: 1767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11489»
وضاحت: فوائد: … سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَکَلَ طَعَامًا ثُمَّ

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ نُزُولِ الْمَطْرِ وَسِمَاعِ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ وَرُويَةِ الهَلال
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5562
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا مِنْ أُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ تَرَكَ عَمَلَهُ وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ فَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَإِنْ مَطَرَتْ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کے کسی افق میں کوئی نامکمل سا بادل دیکھتے تو اپنے کام کو چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہوتے، پھر یہ دعا پڑھنا شروع کر دیتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیہِ (اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہے، اس شرّ سے، جو اس بادل میں ہے)۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بادل کو زائل کر دیتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے، اور اگر وہ بارش برساتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے: اے اللہ! نفع بخش بارش برسانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5562]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 5099، وابن ماجه: 3889، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26087»
وضاحت: فوائد: … قوم ہود کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖ رِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … تو جب انھوں نے اسے ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کا رخ کیے ہوئے دیکھا تو انھوں نے کہا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسانے والا ہے۔ بلکہ یہ وہ(عذاب)ہے جو تم نے جلدی مانگا تھا، آندھی ہے، جس میں دردناک عذاب ہے۔ جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۴، ۲۵)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5563
عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ صَیِّبًا ھَنِیْئًا (اے اللہ! اس کو خوشگوار بارش بنا دے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5563]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25486»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25486
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں