الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب مَا يُقَالُ مِنَ الْأَذْكَارِ غَيْرِ الْقُرْآنِيَّةِ عِنْدَ النَّوْمِ
سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان
حدیث نمبر: 5544
عَنْهُ أَيْضًا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمَا تُسَبِّحَانِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا وَتُحَمِّدَانِ عَشْرًا وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا وَإِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ الخ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث بھی ہے، اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہ، دس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور دس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو، اور جب اپنے بستروںپر آ جاؤ تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، …۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5544]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 1152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 838»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 5545
عَنِ ابْنِ أَعْبُدٍ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُخْبِرُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتِ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مِنْ أَكْرَمِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ وَكَانَتْ زَوْجَتِي فَجَرَتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ الرَّحَى بِيَدَيْهَا وَأَسْقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتِ الْقِرْبَةُ بِنَحْرِهَا وَقَمَّتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا وَأَوْقَدَتْ تَحْتَ الْقِدْرِ حَتَّى دَنِسَتْ ثِيَابُهَا فَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ ضَرَرٌ فَقُدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ أَوْ خَدَمٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلِيهِ خَادِمًا يَقِيكِ حَرَّ مَا أَنْتِ فِيهِ فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ خَدَمًا أَوْ خُدَّامًا وَلَمْ تَسْأَلْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ سَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ فَأَخْرَجَتْ رَأْسَهَا وَقَالَتْ رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ مَرَّتَيْنِ
۔ ابن اعبد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تجھے اپنی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بات بتلاؤں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل و عیال میں سے سب سے زیادہ معزز تھیں اور وہی میری بیوی بھی تھیں، انھوں نے اس قدر چکی چلائی کہ اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے، انھوں نے مشکیزے کے ذریعے اتنا پانی لایا کہ ان کے گلے میں نشان پڑ گیا اور انھوں نے گھر میں جھاڑو دیا، یہاں تک کہ ان کے کپڑے خاک آلود ہو گئے، انھوں نے ہنڈیا کے نیچے اس قدر آگ جلائی کہ ان کے کپڑے میلے ہو گئے، ان کاموں سے ان کو تکلیف ہوئی، اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی یا لونڈیاں لائی گئیں، میں نے سیدہ سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ایک غلام کا سوال کرو، جو تمہیں کام کی اس مشقت سے بچائے، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئیں اور واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غلام پائے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال نہ کر سکیں، …۔ پھر حدیث کا بقیہ حصہ ذکر کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل بتا دوں، جو تمہارے حق میں غلام سے بہتر ہے، جب اپنے بستر پر لیٹو تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر اس نے پردے سے اپنا سر نکالا اور دو بار کہا: میں اللہ اور رسول سے راضی ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5545]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن اعبد، وابو الورد، قال ابن المديني: ليس بالمعروف، أخرجه 2988، 5063، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1313»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن اعبد
حدیث نمبر: 5546
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ فَقَالَ مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ خَلَقْتَ نَفْسِیْ وَاَنْتَ تَوَفَّاھَا، … اَللّٰھُمَّ اَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ(اے اللہ! بیشک تو نے میری جان کو پیدا کیا اور تو نے ہی اس کو فوت کرنا ہے، اس کا مرنا اور جینا تیرے لیے ہے، اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت کرنا اور اگر اس کو موت دے دے تو اس کو بخش دینا، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5546]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5502»
وضاحت: فوائد: … آدمی نے ان کو کہا: کیا آپ نے یہ بات عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا عمر رضی اللہ عنہ سے بہتر شخص یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2712
حدیث نمبر: 5547
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تَبَوَّأَ مَضْجَعَهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ وَأَفْضَلَ وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ وَلَكَ كُلُّ شَيْءٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَفَانِیْ وَآوَانِیْ … … اَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ۔(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو مجھے کافی ہوا، مجھے جگہ دی، مجھے کھلایا، مجھے پلایا، جس نے مجھ پر احسان کیا اور مجھ پر مہربان ہوا اور جس نے مجھے عطا کیا اور خوب دیا، ہر حال پر ساری تعریف اللہ کیلئے ہے، اے اللہ! تو ہر چیز کا ربّ، ہر چیز کا بادشاہ ہے اور ہر چیز کا معبود ہے، ہر چیز تیرے لیے ہے، میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5547]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 5058، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5983 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5983»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
22. بابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ النَّوْمِ حَشِيَّةَ الْفَزَعَ فِيهِ وَالارْقِ وَالْوَحْشَةِ
ان دعاؤں کا بیان، جو نیند میں گھبراہٹ، بے خوابی اور وحشت کی صورت میں کی جائیںگی
حدیث نمبر: 5548
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ نَقُولُهُنَّ عِنْدَ النَّوْمِ مِنَ الْفَزَعِ بِسْمِ اللَّهِ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ قَالَ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُعَلِّمُهَا مَنْ بَلَغَ مِنْ وَلَدِهِ أَنْ يَقُولَهَا عِنْدَ نَوْمِهِ وَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ صَغِيرًا لَا يَعْقِلُ أَنْ يَحْفَظَهَا كَتَبَهَا لَهُ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نیند کے وقت گھبرا جانے کی صورت میں یہ کلمات پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ … … وَأَنْ یَحْضُرُونِ(اللہ کے نام کے ساتھ، میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہے، اس کے غضب سے، اس کی سزا سے، اس کے بندوں کے شرّ سے، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں)۔ سیدنا عبد اللہ عمرو رضی اللہ عنہ اپنے بالغ بچوںکو اس دعا کی تعلیم دیتے تھے، تاکہ وہ سوتے وقت اس کو پڑھیں اور جو بچے چھوٹے اور اس دعا کو یاد کرنے سے ناسمجھ ہوتے تھے، تو وہ اس دعا کو لکھ کر اس کی گردن میں لٹکا دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5548]
تخریج الحدیث: «حسن دون قوله: فكان عبد الله۔ قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3893، والترمذي: 3528، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6696»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا اس دعا کو لکھ کر بچیوں کے گلوں میں ڈال دینا، یہ ضعیف ہے، اس لیے اس سے گلے وغیرہ میں تعویذ لٹکانے کے جواز پر استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
الحكم على الحديث:
حسن دون قوله: فكان عبد الله ۔ قاله الالباني
23. باب مَا يَقُولُ وَيَفْعَلُ مَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِحَاجَةٍ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ الْانْتِبَاءِ مِنَ النَّوْمِ أَثْنَاءَ اللَّيْلِ وَعِنْدَ التَّيَقْطِ مِنْهُ فِي آخِرِهِ
ان امور کا بیان جو کسی حاجت کے لیے رات کو اٹھنے والا کہے گا اور کرے گا، اسی طرح رات کو نیند سے بیدار ہوتے وقت کے اور رات کے آخر میں جاگتے وقت کے اذکار
حدیث نمبر: 5549
عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ فِرَاشَهُ فَلْيَنْزِعْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ ثُمَّ لِيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا حَدَثَ عَلَيْهِ بَعْدَهُ ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ لِيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے بستر پر آئے تو وہ اپنے ازار کے پلّو کو کھینچے اور اس کے ذریعے اپنے بستر کو جھاڑے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کیا ہوا ہے، پھر وہ دائیں پہلو پر لیٹ جائے اور یہ دعا پڑھے: بِاسْمِکَ رَبِّی وَضَعْتُ جَنْبِی إِنْ أَمْسَکْتَ نَفْسِی فَارْحَمْہَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَہَا فَاحْفَظْہَا بِمَا حَفِظْتَ بِہِ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ۔ (اے میرے رب! تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا، اگر تو میرے نفس کو روک لے تو اس پر رحم کرنااور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جیسا کہ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5549]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6320، ومسلم: 2714، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9450»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ بستر میں کوئی موذی جانور پڑا ہو اور کسی نقصان یا پریشانی کا سبب بن جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6320
حدیث نمبر: 5550
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي أَوْ قَالَ ثُمَّ دَعَاهُ اسْتُجِيبَ لَهُ فَإِنْ عَزَمَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى تُقُبِّلَتْ صَلَاتُهُ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کو بیدار ہو اور یہ ذکر کرے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ پھر کہے: رَبِّ اغْفِرْ لِی۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اس کی دعا قبول کی جائے گی اور اگر عزم کرکے وضو کر لیا اور نماز پڑھی تو اس کی نماز قبول کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5550]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22673 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23049»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1154
حدیث نمبر: 5551
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا فَارْقُدْ وَقَالَ مَرَّةً يَضْرِبُ عَلَيْهِ بِكُلِّ عُقْدَةٍ لَيْلًا طَوِيلًا قَالَ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَتَانِ فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ وَأَصْبَحَ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان تمہارے ایک کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے: بڑی لمبی رات پڑی ہے، سویا رہے، راوی نے ایک بار یوں کہا: وہ ہر گرہ پر طویل رات تک تھپکی دیتا رہتا ہے، لیکن جب آدمی بیدار ہو کراللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے اور اس طرح جب وہ صبح کرتا ہے تو وہ طیب النفس، ہشاش بشاش اور خوشگوار ہوتا ہے، بصورت دیگر وہ وہ خبیث النفس اور سست ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5551]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1142، ومسلم: 776، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7306»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں بیداری کے وقت ذکر کرنے، وضو کرنے اور نماز پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1142
حدیث نمبر: 5552
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ حِينَ يَرْقُدُ فَإِنْ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا
۔ سیدنا جابر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مردو زن کے سرپر چمڑے کی ایک رسی ہوتی ہے، جب بندہ سوتا ہے تو اس پر تین گرہیں لگائی جاتی ہیں، لیکن جب وہ بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب وہ کھڑا ہو جاتا ہے اور وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5552]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن خزيمة: 1133، وابن حبان: 2554، وابويعلي: 2298، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14440»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 5553
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَ هَذَا الْمَعْنَى وَإِذَا نَامَ قَالَ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ
۔ سیدنا براء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَحْیَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورُ(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندہ کیا اور اس کی طرف لوٹنا ہے)۔ اور جب سوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ أَحْیَا وَبِاسْمِکَ أَمُوتُ(اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہے اور تیرے نام کے ساتھ موت پاتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5553]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2711، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18603 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18804»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2711